Care Quest

Care Quest 🤗 Beauty, Health & Wellness ❤️

"رات کو موبائل ہاتھ میں ہوتا ہے، آنکھیں تھکی ہوتی ہیں، پھر بھی نیند نہیں آتی۔ صبح اٹھیں تو جسم بوجھل، دماغ سست اور پورا ...
31/08/2026

"رات کو موبائل ہاتھ میں ہوتا ہے، آنکھیں تھکی ہوتی ہیں، پھر بھی نیند نہیں آتی۔ صبح اٹھیں تو جسم بوجھل، دماغ سست اور پورا دن جیسے توانائی کے بغیر گزرتا ہے۔ آخر چند گھنٹوں کی کم نیند جسم پر اتنا اثر کیوں ڈالتی ہے؟"

نیند کے ماہرین کے مطابق، نیند صرف آرام کا نام نہیں بلکہ جسم کی روزانہ مرمت کا ایک اہم مرحلہ ہے۔ جب آپ سو جاتے ہیں تو دماغ دن بھر کی معلومات کو ترتیب دیتا ہے، جسم کے مختلف نظام اپنی بحالی کا کام کرتے ہیں اور ہارمونز کے معمول کے توازن کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

ذرا تصور کریں، آپ کا جسم رات بھر خاموشی سے کام کر رہا ہے۔ دماغ دن بھر حاصل ہونے والی معلومات کو ترتیب دے رہا ہے، عضلات اور دوسرے ٹشوز کی بحالی ہو رہی ہے، جبکہ وہ نظام بھی اپنے معمول پر آ رہے ہیں جو بھوک، توانائی اور تناؤ کو متاثر کرتے ہیں۔ اسی لیے مسلسل کم نیند کا اثر صرف آنکھوں کی تھکن تک محدود نہیں رہتا۔

نیند کم ہو تو بھوک اور Appetite Regulation متاثر ہو سکتی ہے۔ بعض لوگوں میں زیادہ کیلوریز والی اور میٹھی غذا کی خواہش بڑھ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں وقت کے ساتھ وزن بڑھنے کا امکان بھی بڑھ سکتا ہے۔ یعنی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ آپ کم سوئے، بلکہ اگلے دن آپ کیا کھاتے ہیں، اس پر بھی نیند اثر ڈال سکتی ہے۔

پھر دماغ کی باری آتی ہے۔ مناسب نیند Memory Consolidation یعنی نئی معلومات اور یادوں کو مضبوط کرنے کے عمل کے لیے اہم ہے۔ اسی لیے امتحان، کام یا کسی اہم دن سے پہلے پوری رات جاگنا بظاہر زیادہ وقت دیتا ہے، مگر اگلے دن توجہ اور یادداشت متاثر ہو سکتی ہے۔

مدافعتی نظام بھی نیند سے جڑا ہوا ہے۔ مسلسل ناکافی نیند جسم کے مدافعتی ردِعمل کو متاثر کر سکتی ہے۔ طویل مدت میں کم نیند کو ہائی بلڈ پریشر، موٹاپے، ذیابیطس اور قلبی بیماریوں کے زیادہ خطرے سے بھی جوڑا گیا ہے۔

اور وہ موبائل؟ رات گئے اسکرین دیکھنا صرف وقت ضائع نہیں کرتا۔ اسکرین کی روشنی اور مسلسل ذہنی مصروفیت بعض لوگوں میں جسم کی Circadian Rhythm یعنی اندرونی حیاتیاتی گھڑی کو متاثر کر سکتی ہے، خاص طور پر جب موبائل کی وجہ سے سونے کا وقت مسلسل آگے بڑھتا رہے۔

اچھی نیند کے لیے ضروری نہیں کہ آپ کوئی مہنگا نسخہ تلاش کریں۔ روزانہ تقریباً ایک ہی وقت پر سونے اور جاگنے کی کوشش کریں، سونے سے پہلے موبائل اور دوسری اسکرینوں کا استعمال کم کریں، کمرہ پرسکون، تاریک اور مناسب درجہ حرارت پر رکھیں، اور شام کے بعد کیفین کا استعمال محدود کریں۔

کیمومائل چائے یا گرم دودھ بعض لوگوں کے لیے رات کے معمول کا پرسکون حصہ بن سکتے ہیں، لیکن انہیں نیند کی کمی کا باقاعدہ علاج سمجھنا درست نہیں۔ اصل فرق اکثر نیند کے پورے معمول کو بہتر بنانے سے آتا ہے۔

زیادہ تر بالغ افراد کو عموماً 7 یا اس سے زیادہ گھنٹے نیند کی ضرورت ہوتی ہے، اگرچہ انفرادی ضرورت مختلف ہو سکتی ہے۔ اگر آپ باقاعدگی سے کافی وقت بستر میں گزارنے کے باوجود تازہ دم نہیں اٹھتے، زور سے خراٹے آتے ہیں، نیند میں سانس رکنے جیسا محسوس ہوتا ہے یا دن بھر غیر معمولی غنودگی رہتی ہے تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔

کبھی کبھی جسم وزن، بھوک، تھکن اور توجہ کی کمی کے ذریعے وہ بات بتا رہا ہوتا ہے جسے ہم صرف ایک کپ کافی سے چھپانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ شاید مسئلہ توانائی کی کمی نہیں… رات کی نیند کی کمی ہو۔

آپ عام طور پر رات کو کتنے بجے سوتے ہیں؟

#نیند

"قبض کی وجہ سے کئی دن تک پاخانہ سخت رہتا ہے، زور لگانا پڑتا ہے اور پیٹ بھی بھاری محسوس ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر پانی اور فا...
24/08/2026

"قبض کی وجہ سے کئی دن تک پاخانہ سخت رہتا ہے، زور لگانا پڑتا ہے اور پیٹ بھی بھاری محسوس ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر پانی اور فائبر بڑھانے کے باوجود آرام نہ آئے تو کیا کیا جائے؟"

قبض میں مسئلہ صرف یہ نہیں ہوتا کہ پاخانہ کم آ رہا ہے۔ اکثر پاخانہ آنت میں زیادہ دیر رہنے کی وجہ سے اس میں سے پانی مزید جذب ہو جاتا ہے، نتیجتاً وہ سخت اور خشک ہو جاتا ہے۔ پھر بیت الخلا میں بیٹھ کر زور لگانا پڑتا ہے اور تکلیف کا ایک چکر شروع ہو جاتا ہے۔

ایسی صورت میں Lactulose ایک معروف Osmotic Laxative یعنی ایسی دوا ہے جو آنت میں پانی کی مقدار بڑھانے میں مدد کرتی ہے۔ Duphalac Syrup میں یہی فعال جزو Lactulose موجود ہوتا ہے۔ یہ آنت کے اندر پانی کھینچنے میں مدد دیتا ہے، جس سے پاخانہ نرم ہوتا ہے اور اسے خارج کرنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔

ذرا آنت کے اندر کا منظر دیکھیں۔ سخت پاخانہ آنت میں آگے بڑھنے میں مشکل محسوس کر رہا ہے، پھر Lactulose آنت تک پہنچتا ہے اور پانی کو وہاں برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ پاخانہ آہستہ آہستہ نرم ہونے لگتا ہے اور اخراج آسان ہو سکتا ہے۔

البتہ یہ ایسی دوا نہیں جسے کھاتے ہی چند منٹ میں اثر شروع ہو جائے۔ Lactulose کو اثر کرنے میں عموماً کچھ وقت لگ سکتا ہے اور بعض لوگوں میں ابتدا میں گیس، اپھارہ یا پیٹ میں مروڑ بھی ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے خوراک اپنی مرضی سے بڑھانا مناسب نہیں۔

قبض کا مستقل حل صرف ہر بار جلاب لینا بھی نہیں۔ پانی مناسب مقدار میں پینا، خوراک میں فائبر شامل کرنا، جسمانی سرگرمی بڑھانا اور پاخانے کی حاجت کو بار بار روکنے سے بچنا بھی اہم ہے۔ اگر قبض مسلسل رہتی ہے تو اس کے پیچھے کسی دوا، کم فائبر، کم پانی یا کسی دوسری طبی وجہ کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔

اور ایک بات خاص طور پر یاد رکھیں: اگر قبض کے ساتھ شدید پیٹ درد، مسلسل قے، پاخانے میں خون، کالا پاخانہ، غیر معمولی وزن کم ہونا یا پیٹ بہت زیادہ پھولنا ہو تو خود سے جلاب استعمال کرتے رہنے کے بجائے ڈاکٹر سے معائنہ کروانا ضروری ہے۔

قبض معمولی لگ سکتی ہے، لیکن صحیح وجہ سمجھ کر مناسب علاج کیا جائے تو روزانہ کی یہ تکلیف واقعی بہت کم ہو سکتی ہے۔

آپ کے خیال میں قبض میں زیادہ مشکل کس چیز کی ہوتی ہے: سخت پاخانہ، زور لگانا یا کئی دن تک حاجت نہ ہونا؟

15/08/2026

"کولیسٹرول بھی بڑھا ہوا ہے اور وزن بھی کم نہیں ہو رہا۔ کسی نے اجوائن، کلونجی، میتھی، زیرہ، دارچینی اور سونٹھ کا سفوف بتایا ہے۔ کیا واقعی یہ چربی کم کر سکتا ہے؟"

صرف چند مصالحے پیس کر کھانے سے جسم کی جمع شدہ چربی پگھلنا شروع نہیں ہو جاتی۔ البتہ ان میں موجود بعض قدرتی نباتاتی مرکبات پر بلڈ شوگر، خون کی چکنائی اور میٹابولک صحت کے حوالے سے تحقیق ضرور ہوئی ہے، مگر ان کا اثر غذا، جسمانی سرگرمی اور مجموعی طرزِ زندگی سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔

مثلاً میتھی دانہ فائبر اور مختلف نباتاتی مرکبات فراہم کرتا ہے، جبکہ دارچینی پر بلڈ شوگر اور میٹابولک صحت کے حوالے سے کافی تحقیق ہوئی ہے۔ کلونجی پر بھی کولیسٹرول، بلڈ شوگر اور جسمانی وزن کے حوالے سے مطالعات موجود ہیں، لیکن نتائج ہر تحقیق اور ہر انسان میں یکساں نہیں ہوتے۔

اب ذرا جسم کے اندر کا منظر تصور کریں۔ کھانے کے بعد چکنائی اور کاربوہائیڈریٹس ہضم ہو کر خون میں پہنچتے ہیں، جگر انہیں پروسیس کرتا ہے اور جسم ضرورت کے مطابق توانائی استعمال یا ذخیرہ کرتا ہے۔ اگر مسلسل توانائی ضرورت سے زیادہ آ رہی ہو تو کوئی ایک سفوف اس پورے حساب کو ختم نہیں کر سکتا۔

اجوائن، زیرہ اور سونٹھ روایتی طور پر ہاضمے، گیس اور پیٹ کے بھاری پن کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں۔ بعض افراد کو ان سے ہاضمے کی علامات میں آرام محسوس ہو سکتا ہے، لیکن پیٹ کا ہلکا محسوس ہونا اور جسمانی چربی کم ہونا دو الگ چیزیں ہیں۔

اسی طرح کولیسٹرول بھی صرف کھانے والی چربی کا نام نہیں۔ جگر خود بھی کولیسٹرول بناتا ہے، جبکہ جینیات، جسمانی وزن، ذیابیطس، تھائیرائیڈ، خوراک اور جسمانی سرگرمی سب اس کی سطح پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ خاص طور پر LDL Cholesterol زیادہ ہونے کی صورت میں صرف دیسی نسخے پر انحصار کرنا مناسب نہیں۔

اگر آپ اجوائن، کلونجی، میتھی دانہ، زیرہ، دارچینی اور سونٹھ کو خوراک میں مناسب مقدار میں استعمال کرتے ہیں تو یہ ایک متوازن غذا کا حصہ بن سکتے ہیں۔ لیکن برابر مقدار میں سفوف بنا کر آدھا چمچ دن میں دو مرتبہ لینے کو کولیسٹرول یا موٹاپے کا ثابت شدہ علاج نہیں کہا جا سکتا، اور بعض ادویات یا طبی مسائل کے ساتھ جڑی بوٹیاں بھی احتیاط مانگتی ہیں۔

وزن اور کولیسٹرول دونوں میں اصل تبدیلی تب آتی ہے جب مجموعی کیلوریز مناسب ہوں، فائبر اور مکمل غذائیں بڑھیں، جسمانی سرگرمی باقاعدہ ہو اور ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوا بھی جاری رکھی جائے۔ قدرتی چیز مفید ہو سکتی ہے، مگر "قدرتی" ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہر شخص کے لیے مکمل علاج ہے۔

کولیسٹرول کم کرنے کا اصل فارمولا کسی ایک بوتل یا سفوف میں نہیں، بلکہ وہ روزانہ کی پلیٹ اور روزانہ کی حرکت میں چھپا ہوتا ہے۔

آپ کی رپورٹ میں زیادہ مسئلہ LDL کولیسٹرول کا ہے یا Triglycerides کا؟

"بال بہت زیادہ گر رہے ہیں، کنگھی کرتے ہوئے پورے پورے بال ہاتھ میں آ جاتے ہیں۔ کوئی ایسی غذائیں بتائیں جو بالوں کو اندر س...
15/08/2026

"بال بہت زیادہ گر رہے ہیں، کنگھی کرتے ہوئے پورے پورے بال ہاتھ میں آ جاتے ہیں۔ کوئی ایسی غذائیں بتائیں جو بالوں کو اندر سے مضبوط کرنے میں مدد کریں؟"

بالوں کی صحت صرف شیمپو اور تیل سے نہیں بنتی۔ بالوں کی جڑوں کو اندر سے مناسب پروٹین، آئرن، زنک، وٹامنز اور صحت مند چکنائی بھی درکار ہوتی ہے۔ اگر جسم کو مسلسل ضروری غذائیت نہ ملے تو اس کا اثر بالوں کی نشوونما پر بھی نظر آ سکتا ہے۔

بال بنیادی طور پر Keratin نامی پروٹین سے بنے ہوتے ہیں۔ اسی لیے خوراک میں مناسب پروٹین نہ ملنا، بہت سخت ڈائٹنگ کرنا یا تیزی سے وزن کم کرنا بعض لوگوں میں Hair Fall بڑھا سکتا ہے۔ انڈے معیاری پروٹین فراہم کرتے ہیں اور ان میں بایوٹن سمیت کئی اہم غذائی اجزا بھی موجود ہوتے ہیں۔

مچھلی بھی پروٹین کا بہترین ذریعہ ہے، جبکہ سالمن، سارڈین اور میکریل جیسی چکنائی والی مچھلیاں Omega-3 fatty acids فراہم کرتی ہیں۔ یہ صحت مند چکنائیاں مجموعی صحت کا اہم حصہ ہیں، لیکن صرف مچھلی کھانے سے ہر قسم کا Hair Fall رک جائے، ایسا سمجھنا درست نہیں۔

اب ذرا بال کی جڑ کے اندر کا منظر تصور کریں۔ جلد کے نیچے موجود Hair Follicle یعنی وہ ننھی ساخت جہاں سے بال اگتا ہے، مسلسل نئے خلیے بنا رہی ہوتی ہے۔ خون کی باریک نالیاں اس تک آکسیجن اور ضروری غذائی اجزا پہنچاتی رہتی ہیں تاکہ بال اپنی معمول کی نشوونما جاری رکھ سکے۔

بادام اور اخروٹ صحت مند چکنائی، وٹامن E اور مختلف معدنیات فراہم کرتے ہیں، جبکہ پالک اور دوسری ہری پتوں والی سبزیاں فولیٹ اور آئرن سمیت کئی غذائی اجزا دیتی ہیں۔ خاص طور پر آئرن کی واضح کمی بعض خواتین میں بالوں کے زیادہ گرنے سے منسلک ہو سکتی ہے۔

لیکن یہاں ایک اہم بات یاد رکھیں۔ انڈے، مچھلی، بادام، اخروٹ یا پالک Hair Fall کی دوا نہیں ہیں۔ اگر جسم میں کسی غذائی جز کی کمی ہی نہیں تو اسے ضرورت سے زیادہ سپلیمنٹ کی شکل میں لینا لازماً بالوں کو زیادہ مضبوط نہیں کرے گا۔

اگر بال اچانک بہت زیادہ گرنے لگیں تو وجہ صرف خوراک بھی نہیں ہوتی۔ آئرن کی کمی، تھائیرائیڈ کی خرابی، شدید ذہنی دباؤ، حالیہ بیماری، تیزی سے وزن کم کرنا اور بچے کی پیدائش کے بعد ہونے والی ہارمونل تبدیلیاں بھی بالوں کے گرنے کے پیچھے ہو سکتی ہیں۔

اسی لیے کئی ہفتوں یا مہینوں سے غیر معمولی Hair Fall جاری ہو تو صرف نیا شیمپو، تیل یا سپلیمنٹ خریدتے رہنے کے بجائے وجہ تلاش کرنا زیادہ ضروری ہے۔ علامات کے مطابق ڈاکٹر CBC، Ferritin یا Thyroid جیسے ٹیسٹ تجویز کر سکتا ہے۔

بالوں کو باہر سے سنبھالنا ضروری ہے، لیکن انہیں بنانے والی اصل فیکٹری جسم کے اندر چل رہی ہوتی ہے۔ اگر وہاں ضروری غذائیت کی کمی ہو تو صرف مہنگا شیمپو پوری کہانی نہیں بدل سکتا۔

آپ کی خوراک میں انڈہ، مچھلی، گریاں اور ہری سبزیاں کتنی باقاعدگی سے شامل ہوتی ہیں؟

"کھانا بھی پہلے سے کم کھاتی ہوں، پھر بھی وزن کم ہونے کے بجائے بڑھ رہا ہے۔ ہر وقت تھکن رہتی ہے، سردی زیادہ لگتی ہے اور جس...
15/08/2026

"کھانا بھی پہلے سے کم کھاتی ہوں، پھر بھی وزن کم ہونے کے بجائے بڑھ رہا ہے۔ ہر وقت تھکن رہتی ہے، سردی زیادہ لگتی ہے اور جسم جیسے سست پڑ گیا ہو۔ آخر میرے ساتھ ہو کیا رہا ہے؟"

اینڈوکرائنولوجسٹ، یعنی ہارمونز کے ماہر ڈاکٹر، نے سمجھایا: "ایسی علامات میں صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ آپ کتنا کھا رہی ہیں۔ کبھی کبھی گردن میں موجود ایک چھوٹا سا غدود جسم کے پورے نظام کی رفتار بدل رہا ہوتا ہے۔"

یہ چھوٹا سا غدود تھائیرائیڈ (Thyroid) ہے۔ یہ بنیادی طور پر T4 بناتا ہے، جبکہ جسم اس کے ایک حصے کو زیادہ فعال T3 میں تبدیل کرتا ہے۔ یہی ہارمون جسم کے Metabolism یعنی توانائی استعمال کرنے کی رفتار اور کئی دوسرے اہم جسمانی افعال کو منظم کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

اب ذرا جسم کے اندر کا منظر تصور کریں۔ T3 مختلف خلیوں تک پہنچ کر ان کے توانائی استعمال کرنے کے طریقے پر اثر ڈالتا ہے۔ دل کی رفتار، جسمانی حرارت، ہاضمہ اور توانائی کے خرچ سمیت کئی نظام تھائیرائیڈ ہارمونز سے متاثر ہوتے ہیں۔ جب یہ ہارمون ضرورت سے کم ہونے لگیں تو جسم کے کئی کام سست پڑ سکتے ہیں۔

اس کیفیت کو Hypothyroidism یعنی تھائیرائیڈ کی کم کارکردگی کہا جاتا ہے۔ اس میں وزن بڑھنے کے ساتھ مسلسل تھکن، سردی زیادہ لگنا، قبض، خشک جلد، بالوں میں تبدیلی، چہرے یا جسم پر پھولا پن اور ذہنی سستی جیسی علامات بھی سامنے آ سکتی ہیں۔

یہاں ایک مشہور دعویٰ درست کرنا ضروری ہے۔ T3 اور T4 کی ذرا سی کمی سے ہر شخص کا میٹابولزم لازماً 50 فیصد نہیں گرتا۔ میٹابولزم پر کتنا اثر پڑے گا، یہ تھائیرائیڈ کی خرابی کی شدت، اس کے دورانیے اور انسان کی مجموعی صحت پر منحصر ہوتا ہے۔

ایک بات بہت سے لوگوں کو معلوم نہیں ہوتی۔ تھائیرائیڈ کی وجہ سے بڑھنے والا تمام وزن صرف چربی نہیں ہوتا۔ Hypothyroidism میں جسم نمک اور پانی زیادہ روک سکتا ہے، اس لیے وزن کا کچھ حصہ جسم میں جمع ہونے والے اضافی پانی کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔

اسی لیے اگر کوئی شخص کہے "میں تو بہت کم کھاتی ہوں، پھر بھی وزن بڑھ رہا ہے، ضرور تھائیرائیڈ ہوگا" تو صرف علامات سے فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ PCOS، نیند کی کمی، بعض ادویات، کم جسمانی سرگرمی، خوراک کی مجموعی کیلوریز اور دوسری طبی وجوہات بھی وزن پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

اگر وزن بڑھنے کے ساتھ مسلسل تھکن، قبض، سردی برداشت نہ ہونا، خشک جلد یا بالوں میں نمایاں تبدیلی جیسی علامات موجود ہوں تو خود سے T3 یا T4 کی دوا شروع نہ کریں۔ ڈاکٹر عموماً TSH اور Free T4 جیسے ٹیسٹ دیکھ کر اندازہ لگاتا ہے کہ تھائیرائیڈ واقعی مسئلے کا حصہ ہے یا نہیں، اور ضرورت پڑنے پر مزید ٹیسٹ کروائے جا سکتے ہیں۔

اس لیے ہر بار وزن بڑھنے پر صرف اپنی پلیٹ کو قصوروار نہ ٹھہرائیں۔ کبھی کبھی جسم کم کھانے کے باوجود آپ کو ہارمونز کے ذریعے ایک اہم پیغام دے رہا ہوتا ہے، اور اس پیغام کو سمجھنے کے لیے صحیح تشخیص ضروری ہوتی ہے۔

کیا آپ کو بھی وزن بڑھنے کے ساتھ تھکن، قبض اور سردی زیادہ لگنے کی شکایت رہتی ہے؟

"کھانا کھاتے ہی واش روم جانا پڑتا ہے، کبھی پیٹ میں مروڑ ہوتے ہیں اور کبھی پاخانے کے ساتھ لیس دار مادہ بھی آتا ہے۔ کیا می...
13/08/2026

"کھانا کھاتے ہی واش روم جانا پڑتا ہے، کبھی پیٹ میں مروڑ ہوتے ہیں اور کبھی پاخانے کے ساتھ لیس دار مادہ بھی آتا ہے۔ کیا میری بڑی آنت میں سوزش ہے؟"

میں مسکرائی اور کہا، "صرف بار بار پاخانہ آنے کو آنتوں کی سوزش نہیں کہتے۔ اصل بات یہ جاننا ہے کہ اس کے ساتھ جسم اور کیا نشانیاں دے رہا ہے۔"

کولائٹس (Colitis) کا مطلب بڑی آنت میں سوزش ہے، لیکن اس کی بھی مختلف اقسام اور وجوہات ہوتی ہیں۔ بعض صورتوں میں پیٹ میں درد اور مروڑ، بار بار پاخانے کی شدید حاجت، اسہال اور پاخانے کے ساتھ خون یا میوکس (Mucus) یعنی لیس دار مادہ آ سکتا ہے۔

اب ذرا بڑی آنت کے اندر کا منظر تصور کریں۔ صحت مند آنت کی اندرونی تہہ خوراک کے باقی حصے سے پانی جذب کر رہی ہوتی ہے اور فضلے کو آگے بڑھا رہی ہوتی ہے۔ جب یہی تہہ سوزش کا شکار ہو تو آنت زیادہ حساس ہو سکتی ہے، اس کی حرکت بدل سکتی ہے اور بار بار واش روم جانے کی حاجت محسوس ہو سکتی ہے۔

لیکن یہاں ایک غلط فہمی دور کرنا بہت ضروری ہے۔ کھانا کھاتے ہی پاخانہ آنا لازماً کولائٹس نہیں ہوتا۔ کھانا معدے میں پہنچنے کے بعد بعض لوگوں میں آنتوں کی حرکت قدرتی طور پر تیز ہو جاتی ہے، جبکہ IBS، انفیکشن، بعض غذاؤں کی عدم برداشت اور دوسری وجوہات بھی ایسی علامات پیدا کر سکتی ہیں۔

اسی لیے صرف علامات دیکھ کر خود سے یہ فیصلہ کرنا کہ "مجھے آنتوں کی سوزش ہے" درست نہیں۔ ڈاکٹر ضرورت کے مطابق CBC، CRP/ESR، پاخانے کے ٹیسٹ، سیلیک بیماری کے ٹیسٹ یا دوسرے معائنے تجویز کر سکتا ہے، لیکن چند نارمل بلڈ ٹیسٹ یہ 99 فیصد ثابت نہیں کرتے کہ آنتوں کے اندر کوئی اہم بیماری موجود نہیں۔

خاص طور پر اگر پاخانے میں خون آ رہا ہو، مسلسل اسہال ہو، بلاوجہ وزن کم ہو رہا ہو، بخار ہو یا رات کو نیند سے اٹھ کر بار بار واش روم جانا پڑے تو صرف گھریلو علاج پر انحصار نہ کریں۔ ایسی علامات میں ڈاکٹر بعض اوقات کولونوسکوپی (Colonoscopy) یعنی کیمرے کے ذریعے بڑی آنت کا معائنہ بھی ضروری سمجھ سکتا ہے۔

کلونجی (Nigella sativa) میں ایسے نباتاتی مرکبات موجود ہیں جن پر سوزش اور اینٹی آکسیڈنٹ اثرات کے حوالے سے تحقیق ہوئی ہے، لیکن اسے کولائٹس کا ثابت شدہ علاج سمجھنا درست نہیں۔ اگر کسی کو واقعی Ulcerative Colitis یا دوسری سوزشی آنتوں کی بیماری ہو تو تجویز کردہ علاج چھوڑ کر صرف کلونجی استعمال کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

گٹ کی صحت کے لیے متوازن غذا، مناسب پانی اور اپنی برداشت کے مطابق فائبر اہم ہو سکتے ہیں، لیکن شدید کولائٹس کے دوران ہر شخص کے لیے زیادہ فائبر مناسب نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ آنتوں کی بیماری میں خوراک بھی علامات اور تشخیص کے مطابق طے ہونی چاہیے۔

یاد رکھیں، پیٹ بار بار خراب ہونا صرف "کمزور معدہ" نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی جسم اسی بہانے آپ کو ایک ایسی بیماری کی خبر دے رہا ہوتا ہے جسے بروقت سمجھنا ضروری ہے۔

اگر پاخانے کے ساتھ خون یا میوکس بار بار آ رہا ہے تو اسے صرف دیسی نسخوں سے دبانے کے بجائے اس کی وجہ ضرور معلوم کروائیں۔

ارم نے مجھ سے پوچھا، فیٹی لیور ہے تو آخر کھاؤں کیا؟ ہر طرف سے یہی سننے کو ملتا ہے کہ یہ چھوڑ دو، وہ مت کھاؤ... لیکن جگر ...
12/08/2026

ارم نے مجھ سے پوچھا، فیٹی لیور ہے تو آخر کھاؤں کیا؟ ہر طرف سے یہی سننے کو ملتا ہے کہ یہ چھوڑ دو، وہ مت کھاؤ... لیکن جگر کو بہتر کرنے کے لیے کھانا کیا چاہیے؟"

میں مسکرائی اور کہا، "فیٹی لیور میں صرف چیزیں چھوڑنا مقصد نہیں ہوتا، اصل کام اپنی پوری غذا کو ایسے بدلنا ہے کہ جگر پر چربی کا بوجھ آہستہ آہستہ کم ہونے لگے۔"

فیٹی لیور (Fatty Liver) میں جگر کے خلیوں کے اندر ضرورت سے زیادہ چربی جمع ہونے لگتی ہے۔ شروع میں اکثر کوئی واضح علامت محسوس نہیں ہوتی، اسی لیے بہت سے لوگوں کو الٹراساؤنڈ یا خون کے ٹیسٹ کے دوران اچانک معلوم ہوتا ہے کہ ان کا جگر چربی جمع کر رہا ہے۔

اب ذرا جگر کے اندر کا منظر تصور کریں۔ آپ کی خوراک سے آنے والی توانائی جسم میں پہنچ رہی ہے، جگر اسے سنبھالنے اور استعمال کرنے میں مصروف ہے۔ جب مسلسل ضرورت سے زیادہ توانائی آتی رہے، خصوصاً وزن بڑھنے اور میٹابولک مسائل کے ساتھ، تو جگر کے خلیوں میں چربی جمع ہونے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔

یہیں خوراک کا اصل کردار شروع ہوتا ہے۔ مچھلی پروٹین فراہم کرتی ہے اور بعض اقسام اومیگا 3 فیٹی ایسڈز کا اچھا ذریعہ ہیں۔ ہری سبزیاں اور پورے اناج فائبر فراہم کرتے ہیں، جبکہ گریاں، بیج اور زیتون کا تیل مناسب مقدار میں صحت مند چکنائی کے بہتر ذرائع بن سکتے ہیں۔

ایک چیز شاید آپ کو حیران کرے: بغیر چینی کی کافی۔ تحقیق میں کافی پینے کو بعض لوگوں میں جگر کی بہتر صحت اور جگر کی بعض بیماریوں کے کم خطرے سے منسلک دیکھا گیا ہے۔ لیکن کافی میں بہت زیادہ چینی، سیرپ اور کریمر شامل کر دیں تو معاملہ بالکل مختلف ہو جاتا ہے۔

لیکن فیٹی لیور میں صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ آپ کیا کھا رہے ہیں۔ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ مجموعی طور پر کتنا کھا رہے ہیں۔ اگر جسم کو مسلسل ضرورت سے زیادہ کیلوریز مل رہی ہوں تو صرف ایووکاڈو، زیتون کا تیل یا گریاں شامل کرنے سے جگر کی چربی ختم نہیں ہوگی۔

اسی لیے اگر وزن زیادہ ہے تو بتدریج وزن کم کرنا، میٹھے مشروبات اور غیر ضروری کیلوریز کم کرنا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی کرنا اور مناسب نیند لینا فیٹی لیور کی مینجمنٹ میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کسی ایک "ڈیٹاکس ڈرنک" یا جڑی بوٹی کے مقابلے میں یہی روزمرہ عادتیں زیادہ معنی رکھتی ہیں۔

اور یہی شاید فیٹی لیور کے بارے میں سب سے اہم بات ہے: جگر کو کسی جادوئی غذا کی ضرورت نہیں، اسے ایک بہتر روزمرہ ماحول کی ضرورت ہے۔ جب خوراک، وزن اور جسمانی سرگرمی بہتر ہوتی ہے تو جگر کو بھی سنبھلنے کا موقع ملتا ہے۔

سوال یہ نہیں کہ فیٹی لیور کے لیے کون سی ایک چیز کھائیں۔ سوال یہ ہے کہ آپ کی پوری پلیٹ جگر کی دوست ہے یا دشمن؟

"کسی نے مجھ سے پوچھا، جوڑوں کے درد اور یورک ایسڈ کے لیے حبِ سورنجان واقعی فائدہ دیتی ہے؟ بازار میں تو اسے گٹھیا سے لے کر...
11/08/2026

"کسی نے مجھ سے پوچھا، جوڑوں کے درد اور یورک ایسڈ کے لیے حبِ سورنجان واقعی فائدہ دیتی ہے؟ بازار میں تو اسے گٹھیا سے لے کر گھٹنوں کے درد تک ہر چیز کے لیے بتایا جاتا ہے۔"

میں مسکرائی اور کہا، "سورنجان ایک عام جڑی بوٹی نہیں۔ اس سے وابستہ بعض پودوں میں ایسے طاقتور اجزا پائے جاتے ہیں جنہوں نے جدید طب میں بھی جگہ بنائی، لیکن یہی وجہ ہے کہ اسے احتیاط سے سمجھنا ضروری ہے۔"

سورنجان (Colchicum) کا تعلق ایک ایسے نباتاتی گروہ سے ہے جس سے کولچیسین (Colchicine) نامی دوا حاصل ہونے کی تاریخی بنیاد جڑی ہے۔ کولچیسین آج بھی بعض مریضوں میں گاؤٹ (Gout) یعنی یورک ایسڈ کے کرسٹل کی وجہ سے ہونے والی اچانک شدید جوڑوں کی سوزش کے علاج میں ڈاکٹر کی نگرانی میں استعمال ہوتی ہے۔

اب ذرا درد والے جوڑ کے اندر کا منظر تصور کریں۔ گاؤٹ میں یورک ایسڈ کے باریک کرسٹل جوڑ میں جمع ہو سکتے ہیں، جنہیں مدافعتی نظام خطرہ سمجھ کر شدید سوزش پیدا کرتا ہے۔ جوڑ سرخ، گرم، سوجا ہوا اور اتنا حساس ہو سکتا ہے کہ بعض اوقات ہلکی سی چھونے سے بھی شدید درد محسوس ہوتا ہے۔

یہاں ایک فرق بہت اہم ہے۔ درد اور سوزش کم کرنا، خون میں یورک ایسڈ کم کرنا ایک ہی چیز نہیں۔ گاؤٹ کے مستقل علاج میں بعض مریضوں کو ایسی ادویات درکار ہوتی ہیں جو واقعی یورک ایسڈ کی سطح کم کریں، جبکہ سوزش کم کرنے والی دوا حملے کے دوران درد اور سوجن کو قابو کرنے کے لیے دی جا سکتی ہے۔

اسی لیے حبِ سورنجان کو ریمیٹائڈ آرتھرائٹس، کمر درد، ہر قسم کے گھٹنوں کے درد یا "یورک ایسڈ ختم کرنے" کی ایک ہی دوا سمجھنا درست نہیں۔ جوڑوں کے درد کی کئی مختلف وجوہات ہوتی ہیں، اور ہر وجہ کا علاج بھی مختلف ہوتا ہے۔

ایک اور ضروری بات یہ ہے کہ سورنجان یا کولچیسین سے متعلق مصنوعات میں مقدار بہت اہم ہوتی ہے۔ زیادہ مقدار سنگین مضر اثرات پیدا کر سکتی ہے، اس لیے صرف سوشل میڈیا پوسٹ دیکھ کر "صبح شام 2+2" جیسی خوراک ہر شخص کے لیے تجویز کرنا محفوظ نہیں، خصوصاً اگر گردوں یا جگر کا مسئلہ ہو یا دوسری ادویات استعمال ہو رہی ہوں۔

اگر آپ کو بار بار پاؤں کے انگوٹھے، ٹخنے یا دوسرے جوڑ میں اچانک شدید درد اور سوجن ہوتی ہے، یا یورک ایسڈ مسلسل زیادہ آ رہا ہے، تو صرف درد دبانے کے بجائے اصل وجہ اور مناسب علاج معلوم کروانا زیادہ ضروری ہے۔

کیونکہ جوڑ کا درد خاموش کرنا اور بیماری کو قابو کرنا دو مختلف باتیں ہیں۔

آپ بتائیں، یورک ایسڈ بڑھنے پر آپ کو سب سے پہلے درد کس جوڑ میں محسوس ہوتا ہے؟

08/08/2026

"کسی نے مجھ سے پوچھا، جو کا پانی یعنی آبِ جو واقعی اتنا فائدہ مند ہے کہ اسے روزانہ پینا چاہیے؟"

میں مسکرائی اور کہا، "آبِ جو کوئی آبِ حیات تو نہیں، لیکن اگر اسے صحیح طریقے سے بنایا جائے تو یہ ایک سادہ اور مفید مشروب ضرور بن سکتا ہے۔"

وہ حیران ہوئے، کیونکہ آبِ جو کے بارے میں آپ نے بھی شاید بڑے بڑے دعوے سنے ہوں گے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ یہ بڑھاپا روک دیتا ہے، کبھی گردے کی پتھری نکال دیتا ہے اور کبھی کینسر سے بچانے والا مشروب قرار دیا جاتا ہے۔ سائنس ہمیں اس کے فوائد کو کچھ زیادہ حقیقت پسندانہ انداز میں سمجھاتی ہے۔

جو (Barley) ایک مکمل اناج ہے جس میں خاص قسم کا حل پذیر فائبر بیٹا گلوکن (Beta-glucan) پایا جاتا ہے، یعنی ایسا فائبر جو آنتوں میں پانی کے ساتھ مل کر جیل جیسی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ مناسب مقدار میں جو اور اس کا بیٹا گلوکن کولیسٹرول اور کھانے کے بعد بلڈ شوگر کے ردعمل کو بہتر رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

اب ذرا جسم کے اندر کا منظر دیکھیں۔ جو کا فائبر معدے اور آنتوں میں پہنچتا ہے تو خوراک کے گزرنے اور غذائی اجزا کے جذب ہونے کی رفتار پر اثر ڈالتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پورا جو یا ایسا آبِ جو جس میں کچھ حل پذیر فائبر باقی ہو، صرف صاف چھنے ہوئے پانی کے مقابلے میں زیادہ غذائی فائدہ دے سکتا ہے۔

آبِ جو جسم کو پانی فراہم کرنے کا ایک اچھا طریقہ بھی بن سکتا ہے، خصوصاً اگر اسے بغیر زیادہ چینی کے استعمال کیا جائے۔ لیکن اسے گردوں کی صفائی، پتھری خارج کرنے، کینسر سے بچانے یا بڑھاپا روکنے کا ثابت شدہ علاج سمجھنا درست نہیں۔ ان بیماریوں کی اپنی وجوہات اور باقاعدہ طبی علاج ہوتے ہیں۔

ایک اور بات خاص طور پر یاد رکھیں۔ اگر آپ آبِ جو میں ذائقے کے لیے بہت زیادہ شہد ڈال دیتے ہیں تو اس میں شکر اور کیلوریز بھی بڑھ جائیں گی۔ خاص طور پر ذیابیطس یا وزن کم کرنے کی کوشش کرنے والے افراد کے لیے بغیر چینی یا بہت کم مٹھاس والا آبِ جو زیادہ مناسب انتخاب ہو سکتا ہے۔

گھر میں بنانے کا آسان طریقہ: جو کو اچھی طرح دھو کر پانی میں بھگو دیں، پھر تازہ پانی میں ہلکی آنچ پر اچھی طرح پکائیں۔ ٹھنڈا ہونے کے بعد چھان کر فریج میں رکھیں اور مناسب مقدار میں استعمال کریں۔ صفائی کا خیال رکھیں اور اسے کئی دن تک کمرے کے درجۂ حرارت پر نہ چھوڑیں۔

اور اگر آپ واقعی جو کے فائبر سے زیادہ فائدہ چاہتے ہیں تو صرف اس کا پانی پینے کے بجائے جو کو غذا میں شامل کرنا بھی اچھا انتخاب ہے، کیونکہ زیادہ چھاننے سے فائبر کا بڑا حصہ دانوں میں ہی رہ سکتا ہے۔

قدرتی غذاؤں کی اصل طاقت انہیں معجزاتی دوا بنانے میں نہیں، بلکہ صحیح مقدار اور صحیح طریقے سے اپنی روزمرہ غذا کا حصہ بنانے میں ہے۔

تو آپ بتائیں، آپ کے گھر میں آبِ جو کس طریقے سے بنایا جاتا ہے؟

07/08/2026

"میں نے سنا ہے کہ روزانہ کافی پینے سے جسم کی چربی خود بخود پگھلنے لگتی ہے۔ کیا واقعی ایک کپ کافی وزن کم کر سکتا ہے؟"

میں مسکرائی اور کہا، "اگر صرف کافی سے چربی پگھلتی، تو دنیا میں موٹاپا شاید دنیا کا سب سے آسان مسئلہ ہوتا۔"

وہ خاموش ہو گئے، کیونکہ سوشل میڈیا پر کافی کو کبھی Fat Burner تو کبھی وزن کم کرنے کا جادوئی نسخہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

کافی (Coffee) میں موجود کیفین (Caffeine) ایک قدرتی محرک ہے، یعنی ایسا مادہ جو وقتی طور پر دماغ کو زیادہ چوکنا کرتا ہے اور بعض افراد میں توانائی کے استعمال کی رفتار (Metabolism) میں معمولی اضافہ کر سکتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کافی جسم میں موجود چربی کو خود بخود پگھلا دیتی ہے۔

اب ذرا اپنے جسم کے اندر کیا ہو رہا ہے، اس کا تصور کریں۔ کافی پینے کے چند ہی منٹ بعد کیفین خون میں جذب ہوتی ہے، دماغ تک پہنچتی ہے اور جسم کو زیادہ متحرک ہونے کا پیغام دیتی ہے۔ اسی لیے بہت سے لوگوں کو ورزش کے دوران زیادہ توانائی محسوس ہوتی ہے اور وہ پہلے سے بہتر کارکردگی دکھا پاتے ہیں۔

لیکن چربی کم ہونے کی اصل وجہ کافی نہیں ہوتی۔ اگر آپ ضرورت سے زیادہ کیلوریز کھا رہے ہیں، جسمانی سرگرمی کم ہے اور روزمرہ عادتیں غیر متوازن ہیں، تو صرف کافی پینے سے وزن کم نہیں ہوگا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ سائنسی تحقیقات میں کافی کا ایک اور پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ مناسب مقدار میں بغیر زیادہ چینی یا کریم والی کافی پینے کو بعض مطالعات میں فیٹی لیور (Fatty Liver) کے کم خطرے اور جگر کی بہتر صحت سے منسلک دیکھا گیا ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ کافی فیٹی لیور کا علاج ہے۔

ایک غلطی بہت عام ہے۔ لوگ وزن کم کرنے کے لیے کافی تو پیتے ہیں، لیکن اس میں چینی، فلیورڈ سیرپ، کریمر یا وہپڈ کریم شامل کر دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک سادہ کافی غیر ضروری کیلوریز سے بھر جاتی ہے اور فائدے کے بجائے نقصان ہونے لگتا ہے۔

اگر آپ کافی پیتے ہیں تو اسے صحت مند طرزِ زندگی کا ایک حصہ بنائیں، نہ کہ وزن کم کرنے کا واحد سہارا۔ متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، مناسب نیند اور روزانہ کی اچھی عادتیں ہی وہ بنیاد ہیں جن پر صحت مند جسم اور صحت مند جگر قائم ہوتے ہیں۔

سوال یہ نہیں کہ آپ دن میں کتنے کپ کافی پیتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا آپ کی روزمرہ عادتیں بھی آپ کے جسم کو چربی جلانے کا موقع دے رہی ہیں؟

Address

Model Town
Al Madenah Al Reyadhya

Telephone

+971585831370

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Care Quest posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share