08/26/2026
حجۃ الوداع کا موقع اسلامی تاریخ کے انتہائی پُرتاثیر اور تاریخی لمحات میں سے ایک ہے۔ یہ دسویں ہجری (632 عیسوی) کا ذکر ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کا پہلا اور آخری حج ادا کیا۔ اس موقع پر میدانِ عرفات میں جبلِ رحمت پر کھڑے ہو کر آپ ﷺ نے ایک انتہائی جامع، تاریخی اور بصیرت افروز خطبہ ارشاد فرمایا، جسے خطبہ حجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔
اس خطبے میں آپ ﷺ نے انسانی حقوق، اخلاقیات، مساوات اور اسلامی معاشرے کی بنیادوں کا اعلان کیا۔
خطبہ حجۃ الوداع کے بنیادی اور اہم نکات (اردو میں):
۱. جان، مال اور عزت کا تقدس
> "اے لوگو! میری بات غور سے سن لو، شاید اس سال کے بعد میں اس مقام پر تم سے کبھی نہ مل سکوں۔ تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر ایسے ہی حرام ہیں جیسے آج کے اس دن کی، اس مہینے کی اور اس شہر (مکہ) کی حرمت ہے۔"
>
۲. جاہلیت کے رسم و رواج اور سود کا خاتمہ
> "خبردار! جاہلیت کے تمام دستور اور خون کے بدلے اب پاؤں تلے روندے جاتے ہیں۔ جاہلیت کا سودی کاروبار ختم کیا جاتا ہے.
۳. عورتوں کے حقوق اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک
> "اے لوگو! عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ تم نے انہیں اللہ کی امان کے ساتھ حاصل کیا ہے اور ان کے جسموں کو اللہ کے کلمے کے ساتھ اپنے لیے حلال کیا ہے۔ ان کے حقوق یہ ہیں کہ تم انہیں اچھے طریقے سے کھلاؤ اور پہناؤ۔"
>
۴. مساواتِ انسانی (عرب و عجم کا فرق ختم)
> "اے لوگو! آگاہ رہو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ (آدم) ایک ہے۔ کسی عربی کو کسی عجمی پر، اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، نہ کسی سرخ کو سیاہ پر اور نہ کسی سیاہ کو سرخ پر کوئی فضیلت حاصل ہے، مگر تقویٰ اور پرہیزگاری کی بنیاد پر۔"
>
۵. وراثت اور امانتوں کی واپسی
> "جس کے پاس کسی کی امانت ہو، وہ اسے اس کے حق دار کے حوالے کرے۔ تمام مسلمانوں کے مال کا وارث اللہ ہے (یعنی کوئی کسی کا حق غصب نہ کرے)۔"
>
۶. کتابِ خدا اور سنتِ رسول ﷺ سے وابستگی
> "میں تم میں دو چیزیں چھوڑ جا رہا ہوں، اگر تم نے انہیں مضبوطی سے تھامے رکھا تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے: ایک اللہ کی کتاب (قرآن) اور دوسری اس کے نبی کی سنت۔"
>