31/08/2026
"رات کو موبائل ہاتھ میں ہوتا ہے، آنکھیں تھکی ہوتی ہیں، پھر بھی نیند نہیں آتی۔ صبح اٹھیں تو جسم بوجھل، دماغ سست اور پورا دن جیسے توانائی کے بغیر گزرتا ہے۔ آخر چند گھنٹوں کی کم نیند جسم پر اتنا اثر کیوں ڈالتی ہے؟"
نیند کے ماہرین کے مطابق، نیند صرف آرام کا نام نہیں بلکہ جسم کی روزانہ مرمت کا ایک اہم مرحلہ ہے۔ جب آپ سو جاتے ہیں تو دماغ دن بھر کی معلومات کو ترتیب دیتا ہے، جسم کے مختلف نظام اپنی بحالی کا کام کرتے ہیں اور ہارمونز کے معمول کے توازن کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
ذرا تصور کریں، آپ کا جسم رات بھر خاموشی سے کام کر رہا ہے۔ دماغ دن بھر حاصل ہونے والی معلومات کو ترتیب دے رہا ہے، عضلات اور دوسرے ٹشوز کی بحالی ہو رہی ہے، جبکہ وہ نظام بھی اپنے معمول پر آ رہے ہیں جو بھوک، توانائی اور تناؤ کو متاثر کرتے ہیں۔ اسی لیے مسلسل کم نیند کا اثر صرف آنکھوں کی تھکن تک محدود نہیں رہتا۔
نیند کم ہو تو بھوک اور Appetite Regulation متاثر ہو سکتی ہے۔ بعض لوگوں میں زیادہ کیلوریز والی اور میٹھی غذا کی خواہش بڑھ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں وقت کے ساتھ وزن بڑھنے کا امکان بھی بڑھ سکتا ہے۔ یعنی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ آپ کم سوئے، بلکہ اگلے دن آپ کیا کھاتے ہیں، اس پر بھی نیند اثر ڈال سکتی ہے۔
پھر دماغ کی باری آتی ہے۔ مناسب نیند Memory Consolidation یعنی نئی معلومات اور یادوں کو مضبوط کرنے کے عمل کے لیے اہم ہے۔ اسی لیے امتحان، کام یا کسی اہم دن سے پہلے پوری رات جاگنا بظاہر زیادہ وقت دیتا ہے، مگر اگلے دن توجہ اور یادداشت متاثر ہو سکتی ہے۔
مدافعتی نظام بھی نیند سے جڑا ہوا ہے۔ مسلسل ناکافی نیند جسم کے مدافعتی ردِعمل کو متاثر کر سکتی ہے۔ طویل مدت میں کم نیند کو ہائی بلڈ پریشر، موٹاپے، ذیابیطس اور قلبی بیماریوں کے زیادہ خطرے سے بھی جوڑا گیا ہے۔
اور وہ موبائل؟ رات گئے اسکرین دیکھنا صرف وقت ضائع نہیں کرتا۔ اسکرین کی روشنی اور مسلسل ذہنی مصروفیت بعض لوگوں میں جسم کی Circadian Rhythm یعنی اندرونی حیاتیاتی گھڑی کو متاثر کر سکتی ہے، خاص طور پر جب موبائل کی وجہ سے سونے کا وقت مسلسل آگے بڑھتا رہے۔
اچھی نیند کے لیے ضروری نہیں کہ آپ کوئی مہنگا نسخہ تلاش کریں۔ روزانہ تقریباً ایک ہی وقت پر سونے اور جاگنے کی کوشش کریں، سونے سے پہلے موبائل اور دوسری اسکرینوں کا استعمال کم کریں، کمرہ پرسکون، تاریک اور مناسب درجہ حرارت پر رکھیں، اور شام کے بعد کیفین کا استعمال محدود کریں۔
کیمومائل چائے یا گرم دودھ بعض لوگوں کے لیے رات کے معمول کا پرسکون حصہ بن سکتے ہیں، لیکن انہیں نیند کی کمی کا باقاعدہ علاج سمجھنا درست نہیں۔ اصل فرق اکثر نیند کے پورے معمول کو بہتر بنانے سے آتا ہے۔
زیادہ تر بالغ افراد کو عموماً 7 یا اس سے زیادہ گھنٹے نیند کی ضرورت ہوتی ہے، اگرچہ انفرادی ضرورت مختلف ہو سکتی ہے۔ اگر آپ باقاعدگی سے کافی وقت بستر میں گزارنے کے باوجود تازہ دم نہیں اٹھتے، زور سے خراٹے آتے ہیں، نیند میں سانس رکنے جیسا محسوس ہوتا ہے یا دن بھر غیر معمولی غنودگی رہتی ہے تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔
کبھی کبھی جسم وزن، بھوک، تھکن اور توجہ کی کمی کے ذریعے وہ بات بتا رہا ہوتا ہے جسے ہم صرف ایک کپ کافی سے چھپانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ شاید مسئلہ توانائی کی کمی نہیں… رات کی نیند کی کمی ہو۔
آپ عام طور پر رات کو کتنے بجے سوتے ہیں؟
#نیند