KSA LIFE

KSA LIFE KSA LIFE

31/07/2026

#

28/06/2026

*ایک شکاری نے کنڈی میں گوشت کی بوٹی لگا* کر دریا میں پھینکی ایک مچھلی اسے کھانے دوڑی وہیں ایک بڑی مچھلی نے اسے روکا کہ اسے منہ نہ لگانا اس کے اندر ایک چھپا ہوا کانٹا ھے جو تجھے نظر نہیں آرہا۔ بوٹی کھاتے ہی وہ کانٹا تیرے حلق میں چبھ جائے گا جو ہزارکوششوں کے بعد بھی نہیں نکلے گا تیرے تڑپنے سے باہر بیٹھے شکاری کو اس باریک ڈوری سے خبر ہوجائےگی تو تڑپے گی وہ خوش ہوگااس باریک ڈور کے زریعے تجھے باہر نکالے گا، چھری سے تیرے ٹکڑے کریگا، مرچ مسالحہ لگا کر آگ پر ابلتے تیل میں تجھے پکائے گا، 10 ، 10 انگلیوں والے انسان 32 ، 32 دانتوں سے چبا چبا کر تجھے کھائیں گے۔ یہ تیرا انجام ہوگا۔
بڑی مچھلی یہ کہہ کر چلی گئی۔ چھوٹی مچھلی نے دریا میں ریسرچ شروع کردی ، نہ شکاری ، نہ آگ ، نہ کھولتا تیل ، نہ مرچ مسالحہ ، نہ دس دس انگلیوں اور بتیس بتیس دانتوں والے انسان ، کچھ بھی نہیں تھا ۔ چھوٹی مچھلی کہنے لگی یہ بڑی مچھلی انپڑھ جاہل ، پتھر کے زمانے کی باتیں کرنیوالی ، کوئی حقیقت نہیں اسکی باتوں میں ۔ میں نے خود ریسرچ کی ھے ، اسکی بتائی ہوئی کسی بات میں بھی سچائی نہیں ، میرا ذاتی مشاہدہ ھے ، وہ ایسے ہی سنی سنائی نام نہاد غیب کی باتوں پر یقین کیئے بیٹھی ھے ، اس ماڈرن سائنسی دور میں بھی پرانے فرسودہ نظریات لیئے ہوئے ھے۔
چنانچہ اس نے اپنے ذاتی مشاہدے کی بنیاد پر بوٹی کو منہ ڈالا ، کانٹا چبھا ، مچھلی تڑپی ، شکاری نے ڈور کھینچ کر باہر نکالا ، آگے بڑی مچھلی کے بتائے ہوئے سارے حالات سامنے آگئے۔
انبیاء علیھم السلام نے انسانوں کو موت کا کانٹا چبھنے کے بعد پیش آنے والے غیب کے سارے حالات و واقعات تفصیل سے بتا دیئے ہیں ۔ بڑی مچھلی کیطرح کے عقلمند انسانوں نے انبیاء کی باتوں کو مان کر زندگی گزارنی شروع کردی۔ چھوٹی مچھلی والے نظریات رکھنے والے انبیاء کا رستہ چھوڑ کر اپنی ظاہری ریسرچ کے رستہ پر چل رہے ہیں ۔___
موت کا کانٹا چبھنے کے بعد سارے حالات سامنے آجائیں گے___
مچھلی پانی سے نکلی واپس نہ گئی
انسان دنیا سے گیا واپس نہ آیا..بس یہی وقت ہے اگر سمجھ .گئے تو

27/06/2026

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک دفعہ اللہ تعالیٰ سے پوچھا میرے ساتھ جنت میں کون ہو گا ؟
ارشاد ہوا "فلاں قصاب تمہارے ساتھ ہو گا"
حضرت موسیٰ علیہ السلام کچھ حیران ہوئے اور اس قصاب کی تلاش میں چل پڑے وہاں دیکھا تو ایک قصاب اپنی دوکان میں گوشت بیچنے میں مصروف تھا ، اپنا کاروبار ختم کر کے اس نے ایک گوشت کا ٹکڑا ایک کپڑے میں لپیٹا اور گھر کی طرف روانہ ہو گیا ،حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس قصاب کے بارے میں مزید جاننے کیلئے بطور مہمان گھر چلنے کی اجازت چاہی۔

گھر پہنچ کر قصاب نے گوشت پکایا پھر روٹی پکا کر اسکے ٹکڑے شوربے میں نرم کیے اور دوسرے کمرے میں چلا گیا ،جہاں ایک انتہائی کمزور بڑھیا پلنگ پر لیٹی ہوئی تھی ، قصاب نے بمشکل تمام اسے سہارا دیکر اٹھایا ، ایک ایک لقمہ اسکے منہ میں دیتا رہا ، جب اس نے کھانا تمام کیا تو اس نے بڑھیا کا منہ صاف کر دیا کھانا کھا کر بڈھیا نے قصاب کے کان میں کچھ کہا ، جسے سن کر قصاب مسکرا دیا ، اور بڑھیا کو واپس لٹا کر باہر آ گیا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام جو یہ سب دیکھ رہے تھے ، آپ نے قصاب سے پوچھا یہ عورت کون ہے اور اس نے تیرے کان میں کیا کہا جس پر تو مسکرا دیا ؟
قصاب بولا اے اجنبی ! یہ عورت میری ماں ھے ، گھر پر آنے کے بعد میں سب سے پہلے اس کے کام کرتا ہوں تو خوش ہو کر روز مجھے یہ دعا دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے جنت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ساتھ عطا فرمائے اور میں مسکرا دیتا ہوں کہ میں کہاں اور موسیٰ کلیم اللہ کہاں ؟
پھر موسی علیہ السلام نے قصاب کو بشارت دی کہ اللہ تعالی نے تیری ماں کی دعا قبول کر لی ہے اور میں ہی موسی ہوں۔
اللہ پاک ہم سب کو اپنے والدین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ....آمین ثم آمین.

25/06/2026

25/06/2026

‏لفظ ل ع ن ت اج چھوٹا پڑ گیا ہے ۔

لائیو ٹک ٹاک میں میچ ہارنے پر شرط پوری کرنے کیلے بیوی نے شوہر کی شلوار اتار کر ٹک ٹاک لائیو پر ڈبل ٹیپ ٹرپل کی صدا لگاتے ہوے اپنے شوہر کی شلوار اتار کر م ش ت زنی شروع کر دی ۔

اکثر لوگوں کو اعتراض ہے کہ میں ٹک ٹاک کے اس گند کے خلاف کیوں بولتا ہوں ۔

کیونکہ جس چیز کا مجھے ڈر تھا اس نہج پر ہم بہت جلدی پہنچ چکے ہیں ۔کسی ملک کو تباہ کرنا ہو تو اس کی عوام کو ٹھرکولس کی گولیاں کھلا دو ۔

لائیو ٹک ٹاک میچ پر دونوں طرف سے میاں بیوی موجود ہیں ۔۔ جو میچ ہارے گا اس کیلے تین شرطیں رکھ دی گی ۔۔

پہلی شرط بیوی کو گھوڑی بنا کر پیچھے گھوڑے کی طرح اس پر چڑھنا ۔۔

دوسری شرط بیوی کے پ س تان دبانا

تیسری شرط لائیو اپنے شوہر کی م ش ت زنی کرنا ۔۔

اور یہ شرطیں بتانے والی بھی اک عورت ہے جو اپنے شوہر کے ساتھ بیٹھی ہے ۔۔

باقی نتیجہ تصویروں میں اپکے سامنے ہے ۔۔۔

اب میرا سوال ہے ریاست پاکستان کے اداروں سے گلی میں چلتا پھرتا اوباش تو فل فرای ہو جاتا ہے مگر ان جیسوں کیلے کوی سزا نہی ہے ۔۔

یہ ویڈیو ٹک ٹاک کی فاریو پر چل رہی ہے تو اپکی اٹھارہ ارب روپے کی فائر وال کہاں وڑ گئی ۔ جس کیلے پورے ملک میں انٹر نیٹ کا بیڑہ غرق کر دیا ۔

میرا دوسرا سوال ہی اس Content کو روکنے کیلے اپ کے پاس اٹھارہ روپے کا کاغذ نہی ملا جس میں اپ ٹک ٹاک کو افیشلی لکھ سکتے کہ اسے روکا جاے ۔۔

یاد رکھیں یہ تو شروعات ہے یہ کوی بی گریڈ فلموں کا سین نہی ہے یہ بھی پاکستان اڈی کارڈ رکھنے والے جوڑے ہیں ۔جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام بدنام کر رہے ہیں ۔

اگر ایسے نہ روکا گیا تو ڈبل ٹیپ کے گونجتے نعرے اس ملک میں وہ تباہی پھیلائیں گے کہ عیاشی کیلے دنیا تھائ لینڈ کے ٹور بھول جاے گے ۔۔

دونوں کے چہرے واضح ہیں بولی جانی والی اواز پنجابی ہے ۔ اس کے باوجود بھی انکے خلاف ایکشن نہ لیا گیا تو یہی سمجھا جاے گا کہ حکومتی خزانے کو ڈالر سے بھرنے کیلے بس یہی طریقہ باقی رہ گیا ہے ۔۔

تمام دوستوں سے اپیل ہے جو سوشل ایشوز پر لکھتے ہیں بولتے ہیں اس گند پر اواز بلند کریں ۔۔ کم سے کم اتنا اواز تو بلند کریں کہ ان کو قانون کے کٹہراۓ میں لایا جا سکے ۔

میاں بیوی کا رشتہ محبت بھرا رشتہ ہوتا ہے جسکی سرعام تذلیل کر کے پیغام دیا جارہا ہے ڈالر کمانے کیلے سب سے اسان راستہ یہی ہے ۔

06/06/2026

*ایسی نماز اب کون پڑھے گا؟*

نقل کرتے ہیں کہ عصام بن یوسف حضرت حاتم اصم رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں آئے اور اُن پر اعتراض کرنا چاہا۔ چنانچہ عصام نے حاتم سے کہا:
’’اے ابو عبدالرحمٰن!‘‘ (یہ حاتم کی کنیت ہے) ’’آپ نماز کس طرح ادا کرتے ہیں؟‘‘

حاتم رحمۃ اللہ علیہ نے اُن کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:
’’جب نماز کا وقت آتا ہے تو میں کھڑا ہوتا ہوں اور پہلے وضوِ ظاہر، پھر وضوِ باطن کرتا ہوں۔‘‘
عصام نے کہا:
’’ان دونوں وضوؤں کی کیا صورت ہے؟‘‘

حاتم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
’’وضوِ ظاہر کی یہ صورت ہے کہ اعضائے وضو کو پانی سے دھوتا ہوں، اور وضوِ باطن یہ ہے کہ اعضاء کو سات چیزوں سے دھوتا ہوں: دنیا کو ترک کرتا ہوں، مخلوق کی تعریف کی خواہش، ریا، کینہ اور حسد کو دل سے دور کرتا ہوں۔‘‘

’’پھر نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں، اعضاء کو بچھاتا ہوں، کعبہ میرے پیشِ نظر ہوتا ہے، امید و بیم کی حالت میں کھڑا رہتا ہوں، اور یہ یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے۔‘‘

’’میری دائیں جانب جنت اور بائیں جانب دوزخ ہوتی ہے، ملک الموت میرے پیچھے ہوتے ہیں، اور میں خیال کرتا ہوں کہ گویا میں اپنا قدم پلِ صراط پر رکھ رہا ہوں، اور گمان کرتا ہوں کہ یہ میری زندگی کی آخری نماز ہے۔‘‘

’’پھر نیت کرتا ہوں، خشوع و خضوع کے ساتھ تکبیر کہتا ہوں، قرآنِ کریم کو اس کے معانی میں تدبر اور غور و فکر کے ساتھ پڑھتا ہوں، عجز و انکسار کے ساتھ رکوع کرتا ہوں، اور گریہ و زاری کے ساتھ سجدہ کرتا ہوں۔‘‘
’’اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید پر تشہد پڑھتا ہوں اور اخلاص کے ساتھ سلام پھیرتا ہوں۔ چالیس سال سے میری نماز اسی طرح ہے۔‘‘

یہ سن کر عصام زار و قطار رونے لگے اور کہا:
’’یہ ایسی چیز ہے کہ آپ کے علاوہ دوسرا اس پر قادر نہیں ہو سکتا۔‘‘

(نوادر القلوبی)

05/06/2026

*انسان اپنے آخری دن کی صبح بھی ویسے ہی اٹھتا ہے جیسے ہمیشہ اٹھتا تھا۔*
وہ چائے یا قہوہ پیتا ہے، گھر والوں سے باتیں کرتا ہے، ہنستا ہے، مسکراتا ہے، مستقبل کے منصوبے بناتا ہے۔ اسے کیا معلوم کہ یہ اس کی زندگی کی آخری صبح ہے، آخری مسکراہٹ ہے، آخری گفتگو ہے، آخری سانسوں کا دن ہے۔

زمین پر سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا ہوتا ہے، مگر آسمان پر اس کے نام کا آخری حکم صادر ہو چکا ہوتا ہے۔

پھر اچانک وہ لمحہ آ جاتا ہے جس سے کوئی بادشاہ بچ سکا، نہ کوئی فقیر، نہ کوئی طاقتور، نہ کوئی کمزور
موت کا حکم نامہ لیکر
فرشتے اترتے ہیں۔
اگر بندہ مؤمن ہو تو رحمت کے فرشتے جنت کی خوشخبری لے کر آتے ہیں، اور اگر بداعمال ہو تو عذاب اور انجام کی خبر سنانے والے فرشتے اس کے سامنے حاضر ہو جاتے ہیں۔

یہ اس سفر کا پہلا مرحلہ اورآغاز ہے جس سے واپس لوٹ کر کوئی نہیں آیا۔

پھر روح نکلنے کا دوسرامرحلہ شروع ہوتا ہے۔

ملک الموت اللہ کے حکم سے روح کو جسم کے پاؤں سے کھینچنا شروع کرتے ہیں۔
آنکھوں کی چمک مدھم پڑ جاتی ہے۔
زبان خاموش ہونے لگتی ہے۔
طاقت جواب دینے لگتی ہے۔
وہ شخص جو کل تک اپنے فیصلوں پر ناز کرتا تھا، آج اپنے ہاتھ تک نہیں ہلا سکتا۔
وہ سب کو دیکھ رہا ہوتا ہے مگر آہستہ آہستہ دنیا اس کی نظروں سے دور ہوتی جا رہی ہوتی ہے۔

پھر تیسرا وہ مرحلہ آتا ہے جب روح سینے سے اوپر اٹھتے ہوئے ہنسلی کی ہڈیوں تک پہنچ جاتی ہے۔

یہ وہ لمحہ ہے جس کا نقشہ قرآن نے کھینچا ہے:

﴿كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِي ۝ وَقِيلَ مَنْ ۜ رَاقٍ ۝ وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ﴾

"ہرگز نہیں! جب جان ہنسلی کی ہڈیوں تک پہنچ جاتی ہے، اور لوگ کہتے ہیں: کون ہے جو اسے بچا لے؟(آج کوئی نہیں بچا سکتا )اور وہ خود یقین کر لیتا ہے کہ اب جدائی کا وقت آ گیا ہے۔"

اس وقت ڈاکٹر بے بس ہو جاتے ہیں۔
دوائیں بے اثر ہو جاتی ہیں۔
مال و دولت خاموش کھڑے رہتے ہیں۔
اولاد کچھ نہیں کر سکتی۔
دوست کچھ نہیں کر سکتے۔
دنیا کا ہر سہارا ٹوٹ جاتا ہے۔
پھر روح حلقوم تک پہنچ جاتی ہے۔

کمرے میں لوگ جمع ہوتے ہیں۔
کوئی روتا ہے۔
کوئی دعا کرتا ہے۔
کوئی بے بسی سے چہرہ دیکھتا رہتا ہے۔

مگر موت کا سفر کسی کے لیے نہیں رکتا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ ۝ وَأَنْتُمْ حِينَئِذٍ تَنْظُرُونَ ۝ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ﴾

"ہرگز نہیں! جب جان حلق تک پہنچ جاتی ہے، اور تم اسے دیکھ رہے ہوتے ہو، اور ہم اس سے تمہاری نسبت زیادہ قریب ہوتے ہیں، لیکن تم دیکھ نہیں سکتے۔"

یہ چوتھا مرحلہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان کو وہ سب کچھ نظر آنا شروع ہو جاتا ہے جس پر وہ زندگی بھر ایمان لانے یا انکار کرنے کے درمیان کھڑا رہا تھا۔

پھر اچانک...

ایک سانس آتی ہے۔

اور واپس نہیں جاتی۔

آنکھیں ایک جگہ ٹھہر جاتی ہیں۔

ہونٹ خاموش ہو جاتے ہیں۔

دل دھڑکنا بند کر دیتا ہے۔

اور دنیا اعلان کر دیتی ہے:

"فلاں شخص فوت ہو گیا۔"

بس اتنی سی بات۔

جس کے لیے دنیا چھوٹی پڑتی تھی، آج وہ چند گز کفن میں لپٹا ہوا ہوتا ہے۔
جس نے محل بنائے تھے، اب قبر اس کا گھر بننے والی ہوتی ہے۔

جس نے مال جمع کیا تھا، وہ دوسروں میں تقسیم ہو رہا ہوتا ہے۔

جس نے رشتے بنائے تھے، سب قبرستان کے دروازے تک ساتھ جاتے ہیں، پھر واپس لوٹ آتے ہیں۔

*اور وہ اکیلا رہ جاتا ہے۔*

*صرف اپنے اعمال کے ساتھ* ۔

*صرف اپنے رب کے سامنے* ۔

*صرف اپنے انجام کے ساتھ* ۔

*پھر انسان کو سمجھ آتی ہے کہ اصل زندگی تو اب شروع ہوئی ہے۔*

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ﴾

*"ہر جان نے موت کا مزہ چکھنا ہے۔"*

*آج ہم دوسروں کے جنازے اٹھاتے ہیں۔*

*کل کوئی ہمارا جنازہ اٹھائے گا۔*

*آج ہم دوسروں کی قبروں پر کھڑے ہوتے ہیں* ۔

*کل لوگ ہماری قبر پر کھڑے ہوں گے۔*

*آج ہم دوسروں کے لیے دعا کرتے ہیں۔*

*کل ہمیں دعاؤں کی ضرورت ہوگی* ۔

کاش انسان موت کو صرف ایک خبر نہ سمجھے بلکہ اپنی آنے والی حقیقت سمجھے۔

کاش قبر میں اترنے سے پہلے اپنے اعمال کا حساب کر لے۔

کاش آخری سانس آنے سے پہلے اپنے رب سے تعلق مضبوط کر لے۔

*اے اللہ! ہمیں موت سے پہلے توبہ نصیب فرما، موت کے وقت کلمہ نصیب فرما، قبر میں راحت نصیب فرما، اور قیامت کے دن اپنی* *رحمت کے سائے میں جگہ عطا فرما۔*
آمیــــــــــــن یا رب العالمین۔

Address

Sharbatly Yanbu
Yanbu
41912

Telephone

+966566904340

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when KSA LIFE posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to KSA LIFE:

Shortcuts

Share