UH Official

UH Official Begin in the name of Allah, the Beneficent, the Merciful
Assalamoalikum Welcome to my page

02/28/2022

Israeli soldiers torture innocent 12-year-old Palestinian girl

02/15/2022

وقـت اور تــربیـت مــیں فـرق

آج کے والدین کے عام الفاظ چھوڑو ابھی 18 سال ہی کا تو ہے بچہ ہے لائف کو انجوائے کرنے دو ابھی تو اسکے کھیلنے کھودنے کے دن ہیں آدھی رات کو گھر سے غائب فارغ ہے گھر میں بور ہوجاتا ہے غیرہ و غیرہ

آئیے تاریخ کی نظر سے دیکھتے ہیں بچوں نے کتنی عمر میں کیا کار نامے سر انجام دیئے تا کہ ہم اس دھوکے سے نکل جائیں

📝اندلس (اسپین )کا فاتح عبدالرحمن الداخلؒ عمر 21 سال

📝قسطنطنیہ کا فاتح محمد الفاتحؒ عمر 22 سال

✒مسلمانوں کی اس لشکر کا سپاہ سالار جس میں ابو بکر اور عمرؓ جیسی شخصیات موجود تھے اسامہ بن زیدؓ عمر 18 سال

🖋سندھ کا فاتح محمد بن قاسمؒ عمر 17 سال

🖊جس نے اسلام میں پہلا تیر چلایا سعد بن ابی وقاصؓ عمر 17 سال

🖊جس نے اپنے گھر کو حضور اکرمﷺ کیلئے مکہ معظمہ میں وقف کیا الارقم بن الارقم عمر 16 سال

🖋اسلام میں سب سے زیادہ اکرم شخصیت طلحہ بن عبیداللہؓ عمر 16 سال

📌حضورﷺ کے حواری جنہوں نے سب سے پہلے اسلام میں تلوار چلائی صاحبی زبیر بن العوامؓ عمر 15 سال۔

📝اس امت کے فرعون ابو جہل کو واصل جہنم کرنے والے معاذ بن الجموحؓ عمر 13 سال اور معوذ بن عفراءؓ عمر 14 سال

🖍وحی کو لکھنے والے اور جس نے 17 دن میں یہود کی زبان کو سیکھ لیا زید بن ثابتؓ عمر 13 سال

✏جس کو حضورﷺ نے مکہ کا والی بنا کر غزوہ کیلئے تشریف لےگئے عتاب بن اسیدؓ عمر 18 سال

جو قوم اپنے اسلاف کی تاریخ بھول جاتی ہے وہ صفا ہستی سے مٹ جاتی ہے

🌸مالدیپ🌸🇲🇻 بحر ھند میں واقع ایک سیاحتی ملک ہے،یہ ملک 1192 چھوٹے جزیروں پر مشتمل ہے جن میں سے صرف 200 جزیروں پر انسانی آب...
02/09/2022

🌸مالدیپ🌸🇲🇻
بحر ھند میں واقع ایک سیاحتی ملک ہے،یہ ملک 1192 چھوٹے جزیروں پر مشتمل ہے جن میں سے صرف 200 جزیروں پر انسانی آبادی پائی جاتی ہے.
مالدیب کی 100% آبادی مسلمان ہے جب کہ یہاں کی شہریت لینے کے لئے مسلمان ہونا ضروری ہے.
عجیب بات یہ ہے کہ مالدیب بدھ مت کے پیروکاروں کا ملک تھا صرف 2 ماہ کے اندر اس ملک کا بادشاہ،عوام اور خواص سب دائرہ اسلام میں داخل ہوئے.
مگر یہ معجزہ کب اور کیسے ہوا ؟
یہ واقعہ مشہور سیاح ابن بطوطہ نے مالدیب کی سیاحت کے بعد اپنی کتاب میں لکھا ہے ابن بطوطہ ایک عرصے تک
مالدیب میں بطور قاضی کام کرتے بھی رہے ہیں.
وہ اپنی کتاب ' تحفة النظار في غرائب الأمصار وعجائب الأمصار ' میں لکھتے ہیں کہ
مالدیب کے لوگ بدھ مت کے پیروکار تھے اور حد درجہ توہم پرست بھی اسی بدعقیدگی کے باعث ان پر ایک عفریت(جن) مسلط تھا،وہ عفریت ہر مہینہ کی آخری تاریخ
کو روشنیوں اور شمعوں کے جلو میں سمندر کی طرف سے
نمودار ہوتا تھا اور لوگ سمندر کے کنارے بنے بت خانہ میں ایک دوشیزہ کو بناؤ سنگھار کرکے چھوڑ دیتے وہ عفریت
اس بت خانے میں آتا اور صبح وہ لڑکی مردہ
پائی جاتی اور لوگ اس کی لاش کو جلاتے.
عفریت کے لئے دوشیزہ کا انتخاب بذریعہ قرعہ اندازی ہوتا تھا اس بار قرعہ اندازی میں ایک بیوہ بڈھیا کی بیٹی کا نام
نکلا تھا رو رو کر بڈھیا نڈھال ہوچکی تھی گاؤں کے لوگ بھی بڈھیا کے گھر جمع تھے ،دور سے آئے اس مسافر نے بھی
بڈھیا کے گھر کا رخ کیا اس کے استفسار پر اسے سب کچھ بتایا گیا کہ عفریت کے مظالم کتنے بڑھ گئے ہیں.
مسافر نے بڈھیا کو دلاسہ دیا اور عجیب خواہش کا اظہار کیا کہ آج رات آپ کی بیٹی کی جگہ بت خانے میں مجھے بٹھایا جائے،پہلے تو وہ لوگ خوف کے مارے نہ مانے کہ عفریت غصہ ہوئے تو ان کا انجام بد ہوسکتا ہے لیکن مرتا کیا نہ کرتا وہ راضی ہوگئے،مسافر نے وضو کیا اور بت خانے میں داخل ہو کر قرآن مجید کی تلاوت شروع کر دی
عفریت آیا اور کبھی واپس نہ آنے کے لئے چلا گیا،لوگ صبح نہار بت خانہ کے باہر جمع ہوئے تاکہ لاش جلائی جا سکے لیکن مسافر کو زندہ دیکھ کر وہ سکتے میں آ گئے.
یہ مسافر مشہور مسلم داعی،مبلغ اور سیاح ابو البرکات
بربری تھے،ابو برکات کی آمد اور عفریت سے دو دو ہاتھ ہونے کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی بادشاہ نے
شیخ کو شاہی اعزاز کے ساتھ اپنے دربار میں بلایا شیخ ابو برکات نے بادشاہ کو اسلام کی دعوت دی بادشاہ نے اسلام قبول کیا اور صرف 2 ماہ کے اندر مالدیب کے سب لوگ بدھ مت سے تائب ہو کر مسلمان ہوچکے تھے.
یہ 1314ء کی بات ہے اس مبلغ اور داعی نے مالدیب کو اپنا مسکن بنایا لوگوں کو قرآن و حدیث کی تعلیم دی، ہزاروں مسجدیں تعمیر کیں،اور مالدیب میں ہی فوت ہوئے اسی مٹی پر ہی دفن ہوئے.
کہنے کو ابو البرکات بربری ایک شخص لیکن تنہا ایک امت کا کام کر گئے،آج بھی ان کو برابر اجر مل رہا ہوگا۔“
*★ہم سب کا پاکستان★

02/09/2022

‏‎ایک مسلم بیٹی نے ہندو قوم کو ہلا دیا
مسلمانوں کی ایمانی غیرت کو جگا دیا
نعرہ تکبیر کی صدا سے گزری روندتی لشکرکو
جرات کسے کہتے ہیں پوری دنیا کو بتا دیا
حجاب عورت کی زینت عزت اور فخر ہے
حجاب میں نکل کر ہر عورت کو سمجھا دیا

02/07/2022

سلطان نور الدین زنگی رحمتہ اللّه علیہ عشاء کی نماز پڑھ کر سوئے کہ اچانک اٹھ بیٹھے۔
اور نم آنکھوں سے فرمایا میرے ہوتے ہوئے میرے آقا دوعالم ﷺ کو کون ستا رہا ہے .
آپ اس خواب کے بارے میں سوچ رہے تھے جو مسلسل تین دن سے انہیں آ رہا تھااور آج پھر چند لمحوں پہلے انھیں آیا جس میں سرکار دو عالم نے دو افراد کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ مجھے ستا رہے ہیں.
اب سلطان کو قرار کہاں تھا انہوں نے چند ساتھی اور سپاہی لے کر دمشق سے مدینہ جانے کا ارادہ فرمایا .اس وقت دمشق سے مدینہ کا راستہ ٢٠-٢٥ دن کا تھا مگر آپ نے بغیر آرام کیئے یہ راستہ ١٦ دن میں طے کیا. مدینہ پہنچ کر آپ نے مدینہ آنے اور جانے کے تمام راستے بند کرواے اور تمام خاص و عام کو اپنے ساتھ کھانے پر بلایا.
اب لوگ آ رہے تھے اور جا رہے تھے ، آپ ہر چہرہ دیکھتے مگر آپکو وہ چہرے نظر نہ آے اب سلطان کو فکر لاحق ہوئی اور آپ نے مدینے کے حاکم سے فرمایا کہ کیا کوئی ایسا ہے جو اس دعوت میں شریک نہیں .جواب ملا کہ مدینے میں رہنے والوں میں سے تو کوئی نہیں مگر دو مغربی زائر ہیں جو روضہ رسول کے قریب ایک مکان میں رہتے ہیں . تمام دن عبادت کرتے ہیں اور شام کو جنت البقیح میں لوگوں کو پانی پلاتے ہیں ، جو عرصہ دراز سے مدینہ میں مقیم ہیں.
سلطان نے ان سے ملنے کی خواہش ظاہر کی، دونوں زائر بظاہر بہت عبادت گزار لگتے تھے. انکے گھر میں تھا ہی کیا ایک چٹائی اور دو چار ضرورت کی اشیاء.کہ یکدم سلطان کو چٹائی کے نیچے کا فرش لرزتا محسوس ہوا. آپ نے چٹائی ہٹا کے دیکھا تو وہاں ایک سرنگ تھی.
آپ نے اپنے سپاہی کو سرنگ میں اترنے کا حکم دیا .وہ سرنگ میں داخل ہویے اور واپس اکر بتایا کہ یہ سرنگ نبی پاک صلی اللہ علیھ والہ وسلم کی قبر مبارک کی طرف جاتی ہے،
یہ سن کر سلطان کے چہرے پر غیظ و غضب کی کیفیت تری ہوگئی .آپ نے دونوں زائرین سے پوچھا کے سچ بتاؤ کہ تم کون ہوں.
حیل و حجت کے بعد انہوں نے بتایا کے وہ یہودی ہیں اور اپنے قوم کی طرف سے تمہارے پیغمبر کے جسم اقدس کو چوری کرنے پر مامور کے گئے ہیں. سلطان یہ سن کر رونے لگے ، اسی وقت ان دونوں کی گردنیں اڑا دی گئیں.
سلطان روتے جاتے اور فرماتے جاتے کہ
💞"میرا نصیب کہ پوری دنیا میں سے اس خدمت کے لئے اس غلام کو چنا گیا"💞
اس ناپاک سازش کے بعد ضروری تھا کہ ایسی تمام سازشوں کا ہمیشہ کہ لیے خاتمہ کیا جاۓ سلطان نے معمار بلاۓ اور قبر اقدس کے چاروں طرف خندق کھودنے کا حکم دیا یہاں تک کے پانی نکل آے.سلطان کے حکم سے اس خندق میں پگھلا ہوا سیسہ بھر دیا گیا.💞۔💞

02/04/2022


‏ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں ریڈیو اناؤنسر نے اپنے مہمان سے جو ایک ارب پتی شخص تھا ، پوچھا :" زندگی میں سب سے زیادہ خوشی آپ کو کس چیز میں محسوس ہوئی؟"
وہ ارب پتی شخص بولا:
میں زندگی میں خوشیوں کے چار مراحل سے گزرا ہوں اور آخر میں مجھے حقیقی خوشی کا مطلب سمجھ میں آیا.

سب سے پہلا‏ مرحلہ تھا مال اور اسباب جمع کرنے کا. لیکن اس مرحلے میں مجھے وہ خوشی نہیں ملی جو مجھے مطلوب تھی.
پھر دوسرا مرحلہ آیا قیمتی سامان اور اشیاء جمع کرنے کا. لیکن مجھے محسوس ہوا کہ اس چیز کا اثر بھی وقتی ہے اور قیمتی چیزوں کی چمک بھی زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہتی.

پھر تیسرا مرحلہ آیا‏ بڑے بڑے پروجیکٹ حاصل کرنے کا. جیسے فٹ بال ٹیم خریدنا، کسی ٹورسٹ ریزارٹ وغیرہ کو خریدنا . لیکن یہاں بھی مجھے وہ خوشی نہیں ملی جس کا میں تصور کرتا تھا.

چوتھی مرتبہ ایسا ہوا کہ میرے ایک دوست نے مجھ سے کہا کہ میں کچھ معذور بچوں کے لیئے وہیل چیئرز خریدنے میں حصہ لوں.

دوست کی بات پر میں‏نے فوراً وہیل چیئرز خرید کر دے دیں. لیکن دوست کا اصرار تھا کہ میں اس کے ساتھ جا کر اپنے ہاتھ سے وہ وہیل چیئرز ان بچوں کے حوالے کروں

میں تیار ہو گیا اور اس کے ساتھ گیا. وہاں میں نے ان بچوں کو اپنے ہاتھوں سے وہ کرسیاں دیں. میں نے ان بچوں کے چہروں پر خوشی کی عجیب چمک دیکھی. میں نے‏دیکھا کہ وہ سب کرسیوں پر بیٹھ کر ادھر ادھر گھوم رہے ہیں اور جی بھر کے مزہ کر رہے ہیں. ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ کسی پکنک اسپاٹ پر آئے ہوئے ہیں.

لیکن مجھے حقیقی خوشی کا احساس تب ہوا جب میں وہاں سے جانے لگا اور ان بچوں میں سے ایک نے میرے پاؤں پکڑ لیئے۔ میں نے نرمی کے ساتھ اپنے پیر‏ چھڑانے کی کوشش کی لیکن وہ بچہ میرے چہرے کی طرف بغور دیکھتا ہوا میرے پیروں کو مضبوطی سے پکڑے رہا.

میں نے جھک کر اس بچے سے پوچھا : کیا آپ کو کچھ اور چاہیئے؟
اس بچے نے جو جواب مجھے دیا اس نے نہ صرف مجھے حقیقی خوشی سے روشناس کرایا بلکہ میری زندگی کو پوری طرح بدل کر رکھ دیا

👈اس بچے‏ نے کہا: میں آپ کے چہرے کے نقوش اپنے ذہن میں بٹھانا چاہتا ہوں تاکہ جب جنت میں آپ سے ملوں تو آپ کو پہچان سکوں اور ایک بار اپنے رب کے سامنے بھی آپ کا شکریہ ادا کر سکوں.."

01/27/2022

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ

عنوان: حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ

رسول اللہ ﷺ کے اولین جانشین اورخلیفۂ اول کو تاریخ میں ’’ابوبکرصدیق‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، ابوبکر ان کی کنیت تھی، جبکہ ’’صدیق‘‘ لقب تھا، اصل نام ’’عبداللہ‘‘ تھا، اسلام سے قبل ان کا نام ’’عبدالکعبہ‘‘ تھا، قبولِ اسلام کے بعدخود رسول اللہ ﷺ نے ان کا نام عبدالکعبہ سے تبدیل کر کے ’’عبداللہ‘‘ رکھ دیا تھا۔
بچپن سے ہی ’’عتیق‘‘ کے لقب سے بھی مشہور تھے، جبکہ قبولِ اسلام کے بعد مزید یہ کہ ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے یہ خوشخبری سنائی تھی : أنتَ عَتِیْقُ اللّہِ مِنَ النَّارِ (۱) یعنی ’’آپ اللہ کی طرف سے جہنم کی آگ سے آزادکردہ ہیں ‘‘۔
البتہ بعد میں ’’عتیق‘‘ کی بجائے ہمیشہ کیلئے ’’صدیق‘‘ کے لقب سے مشہور ہو گئے۔
حضرت ابوبکرصدیق ؓ مکی تھے، قُرَشی تھے، مہاجر تھے، قبیلۂ قریش کے معزز خاندان ’’بنو تَیم‘‘ سے ان کا تعلق تھا، جو کہ مکہ کے مشہور محلہ ’’مسفلہ‘‘ میں آباد تھا۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ ’’عشرہ مبشرہ‘‘ یعنی ان دس خوش نصیب ترین افرادمیں سے تھے جنہیں رسول اللہ ﷺ نے جنت کی خوشخبری سے شادکام فرمایا تھا۔
حضرت ابوبکرصدیق ؓ کے والد کا نام ’’ابوقحافہ‘‘ جبکہ والدہ کا نام ’’سلمیٰ‘‘ تھا، یہ دونوں باہم چچازاد تھے، لہٰذا والد اور والدہ دونوں ہی کی طرف سے آپؓ کا سلسلۂ نسب ساتویں پشت (مُرّہ بن کعب) پر رسول اللہ ﷺ کے سلسلۂ نسب سے جا ملتا ہے۔
حضرت ابوبکرصدیق ؓ کو رسول اللہ ﷺ کے انتہائی مقرب اورخاص ترین ساتھی ہونے کے علاوہ مزید یہ شرف بھی حاصل تھا کہ آپؓ رسول اللہ ﷺ کے سسربھی تھے، اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آپؓ ہی کی صاحبزادی تھیں۔
حضرت ابوبکرصدیق ؓ کو یہ خاص شرف اور اعزاز بھی حاصل تھا کہ ان کے خاندان میں مسلسل چار نسلوں کورسول اللہ ﷺ کی صحبت و معیت کا شرف نصیب ہوا، چنانچہ ان کے والدین بھی صحابی تھے، یہ خودبھی صحابی تھے، ان کے صاحبزادے عبداللہ اور عبدالرحمن ٗ نیز صاحبزادیاں عائشہ اوراسماء … اور پھر نواسے عبداللہ بن زبیر (رضی اللہ عنہم اجمعین) سبھی رسول اللہ ﷺ کے صحابی تھے۔
حضرت ابوبکرصدیق ؓ کی ولادت مکہ میں رسول اللہ ﷺ کی ولادت باسعادت کے تقریباً ڈھائی سال بعد ٗاور پھر وفات مدینہ میں آپ ﷺ کی وفات کے تقریباً ڈھائی سال بعد ہوئی۔
حضرت ابوبکرصدیق ؓ جاہلیت اور پھر اسلام دونوں ہی زمانوں میں نہایت باوقار اوروضع دار رہے، تمدنی ومعاشرتی زندگی میں انہیں ہمیشہ ممتاز مقام حاصل رہا، ظہورِ اسلام سے قبل بھی اُس معاشرے میں انہیں ہمیشہ انتہائی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، سب اہلِ مکہ اپنے اختلافات اورخاندانی جھگڑوں میں انہیں اپنا ’’ثالث‘‘ مقرر کرتے ، اورپھر ان کے ہرفیصلے کو بلا چون وچرا تسلیم کیا کرتے تھے۔
رسول اللہ ﷺ کو جب اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے نبوت عطاء کی گئی اورآپؐ نے اعلانِ نبوت فرمایا…تب آپؐ کی اہلیہ محترمہ ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاٗ و دیگر افرادِ خانہ کے بعد سب سے پہلے حضرت ابوبکرصدیق ؓ نے دینِ اسلام قبول کیا، آپ ؐ کی مکمل تصدیق کی، اوراس موقع پر کوئی دلیل یامعجزہ نہیں مانگا۔
حضرت ابوبکرصدیق ؓ کا ظہورِ اسلام سے قبل ہی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بہت گہرا تعلق تھا، دونوں میں بہت قربتیں تھیں ، اور ایک دوسرے کے گھر آمدورفت کا سلسلہ رہتا تھا۔
حضرت ابوبکرصدیق ؓ کی ذاتی ملکیت میں قبولِ اسلام کے وقت نقد چالیس ہزار درہم تھے ،قبولِ اسلام کے بعد انہوں نے اپنی یہ کل پونجی رسول اللہ ﷺ کی خدمت اوردینِ اسلام کی نشرواشاعت میں صرف کر دی۔
دینِ اسلام کے ابتدائی دور میں متعدد ایسے افراد جو کہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے ،اور دینِ اسلام قبول کر لینے کی وجہ سے اپنے مشرک آقاؤں کے ہاتھوں بدترین عذاب اور سختیاں جھیلنے پرمجبور تھے ،انہیں حضرت ابوبکرصدیق ؓ نے اپنی جیبِ خاص سے نقد رقم ادا کر کے ان کے مشرک آقاؤں سے خرید لیا،اورپھر اللہ کی خوشنودی کی خاطر انہیں آزاد کر دیا…قرآن کریم کی درجِ ذیل آیت میں اسی بات کی طرف اشارہ کیا گیاہے:
{وَسَیُجَنَّبُھَا الأَتْقَیٰ الَّذِي یُؤتِي مَالَہٗ یَتَزَکَّیٰ وَمَا لِأَحَدٍ عِندَہٗ مِنْ نِعمَۃٍ تُجْزَیٰ اِلَّاابْتِغٓائَ وَجْہِ رَبِّہٖ الأَعلَیٰ وَلَسَوفَ یَرْضَیٰ}
(۱) ترجمہ:(اور ایساشخص اُس [جہنم] سے دور رکھا جائے گا جوبڑا پرہیزگار ہو گا، جو پاکی حاصل کرنے کیلئے اپنا مال دیتا ہے،کسی کا اُس پر کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو، بلکہ صرف اپنے پروردگار بزرگ وبلند کی رضا چاہنے کیلئے، یقینا وہ [اللہ] عنقریب راضی ہوجائے گا) ۔
مفسرین کے بقول اس آیت کامفہوم اگرچہ عام ہے ،یعنی جوکوئی بھی محض اللہ کی رضامندی وخوشنودی کی خاطر اپنا مال خرچ کرے گا وہ جہنم کی آگ سے محفوظ رہے گا…البتہ بطور خاص اس سے حضرت ابوبکرصدیق ؓ کی طرف اشارہ بھی مقصود ہے۔(۱)
حضرت ابوبکرصدیق ؓ کا اُس معاشرے میں کافی اثرورسوخ تھا اورحلقۂ احباب بھی کافی وسیع تھا، لہٰذا انہیں اللہ کی طرف سے ’’ہدایت ‘ ‘کی شکل میں جو خیر نصیب ہوئی تھی اسے انہوں نے خود اپنی ذات تک محدود رکھنے کی بجائے اس اثرورسوخ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسروں تک پہنچانے کی کوشش بھی نہایت سرگرمی اور جذبے کے ساتھ شروع کر دی ، چنانچہ ان کی ان دعوتی وتبلیغی کوششوں کے نتیجے میں اُس معاشرے کے متعدد ایسے بڑے بڑے اوربااثر افرادمشرف باسلام ہو گئے جو آگے چل کردینِ اسلام کے بڑے علمبردار اور اس قافلۂ توحیدکے سپہ سالار ثابت ہوئے… دینِ اسلام کی نشرواشاعت اورسربلندی کی خاطر جنہوں نے تاریخی خدمات اورناقابلِ فراموش کارنامے انجام دئیے ، ’’عشرہ مبشرہ ‘‘ یعنی وہ دس خوش نصیب ترین حضرات جنہیں اس دنیا کی زندگی میں ہی رسول اللہ ﷺ نے جنت کی خوشخبری سے شادکام فرمایا تھا ان میں سے پانچ حضرات نے آپؓ کی دعوت اور تبلیغی کوششوں کے نتیجے میں ہی دینِ برحق قبول کیا تھا (۲)

01/21/2022

Jab Momin Gunaah krta ha to Allah kia krta ha | uh official

01/19/2022

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ مدینہ کی گلیوں میں یہ کہتے پھرتے کہ لوگو تم نے کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے تو مجھے بھی دکھا دو، پھر کہنے لگے کہ اب مدینے میں میرا رہنا دشوار ہے، اور شام کے شہر حلب میں چلے گئے۔
تقریباً چھ ماہ بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواب میں زیارت نصیب ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے :

ما هذه الجفوة، يا بلال! ما آن لک أن تزورنا؟

حلبي، السيرة الحلبيه، 2 : 308

’’اے بلال! یہ کیا بے وفائی ہے؟ (تو نے ہمیں ملنا چھوڑ دیا)، کیا ہماری ملاقات کا وقت نہیں آیا؟‘‘

خواب سے بیدار ہوتے ہی اونٹنی پر سوار ہو کر
لبیک! یا سیدی یا رسول ﷲ! کہتے ہوئے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ جب مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے مسجدِ نبوی پہنچ کر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی نگاہوں نے عالمِ وارفتگی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھونڈنا شروع کیا۔ کبھی مسجد میں تلاش کرتے اور کبھی حجروں میں، جب کہیں نہ پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور پر سر رکھ کر رونا شروع کر دیا اور عرض کیا :
یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا تھا کہ آکر مل جاؤ، غلام حلب سے بہرِ ملاقات حاضر ہوا ہے۔ یہ کہا اور بے ہوش ہو کر مزارِ پُر انوار کے پاس گر پڑے، کافی دیر بعد ہوش آیا۔ اتنے میں سارے مدینے میں یہ خبر پھیل گئی کہ مؤذنِ رسول حضرت بلال رضی اللہ عنہ آگئے ہیں۔
مدینہ طیبہ کے بوڑھے، جوان، مرد، عورتیں اور بچے اکٹھے ہو کر عرض کرنے لگے کہ بلال! ایک دفعہ وہ اذان سنا دو جو محبوبِ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سناتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں معذرت خواہ ہوں کیونکہ میں جب اذان پڑھتا تھا تو اشہد ان محمداً رسول ﷲ کہتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتا تھا۔ اب یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے کسے دیکھوں گا؟

بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ حسنین کریمین رضی ﷲ عنہما سے سفارش کروائی جائے، جب وہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کے لیے کہیں گے تو وہ انکار نہ کر سکیں گے۔ چنانچہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا :

يا بلال! نشتهی نسمع أذانک الذی کنت تؤذن لرسول ﷲ صلی الله عليه وآله وسلم فی المسجد.

سبکی، شفاء السقام : 239
هيتمی، الجوهر المنظم : 27

’’اے بلال! ہم آج آپ سے وہی اذان سننا چاہتے ہیں جو آپ (ہمارے ناناجان) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس مسجد میں سناتے تھے۔‘‘

اب حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو انکار کا یارا نہ تھا، لہٰذا اسی مقام پر کھڑے ہوکر اذان دی جہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری حیات میں دیا کرتے تھے۔ بعد کی کیفیات کا حال کتبِ سیر میں یوں بیان ہوا ہے :

ذهبي، سير أعلام النبلاء، 1 : 2358
سبکي، شفاء السقام : 340
حلبي، السيرة الحلبيه، 3 : 308

’’جب آپ رضی اللہ عنہ نے (بآوازِ بلند) ﷲ اکبر ﷲ اکبر کہا، مدینہ منورہ گونج اٹھا (آپ جیسے جیسے آگے بڑھتے گئے جذبات میں اضافہ ہوتا چلا گیا)، جب اشھد ان لا الہ الا اﷲ کے کلمات ادا کئے گونج میں مزید اضافہ ہو گیا، جب اشھد ان محمداً رسول اﷲ کے کلمات پر پہنچے تو تمام لوگ حتی کہ پردہ نشین خواتین بھی گھروں سے باہر نکل آئیں (رقت و گریہ زاری کا عجیب منظر تھا) لوگوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد مدینہ منورہ میں اس دن سے زیادہ رونے والے مرد و زن نہیں دیکھے گئے۔💞

علامہ اقبال رحمۃ ﷲ علیہ اذانِ بلال رضی اللہ عنہ کو ترانۂ عشق قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں :

اذاں ازل سے ترے عشق کا ترانہ بنی
نماز اُس کے نظارے کا اک بہانہ بنی

ادائے دید سراپا نیاز تھی تیری
کسی کو دیکھتے رہنا نماز تھی تیری

Uمair❤️

‏آپ ﷺنےفرمایا:قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ میری امت کےکچھ قبیلے مشرکین سے مل جائیں،اور بتوں کی پرستش کریں،...
12/21/2021

‏آپ ﷺنےفرمایا:

قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ میری امت کےکچھ قبیلے مشرکین سے مل جائیں،اور بتوں کی پرستش کریں،اور میری امت میں عنقریب تیس جھوٹے نکلیں گے،ان میں سےہر ایک یہ دعویٰ کرےگاکہ وہ نبی ہےحالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرےبعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔

(ترمذی،۲۲۱۹)

11/15/2021

تاریخ کا انتہائی عجیب و غریب اور عبرت ناک واقعہ ، جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔

وہ دونوں ،جس جگہ پر گناہ کرنے لگے تھے وہ روئے زمین کا سب سے زیادہ مقدس مقام تھا. جیسے ہی انہوں نے گناہ کیا، اسی وقت ان کے جسم پتھر ھونے لگے.ان کی روحیں قبض کر لی گئیں اور گوشت پوست کے جسم پتھر کے بنتے چلے گئے۔
اس وقت ان کے اریب قریب کوئی بھی نہیں تھا. اس لیے جو کچھ ان پر گزری اس کے بارے میں خود انہی کے سوا کسی کو پتہ نہیں چلا تھا. یہ تاریخ کا انتہائی عجیب و غریب اور خوفناک ترین واقعہ تھا۔ دو زندہ انسان ، جن میں سے ایک مرد تھا اور دوسری عورت تھی عذاب الٰہی کے تحت پتھر کے بن گئے تھے ۔

کچھ دیر گزری تو ادھر سے کسی کا گزر ہوا ۔ اس نے ان کو دیکھا اور پہچان لیا۔ یہ بھی معلوم ہوگیا کہ انہوں نے اس مقدس و متبرک ترین مقام پر کیسا گھناؤنا کام کیا تھا جس کی فوری طور پر پکڑ ہوگئی تھی ۔ لوگوں کا مارے غصے اور دکھ کے انتہائی برا حال ہوگیا۔ ان دونوں پتھر کے بتوںکو نشان عبرت بنانے کے لئے اس زمانے کے اہل علم اور نیک لوگوں نے ان کو اس مقدس مقام سے کچھ دور اسی علاقے میں ایک دوسرے سے کافی لمبے فاصلے پر آمنے سامنے نصب کر دیا ۔اس مقدس مقام پر عبادت کے لئے آنے والوں کے لئے لازم قرار دے دیا گیا کہ ان دونوں کے بتوں کو جوتے مارتے ہوئے گزرا جائے تاکہ دیکھنے والوں کے زہنوں میں ان کا کیا ہوا گناہ تازہ رہے اور وہ اس واقعہ سے عبرت حاصل کرتے رہیں۔

اب جو بھی اس مقدس مقام پر آتا وہ ان کو جوتے مارتے ہوئے گزرنے لگا۔ وقت گزرتا رہا۔

سو ڈیڑھ سو سال تک یہی سلسلہ چلتا رہا اس کے بعد کچھ وقت گزرا تو نئی آنے والی نسلوں نے آہستہ آہستہ ان بتوں کو جوتوں سے مارنا چھوڑ دیا۔شیطان نے ان کے زہن میں یہ بات ڈالی کہ کیونکہ یہ عبادت کا حصہ نہیں لہٰذا ان بتوں کو جوتوں سے مارنا ضروری نہیں بلکہ اس کی بجائے ان کو علامتی طور پر تھپڑ مار کر گزرا جائے جس سے ان سے نفرت کا اظہار بھی ہوتا رہے گا اور ان کے کئے ہوئے گناہ کا خیال بھی لوگوں کے زہنوں میں موجود رہے گا۔

گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ یہ تھپڑ بھی ہلکی سی چپت میں تبدیل ہونے لگا اور پھر بالکل علامتی طور پر آہستہ سے ان بتوں کو چھو کر گزرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ شیطان نے ایک بار پھر ورغلایا اب لوگ ان بتوں کو اس نیت سے چھوتے کہ وہ ان سے نفرت کرتے ہوئے تھپڑ مار رہے ہیں لیکن ساتھ ہی دعا اپنی حاجات کے لئے دعا بھی مانگنے لگے تھے۔ شیطان نے ان کے زہن میں بٹھا دیا کہ اگر تم ان بتوں کو نفرت سے چھوتے وقت دعا مانگو گے تو تمہاری دعائیں جلدی قبول ہونگی ۔ یہاں شیطان کی شرارتیں دیکھ لیجئیے کیسے آہستہ آہستہ زہنوں کو تبدیل کرتا ہے ۔ جب لوگوں کی حاجات پوری ہو جاتیں تو شیطان ان کو سمجھاتا کہ یہ حاجت اسی وجہ سے پوری ہوئی کہ تم نے بت کو چھو کر دعا کی تھی ۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آنے والی نسلوں کی سوچ بدلتی چلی گئی اور وہ اب ان بتوں کو چھو کر دعا ضرور مانگتے تھے لیکن ان کے انداز میں ان بتوں کے لئے عقیدت اور احترام آنے لگا تھا۔ اور پھر وہ وقت بھی جلد آ گیا جب ایک بدبخت نے اس بت کے سامنے اس کی باقاعدہ مناجات کی اور اسی سے دعا مانگنے لگا۔ جوتے مارنے سے شروع ہونے والی داستان تھپڑ مارنے ، علامتی طور پر چھونے ، عقیدت سے چھونے سے ہوتی ہوئی باقاعدہ عبادت تک چلی گئی ۔ اب ان دونوں بتوں کی باقاعدہ پوجا کی جانے لگی تھی۔ ان سے منتیں اور مرادیں مانگی جانے لگیں۔ بدی اور بدی کے عبرتناک انجام کی علامت اب دونوں بت خدا بنا لئے گئے تھے ۔ ایک وقت آیا کہ ان بتوں کو سجدے کئے جانے لگے ، ان کے سامنے قربانی کی جانی لگی اور ان کا شمار بڑے بتوں میں کیا جانے لگا۔

پھر یہ اندھیری رات اور زیادہ گہری ہوتی چلی گئی یہاں تک کہ ایک دن ۔۔۔۔ رشدوہدایت کا ایک سورج طلوع ہوا۔ جس سے وہ پورا خطہ اور چاردانگ عالم جگمگا اٹھے ۔ دنیا سے جہالت چھٹنے لگی ۔ ایک عظیم ہستی نے ساری دنیا میں ایک ایسا عظیم انقلاب برپا کر دیا تھا جس نے روز قیامت تک جاری و ساری رہنا تھا۔ ایک دن عرب کا وہ بادشاہ جو غریبوں کا والی اور بیکسوں کا سہارا تھا فاتح بن کر اس مقدس زمین میں آن پہنچا۔ان کی ایک نگاہ سے بت اور بت پرست ٹوٹ کر بکھرنے لگے ، لوگ توبہ تائب ہوکر بتوں سے دور ہونے لگے سب کو اپنے سچے خالق و مالک کی پہچان ہونے لگی ۔ ہزاروں سال سے یہ پیاسی زمین ، یہ کرہ ارض ہدایت سے سیراب ہونے لگی ۔ زمین و آسمان کی مخلوقات نے حیرت سے اس عظیم الشان انقلاب کا منظر پہلی بار دیکھا تھا۔

ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سب سے پیارے ساتھی علی رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ خانہ خدا میں داخل ہوئے ۔ سب لات منات کے بت توڑے جانے لگے ۔ بتوں کے ٹکڑے اڑ رہے تھے اور ان کو پوجنے والے جو اپنے سچے رب کو پہچان چکے تھے دیکھ کر اپنی سابقہ گمراہی پر پچھتا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بتوں کو ریزہ ریزہ کر رہے تھے اور ساتھ ساتھ یہ آیت بھی دہراتے جا رہے تھے کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا، بیشک باطل مٹنے کے لئے ہی ہوتا ہے ۔

اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں انسانی بتوں کی جانب متوجہ ہوئے جنہیں کئی سو سال پہلے ایک گناہ کی پکڑ میں پتھر کا بنا کر نمونہ عبرت بنا دیا گیا تھا۔ مرد کا بت صفا کے مقام پر نصب تھا اور عورت کا بت مروہ کے مقام پر ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی ٹکڑے ٹکڑے کرکے اٹھا کر خانہ خدا کی حدود سے باہر پھینک دیا ۔

یہ عورت مرد کون تھے؟۔

اس کے لئے ہمیں تاریخ کے اوراق کو پیچھے الٹنا پڑے گا۔

اس کے لئے ھمیں اس زمانے میں جانا ھوگا جب حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت بی بی حاجرہ علیہ السلام زم زم کے چشمے کے قریب زندگی کے دن بسر کر رھے تھے اس دور میں عرب کی زمین پر پینے والے پانی کا ملنا ایک انتہائی ناممکن سی بات تھی صحرا اور خشک پہاڑیوں کی اس زمین پر پانی کی ایک بوند کا ملنا محال تھا عرب کے قبائل میٹھے پانی کے چشموں اور کنوؤں کی تلاش میں صحراؤں اور وادیوں میں مارے مارے پھرتے تھے یہ معجزانہ چشمہ جو ننھے اسماعیل علیہ السلام کے ایڑیاں رگڑنے سے معجزاتی طور پر الّلہ کی طرف سے پیدا کیا گیا تھا اس بے آب و گیا علاقے میں دنیا کی سب سے بڑی نعمت سے کم نہیں تھا اور ایک قبیلہ جو بنی جرھم کے نام سے تاریخ میں مشہور گے وہ بھی میٹھے پانی کی تلاش میں صحراؤں کی خاک چھان رھا تھا

انہوں نے جب دور سے پرندوں کو اڑتے دیکھا تو ان کو خیرانگی ھوئی کیونکہ صحرا میں پرندوں کا پایا جانا پانی کی علامت تھا چنانچہ وہ سارا قبیلہ اسی جانب چل پڑا انہوں نے جب ایک خاتون اور چھوٹے سے بچے کو اس ٹھنڈے میٹھے پانی کے چشمے کے قریب دیکھا تو وہ بہت حیران بھی ھوئے اور اس علاقے میں جہاں پانی کا نام و نشان تک نہیں تھا اللہ کی قدرت سے ایک چشمے کو رواں دیکھ کر بے حد حیران ھوئے ۔ انہوں نے حضرت بی بی حاجرہ علیہ السلام سے اس چشمے کے قریب رہائش اختیار کرنے کی اجازت مانگی حضرت حاجرہ علیہ السلام نے ان کو اجازت دے دی اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ اس چشمے کا پانی ضرور استعمال کرو لیکن یہ اللہ کی امانت ھے اس پر کسی کا بھی کوئی مالکانہ حق نہیں ھوگا قبیلے والوں نے اس شرط کو قبول کر لیا اور یہاں پر ہی آباد ھو گئے جب وقت گزرنے لگا جب حضرت اسماعیل علیہ السلام تو بی بی حاجرہ علیہ السلام نے نوجوان اسماعیل کی شادی اسی قبیلہ جرھم کی ایک لڑکی سے کر دی

اور یوں رفتہ رفتہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد خوب پھلی پھولی اور یوں مکہ جس کا اصل نام بکہ تھا ایک آبادی کی شکل اختیار کر گیا قبیلہ جرھم والے کافی عرصہ تک تو سیدھے راستے پر رھے لیکن پھر آھستہ آھستہ ان میں خرابی پیدا ھونی شروع ھو گئی اب انہوں نے کعبہ شریف کا انتظام سنبھال لیا اور حج کے لئے آنے والے لوگوں سے ملنے والا ہدیہ خود سمیٹنے لگ گئے اور یوں رفتہ رفتہ ان کے اندر جرائم پیدا ھونے شروع ھوگئے تب اللہ تعالی نے ان کو سزا دینے کے لئے ان سے زم زم چھین لیا اور زم زم کا پانی خشک ھو گیا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زم زم کے نشان تک مٹ گئے

اب کسی کو معلوم بھی نہیں تھا کہ یہاں زم زمُ نام کا کوئی چشمہ ھوا کرتا تھا اسی قبیلے کا ایک شخص جس کا نام مضاض بن عمرو تھا بہت ہی نیک اور پارسا شخص تھا اس نے قوم کو بہت سمجھایا ان کو بہت سے خطبے دئیے اللہ کے عزاب سے ڈرایا لیکن ان پر کوئی اثر نہ ھوا جب یہ قبیلہ اپنے برے کاموں سے باز نہ آیا تو ایک رات مضاض نے سوچا کہ یہ لوگ جس طرح کعبہ شریف کی ہدیوں کی صورت میں آمدن کھانے لگ گئے ہیں کسی دن یہ حج کرنے کے لئے آنے والوں کی طرف سے چڑھائے گئے قیمتی ہدیے جن میں سونے چاندی کی کچھ اشیاء شامل تھیں وہ بھی چرا لیں گے

انہوں نے رات کو اپنے بیٹے کو ساتھ لیا اور کعبہ کے اندر موجود سونے کے قیمتی ھدیے اٹھائے اور جس جگہ زم زم کا چشمہ ھوا کرتا تھا اسی جگہ کھدائی کر کے یہ سب قیمتی ہدیے وھاں چھپا دئیے اب جیسا کہ اللہ تعا لی کسی قوم کے بگڑنے پر اس قوم کو کسی دوسری قوم کے ھاتھوُں عذاب دیتا ھے اس قوم کو بھی عذاب دینے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ اور ایک اور قبیلے بنی خزاعہ کو ان پر مسلط کر دیا. بنی خزاعہ والوں نے بنی جرہم کو مار مار کر مکہ سے نکال دیا ان کے قبیلے کے کثیر تعداد میں افراد کو قتل بھی کر ڈالا اور یوں لٹے پٹے بنی جرہم یمن میں جا کر آباد ھو گئے. اسی زمانے میں اس قبیلے کے ھاں ایک لڑکے اور لڑکی نے جنم لیا لڑکے کا نام ایسا بن یلا تھا اور لڑکی کا نام نائلہ بنت زید تھا۔.

دونوں جب جوان ہوئے تو ایک دوسرے کے عشق میں گرفتار ہو گئے اور انہوں نے آپس میں ناجائز تعلقات قائم کر لیےایک بار یہ دونوں حج کے لیے ایک قافلے کے ھمراہ مکہ مکرمہ گئے. خانہ کعبہ میں ان کو تنہائی میسر آئی تو انہوں نے ایک قبیح فعل کرنے کا ارادہ کر لیا. چنانچہ جیسے ہی گناہ کے مرتکب ہوئے تو انہیں عذاب الہی نے آن گھیرا. یوں وہ پتھر کے بت بنا دییے گئے.
اس کے آگے کے حالات آپ نے تحریر کی ابتدا میں پڑھ لیے ہیں۔
جب ان کے بت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خانہ کعبہ کی حدود سے باہر پھینکوا دییے تو اس وقت مسلمانوں کے زہن میں صفا و مروہ کے دوران سعی کے بارے میں شک و شبہ پیدا ہو گیا. وہ سوچنے لگے کہ کیونکہ صفا و مروہ پر دونوں کے بت پہلے نصب تھے جن کا طواف جاہلیت کے زمانے میں کیا جاتا تھا لہذا اب ان کا صفا و مروہ کا طواف کہیں ان بتوں کی یاد میں طواف نہ ثابت ہو جس کی وجہ سے ان پر بھی اللہ کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔اس پر سورہ بقرہ کی آیت نمبر 158 نازل ہوئی جس میں اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا:

'' بے شک صفا اور مروا الله کی نشانیوں میں سے ہے، سو جو شخص
حج کرے بیت الله کا یا عمرہ کرے تو نہیں ہے کچھ گناہ اس پر جو سعی کرے ان دونوں کے درمیان اور جو شخص خوش دلی سے کرتا ہے کوئی نیک کام تو بے شک الله ہے قدر دان ، سب کچھ جاننے والا ھے..

#مجنوں

Address

1084 Joliet Street
Dyer, IN
46311

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when UH Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share