03/23/2026
میں آپ کو ایک دفعہ کا بہت دلچسپ اور افسوس ناک واقعہ سناتا ہوں یہ چند سال پرانی بات ہے جب محترمہ ماں جی بانو قدسیہ کا انتقال ہوا تو داستان سرائے کے باہر میری ڈیوٹی لگائی گئی کہ میڈیا سے آنے والے صحافیوں کے انتظام کا خیال رکھا جائے۔
اسی دوران پاکستان کے مشہور و معروف ٹی وی چینل جیو سے ایک صحافی ہاتھ میں مائک لیے ہوئے میری جانب ایا اس کے ہاتھ میں پینسل اور کاغذ بھی تھا اس نے جب مجھ سے ایک سوال کیا تو میرے وجود میں بجلیاں گر گئی
اس نے مجھ سے پوچھا کہ بانو قدسیہ کیا کرتی تھی ؟میں نے اس سے پوچھا میں اپ کا سوال نہیں سمجھا تو اس نے مجھ سے کہا کہ بانو قدسیہ نظمیں لکھتی تھیں غزلیں لکھتی تھی یا اس کے علاوہ کچھ اور بھی لکھتی تھی میں نے اس صحافی کی طرف حیرانگی کے ساتھ دیکھا اور اور میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ پاکستان کے نامور چینل کے صحافی کے نالج کے یہ حالات ہیں تو پھر اس ملک کے عام ادمی کی حالت کیا ہوگی بہرحال جہاں مجھے محترمہ ماں جی بانو قدسیہ جی کے دنیا سے رخصت ہونے کا دکھ تھا اس سوال کے بعد میرا وہ دکھ کم ہو کر مجھے ہی دلاسہ دینے کی وجہ بن گیا اور میں نے شکر ادا کیا کہ واقعی ایسی دھرتی پر ایسے لوگوں کا نہ ہونا ہی بہتر ہے جہاں صحافت سے جڑے ہوئے لوگ اپنے ہی پیشے سے منسلک براہ راست لوگوں سے واقف نہیں آج یہ ARY Digital news کی پوسٹ دیکھ کر مجھے وہ واقعہ یاد اگیا
مجھے پورا یقین ہے کہ براہ راست صحافیوں کے اگر یہ حالات ہیں تو ایڈیٹنگ ڈیپارٹمنٹ میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو واقعی اس بات کا اندازہ نہیں ہونا چاہیے کہ کون جان بحق ہوا اور کون شہید ہوا
جس ملک میں انگلش بولنے والے کو انٹلیکچول سمجھا جائے اور عام سادہ فہم زبان بولنے والے کو اپنی قومی زبان میں دیسی اور فرسودہ سمجھا جائے ایسے ممالک میں واقعی میں شہید ہونے والے جابحق ہو جاتے ہیں اور جان بحق ہونے والے شہید ہو جاتے ہیں
احسن سید