14/05/2026
کیا آپ جانتے ہیں کہ Türkiye کو “یورپ کا گیٹ” کیوں کہا جاتا ہے؟
کیونکہ دنیا بھر سے بہت سے لوگ ہجرت کر کے یہاں آتے ہیں، اور ان میں سے اکثر غیر قانونی طریقوں سے آگے یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس سفر میں لوگ اپنی جان تک خطرے میں ڈال دیتے ہیں، اور پاکستانی بھی اس دوڑ میں کافی آگے نظر آتے ہیں۔ ایسے ایسے راستے اور طریقے استعمال کیے جاتے ہیں کہ سن کر انسان حیران رہ جائے۔ آخر ایسا کیوں ہے کہ لوگ اپنی جان کی پروا کیے بغیر لاکھوں روپے خرچ کر کے “ڈنکی” کا راستہ اختیار کرتے ہیں؟
پچھلے دنوں میں Karachi میں تھا تو ایک فالور نے رابطہ کیا۔ کہنے لگا: “میں Türkiye آ گیا ہوں، بس مجھے آگے ڈنکی لگوا دیں، پیسوں کی ٹینشن نہ لیں، بس کام گارنٹی کے ساتھ ہونا چاہیے۔”
اب ذرا سوچیں، کام بھی دو نمبر اور وہ بھی گارنٹی کے ساتھ!
یہ صرف ایک بندے کی بات نہیں، بلکہ Türkiye آنے والے 100 میں سے تقریباً 70 فیصد لوگ اسی مقصد سے آتے ہیں۔ اب بات کرتے ہیں ان طریقوں کی جن سے لوگ ڈنکی لگاتے ہیں۔ سب سے پہلے پیدل راستے، پھر منی وین، ٹیکسی، جعلی کاغذات، بسوں کے ذریعے بارڈر کراس کرنا، اور پھر ٹیوب یا چھوٹی بوٹس والا خطرناک راستہ۔ یہ سب سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے کیونکہ یہ Türkiye سے Greece کے جزیروں تک کا سفر ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ بڑی لگژری یا اچھی کوالٹی کی یاٹس میں جائیں گے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ اکثر ایجنٹ پرانی اور ناکارہ کشتیاں خرید کر لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں اور بدلے میں بھاری رقم وصول کرتے ہیں۔
میری نظر میں جتنی رقم لوگ غیر قانونی راستوں اور دو نمبر کاموں پر ضائع کرتے ہیں، اگر وہی پیسہ عقل سے قانونی ویزا، تعلیم یا ہنر پر لگایا جائے تو زندگی کہیں بہتر ہو سکتی ہے۔ میں نے خود Türkiye میں خاص طور پر میرین کے قریب کافی عرصہ کام کیا، تعلقات بھی تھے، چاہتا تو میں بھی بہت کچھ کر سکتا تھا، مگر کبھی اس راستے کا انتخاب نہیں کیا۔
بس سب سے یہی کہوں گا:
قانونی طریقے سے جائیں، قانونی طریقے سے رہیں، کیونکہ زندگی بار بار نہیں ملتی۔