03/10/2026
لفٹ اور تابوت
آج میں ایک عمارت میں ساتویں فلور تک جانے کے لیے لفٹ میں داخل ہوا۔
لفٹ میں بالکل تنہا تھا۔ کوئی دوسرا مسافر موجود نہیں تھا۔
پانچویں فلور کے قریب پہنچ کر اچانک لفٹ کو ایک شدید جھٹکا لگا۔
اس جھٹکے نے میرے وجود پر ایسا اثر ڈالا کہ ایک لمحے کے لیے میں گھبرا گیا۔
کچھ دیر وجود پر طاری سناٹے کے بعد حواس بحال ہوئے تو اندازہ ہوا کہ لفٹ میں کوئی ٹیکنیکل فالٹ آ گیا ہے اور وہ رک چکی ہے۔
پاکستان میں عموماً لفٹ رکنے کی پہلی وجہ ذہن میں بجلی کا چلے جانا آتا ہے، لیکن یہاں معاملہ مختلف تھا۔
لفٹ کے اندر لائٹ جل رہی تھی۔
میں نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی، مگر دروازہ جَیم ہو چکا تھا۔
لفٹ کے اندر فلورز کے بٹنوں کے ساتھ ایک ایمرجنسی بٹن بھی موجود تھا، لیکن بدقسمتی سے اب کوئی بٹن کام نہیں کر رہا تھا۔
میں تنِ تنہا ایک آدھی جلتی، آدھی بجھتی ٹیوب لائٹ کے نیچے بے بس کھڑا تھا۔
چار پانچ منٹ گزرے تو گھٹن بڑھنے لگی۔
لفٹ بالکل اسی طرح بے یار و مددگار کھڑی تھی،
جس طرح میں اس لفٹ کے اندر کھڑا تھا۔
پھر اچانک میرے خیال پر جیسے کسی نے زور دار ہتھوڑا مارا:
’’احسن میاں!
سوچو ذرا۔۔۔‘‘
کچھ دیر پہلے یہی شاندار، ایئرکنڈیشنڈ لفٹ اپنی چمک دمک کے ساتھ تمہیں بڑی سہولت سے اوپر لے جا رہی تھی۔
تم نے صرف ساتویں فلور کا ایک بٹن دبایا تھا اور یہ چند سیکنڈز میں تمہیں بلندی کی طرف لے چلی تھی۔
مگر صرف ایک ٹیکنیکل فالٹ نے چند ہی منٹوں میں اس شاندار سہولت کو
تابوت میں تبدیل کر دیا۔
فرق صرف اتنا تھا کہ اس لفٹ نما تابوت کے اندر ابھی ایک شان باقی تھی:
ٹیوب لائٹ آدھی جل رہی تھی۔۔۔
اور آدھی بجھ رہی تھی۔
مگر۔۔۔
اُس دن ایسا نہیں ہوگا۔
اُس دن فضل اور عمل کی بدولت
نور کی کشادہ سیڑھی بلندی کا سفر طے کروائے گی،
جو کبھی نہیں رکے گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ُ۔
بدعملی اور ناانصافی کے نتیجے میں
نہ ختم ہونے والی گھاٹی کی تاریکی، گھٹن اور بدحواسی کا سفر ہوگا۔
اپنے جیتے جی اگر اپنی روح کو بلندی کا سفر کروایا ہوگا،
تو سطحِ خیر ہوگی۔
اور اگر اپنے جیتے جی اپنی روح کو پستی کا سفر کروایا ہوگا،
تو سطحِ پستی ہوگی۔
میں ابھی اس گمنام پیغام میں گم ہی تھا کہ اچانک لفٹ دوبارہ ایکٹیویٹ ہوگئی۔
چند ہی سیکنڈز میں میں ساتویں فلور پر پہنچ گیا۔
میں نے جیسے ہی اپنا وجود لفٹ سے باہر نکالا،
اس کے آٹومیٹک دروازے بند ہوئے اور لفٹ واپس اپنے سفر پر روانہ ہوگئی۔
مگر میں وہیں کھڑا رہا۔
بہت دیر تک۔۔۔
لفٹ کے بند دروازوں کو دیکھتا رہا اور سوچتا رہا:
کیا میں آج ظاہری منزل تک لفٹ سے پہنچا ھوں
یا باطنی منزل کی جانب تابوت کے ذریعے ؟
احسن سید