26/05/2026
ایک دور میں ایک عظیم سلطنت تھی جسے سلطنتِ نور کہا جاتا تھا۔ وہاں کے بادشاہ جلال الدین نہایت نرم دل اور انصاف پسند تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ “ریاست کی اصل طاقت اس کے عوام ہوتے ہیں۔”
بادشاہ کا سب سے قریبی وزیر تھا وزیر سکندر۔ وہ نہایت ذہین تھا، مگر اس کے دل میں ایک زہر پل رہا تھا—اقتدار کی ہوس۔
ایک دن وزیر نے سوچا: "جب تخت میرے ہاتھ آ سکتا ہے، تو میں کسی کے سائے میں کیوں رہوں؟"
اس نے آہستہ آہستہ بادشاہ کے خلاف جھوٹ پھیلانا شروع کیا۔ پھر ایک رات، اس نے درباریوں کو خرید لیا، سپاہیوں کو اپنے ساتھ ملا لیا، اور بادشاہ کو غداری کے الزام میں قید کر دیا۔
صبح اعلان ہوا: "بادشاہ بیمار ہیں، اب سلطنت وزیر سکندر کے ہاتھ میں محفوظ ہے!"
عوام نے یہ سنا… اور خاموش رہی۔
شروع میں وزیر نے میٹھے وعدے کیے: "میں ہر گھر میں خوشحالی لاؤں گا۔" مگر کچھ ہی دنوں میں اصل چہرہ سامنے آ گیا۔
ٹیکس بڑھا دیے گئے، غریبوں کی روٹی چھین لی گئی، نوجوان بے روزگار ہو گئے، اور جو آواز اٹھاتا، وہ غائب ہو جاتا۔
لیکن محل کے بڑے بڑے پردوں پر ہر روز یہی چلتا: "سلطنت اپنی تاریخ کی سب سے بڑی ترقی کر رہی ہے!"
وزیر نے اپنے اردگرد صرف چاپلوس رکھے۔ ان میں ایک شخص تھا طوطا خان—جسے لوگ “کرائے کا طوطا” کہتے تھے۔ وہ ہر محفل میں بس ایک ہی جملہ دہراتا: "حضور جیسا حکمران دنیا میں نہیں!"
وقت گزرتا گیا، ظلم بڑھتا گیا، اور عوام کا خوف بھی۔
پھر ایک دن ایک ننھا بچہ بازار میں کھڑا ہو کر بولا: "اگر بادشاہ برا تھا تو ہمیں پہلے بھوک کیوں نہیں لگتی تھی؟"
یہ معصوم سوال بجلی بن کر گرا۔
لوگوں نے پہلی بار سوچا: "ہم کب تک ڈرتے رہیں گے؟"
ایک ایک کر کے لوگ گھروں سے نکلنے لگے۔ کوئی استاد تھا، کوئی مزدور، کوئی ماں، کوئی نوجوان—
سب سچ کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔
جب عوام محل کے دروازے تک پہنچی تو وزیر نے فوج کو حکم دیا: "انہیں روک دو!"
لیکن فوج نے ہتھیار نیچے رکھ دیے اور کہا: "ہم عوام پر ظلم نہیں کریں گے۔"
وزیر بھاگنے لگا— مگر وہی لوگ جنہیں وہ کمزور سمجھتا تھا، اس کے سامنے دیوار بن گئے۔
بادشاہ آزاد ہوئے۔ انہوں نے تخت سنبھالا، مگر سب سے پہلے عوام سے کہا:
"میری قید سے بڑا جرم تمہاری خاموشی تھی۔ اگر تم پہلے جاگ جاتے، تو ظلم اتنا نہ بڑھتا۔"
اور وزیر سکندر؟ وہ تنہا، بے عزت، تاریخ کے اندھیرے صفحوں میں دفن ہو گیا۔
سبق (Moral): جب جھوٹ تخت پر بیٹھ جائے اور سچ قید ہو جائے، تو خاموشی ظلم کی سب سے بڑی ساتھی بن جاتی ہے۔ لیکن جب عام لوگ جاگ جائیں، تو سب سے مضبوط تخت بھی ہل جاتا ہے۔