Maulana Abdullah

Maulana Abdullah Maulana Abdullah Marwat

03/03/2026

'تشیع ڈاکٹر ساب دے بہت ہی خلاف سن ۔ ڈاکٹر ساب اک باکمال انسان سن۔

03/01/2026

انفرادی اور قومی سطح پر اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ درست کرلو ورنہ اللہ کی طرف سے سزا کا معاملہ ہوگا۔ ہم اللہ کو ناراض کرکے کسی خوش فہمی میں نہ رہیں !
یہ کلپ میری درخواست ہے کہ اس کومکمل سنیں اور اسے جس حد تک ہو سکے شیئر کریں۔
اللہ تعالئ ہمیں سمجھنے اور سنبھلنے کی توفیق دے۔ آمین

01/15/2026

ٱللَّهُ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلْحَىُّ ٱلْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُۥ سِنَةٌۭ وَلَا نَوْمٌۭ ۚ لَّهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۗ مَن ذَا ٱلَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُۥٓ إِلَّا بِإِذْنِهِۦ ۚ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَىْءٍۢ مِّنْ عِلْمِهِۦٓ إِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ ۖ وَلَا يَـُٔودُهُۥ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ ٱلْعَلِىُّ ٱلْعَظِيمُ ٢٥٥

#الاسلام
#قرآن
#حديث
#ديني








ام المومنین حضرت ام حبیبہ بنت ابو سفیان رضی اللہ عنہا - تحریر نمبر 3546آپ کا نکاح رسول پاک صلی علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہو...
01/15/2026

ام المومنین حضرت ام حبیبہ بنت ابو سفیان رضی اللہ عنہا - تحریر نمبر 3546
آپ کا نکاح رسول پاک صلی علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہو گیا اور آپ رضی اللہ عنہا المومنین بن گئیں

آپ رضی اللہ عنہا کا حقیقی نام رملہ تھا۔ آپ رضی اللہ عنہا کے والد ابی سفیان اور والدہ صفیہ بنت العاص تھیں۔ بعض موٴرخین نے آپ رضی اللہ عنہا کا نام رملہ اور بعض نے ہند بھی لکھا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا رسول پاک صلی علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے سترہ سال قبل پیدا ہوئیں۔آپ اوائل اسلام میں ہی مسلمان ہو گئی تھیں۔ آپ کا پہلا نکاح عبیداللہ بن حجش سے ہوا تھا۔
عبیداللہ بن حجش حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بن حجش کا بھائی تھا۔ عبیداللہ بن حجش نے حبشہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ہجرت کی۔وہاں ان کی لڑکی حبیبہ پیدا ہوئی جس کے نام پر ان کی کنیت ام حبیبہ مشہور ہو گی۔ حبشہ میں عبداللہ بن حجش نے مرتد ہو کر عیسائیت اختیار کر لی اور شراب وکباب میں منہمک ہو کر اپنی جان ضائع کر دی۔
اس کے مرنے کے بعد رسول پاک صلی علیہ وآلہ وسلم نے نجاشی کے ذریعے سے آپ رضی اللہ عنہا کی عدت کے بعد پیغام نکاح بھیجا جو کہ آپ نے قبول فرمایا اور آپ کا نکاح رسول پاک صلی علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہو گیا اور آپ رضی اللہ عنہا المومنین بن گئیں۔

ایک اور روایت کے مطابق آپ رضی اللہ عنہا کا نکاح رسول پاک صلی علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حبشہ میں نہیں بلکہ مدینہ میں ہوا تھا۔رسول پاک صلی علیہ وآلہ وسلم نے نکاح میں آنے کے بعد آپ رضی اللہ عنہا رسول پاک صلی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کو اپنی سعادت سمجھتی تھیں۔ فتح مکہ سے قبل ایک بار ابو سفیان مدینہ آئے تو انہوں نے سب سے پہلے اپنی بیٹی کے گھر جانے کا قصد کیا ۔
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے اپنے والد کو وہاں پہنچ کر رسول پاک صلی علیہ وآلہ وسلم کے بستر پر نہ بیٹھنے دیا کہ وہ کافر ہیں او ایک کافر ایک نبی کے بستر پرنہیں بیٹھ سکتا۔ آپ رضی اللہ عنہا حدیث پر نہایت شدت سے عمل پیرا ہوتی تھیں اور دوسروں کو بھی اس کی تاکید کرتی تھیں۔
وفات کے وقت آپ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بلا کر ان سے عمدہ کلام کیا۔
آپ رضی اللہ عنہا فطر تاً نیک سیرت تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہا سے کئی احادیث منقول ہیں ۔آپ رضی اللہ عنہا نے 44 ہجری میں انتقال فرمایا۔ ان کے بھائی معاویہ رضی اللہ عنہا بن ابی سفیان اس وقت حکمران تھے۔ابن عساکر کی روایت ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا اپنے بھائی کو ملنے دمشق گئیں اور وہیں آپ کا انتقال ہوا۔ آپ کی قبر دمشق میں ہے لیکن دیگر موٴرخین کے مطابق آپ رضی اللہ عنہا کا انتقال مدینہ میں ہوا اور آپ کی قبر بھی وہیں پر ہے۔
وفات کے وقت آپ رضی اللہ عنہا کی عمر 73 برس تھی۔ حضرت زین العابدین رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ میں نے ایک بار اپنے مکان کا گوشہ کھدوایا تو وہاں سے ایک کتبہ ملا جس پر لکھا تھا۔ یہ رملہ بن صغر کی قبر ہے چنانچہ میں نے اس کو وہیں رکھ دیا۔
عبید اللہ بن حجش سے آپ کی دو اولاد دیں ہوئیں۔ ایک عبداللہ اور ایک حبیبہ۔ حبیبہ نے آغوشِ رسالت میں تر بیت پائی اور عروہ بن مسعود ثقفی رئیس اعظم قبیلہ ثقف کے بیٹے داوٴد سے منسوب ہوئیں۔
آپ رضی اللہ عنہا سے بخاری اور مسند احمد کی احادیث مروی ہیں۔ ابوسفیان کے انتقال پر آپ رضی اللہ عنہا نے رسول پاک صلی علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بیان فرمائی:
”کسی عورت کے لئے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہے ، یہ جائز نہیں کہ وہ کسی مرنے والے کا تین دن سے زائد سوگ کرے۔ البتہ اپنے شوہر کے لئے چار ماہ دس دن سوگ کرنا چاہیے۔“

منصور نے قتادہ سے روا یت کی انھوں نے کہا : ہمیں ابو عالیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی انھوں نے کہا : ...
01/14/2026

منصور نے قتادہ سے روا یت کی انھوں نے کہا : ہمیں ابو عالیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک سے زیادہ ساتھیوں سے سنا ہے ان میں عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل ہیں اور وہ مجھے ان میں سب سے زیادہ محبوب تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کے بعد سورج طلوع ہو نے تک اور عصر کے بعد سورج غروب ہو نے تک نماز پڑھنے سے منع فر ما یا ہے ۔
و حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ وَإِسْمَعِيلُ بْنُ سَالِمٍ جَمِيعًا عَنْ هُشَيْمٍ قَالَ دَاوُدُ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَمِعْتُ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَكَانَ أَحَبَّهُمْ إِلَيَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ

Sahih Muslim Hadith No. 1921

01/14/2026
01/14/2026

Baz ajao un shaitani amal sy jin sy Allah ny mna frmaya h

Sahih BukhariHadith No 601حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّ...
04/08/2025

Sahih Bukhari
Hadith No 601

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنُ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ فِي آخِرِ حَيَاتِهِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَرَأَيْتَكُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ فَإِنَّ رَأْسَ مِائَةٍ لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ ، فَوَهِلَ النَّاسُ فِي مَقَالَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَا يَتَحَدَّثُونَ مِنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ عَنْ مِائَةِ سَنَةٍ ، وَإِنَّمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ ، يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنَّهَا تَخْرِمُ ذَلِكَ الْقَرْنَ .

ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے خبر دی، کہا کہ مجھ سے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور ابوبکر بن ابی حثمہ نے حدیث بیان کی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی اپنی زندگی کے آخری زمانے میں۔ سلام پھیرنے کے بعد آپ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اس رات کے متعلق تمہیں کچھ معلوم ہے؟ آج اس روئے زمین پر جتنے انسان زندہ ہیں۔ سو سال بعد ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سمجھنے میں غلطی کی اور مختلف باتیں کرنے لگے۔ ( ابومسعود رضی اللہ عنہ نے یہ سمجھا کہ سو برس بعد قیامت آئے گی ) حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد صرف یہ تھا کہ جو لوگ آج ( اس گفتگو کے وقت ) زمین پر بستے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی آج سے ایک صدی بعد باقی نہیں رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ تھا کہ سو برس میں یہ قرن گزر جائے گا۔

زنا کی تہمت لگانا -شرعی ثبوت کے بغیر کسی مسلمان مرد یا عورت پربدکاری یا ناجائز تعلق کی تہمت لگاناحرام اور گناہ کبیرہ ہے،...
04/08/2025

زنا کی تہمت لگانا -
شرعی ثبوت کے بغیر کسی مسلمان مرد یا عورت پربدکاری یا ناجائز تعلق کی تہمت لگاناحرام اور گناہ کبیرہ ہے، آج کل معاذ اللہ !یہ گناہ عام ہوتا چلا جا رہا ہے

شرعی ثبوت کے بغیر کسی مسلمان مرد یا عورت پربدکاری یا ناجائز تعلق کی تہمت لگاناحرام اور گناہ کبیرہ ہے، آج کل معاذ اللہ !یہ گناہ عام ہوتا چلا جا رہا ہے ،قرآن پاک کا حکم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی بے گناہ پر زنا کی تہمت لگاتاہے تواُس شخص سے اس دعوی پر گواہوں کا مطالبہ کیا جائے، اگر وہ گواہ پیش نہ کرسکے تواسے حدقذف لگائی جائے گی۔
یعنی :اسّی کوڑے مارے جائیں گے۔ ملحوظ رہے کہ اس طرح کی جتنی بھی اسلامی سزائیں ہیں ،انہیں نافذ کرنے کااختیار عام افراد کو نہیں، بلکہ ان سزاؤں کو نافذ کرنا اسلامی حکومت کا کام ہے۔ جس ملک میں شرعی اسلامی حکومت نہ ہو ، شرعی سزاؤں کانفاذ نہ ہوتو وہاں ایسے شخص پر لازم ہے کہ سچی توبہ کرے ، جس مرد یا عورت پر تہمت لگائی ہے اس سے سچے دل سے معافی مانگے۔
جس طرح سے زنا کا جھوٹے الزام لگانے کی بات کو عام کیا تھا ، اسی طرح اس معاملے میں خود کے جھوٹاہونے کا اعلان کرے ۔ اگروہ شخص اپنی غلطی اور گناہ پر شرمندہ نہ ہو،اعلانیہ توبہ نہ کرے ، جن پر الزام لگایا ان سے معافی نہ مانگے تو ایسے شخص سے تعلقات کو ختم کرلیا جائے کہ قرآن وسنت میں یہ حکم موجود ہے فاسق فاجر ،کبیرہ گناہ کرنے والے افراد کے ساتھ نشست و برخاست نہ رکھی جائے تاکہ انہیں نصیحت ہو اور وہ آئندہ اس گناہ کے ارتکاب سے بچیں ۔

تہمتِ زِنا کی مذمّت قرآن کی روشنی میں
اللہ ربّ العباد عزّوجلّ کا فرمان عبرت نشان ہے:(اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ لَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ)
ترجمہ :بے شک وہ جو عیب لگاتے ہیں،بھولی بھالی، پاک دامن ایمان والیوں کو، اُن پر لعنت ہے دنیا،اور آخرت میں، اور اُن کے لیے بڑا عذاب ہے۔

اور فرماتا ہے:(وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَآءَ فَاجْلِدُوْہُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَۃً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَہُمْ شَہَادَۃً اَبَدًاوَ اُوۡلٰئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ)
ترجمہ:اورجو پاک دامن عورتوں کو زنا کا عیب لگائیں، پھر چار گواہ زنا کے معائنہ کے نہ لائیں، تو اُنہیں اسّی کوڑے لگاؤ، اور اُن کی گواہی کبھی نہ مانو،اور وہی فاسق و گناہ گارہیں۔

تہمتِ زناکی شرعی سزا:صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی حاشیہ خزائن العرفان میں اس آیت کے تحت فرماتے ہیں:اس آیت سے چند مسائل ثابت ہوئے:
مسئلہ:جو شخص کسی پارسا مرد، یا عورت کو زنا کی تہمت لگائے، اور اُس معائنہ کے چار گواہ پیش نہ کر سکے، تو اُس پر حدّ واجب ہوجاتی ہے اَسّی کوڑے، آیت میں ”محصنات“ کا لفظ خصوص ِ واقعہ کے سبب سے ہوا ہے، یا اِس لیے کہ عورتوں کو تہمت لگاناکثیرالوقوع ہے۔

مسئلہ: اور ایسے لوگ جو زنا کی تہمت میں سزا یاب ہوں، اور اُن پر حدّ جاری ہوچکی ہو، مردودُ الشّھادۃ ہوجاتے ہیں،کبھی اُن کی گواہی مقبول نہیں ہوتی۔مسئلہ:پارسا سے مراد وہ ہیں، جو مسلمان، مکلف، آزاد، اور زنا سے پاک ہوں۔ مسئلہ: زنا کی شہادت کا نصاب، چار گواہ ہیں۔مسئلہ:حدِّ قذف، مطالبہ پر مشروط ہے، جس پر تہمت لگائی گئی ہے اگر وہ مطالبہ نہ کرے، تو قاضی پر حدّ قائم کرنا لازم نہیں۔
مسئلہ:قذف کے الفاظ یہ ہیں کہ وہ صراحۃََ کسی کو یا زانی کہے، یا کہے کہ تو اپنے باپ سے نہیں، یا اُس کے باپ کانام لے کر کہے: تو فلاں کا بیٹا نہیں ہے، یا اُس کو زانیہ کا بیٹا کہہ کر پکارے، اور ہو اُس کی ماں پارسا، تو ایسا شخص قاذف ہو جائیگا، اور اُس پر تہمت کی حدّآئے گی۔
تہمتِ زنا کی مذمّت احادیث کی روشنی میں :
نبی پاکﷺ نے فرمایا: سات ہلاک کرنے والے گُناہوں سے بچو، پھر آپ ﷺنے اُن میں بھولی بھالی،پاکدامن مسلمان عورتوں پر زنا کی تہمت لگانے کا بھی ذِکر فرمایا۔

نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:مسلمان وہ ہے، جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
مسلمان سے مراد کامل مسلمان ہے، یعنی:وہ شخص جو ارکانِ اسلام پوری طرح ادا کرے، اور مسلمان اُس سے محفوظ رہیں، اس طرح کہ وہ مسلمانوں کے حُرمت والے اموال اور اُن کی عزّتوں کے درپے نہ ہو، زبان کو ہاتھ پر مقدم کیا کہ زبان کے ذریعے تکلیف وایذاء پہنچانا، باکثرت ہوتا ہے، اور بہت تیزی سے ہوتا ہے۔

نبی پاک ﷺ نے حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: تجھے تیری ماں روئے! بروزِ قیامت لوگوں کو نتھنوں کے بل، اُن کی زبان کا کاٹا ہوا ہی گرائے گا۔
اللہ تعالیٰ اس فعلِ بد کی مذمت میں ارشاد فرماتا ہے:(وَالَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَیْرِ مَا اکْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُہْتَاناً وَّ اِثْماً مُّبِیْناً)
ترجمہ:اور وہ جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں، انہوں نے بہتان،اورکُھلا گُناہ اپنے سر لیا۔

نبی پاکﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے اپنے مملوک غلام،یا لونڈی پر زنا کی تہمت لگائی، اگر وہ حقیقۃً ایسا نہ ہو، جیسا کہ ُاس نے کہا،تو بروزِ قیامت اُسے حدِّقذف لگائی جائے گی۔
علامہ مناوی علیہ الرحمۃ اِس حدیث کے تحت فرماتے ہیں:حدِّ قذف دنیا میں نہیں لگے گی کہ حدِّ قذ ف کے لیے شرط ہے کہ جس پر تہمت لگائی گئی ہو، وہ محصن (پاک دامن ) ہو، اور احصان کے ثابت ہونے کے لیے ایک شرط آزاد ہونا بھی ہے۔اور آخرت میں مالک کو حدّ اس لیے لگا ئی جائے گی کہ اب اُس مالک کی مجازی ملکیت بھی ختم ہوچکی، اس وقت فقط اللہ تعالی ہی کی حکومت ہوگی، کوئی آقا، اور کوئی غلام نہ ہوگا، اب بس اہلِ تقوی ہی کوفضیلت حاصل ہو گی۔

سورۂ اخلاص کا اجر وثواب -نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جس نے’’قل ھواللّٰہ احد‘‘ کو10 مرتبہ پڑھا، اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ا...
04/08/2025

سورۂ اخلاص کا اجر وثواب -
نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جس نے’’قل ھواللّٰہ احد‘‘ کو10 مرتبہ پڑھا، اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک محل بنائے گا۔

پیارے دوستوں !سورۂ اخلاص وہ مبارک سورت ہے جو ا لحمد للہ ہر مسلمان کو یاد ہوتی ہے۔اور اس سورۂ مبارکہ کے فضائل بھی شمار ہیں اوران کا حصول بھی اللہ پاک کی رحمت سے ہر ایک کے لیے آسان ہے ۔ بس ضرورت توجہ اور اہتمام کرنے کی ہے ۔ہم یہاں سورۂ اخلاص کی تلاوت کے بعض فضائل کو ذکر کرتے ہیں تاکہ اس سورۂ مبارکہ کی فضیلت معلوم ہونے کے ہم کثرت کے ساتھ اس کی تلاوت کرنے والے بن جائیں ۔
اور توفیق اللہ پاک ہی طرف سے ہے ۔
ایک مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھنے کی فضیلت:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس شخص نے ”قل ھو اللہ أحدپڑھا اس نے گویا تہائی قرآن پڑھا۔
فرض نماز کے بعد10 مرتبہ سورہ اخلاص پڑھنے کی فضیلت :
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :تین عمل ایسے ہیں کہ جن کو اگر کوئی ایمان کی حالت میں کرتا ہے تو وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے، داخل ہوجائیگااورجس حور سے چاہے گا، نکاح کرلے گا:(ا)جو اپنے قاتل کو معاف کردے(۲)جوخفیہ طور پرکسی کا قرض ادا کردے(۳)جوہر فرض نماز کے بعد10 مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ کی خدمت میں عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ!اگر ان میں کوئی ایک کام کرے۔ فرمایا: اسے بھی یہی درجہ حاصل ہوگا۔
دس مرتبہ سورہ اخلاص پڑھنے کی فضیلت:
نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جس نے’’قل ھواللّٰہ احد‘‘ کو10 مرتبہ پڑھا، اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک محل بنائے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فضیلت سن کر عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ!تب تو ہم اسے کثرت سے پڑھیں گے۔
آپﷺ نے فرمایا: اللہ کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں اور وہ بہت پاکیزہ ہے۔(یعنی تم جتنا پڑھوگے،اللہ تعالیٰ اتنے ہی محلّ تمہیں عطا فرمائے گا۔
پچاس مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھنے کی فضیلت:
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے :’’جو پچاس بار قل ھو اللہ احد پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس کے پچاس سال کے گنا ہ معاف کر دےگا ‘‘۔

سو مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھنے کی فضیلت:
انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے :آپﷺ نے فرمایا: جو شخص سو مرتبہ قل ھو اللہ احد پڑھےگا اللہ تعالیٰ اس کے پچاس سال کے گنا ہ معاف کر دےگا ،بشرطیکہ وہ چار خصلتوں سے بچے حرمت والاخون بہانے سے ، اور حرام مال کھانے سے ،اور زنا کاری سے اور ناجائز مشروبات سے ۔
اور طبرانی کی روایت میں ہے کہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا: جو نماز میں یا خارجِ نماز میں سو بار قل ھو اللہ احدپڑھے گااللہ تعالیٰ اس کے لیے جہنم سے آزادی لکھ دےگا۔

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا:جو دن بھر میں سو بار قل ھو اللہ احدپڑھے گا اللہ تعالیٰ اس کے دو سو برس کے گنا ہ معاف فرمادے گا مگر یہ کہ اس پر قرض ہو "۔(سنن الترمذی)
دوسو مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھنے کی فضیلت:
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مر فوعاً روایت کیا :’’جو دن بھر میں دو سو مرتبہ سورۂ اخلاص پڑ ھے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے ۱۵۰۰ پندرہ سو نیکیاں لکھے گا ،مگر یہ کہ اس پر قرض ہو(یعنی قرض معاف نہ ہو گا ۔
)
ایک ہزار مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھنے کی فضیلت:
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے:’’جس نے ایک ہزار بار قل ھو اللہ احد پڑھی تو تحقیق اس نے اپنی جان اللہ تعالیٰ سے خرید لی ‘‘۔
ہما وقت سورۂ اخلاص پڑھنے والے صحابی کا مرتبہ:
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم غزوۂ تبوک میں حضورﷺ کے ساتھ تھے۔
ایک دن سورج ایسے نور اور روشن کرنوں کے ساتھ طلوع ہوا کہ اس سے پہلے ہم نے کبھی نہ دیکھا تھا۔ تھوڑی دیر بعد حضرت جبریل علیہ السلام نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپﷺ نے فرمایا: جبرئیل!جیسے آج سورج طلوع ہوا، اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں دیکھا ۔انہوں نے عرض کیا:آپﷺ کے صحابی معاویہ بن معاویہ لیثی مدینہ طیبہ میں انتقال فرماگئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی نماز جنازہ میں 70 ہزار فرشتے بھیجے ہیں۔
آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: انھیں یہ مقام کیسے حاصل ہوا؟ سیدنا جبریل نے فرمایا: یہ دن رات چلتے پھرتے،اٹھتے بیٹھتے ہر حالت میں ’قل ھواللہ احد‘‘ کی تلاوت کیا کرتے تھے۔یہ اسی کا اجر ہے۔
سورۂ اخلا ص کی محبت جنت کو لازم کرتی ہے :
حضرتِ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو کسی سریہ میں بھیجا تو وہ اپنے ساتھیوں کی امامت کراتے ہوئے اپنی قراء ت کو قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ پر ختم کیا کرتا تھا ۔
جب وہ لشکرواپس آیا اور لوگوں نے رسول اﷲﷺ کی خدمت میں اس بات کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ'' اس سے پوچھوکہ وہ ایسا کیوں کرتاہے ؟''جب لوگوں نے اس سے پوچھا تو اس نے جواب دیا،'' اس لئے کہ اس میں رحمن عزوجل کی تعریف ہے اور میں اسے پڑھنا پسند کرتاہوں۔'' تو آپ ﷺ نے فرمایا ،''اسے خبر دے دو کہ اللہ عزوجل بھی اس سے محبت فرماتاہے۔''
رسول اللہ ﷺ اپنے ایک صحابی کے ساتھ کہیں جارہےتھے کہ آپﷺ نے کسی شخص کوسورۂ اخلاص پڑھتے ہوئے سنا توآپﷺ نے ارشاد فرمایا،'' واجب ہوگئی ۔
''میں نے عرض کیا:یارسول اللہﷺ! کیاواجب ہوگئی؟'فرمایا: جنت ۔
گھر میں داخل ہوتے وقت سورہ اخلاص پڑھنے کی فضیلت:
حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنے گھر داخل میں ہوتے وقت’’قل ھواللہ احد‘‘پڑھی، یہ سورت اس کے گھر اور پڑوسیوں کے گھر سے شر کو دور بھگا دیتی ہے۔
اللہ پاک ہمیں سورۂ اخلاص کی باکثرت تلاوت کرنے کی توفیق عطا فرمائے!
Facebook Twitter Reddit

09/17/2024

*بہت بہترین تلاوت*
پرانی یادوں کےساتھ

09/17/2024

اپنے غموں کوگھرسےباہررکھے
گھرکوپرسکون بنائے..

Address

New York, NY
10001

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Maulana Abdullah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share