Only Sports knowledge

Only  Sports knowledge Sports Teacher

04/19/2026

Sunday Funday

11/07/2025

The boys that became the champions of Punjab Olympics

Mental health my first priority
11/07/2025

Mental health my first priority

Long Jump (womens)Top 10 in 2025
09/13/2025

Long Jump (womens)
Top 10 in 2025

110M HURDLESTop 10 in 2025
09/13/2025

110M HURDLES
Top 10 in 2025

09/06/2025

Artificial Sweeteners

Artificial sweeteners are sugar substitutes commonly used in soft drinks and confectionery. Unlike sugar, they provide sweetness without calories, which is why they are often promoted for weight loss and reducing sugar intake.

There are three main groups of sweeteners:
1. Sugar alcohols (e.g., erythritol, xylitol)
2. Artificial sweeteners (e.g., aspartame, sucralose)
3. Natural sweeteners (e.g., stevia)

Although marketed as healthier alternatives, research shows controversial results. Studies have found that people who regularly consume artificially sweetened drinks may have a higher risk of health problems such as stroke, dementia, metabolic syndrome, type 2 diabetes, and obesity.

For example:
• A French study showed women who drank large amounts of artificially sweetened beverages had double the risk of type 2 diabetes compared to those who drank sugar-sweetened beverages.
• A US study linked daily diet soft drink intake to a 36% higher risk of metabolic syndrome and a 67% higher risk of type 2 diabetes.
• A review of over 400,000 people found artificial sweeteners may be linked with higher body weight, diabetes, heart disease, and stroke.

Overall, evidence suggests artificial sweeteners may not be effective for weight loss and could be harmful to long-term health.
مٹھاس

مصنوعی مٹھاس چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کی جاتی ہے اور یہ زیادہ تر سافٹ ڈرنکس اور مٹھائیوں میں پائی جاتی ہے۔ یہ چینی کے برعکس کیلوریز نہیں رکھتی اور اسی وجہ سے وزن کم کرنے اور شوگر کے استعمال کو کم کرنے کے لیے اس کا استعمال بڑھ گیا ہے۔

مصنوعی مٹھاس کی تین اقسام ہیں:
1. شوگر الکحول (جیسے ایری تھرائٹول، زائلیٹول)
2. مصنوعی مٹھاس (جیسے اسپارٹیم، سوکرالوز)
3. قدرتی مٹھاس (جیسے اسٹیویا)

اگرچہ ان کو صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے لیکن سائنسی تحقیقات کے نتائج متضاد ہیں۔ باقاعدگی سے مصنوعی مٹھاس والے مشروبات پینے والوں میں فالج، الزائمر، میٹابولک سنڈروم، ذیابیطس کی قسم 2 اور موٹاپے کے خطرات زیادہ پائے گئے ہیں۔

مثال کے طور پر:
• فرانس کی ایک تحقیق میں پتہ چلا کہ جو خواتین زیادہ مقدار میں مصنوعی مٹھاس والے مشروبات پیتی تھیں، ان میں ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ دگنا تھا۔
• امریکہ کی ایک تحقیق کے مطابق روزانہ ڈائٹ سافٹ ڈرنک پینے والوں میں میٹابولک سنڈروم کا خطرہ 36% زیادہ اور ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ 67% زیادہ تھا۔
• 400,000 افراد پر مبنی ایک جائزے میں یہ نتیجہ نکلا کہ مصنوعی مٹھاس موٹاپے، دل کی بیماری اور فالج کے خطرات کو بڑھا سکتی ہے۔

مجموعی طور پر، ثبوت یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مصنوعی مٹھاس وزن کم کرنے کے لیے مؤثر نہیں ہے اور لمبے عرصے میں صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

07/29/2025
07/27/2025

جب پیٹ بڑھنا شروع ہو جائے تو سمجھ جائیں کہ فیٹی لیور کی ابتدا ہو چکی ہے۔ ظاہر ہے کہ ہماری موجودہ خوراک ایسی ہے کہ صرف پیٹ ہی نہیں، مجموعی وزن بھی بڑھنے لگتا ہے۔ بات صرف شخصیت کے تاثر کی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ کئی جسمانی عوارض بھی جنم لینے لگتے ہیں۔ آج کل تو نوجوانی میں ہی دل کے دورے (ہارٹ اٹیک) معمول بنتے جا رہے ہیں، لہٰذا انسان کو اپنی دوا، غذا اور ورزش—تینوں پر بھرپور توجہ دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔
کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وزن کم کرنے میں ورزش کا کردار صرف دس سے تیس فیصد ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ورزش مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہمیں کوئی درست طریقہ کار نہیں سکھاتا۔ اگر آپ جم چلے جائیں اور کوچ سے کہیں کہ وزن کم کرنا ہے، تو وہ فوراً سخت ڈائٹ کا پابند بنا دیتا ہے۔ یہیں سے پہلی بڑی غلطی شروع ہوتی ہے۔
جب جسم ورزش کا عادی نہ ہو اور اسٹیمنا موجود نہ ہو، تو اس پر سخت ڈائٹ کا بوجھ ڈال دینا بدن کو کمزور کر دیتا ہے۔ توجہ وزن گھٹانے پر ہوتی ہے، اسٹیمنا بڑھانے پر نہیں، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ چند دن میں جم چھوڑ دیا جاتا ہے۔ مطلب شروع میں سب سے زیادہ توجہ سٹیمنا پر دیں
جم اب ایک فیشن بن چکا ہے، اور خاص طور پر کراچی جیسے شہروں میں جہاں سیکیورٹی مسائل ہوتے ہیں، وہاں جم ایک حد تک مجبوری بھی ہے۔ لیکن اگر قدرتی گراؤنڈ میسر ہو تو اس سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ زمین پر کی جانے والی جاگنگ، واک اور رننگ، ٹریڈمل سے کہیں مؤثر ہوتی ہے۔
صحیح طریقہ کیا ہے؟
روزانہ تیز قدموں سے دس منٹ واک کریں
پھر ہلکی جاگنگ کریں، جب تھک جائیں تو رکیں نہیں
لمبے سانس لیتے ہوئے ہلکی واک کریں، سانس بحال ہو تو پھر جاگنگ
اس عمل کو دہراتے رہیں، یہاں تک کہ آپ بیس دن میں آدھے گھنٹے کی ورزش پر آ جائیں
اسی کے ساتھ ساتھ سٹیمنا (طاقت و برداشت) میں نمایاں بہتری آنے لگے گی
خوراک میں تبدیلی ضروری ہے
میٹھا، ریفائنڈ چینی، کاربوہائیڈریٹس (روٹی، ڈبل روٹی، بسکٹ) کو کم کریں
پروٹین کا استعمال بڑھائیں: خاص طور پر چھولے، لوبیا جیسی غذائیں جن میں فائبر، پروٹین، وٹامنز اور معدنیات وافر مقدار میں ہوتے ہیں
روزانہ 100 گرام ضرور کھائیں، چاہے وقفے وقفے سے
خصوصاً ناشتے میں ان کا استعمال فائدہ مند ہے
جب اسٹیمنا بن جائے تو بارہ گھنٹے کی فاسٹنگ اپنائیں، اور دن میں دو وقت کا کھانا کھائیں
ورزش کا معمول بنائیں
پش اپس، چن اپس، اسکواٹس (اٹھک بیٹھک)، اور اسٹریچنگ جیسی ورزشیں کریں
ابتدا میں ہر ایک کی 10 ریپیٹیشن سے آغاز کریں
آہستہ آہستہ اسے 50 ریپیٹیشن تک لے جائیں
تقریباً دو مہینے میں اتنا اسٹیمنا حاصل کریں کہ آپ ایک گھنٹہ ورزش کر سکیں
120 دن میں واضح نتائج سامنے آئیں گے
شرط صرف آزمائش (consistency) اور مستقل مزاجی ہے
وزن تو کم ہوگا ہی لیکن آپ کی فٹنس بھی کمال ہوجائیگی یہ جو ڈائیٹ بتائی ہے یہ کم آمدنی والے افراد کی ہے زیادہ آمدنی والے افراد گوشت انڈے وغیرہ پروٹین کے لئے لے سکتے ہیں دردوں سے نا گھبرائیں گراؤنڈ کے درد گراؤنڈ میں ٹھیک ہوتے ہیں
No pain no gain

Address

Punjab Danish School Tehsil Melsi District Vehari, Punjab
Palatine, IL
60067

Telephone

+923002521001

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Only Sports knowledge posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Only Sports knowledge:

Share

Category