Ahsan Syed

Ahsan Syed Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Ahsan Syed, Poet, islamabad, Brooklyn, NY.

میں آپ کو ایک دفعہ کا بہت دلچسپ اور افسوس ناک واقعہ سناتا ہوں یہ چند سال پرانی بات ہے جب محترمہ ماں جی بانو قدسیہ کا انت...
03/23/2026

میں آپ کو ایک دفعہ کا بہت دلچسپ اور افسوس ناک واقعہ سناتا ہوں یہ چند سال پرانی بات ہے جب محترمہ ماں جی بانو قدسیہ کا انتقال ہوا تو داستان سرائے کے باہر میری ڈیوٹی لگائی گئی کہ میڈیا سے آنے والے صحافیوں کے انتظام کا خیال رکھا جائے۔
اسی دوران پاکستان کے مشہور و معروف ٹی وی چینل جیو سے ایک صحافی ہاتھ میں مائک لیے ہوئے میری جانب ایا اس کے ہاتھ میں پینسل اور کاغذ بھی تھا اس نے جب مجھ سے ایک سوال کیا تو میرے وجود میں بجلیاں گر گئی
اس نے مجھ سے پوچھا کہ بانو قدسیہ کیا کرتی تھی ؟میں نے اس سے پوچھا میں اپ کا سوال نہیں سمجھا تو اس نے مجھ سے کہا کہ بانو قدسیہ نظمیں لکھتی تھیں غزلیں لکھتی تھی یا اس کے علاوہ کچھ اور بھی لکھتی تھی میں نے اس صحافی کی طرف حیرانگی کے ساتھ دیکھا اور اور میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ پاکستان کے نامور چینل کے صحافی کے نالج کے یہ حالات ہیں تو پھر اس ملک کے عام ادمی کی حالت کیا ہوگی بہرحال جہاں مجھے محترمہ ماں جی بانو قدسیہ جی کے دنیا سے رخصت ہونے کا دکھ تھا اس سوال کے بعد میرا وہ دکھ کم ہو کر مجھے ہی دلاسہ دینے کی وجہ بن گیا اور میں نے شکر ادا کیا کہ واقعی ایسی دھرتی پر ایسے لوگوں کا نہ ہونا ہی بہتر ہے جہاں صحافت سے جڑے ہوئے لوگ اپنے ہی پیشے سے منسلک براہ راست لوگوں سے واقف نہیں آج یہ ARY Digital news کی پوسٹ دیکھ کر مجھے وہ واقعہ یاد اگیا
مجھے پورا یقین ہے کہ براہ راست صحافیوں کے اگر یہ حالات ہیں تو ایڈیٹنگ ڈیپارٹمنٹ میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو واقعی اس بات کا اندازہ نہیں ہونا چاہیے کہ کون جان بحق ہوا اور کون شہید ہوا
جس ملک میں انگلش بولنے والے کو انٹلیکچول سمجھا جائے اور عام سادہ فہم زبان بولنے والے کو اپنی قومی زبان میں دیسی اور فرسودہ سمجھا جائے ایسے ممالک میں واقعی میں شہید ہونے والے جابحق ہو جاتے ہیں اور جان بحق ہونے والے شہید ہو جاتے ہیں
احسن سید

یہ دنیا ایک تماشہ ہے، ایک بازار کی طرح جہاں ہر چیز دکھاوے پر چل رہی ہے۔لوگ یہاں آتے ہیں، کچھ دیر رہتے ہیں، اور پھر چلے ج...
03/19/2026

یہ دنیا ایک تماشہ ہے، ایک بازار کی طرح جہاں ہر چیز دکھاوے پر چل رہی ہے۔
لوگ یہاں آتے ہیں، کچھ دیر رہتے ہیں، اور پھر چلے جاتے ہیں۔

انسان کو لگتا ہے کہ وہ بہت سمجھدار ہے، لیکن حقیقت میں وہ خود بھی اسی کھیل کا حصہ ہے۔
وہ خود کو دوسروں سے بہتر سمجھتا ہے، مگر اصل میں سب ایک ہی سفر پر ہیں۔

عشق (سچی محبت) وہ چیز ہے جو انسان کو اس فریب سے نکال سکتی ہے،
لیکن ہر کوئی عشق کو سمجھ نہیں پاتا۔

بہت سے لوگ صرف ظاہر (دکھاوا) دیکھتے ہیں،
وہ حقیقت کو نہیں پہچانتے۔

یہ زندگی ایک گزرنے والا لمحہ ہے،
یہاں کوئی بھی ہمیشہ رہنے والا نہیں۔

آخر میں انسان کو یہ سمجھ آتا ہے کہ
یہ سب ایک کھیل تھا، ایک آزمائش تھی،
اور اصل حقیقت اس سے کہیں گہری ہے جو نظر نہیں آتی ہے۔
احسن سید

03/19/2026
فلم، ٹی وی اور اسٹیج کے نامور اداکارسید عاصم بخاری صاحب انتقال کر گئے۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
03/12/2026

فلم، ٹی وی اور اسٹیج کے نامور اداکار
سید عاصم بخاری صاحب انتقال کر گئے۔
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

در میانِ امت آں کیواں جنابہمچو حرفِ قل ھو ﷲ در کتابترجمہ:امتِ مسلمہ کے درمیان اُس عظیم المرتبت ہستی (امام حسینؓ) کا مقام...
03/07/2026

در میانِ امت آں کیواں جناب
ہمچو حرفِ قل ھو ﷲ در کتاب

ترجمہ:
امتِ مسلمہ کے درمیان اُس عظیم المرتبت ہستی (امام حسینؓ) کا مقام آسمان کی بلندی جیسا ہے۔جیسے قرآنِ مجید میں سورہ اخلاص کا "قل ھو ﷲ" ایک نمایاں اور بے مثال مقام رکھتا ہے۔

شرح:
یہ اشعار علامہ اقبال کی شہرۂ آفاق کتاب "رموزِ بیخودی" سے ہیں، جس میں وہ "معنیٔ حریتِ اسلامیہ و سرّ حادثہ کربلا" کے عنوان کے تحت امام حسین رضی اللہ عنہ کے مقام و مرتبہ اور کربلا کے عظیم پیغام کو بیان کرتے ہیں۔
امام حسین رضی اللہ عنہ کا رتبہ بلندی میں آسمان کے برابر تھا۔ امت کے درمیان ان کی حیثیت وہی تھی جو سورۂ اخلاص ( قل ھو اللہ) کو قرآن کے درمیان حاصل ہے۔ یعنی جس طرح سورۂ اخلاص کو قرآن مجید میں ایک خاص حیثیت حاصل ہے اسی طرح حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو ملت اسلامیہ میں ایک خاص حیثیت حاصل ہے۔یہاں اقبال امام حسینؓ کو "کیواں جناب" کہتے ہیں، یعنی "آسمان جیسی بلند مرتبہ ہستی" ۔ وہ فرماتے ہیں کہ امام حسینؓ کی امت میں وہی حیثیت ہے جو کسی فلک بوس اور آسمانی حقیقت کی ہو ، ایک عظیم، درخشاں، اور روشن چراغ، جو تاریکی میں رہنمائی کرتا ہے۔ اقبال ایک نہایت عمیق اور علامتی تشبیہ استعمال کرتے ہیں۔ سورۃ الاخلاص، بالخصوص "قُلْ ھُوَ اللّٰہُ أَحَد" کا جملہ، توحید کا جامع ترین اعلان ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ امام حسینؓ کی ذات جس طرح اسلام کی روح اور اس کی اصل تعلیم (توحید، حریت، قربانی، استقامت) کی نمائندگی کرتی ہے، اسی طرح جیسے "قل ھو ﷲ" پورے قرآن کا خلاصہ اور لبِ لباب ہے۔
اقبال امام حسینؓ کو اسلام کی روحِ حریت (آزادی)، ایمان کی معراج، اور باطل کے خلاف ابدی صدائے حق کی علامت قرار دیتے ہیں۔وہ فرماتے ہیں کہ جس طرح سورۃ الاخلاص میں توحید کا نچوڑ ہے، اسی طرح امام حسینؓ کی زندگی، ان کی قربانی اور ان کا پیغام امت مسلمہ کی روحانی بقا اور دینی شناخت کا مرکز ہے۔

رموزِ بیخودی، درمعنی حریت اسلامیہ و سرِّ حادثہ کربلا

A beautiful banner displayed at Punjab University Lahore
03/07/2026

A beautiful banner displayed at Punjab University Lahore

"Hazaaron saal nargis apni be-noori pe roti haiBadi mushkil se hota hai chaman mein deedawar paida" Context: It emphasiz...
03/07/2026

"Hazaaron saal nargis apni be-noori pe roti hai
Badi mushkil se hota hai chaman mein deedawar paida"

Context: It emphasizes that genius and deep insight are rare, highlighting the scarcity of true leaders or visionaries in a society.
Symbolism:

Nargis: A flower with a central cup that resembles an eye, representing a long, blind, or unappreciative wait.

Be-noori: Lack of light/blindness.

Chaman: Garden (symbolizing society/world).

Deedawar: A person with deep vision, insight, or wisdom.

Allama Iqbal Urdu Poetry SHayari Status Sad Urdu Shayari Whatsapp.
#ُpakistan

عزائم کو سینوں میں بیدار کر دے نگاہِ مسلماں کو تلوار کر دے!علامہ اقبال اس شعر میں اللہ  سے دعا کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے د...
03/07/2026

عزائم کو سینوں میں بیدار کر دے
نگاہِ مسلماں کو تلوار کر دے!

علامہ اقبال اس شعر میں اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے دلوں میں بلند حوصلے، مضبوط ارادے اور بڑے مقاصد کے حصول کا جذبہ پیدا کر دے۔ کیونکہ جب قوم کے سینوں میں عزم و ہمت زندہ ہو جائے تو وہ ناممکن کو بھی ممکن بنا سکتی ہے۔ اقبال کے نزدیک زوال کی سب سے بڑی وجہ کمزور ارادے اور بے عملی ہے۔

دوسرے مصرعے میں اقبال کہتے ہیں کہ مسلمان کی نگاہ کو تلوار بنا دے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ صرف جنگ کرے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی نگاہ میں ایسی بصیرت، جرات اور تاثیر پیدا ہو جائے کہ وہ باطل کو کاٹ کر رکھ دے۔ اس کی فکر، اس کا نظریہ اور اس کی شخصیت اتنی مضبوط ہو کہ ظلم، باطل اور کمزوری اس کے سامنے ٹھہر نہ سکے۔

اقبال کی دعا یہ ہے کہ مسلمان کے اندر زندہ عزم، بلند ہمت، گہری بصیرت اور حق کے لیے بے خوف جرات پیدا ہو جائے۔ جب دل میں عزم جاگ جائے اور نگاہ میں تلوار کی سی کاٹ آ جائے تو پھر قومیں غلامی، پستی اور شکست سے نکل کر عروج اور سربلندی کی طرف بڑھتی ہیں۔

طارق کی دُعا
(اندلس کے میدانِ جنگ میں)
بال: جبریل

03/02/2026

دنیا نے اقبال کی فکر سے اپنی فکر کو بدل لیا اور ہم نے تمام سرکاری اداروں سے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی تصویر تک کو اکھاڑ پھینک دیا ایک زمانہ تھا جب قائد اعظم محمد علی جناح اور ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی تصاویر سرکاری دفاتر وزارت عظمی ،پارلیمنٹ ،صدر اور وزارت وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہوں کی زینت ہوا کرتے تھے۔ مگر افسوس علامہ صاحب کی تصویر بڑی خاموشی سے پاکستانی قوم کی ذہنیت سے اور ان عمارتوں سے فراموش کر دی گئی
یہی وجہ ہے کہ اب پاکستان میں شاہینوں کی جگہ منافقتوں نے لے لی ہے۔اور جنہوں نے فکر اقبال کو اپنی زندگیوں کا حسن زیور بنایا وہ اج شاہین بن کر دنیا کی سلطنتوں کو للکار رہے ہیں
احسن سید

02/24/2026

پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ پاکستان اس دور سے گزر رہا ہے جہاں پر سابقہ کچھ عرصے میں ٹی وی اینکرز اور بے تحاشہ سلیبرٹیز اور انفلونسرز کے روپ میں ذہنی ٹرامہ کے شکار لوگوں نے لے لی ہے.بغیر کسی ٹریننگ کے نیشنل ٹی وی پر بیٹھ کر لوگوں کو جو سبق اور پارٹ پڑھایا جا رہا ہے یہ ائندہ انے والی نسلوں کے لیے بہت ہی خوفناک معاملہ ہے۔ویسے تو بدقسمتی سے اج کے نوجوان کے پاس اج کے دور کا کوئی ایسا ہیرو نہیں ہے جس کو دیکھ کر وہ اپنی زندگی میں روشن خیالی اور روشن عمل پیدا کر سکیں ہر جگہ پر اپ کو بس اسی قسم کا تماشہ نظر اتا ہے ہمارے ملک میں فلم سٹار صوفی بن جاتے ہیں ایکٹر اینکر بن جاتے ہیں اور اینکر سیاست دان بن جاتے ہیں دنیا کے پڑھے لکھے انٹرنیشنل پلیٹ فارمز پر اگر اپ کو جانے کا خوش قسمتی سے اتفاق ہوا ہو تو اپ کو پتہ چلے گا کہ ہم کمپلیکس سے بھرے ہوئے شعور سے اپاہج اور زندگی کی کسی رمق سے واقف لوگ نہیں ہیں۔
ہم صوفی بن جاتے ہیں تو ہمارے منہ سے خدائی القابات نکلتے ہیں
اج تو بارش ہو جانی چاہیے ۔۔۔۔۔۔
ہم اینکر بن جاتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ دنیا کے بڑے سے بڑے لیڈر بھی ان اینکر کو جواب دہ ھیں
ہم جرنلسٹ بن جاتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے دوسروں کی عزت اتارنا ہمارا اولین فرض ہے
ہم مولوی بن جاتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے باقی سب گنہگار ہیں اور جنت کے صحیح راستے سے یہ مولانا ہی واقف ہے
پاکستان احساس کمتری سے بھرپور ملک بن چکا ہے جہاں اس قسم کی ریلز وائرل ہونے کا مطلب ہے کہ ہماری ذہنی سطح کس قدر گر چکی ہے

Address

Islamabad
Brooklyn, NY
44000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ahsan Syed posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Ahsan Syed:

Share

Category