Ahsan Syed

Ahsan Syed Narrative Builder
Exploring the depths of 'Khudi' and Sufi philosophy through stories and soundwaves.

Bridging the gap between the modern mind and the eternal soul. Chali Kahani with Ahsan Syed is a captivating platform featuring Celebrity Storytelling Content. Ahsan Syed, the visionary behind the series, recognizes the global demand for refined content. With an unwavering belief in delivering quality narratives, the show aims to satiate the audience's desire for compelling stories from around the world.

لفٹ اور تابوتآج میں ایک عمارت میں ساتویں فلور تک جانے کے لیے لفٹ میں داخل ہوا۔لفٹ میں بالکل تنہا تھا۔ کوئی دوسرا مسافر م...
03/10/2026

لفٹ اور تابوت
آج میں ایک عمارت میں ساتویں فلور تک جانے کے لیے لفٹ میں داخل ہوا۔
لفٹ میں بالکل تنہا تھا۔ کوئی دوسرا مسافر موجود نہیں تھا۔
پانچویں فلور کے قریب پہنچ کر اچانک لفٹ کو ایک شدید جھٹکا لگا۔

اس جھٹکے نے میرے وجود پر ایسا اثر ڈالا کہ ایک لمحے کے لیے میں گھبرا گیا۔

کچھ دیر وجود پر طاری سناٹے کے بعد حواس بحال ہوئے تو اندازہ ہوا کہ لفٹ میں کوئی ٹیکنیکل فالٹ آ گیا ہے اور وہ رک چکی ہے۔
پاکستان میں عموماً لفٹ رکنے کی پہلی وجہ ذہن میں بجلی کا چلے جانا آتا ہے، لیکن یہاں معاملہ مختلف تھا۔
لفٹ کے اندر لائٹ جل رہی تھی۔

میں نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی، مگر دروازہ جَیم ہو چکا تھا۔

لفٹ کے اندر فلورز کے بٹنوں کے ساتھ ایک ایمرجنسی بٹن بھی موجود تھا، لیکن بدقسمتی سے اب کوئی بٹن کام نہیں کر رہا تھا۔

میں تنِ تنہا ایک آدھی جلتی، آدھی بجھتی ٹیوب لائٹ کے نیچے بے بس کھڑا تھا۔

چار پانچ منٹ گزرے تو گھٹن بڑھنے لگی۔

لفٹ بالکل اسی طرح بے یار و مددگار کھڑی تھی،
جس طرح میں اس لفٹ کے اندر کھڑا تھا۔

پھر اچانک میرے خیال پر جیسے کسی نے زور دار ہتھوڑا مارا:
’’احسن میاں!
سوچو ذرا۔۔۔‘‘

کچھ دیر پہلے یہی شاندار، ایئرکنڈیشنڈ لفٹ اپنی چمک دمک کے ساتھ تمہیں بڑی سہولت سے اوپر لے جا رہی تھی۔

تم نے صرف ساتویں فلور کا ایک بٹن دبایا تھا اور یہ چند سیکنڈز میں تمہیں بلندی کی طرف لے چلی تھی۔

مگر صرف ایک ٹیکنیکل فالٹ نے چند ہی منٹوں میں اس شاندار سہولت کو
تابوت میں تبدیل کر دیا۔

فرق صرف اتنا تھا کہ اس لفٹ نما تابوت کے اندر ابھی ایک شان باقی تھی:

ٹیوب لائٹ آدھی جل رہی تھی۔۔۔
اور آدھی بجھ رہی تھی۔

مگر۔۔۔
اُس دن ایسا نہیں ہوگا۔

اُس دن فضل اور عمل کی بدولت
نور کی کشادہ سیڑھی بلندی کا سفر طے کروائے گی،
جو کبھی نہیں رکے گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ُ۔
بدعملی اور ناانصافی کے نتیجے میں
نہ ختم ہونے والی گھاٹی کی تاریکی، گھٹن اور بدحواسی کا سفر ہوگا۔
اپنے جیتے جی اگر اپنی روح کو بلندی کا سفر کروایا ہوگا،
تو سطحِ خیر ہوگی۔

اور اگر اپنے جیتے جی اپنی روح کو پستی کا سفر کروایا ہوگا،
تو سطحِ پستی ہوگی۔

میں ابھی اس گمنام پیغام میں گم ہی تھا کہ اچانک لفٹ دوبارہ ایکٹیویٹ ہوگئی۔
چند ہی سیکنڈز میں میں ساتویں فلور پر پہنچ گیا۔
میں نے جیسے ہی اپنا وجود لفٹ سے باہر نکالا،
اس کے آٹومیٹک دروازے بند ہوئے اور لفٹ واپس اپنے سفر پر روانہ ہوگئی۔

مگر میں وہیں کھڑا رہا۔
بہت دیر تک۔۔۔

لفٹ کے بند دروازوں کو دیکھتا رہا اور سوچتا رہا:

کیا میں آج ظاہری منزل تک لفٹ سے پہنچا ھوں

یا باطنی منزل کی جانب تابوت کے ذریعے ؟
احسن سید

یکم اکتوبر محترم افتخار افی صاحب کے  جنم دن کی تقریب یا کچھ اور ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟افی بھائی ہمارے بہت پیارے دوست ہیں جن کا تعلق...
02/10/2026

یکم اکتوبر محترم افتخار افی صاحب کے جنم دن کی تقریب
یا کچھ اور ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
افی بھائی ہمارے بہت پیارے دوست ہیں جن کا تعلق لاہور سے ہے اور یہ ایکٹر ،رائٹر اورسوشل میڈیا پر مثبت کنٹینٹ کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔انہوں نے بہت بڑے بڑے سیٹس پر کام کرنے کے بجائے خود کو پارک میں واک کرتے ہوئے بلاگز بنا کر منوا لیا۔خیر اس کے اوپر ایک پوری تفصیل اور تحریر الگ لکھی جا سکتی ہے لیکن اس وقت تحریر کا مقصد یہ نہیں ہے۔
مجھے چند روز پہلے افی بھائی کا فون آیا اور انہوں نے کہا کہ میں اپنی برتھ ڈے کے اوپر ایک گیدرنگ رکھ رہا ہوں تم نے ضرور آنا ہے ۔ان کا مجھے یاد رکھنا ہی میرے لیے بہت قابل عزت تھا لہذا میں نے ان سے فورا کہا میں بفضل زندگی انشاءاللہ ضرور حاضر ہوں گا
ہماری بہت دیر بات ہوتی رہی لیکن جیسے ہی فون بند ہوا تو میرے سامنے ایک اور میرے دوست بیٹھے تھے انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کن کا فون تھا میں نے انہیں بتایا کہ افی بھائی کا فون تھا ان کی برتھ ڈے پر انہوں نے مجھے انوائٹ کیا ہے۔
میرے دوست نے انہیں سوشل میڈیا پر دیکھا تھا اس نے فورا مجھ سے پوچھا ان کی عمر کیا ہے؟ میں نے کہا 58 سال ماشاءاللہ
تو کہنے لگا اس عمر میں کون سا شوق چڑھ گیا ہے برتھ ڈے منانے کا ۔۔۔۔۔۔۔
میں مسکرایا اور میں نے کہا ۔۔۔۔۔تم نے افتخارافی صاحب کو سوشل میڈیا پر دیکھا ہے سمجھا نہیں ہے.
اس نے مجھ سے حیرت میں مبتلا ہو کر پوچھا۔
What is the point of that ?
میں نے اسے بتایا کہ افتخاری افی صاحب نے بابا جی اشفاق احمد صاحب کی بہت ساری وارداتوں میں سے ایک واردات سیکھ لی ہے۔
اور وہ واردات یہ ہے کہ بہانے بہانے سے لوگوں کو اکٹھا کر کے کھانا کھلانا ان کے ساتھ بیٹھ کر مسکرانا، قہقہے لگانا اپنے سے بہت چھوٹی عمر کے لوگوں کا دوست بن کر ان کے کاندھے پر تھپکی دینا۔اور رسیدہ عمر کے لوگوں کو اپنی دعوت اور محفل کی زینت بنانا۔
میرے دوست نے کہا کہ اس میں کون سی بڑی بات ہے ؟
میں نے اس سے کہا۔۔۔۔۔ واردات تو اب بتانے لگا ہوں میں
میرے دوست نے کہا ۔۔۔۔۔۔وہ کیا ؟
میں نے کہا اصل بات یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔
ان لوگوں کے بیچ میں رہتے ہوئے بڑی خاموشی سے اس بات کی جانکاری لینا کہ کون کس پریشانی میں ہے اور پھر چھپ چھپ کر اس کے ساتھ نیکی کرنا۔
اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ کھانا کھلانے کے ساتھ ساتھ اپنی گفتگو کے ساتھ مہمانوں کو وہ رزق بھی کھلانا جس کی باطن کو بڑی بھوک ہے۔
اپنی گفتگو کے ذریعے وہ دوسرے شخص کو غور و فکر کی جانب راغب کر دیتے ہیں ۔
میرا دوست مجھے حیرانگی سے دیکھ رہا تھا اور پوچھنے لگا کہ میڈیا میں رہتے ہوئے لوگ یہ کیسے کر لیتے ہیں ؟
میں نے اس سے کہا۔۔۔۔۔ بالکل ویسے ہی جیسے ایک شفیق ماں بغیر کسی فرقے بغیر کسی داڑھی بغیر اذان دیے اپنے ہاتھوں سے روٹی کے نوالے توڑ کر اپنے بچے کے منہ میں ڈالتے ہوئے دین و دنیا کی تربیت دے دیتی ہے۔

افتخار افی میں آپ کا بہت شکر گزار ہوں کہ لاہور جیسے مصروف اور مادی ماحول میں آپ معاشرے کے لیے ماں کا کردار نبھا رہے ہیں
اور میں بہت شکر گزار ہوں کہ آپ کے جنم دن پر داستان سراۓ کہ شفیق ستون محترم قدوسی صاحب سے ملاقات کا دوبارہ شرف حاصل ہوا۔
آپ ایسے ہی آسانیاں تقسیم کرتے رہیے۔اور ایسی وارداتوں میں اضافہ کرتے جائیے۔
احسن سید

آج صبح میں ایک شوٹ پر تھا شوٹ کے لیے آخری تیاریوں میں مصروف تھا، جب وہ شاطر سی مسکراہٹ اور پراسرار آنکھوں والا اجنبی بکھ...
29/09/2026

آج صبح میں ایک شوٹ پر تھا
شوٹ کے لیے آخری تیاریوں میں مصروف تھا، جب وہ شاطر سی مسکراہٹ اور پراسرار آنکھوں والا اجنبی بکھرے ہوئے گھنگریالے لمبے بالوں کے ساتھ چپکے سے میرے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔
اس نے گردن تھوڑی جھکائی، میرے گرد پھیلے ہجوم اور روشنیوں کو دیکھا، اور پھر ایک لمحے کو ٹھہر کر بالکل میرے قریب ہو کر بولا:
"کیا تم زندہ ہو؟"
اس عجیب اور لرزہ دینے والے سوال پر میرے ہاتھ وہیں جم گئے۔ شاطر نظروں سے مجھے تکتے اس اجنبی کے چہرے پر ذرا برابر مزاح کا اثر نہ تھا۔ میں نے گھبرا کر اپنے دل پر ہاتھ رکھا، جس کی دھڑکنیں معمول کے مطابق چل رہی تھیں۔ میں نے غصے اور تعجب کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ اس سے پوچھا، "یہ کیسا احمقانہ سوال ہے؟ ظاہری بات ہے سانسیں چل رہی ہیں، دل دھڑک رہا ہے، سامنے کھڑا ہوں... تم نے یہ کیوں پوچھا؟"
اس نے ایک گہری آہ بھری، اور میری بے جان مسکراہٹ کی طرف اشارہ کیا اور آہستگی سے بولا:
"سانسیں تو پرانے کارخانے کی چمنی سے بھی نکلتی ہیں صاحب... میں نے تو یہ پوچھا تھا کہ کیا تم اپنی مرضی سے جی رہے ہو، یا محض ایک مشین کی طرح مقررہ شوٹ پورا کر رہے ہو؟"
اس کے اتنے حقیقت آمیز سوال کا مجھے سچ ہی جواب دینا پڑا
میں اپنی مرضی سے نہیں مشین کی مرضی میں ہی جی رہا ہوں۔
اور میں بہت دیر تک سوچتا رہا ۔۔۔۔۔۔۔
کیمرہ ،کمپیوٹر ،ربورٹ ،اے ائی ،سوشل میڈیا ای کامرس ویب سائٹس، یوٹیوب فیس بک مونیٹائزیشنز، ٹک ٹاک آن لائن سٹور اور پتہ نہیں کیا کیا
جن کو انسان نے اپنی سہولت کے لیے پیدا کیا تھا وہی حکمران بن گئے
اور دنیا کے بیشتر افراد اپنے وجود کی چمنی سے آلودہ سانس تو اگل رہے ہیں لیکن کیا ؟
تم زندہ ہو ؟

انسان ساری زندگی لوگوں میں رہ کر اکیلا رہتا لیکن جیسے ہی اس کی ملاقات تنہائی کے ساتھ ہوتی ہے محفل سج جاتی ہے۔ایک ایسی مح...
28/09/2026

انسان ساری زندگی لوگوں میں رہ کر اکیلا رہتا لیکن جیسے ہی اس کی ملاقات تنہائی کے ساتھ ہوتی ہے محفل سج جاتی ہے۔
ایک ایسی محفل جس میں نہ آدم ۔۔۔۔۔۔ہوتا ہے نہ آدم بیزاری
تخلیق کار کو ان دیکھے کردار ملتے ہیں
شاعر کو لفظوں کی نئی بلندی نصیب ہوتی ہے مصور کی نظر کو دیکھنے کا ایک نیا زاویہ ملتا ہے۔
ٹوٹے ہوئے وجود کو تعمیر ملتی ہے
اور
خود کی تلاش کرنے والوں کو وہ مل جاتا ہے
جس کو دیکھنے والی آنکھ کوئی اور ہوتی ہے۔
سننے والی سماعت کوئی اور ہوتی ہے۔
ٹٹولنے والی سعادت کوئی اور چھین لے جاتا ہے
پھر نہ میں۔۔۔۔۔میں رہتا ہوں
نہ تو۔۔۔۔۔تو رہتا ہے
احسن سید

میں ایک عجیب اور گہری مشکل میں ہوں… کیا آپ دوست میری کچھ رہنمائی کر سکتے ہیں؟میرا ایک پرانا دوست ہے جس کا نام ”ننھا“ ہے۔...
24/09/2026

میں ایک عجیب اور گہری مشکل میں ہوں…
کیا آپ دوست میری کچھ رہنمائی کر سکتے ہیں؟
میرا ایک پرانا دوست ہے جس کا نام ”ننھا“ ہے۔ میری اس مشکل کو سمجھنے کے لیے آپ کو پہلے ننھے کی بصیرت اور طبیعت کو جاننا ہوگا
ننھا کوئی میرا اسکول کلاس فیلو نہیں، بلکہ ہمارے پرانے چوکیدار کا بیٹا ہے۔ بچپن میں وہ نہایت معصوم تھا، لیکن جیسے جیسے وقت کے ساتھ بڑا ہوتا گیا، ضدی ہونے کے ساتھ ساتھ منطق اور استدلال سے بالکل محروم ہوتا چلا گیا۔
ابتدائی عمر میں اس کی آنکھوں کی بینائی بالکل ٹھیک تھی، مگر جوں جوں عمر بڑھی، وہ بینائی سے محروم ہوتا گیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ نابینا افراد کی "اندر کی آنکھ" (بصیرت) میں بڑی حکمت ہوتی ہے، لیکن افسوس کہ ننھا اس اندرونی حکمت سے بھی محروم ہی رہا۔
ننھے کو کھانے کا بے حد شوق ہے۔ نابینا ہونے کے بعد اس نے سب سے بڑا فائدہ اسی بات کا اٹھایا کہ وہ جتنا بھی کھا لے، کوئی اسے کچھ نہیں کہتا… کہ آخر نابینا ہے، اسے کیا پتہ وہ کتنا کھا گیا ہے!
لیکن مجھے اور دوستوں کو حیرانگی ہوتی تھی کہ اس کے معدے کو تو پتہ ہے کہ یہ کتنا کھا چکا ہے
وقت کے ساتھ ساتھ اس کی یہ اشیا خور و نوش نگلنے کی رفتار اور مقدار مزید تیز ہوتی گئی۔
نتیجہ یہ نکلا کہ اب جب ہم دوست دسترخوان پر بیٹھتے ہیں، تو وہ ہمارے حق کے نوالے بھی صفائی سے کھا جاتا ہے۔ پہلے پہل تو معذرت کر لیتا تھا، مگر اب تو اکڑ کر الٹا سوال داغ دیتا ہے:
”تم لوگوں کی آنکھیں ہیں، تو کیا تم میرے نوالے گنتے ہو؟“
>
ہم دوستوں نے کئی بار سمجھایا کہ اس سے تمہارا ہاضمہ اور صحت مزید خراب ہوگی، اور تم موٹاپے کی جانب جاؤ گے لیکن جب اس نے اپنی معذوری کے طعنے دینا شروع کر دیے، تو ہم نے اسے ٹوکنا ہی چھوڑ دیا۔
اصل مسئلہ اور الجھن:
اب آیئے اس اصلی مشکل کی طرف جس کا حل مجھے نہیں مل رہا۔
ننھے نے اپنے پاس ایک ایسا بندہ رکھ لیا ہے جو دیکھ تو سکتا ہے، مگر سمجھنے کی صلاحیت سے بالکل عاری ہے۔ اس بندے کا کام یہ ہے کہ وہ ہم دوستوں کی سوشل میڈیا تحریروں اور پوسٹس پر نظر رکھے۔ ہم جیسے ہی معاشرے کی بہتری، اصلاح یا تبدیلی کے لیے کوئی بات لکھتے ہیں، ننھے کا وہ چوکیدار ہماری پوسٹ کا الٹا سیدھا، مضحکہ خیز مطلب نکال کر ننھے کے گوش گزار کر دیتا ہے۔
صورتحال یہ ہے:
• ننھا: بینائی سے محروم۔
• ننھے کا چوکیدار: بینائی رکھنے کے باوجود فہم و عقل سے محروم!
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ فوراً ننھے کی ’ٹھک‘ کرتی کال آ جاتی ہے اور وہ گھنٹوں ہم سے بحث کرتا ہے کہ:
”اپنی روٹی روزی پر توجہ دو… معاشرے کے ’ابا جان‘ بننے کی کوشش مت کرو!“
>
ہم نے اسے بارہا سمجھایا کہ سوسائٹی میں رہنے والے لوگ اگر اپنے ارد گرد کی بہتری پر بات نہیں کریں گے، تو باہر کے لوگ آ کر نہ صرف ہمیں برا بھلا کہیں گے بلکہ ہماری عزت اور وقار کو بھی مجروح کریں گے۔ لیکن ننھے پر جوں تک نہیں رینگتی!
الٹا وہ ہم پر ”ملک دشمنی“ کا فتویٰ جوڑ دیتا ہے کہ ہم جیسے لوگ ملک کی سالمیت کے لیے خطرہ ہیں۔ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ معاشرے کی بہتری کی بات کرتے کرتے یہ ملکی سالمیت کہاں سے بیچ میں اگئی ۔ ہم نے ہمیشہ اسے بھائیوں کی طرح سمجھا، لیکن اس گفتگو میں وہ اتنا شدید جذباتی ہو جاتا ہے کہ اسے یہ خیال ہی نہیں رہتا کہ وہ اپنے دیرینہ دوستوں سے بات کر رہا ہے یا بارڈر پار کسی دشمن سے!
کئی بار تو ننھے نے دھمکی بھی دی ہے کہ اگر ہم نے سوسائٹی کی بہتری کے لیے لکھنا بند نہ کیا، تو وہ نہ صرف تعلق توڑے گا بلکہ ہمیں بددعائیں بھی دے گا۔
آپ تمام دوستوں سے مشورہ درکار ہے:
کوئی ایسا متوازن راستہ بتائیے کہ ہم ننھے کو بھی مطمئن رکھ سکیں اور سوسائٹی کی بہتری کے لیے اپنا فکری و قلمی کام بھی جاری رکھ سکیں؟
احسن سید

واہ رے میرے پیارے ملک میں آج رات کو اے ٹی ایم مشین سے پیسے نکالنے گیا تو میں نے یہ منظر دیکھا جو کہ آپ تصویر میں دیکھ رہ...
22/09/2026

واہ رے میرے پیارے ملک
میں آج رات کو اے ٹی ایم مشین سے پیسے نکالنے گیا تو میں نے یہ منظر دیکھا جو کہ آپ تصویر میں دیکھ رہے ہیں پیسوں کی مشینوں کو ٹھنڈا رکھنے والے کمرے کے بیچ میں بوتل کی آڑ میں ایک زندہ انسان اور ایک بے جان مشین کے بیج کا فرق واضح ہے ۔مشینوں کے سسٹم کو شٹ ڈاؤن ہونے اور ہیٹ اپ ہونے سے بچانے کے لیے ہر اے ٹی ایم مشین کے اندر چل اے سی لگا ہوتا ہے لیکن میرے ملک میں غریب کی بے بسی محتاجی اور اس کے سسٹم کو کلیپس کرنے کے لیے کسی قسم کی چارہ کوئی نہیں ہو پا رہی یہ ایک تصویر نہیں بلکہ یہ ایک فرق ہے جو روز بروز بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ کسی روز اس شخص کو یا اس جیسے شخص کو حقارت کی نگاہ سے دھکا دے کر کچھ سکون کے لمحات لینے سے بھی محروم کر دیا جائے گا اور کسی فٹ پاتھ کی گرین بیلٹ میں بے بسی اور محرومی کی حالت میں مرا ہوا شخص دیکھ کر لوگ کہیں گے پاکستان میں نشئیوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے ۔
دیکھنا پڑے گا نشے میں کون ہے ؟فٹ پاتھ پر مرا ہوا شخص یا 24 کروڑ عوام یا پھر کوئی اور ۔۔۔۔۔۔

میرے پھولوں جیسا دوست ۔۔۔۔۔پھولوں میں سما گیا۔میں شاید یہ کبھی نہیں کہہ پاؤں گا کہ آصف بھائی دنیا سے چلے گئے۔میرے ساتھ ا...
21/09/2026

میرے پھولوں جیسا دوست ۔۔۔۔۔پھولوں میں سما گیا۔
میں شاید یہ کبھی نہیں کہہ پاؤں گا کہ آصف بھائی دنیا سے چلے گئے۔میرے ساتھ ان کی اتنی یادیں اتنے قہقہے جڑے ہوئے ہیں کہ میں مرتے دم تک دہراتا بھی رہوں تو وہ کبھی ختم نہیں ہوں گے۔پھولوں کی طرح نرم دل جیسا دوست اتنا معصوم دوست کے جس کو راز کی بات بھی کرنا نہیں آتی تھی کسی کے ساتھ کان میں بات کرتے وقت بھی وہ اتنی آزادانہ گفتگو کرتے تھے کہ سب کو سنائی پڑتا تھا۔رشتوں میں اتنے آزاد تھے کہ بیٹوں کے ساتھ کبھی باپ نہیں بنے ہمیشہ دوستوں کی طرح رہے۔ میں ۔۔۔آصف بھائی اور ان کے بیٹے جب اکٹھے بیٹھتے تھے تو ایسا لگتا تھا کہ ان کے گھر میں چار بیٹے نہیں بلکہ پانچ بھائی ہیں۔میں ہمیشہ رشک کرتا ہوں کہ آصف بھائی نے جو اپنے اولاد کی تربیت کی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔اچھا کھلایا اچھا پلایا اچھا پڑھایا اچھی تربیت کی اور اولاد نے بھی اپنے باپ کی خدمت کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔مجھے ہمیشہ آصف بھائی نے اپنے گھر کے باقاعدہ فرد کی طرح رکھا۔زندگی نے بہت ہی قیمتی دوستوں سے نوازا آصف بھائی کے ساتھ میرا کیا رشتہ ہے یہ دوستی سے بہت اوپر ہے جس کو میں آج تک کوئی نام نہیں دے سکا۔
بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو اپنی بساط سے بڑھ کر دوسروں کے کام آنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔نہ ان کی داڑھی ہوتی ہے نہ ٹخنوں سے اوپر شلوار اور نہ ہی ہاتھ میں تسبیح اور یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو نماز بھی چھپ کر پڑھتے ہیں
ایسے لوگوں کا نام آصف اقبال ہے۔
میرے پھولوں جیسا دوست ۔۔۔۔پھولوں میں سما گیا۔

مقامِ حرم ہو۔۔۔اور تب بھی تجھ کو تیری ہی صورت یاد رہ جائے،تو سمجھ لے کہ تیرا تعلقربُّ العالمین سے نہیں،ربُّ النفسانی سے ...
06/09/2026

مقامِ حرم ہو۔۔۔
اور تب بھی تجھ کو تیری ہی صورت یاد رہ جائے،
تو سمجھ لے کہ تیرا تعلق
ربُّ العالمین سے نہیں،
ربُّ النفسانی سے ہے۔

یہ اُن نمازوں کا صلہ ہے
جو تُو نے ساری زندگی
ظاہری عبادت
اور باطنی بکھرے ہوئے خیالات میں گزاری۔۔۔

جس کا صلہ تجھے مقامِ حرم میں
خود کی صورت نہ بھولنے کی صورت میں ملا۔

واپس آ۔۔۔

پھولوں کے ہار پہن۔۔۔
مبارکباد وصول کر۔۔۔

اور پھر سے
اپنی ہی صورت کے دھوکے والی زندگی میں
گم ہو جا۔۔۔

یہی تیرا انعام ہے۔

ظاہر کی عبادت کا صلہ بھی
ظاہر ہی ہوتا ہے۔۔۔

خاموشی کی ریاضت کا صلہ
باطن ہوتا ہے۔

پر شور مچانے والا
خاموشی کی برادری کو
نہ سُن سکتا ہے،
نہ دیکھ سکتا ہے،
نہ محسوس کر سکتا ہے۔

مالک بڑا ہی رحیم ہے۔۔۔

شور مچانے والوں کا حساب
دنیا میں چُکتا کر دیتا ہے،

خاموش رہنے والوں کا حساب
بے حساب کر دیتا ہے۔
وادیِ خودی

༺  خـــــامـــــوشـــــی  ༻عَــمَــل نــہــیــں۔۔۔اِیــک عِــلــم ہــے۔جو اِس عِلم سےعَــمَــلــی واقــف ہے،وہ عَــالِــ...
30/08/2026

༺ خـــــامـــــوشـــــی ༻
عَــمَــل نــہــیــں۔۔۔
اِیــک عِــلــم ہــے۔
جو اِس عِلم سے
عَــمَــلــی واقــف ہے،
وہ عَــالِــمِ رَاز کی برادری سے ہے۔

جو اِس عِلم سے واقف تو ہے،
مگر عَــمَــل میں نہیں۔۔۔
وہ عَــالِــمِ جَــہــل کا باسی ہے۔

اور جو اِس عِلم سے
واقــف ہــی نــہــیــں۔۔۔
وہ عَــالِــمِ بَــرْزَخِــیّ میں ہے۔

یعنی۔۔۔

نــہ وہ زنــدہ ہــے،
نــہ ہــی مــردہ۔
༺ احــســن ســیــد ༻

کاش کبھی وہ معاشرہ بھی دیکھیں جہاں پر خاموش رہنے پر بھی جرم عائد ہو ۔۔۔
27/08/2026

کاش کبھی وہ معاشرہ بھی دیکھیں جہاں پر خاموش رہنے پر بھی جرم عائد ہو ۔۔۔

Address

Islamabad
Islamabad
44000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ahsan Syed posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Ahsan Syed:

Shortcuts

Share

Category