Dini Malumat

Dini Malumat Allah ki rassi thambe rakho

09/10/2022
09/10/2022
17/06/2018

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴

📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📁 *سوال نمبر : ١٤٠*📁

🔹🔹🔹🔹🔹 🔹🔹🔹🔹

*_السؤال :_*
*کیا عورت کے قضاء روزے شوال کے چھ روزے میں ادا ہوسکتے ہیں؟؟*

*========================*
*_حامدًاومصلّیاًومسلّماً :_*
*_أما بعد :_*
*_الجواب وبالله التوفيق_*

*جس شخص کے حق میں رمضان المبارک کے روزے کسی عذر کی بناء پر باقی ہوں تو اس کے حق میں سنت روزے رکھنا مکروہ ہے اور اگر بلاعذر روزے نہ رکھا ہو تو اس کے حق میں سنت روزے رکھنا حرام ہے لہذا اگر کسی کے حق میں فرض روزے باقی ہوں تو شوال میں پہلے اپنے فرض روزوں کی قضاء ضروری ہے.*
*اب اگر کوئی شوال میں رمضان المبارک کے قضاء روزے رکھے چاہے عورت ہو یا مرد تو اس کو شوال کے روزوں کا بھی ثواب ملے گا اس لئے کہ اصل مقصود ان ایام میں روزوں کا پایا جانا ہے لہذا قضاء کے ساتھ شوال کے سنت روزوں کا بھی ثواب حاصل ہوگا البتہ مطلوبہ کامل ثواب حاصل نہیں ہوگا. اس لئے بہتر یہ ہے کہ پہلے قضاء روزے رکھے پھر شوال کے سنت روزے رکھے.*


💎 *_واللہ اعـــلـــم بالصواب_*💎
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ ➖
*قوله: أفتى إلخ) حاصل الإفتاء المذكور أنه إذا كان عليه صوم فرض قضاء أو نذر وأوقعه في هذه الأيام المتأكد صومها: حصل له الفرض الذي عليه، وحصل له ثواب صوم الأيام المسنون، وظاهر إطلاقه أنه لا فرق في حصول الثواب بين أن ينويه مع الفرض أو لا،*
*(إعانة الطالبين :٣٠٦/٢)*
*(من شوال) أي وإن أفطر رمضان ولو بغير عذر فإن صامه عنه دخلت فيه ويحصل ثوابها المخصوص.*
*وكذا ثواب رمضان المخصوص*
*(حاشيتا قليوبي وعميره على الكنز:٩٣/٢)*
*وإن أفطر رمضان تعديا حرم عليه صومها، وقضية قول المحاملي تبعا لشيخه الجرجاني يكره لمن عليه قضاء رمضان أن يتطوع بالصوم كراهة صومها لمن أفطره بعذر... ولو صام في شوال أو في نحو عاشوراء قضاء أو نذرا أو غيرهما فحصل له ثواب تطوعهما كما أفتى به الوالد - رحمه الله تعالى - تبعا للبارزي والإسنوي والناشري، والفقيه علي بن صالح الحضرمي وغيرهم لكن لا يحصل له الثواب الكامل المرتب على المطلوب لا سيما من فاته رمضان وصام عنه شوالا؛ لأنه لم يصدق عليه المعنى المتقدم*
*(حاشية الجمل :٣٥٠/٢)*


✅ *أيده : مفتی فیاض احمد برمارے ،مفتی عمر ملاحی ،مفتی زبیر پورکر ،مفتی عبدالرحیم کیرلوی*

📖 ✒ *کتبه وأجابه : محمد اسجد ملپا*

📤 *مسائل دوسروں تک پہنچانا صدقہ جاریہ ہے* 📤
*_~- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - -~_*


🔰 *فقھی مسائل شافعی إدارہ رضیة الأبرار بھٹکل*

*ہمارے پوسٹس اور فقھی مسائل شافعی جاننے کے لیے کلک کریں*
https://fiqhimasailshafai.blogspot.com/2018/06/blog-post_17.html?m=1
*ہمارے چینل میں شریک ہونے کے لئے کلک کریں*👇🏻
https://t.me/fiqhimasayilshafayi
*واٹس آپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے کلک کریں 👇🏻:*
https://chat.whatsapp.com/DHLRlCNjRww311aqad6nxE

🌴🍃 *بِسْــمِ اللهِ الرَّحْـمـنِ الرَّحِــيـْم* 🍃🌴 📚 *فقھی مسائل( شافعی )*📚 ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ ...

03/06/2018

🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺(204)
*تجربات زندگی:مولانا عبدالماجد دریابادی رحمہ اللہ*

*حضرت مولانا عبدالماجد دریابادی رحمہ اللہ ایک مشہور صاحب طرز ادیب،انشاءپرداز اور مفسر قرآن ہیں،آپ نے خود اپنی سرگزشت "آپ بیتی"کے نام سے لکھی ہے،جس کے اندر گذشتہ لکھنو اور اودھ کی تہذیب وثقافت،مشاہیر دین وادب اور ممتاز معاصرین واحباب اور قلمکاروں کے جیتے جاگتے تذکرے ہیں،اور چلتی پھرتی تصویریں بھی موجود ہیں،آپ نے اپنے جادوئی قلم سے مختلف عناوین پر روشنی ڈالی ہے اور زندگی کے ساتھ عہد رفتہ کو اس طرح آواز دی ہے؛ کہ وہ حال معلوم ہونے لگتا یے، بالخصوص مولانا نے عام نتائج اور تجربات زندگی کے عنوان سے حیات مستعار کا خلاصہ بڑی لطافت اور باریکی کے ساتھ نکالا ہے؛ ہونا تو یہ چاہئے کہ ہر ایک اسے تختہ دل پر نقش کر لے، اور مشعل راہ بنا کر مستقبل کی منصوبہ بندی کرے،اگر ایسا ہوا تو بہت سے دیدہ ونادیدہ، شنیدہ وناشنیدہ حادثات سے بچا جا سکتا ہے،اور اسے منہ مانگی مراد مل جائے گی،اور ہوسکتا ہے؛کہ اس کا دن عید اور رات شب برات ہوجائے۔*
انسان کے اندر موجود سب سے زیادہ رذیل بیماری نفسانی خواہشات و ہوس اور حرص کی ہے،نفس پرستی اور خود پرستی تو انسان کا پسندیدہ مشغلہ ہے،یہ انسان کے اندر ایسی تڑپ اور طلب پیدا کردیتی ہے؛ کہ اس کے سارے اعضاء وجوارح اور اعصاب سوائے اس کی تکمیل کے کچھ اور سوچتے اور ناہی سمجھتے ہیں،اس کے جوش میں گویا کاہ سے کوہ کا اور چیونٹی سے ہاتھی کا کام لے لینے کی صلاحیت رکھتا ہے،اس کے بدلتے تلون وتلوین کے فریب میں ہر کوئی الجھ کر رہ جاتا یے،وہ مشتعل اور بر افروختہ ایسے ہونے لگتا ہے؛کہ اس سے محرومی کو حرماں نصیبی سمجھ کر دو آتشہ اور سہ آتشہ ہوجاتا ہے، آپ اس حقیقت کو جب مولانا کے سحرانگیزی قلم سے پڑھیں گے، تو یقین جانئے! اپنا دل نکال کر رکھ دینے اور سر دھننے کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہوگا،لفظ لفظ آپ کے ضمیر کو جھنجھوڑنے اور سوتی ہوئی غیرت جگانے میں اکسیر کا کام کر سکتی ہے،اور لاادریت و تشکیکی ذہن اور نفس شوم کیلئے طبیب حاذق کا نسخہ ثابت ہو سکتی ہے، شعور بیدار اور دل بے تاب ہو اٹھے گا،اور ھل من مزید کی رٹ لگانے لگے گا۔
*پھر حضرت مولانا نے روپیہ کی محبت کو بڑی بلا و عظیم مصیبت قرار دیا ہے،اور یہ لکھ آئے کہ اس کی حرص وہوس عمر کے ساتھ بڑھنے لگتی ہے،اور ذہن اس کے جواز پر نئی نئی دلیلیں تلاس کرنے لگتا ہے،اگر شروع زمانے میں ہی قابو نہ پایا گیا اور نفس کو قناعت کا خوگر نہ کیا گیا، تو زندگی میں قدم قدم پر اس کی تلخیاں برداشت کرنی پڑیں گی،دل لا علاج مرض کا شکار ہوجائے گا؛لیکن ہاں روپیہ کی قدر ضرور ہونی چاہئے، اسراف بھی شیطانی کام ہے اور مشکلات کو کھینچ لانے والی ہے، دراصل بخل واسراف دونوں ایک ہی مرض کے دائرہ میں ہیں،مولانا نے اس سے حفاظت کی ترکیب یہ بتائی ہے؛ کہ "قلب ایک طرف حب جاہ سے خالی رکھا جائے ،اور دوسری طرف روپیہ کی ناقدری سے"،نیز ریا کاری ونمائش کو مہلک بتلانے کے بعد "لا يلقها إلا ذو حظ عظیم"فرمایا ہے؛لیکن ساتھ ہی رقمطراز ہیں:"ایک بڑا دخل اس میں صدق دل سے دعا مانگنے کا ہے،اور اسباب وذرائع شہرت سے اپنے کو دور رکھنے کا ہے،نفس عاشق ہے جاہ کا،اور انسان ایک حد تک خوشماد پسند طبعا ہوتا ہے،راہ اخلاص کا سب سے بڑا رہزن، مداحوں،معتقدوں،مرید کا گروہ ہوتا ہے،ہر وقت کی داد وتحسین،رضاجوئی حق کا گلا گھونٹ دیتی ہے" (دیکھئے:آپ بیتی:۳۱۰ تا ۴۱۲)۔*

✍ *محمد صابرحسین ندوی*
[email protected]
81204123492
03/06/2018

31/05/2018

🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺(200)
*جمہوریت آپ کو آواز دے رہی یے!*

ہم نے اس ملک کی آزادی کیلئے خون،پسینہ ایک کردیا تھا،ملک کا ہر خطہ اور ہر کونہ سے ایک ہی صدا لگائی تھی، جمعیت علمائے ہند،مسلم لیگ، تحریک خلافت، ریشمی رومال اور نہ جانے کتنی تحریکوں کے پلیت فارم سے پورے ملک کو اتحاد وانصرام کے انوکھے دھاگے پرو دیا تھا، ملی ودینی رہنماؤں نے اپنے مدارس و خانقاہوں کو بھی قربان کردیا تھا،مسندیں اور اتالیقی بھی نچھاور کر دی تھی ،گاو تکیہ بھول بیٹھے تھے،محمد علی جناح اور محمد علی جوہر اور شیخ الہند نے اپنی آخری سانس تک قربان کردی تھی،گاندھی اور نہرو نے گانگریس کی راہ سے ملک کے ہر طبقہ میں آزادی کی عجب تحریک و لگن کی فضا عام کردی تھی،انگریزوں کے ستم کی کون پرواہ کرتا تھا،دلی سے شاملی تک لٹکی لاشوں کے بارے میں کون سوچتا تھا؟معاش و معاشرت کی کسے پرواہ تھی؟بس اگر کسی چیز کی دھن اور رد و کد سوار تھی؛تو وہ آزادی کی تھی،گوری چمڑی اکھاڑ پھینکنے اور ایک نئے سرے سے ملک کو آباد کرنے کی تھی،اس کی کھوئی ہوئی عظمت لوٹانے اور اس کے معاشی و حکومتی یگانگت کو پھر سے زندہ کرنے کی تھی۔
خدا کا بھی اصول ہے اور دنیا نے ہمیشہ اسے آزمایا یے؛کہ قربانیاں اور جاں نثاریاں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں، دیر سہی مگر در لوٹ ہی آتا ہے،ہندوستان بھی آزاد ہوا،اور ڈکٹیٹر حکمرانی، یا مطلق العنان بادشاہت، سرمایہ داری وغیرہ؛ کے بجائے جمہوریت کی خوبصورت اوڑھنی اوڑھائی گئ ،ہر کسی کیلئے جینا،رہنا اور اپنے مذہبی وملی تشخص کے ساتھ سالمیت کی ضمانت دی گئی،اب تک اس پر ستر سے زائد سال گزر چکے ہیں،مگر جمہوریت کی چھتری برقرار ہے،اس پر بہت سے نازک دور آئے؛بسا اوقات ایسا محسوس ہوتا ؛کہ اب کی اوڑھنی چاک کر دی جائے گی،یا پھر سے نام نہاد اسے اپنا غلام نہ سہی؛ لیکن ایک ایسی چادر ڈال جائیں گے،جس میں ہر کسی کا دم گھٹنے لگے گا،ہر کسی پر ایک ہی رنگ چڑھ جائے گا اور اس کی متنوع تہذیب و تمدن کی خوبصورتی الوداع ہوجائے گی، حتی کہ اسے غلامی کا دسرا نام ایمر جینسی جیسے بد ترین صورت حال سے بھی گزرنا پڑا؛ لیکن ہر بار انسان نوازوں اور ملک کے وفادار باشندوں نے دوٹوک جواب دیا، اور اس سلسلہ میں اپنی جانین بھی قربان کیں اور مال بھی کام میں لائے۔
*واقعہ یہ ہے کہ آج ملک عزیز کو ماضی سے کہیں زیادہ نازک دور کا سامنا ہے،ملک ٹوٹنے اور بکھرنے اور چھوٹے چھوٹے دائروں میں تقسیم ہونے کے کنارے پر کھڑا ہے،ملک کا ہر طبقہ ایک ہی بولی بول رہا ہے،چاروں طرف ایک ہی رنگ چڑھ چکا ہے،عدالت عظمی، منصب اعظم سے لے کے ہر شعبہ ایک ہی اشارہ اور ایک ہی جماعت وپارٹی؛ بلکہ ان میں بھی چند اشخاص کی انگلیوں پر ناچ رہا ہے،ہر جگہ لاقانونیت ہی لاقانونیت ہے،جو کہہ دیں وہی قانون، جو کردیں اور جب کردیں وہی ضابطہ بن جاتا ہے،معیارات بدل چکے ہیں، مدمقابل جماعتوں نے خواب خرگوش کی نیند لے رکھی ہے،لفٹ پارٹیاں دراصل بہائند پارٹیاں بن چکی ہیں،مسلم جماعتوں کا شمار کرنا یا نہ کرنا برابر معلوم ہوتا ہے،اگر اب بھی سمجھ نہ آئے تو حالیہ کرناٹک میں ہوئے سیاسی ناٹک پر غور کیجئے! یاد رکھئے ! اگر آپ سوچتے ہیں؛ کہ ملک کی سیاست سے آپ کا کیا تعلق اور کس کی پارٹی حکومت کرے یا نہ کرے اس سے ہمارا کیا سروکار یا پھر سیاست پر بس معمولی نظر رکھ لینا ہی کافی سمجھتے ہیں؟ تو ملک تو برباد ہوگا ہی آپ کا گھر بھی اجڑ جائے گا،آپ کی معیشت بھی نڈھال ہوجائے گی، کیونکہ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جس کا لامحالہ ،دانستہ یا نادانستہ آپ کی زندگی سے مربوط ہے،جس سے کوئی مفر نہیں،اب دیکھنا یہ ہے ؛کہ آپ کی روح میں کونسی روحانیت جنم لیتی ہے، اور آپ کی طبیعت پر کونسا کیف پیدا ہوتا ہے؟کیا آپ ساحل پر کشتی کے ڈوبنے کا نظارہ کرتے ہیں یا پھر عہد ماضی کی طرح آگے بڑھ کر اس کشتی کا پتوار سمبھال کر؛ کنارے لگاتے ہیں۔*

✍ *محمد صابرحسین ندوی*
[email protected]
8120412392
30/05/2018

29/04/2018

🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺(168)
*اب کیوں وہی خار چبھتا ہے !*

*مستقبل کی فکر کرتے ہوئے شخصیت سازی اور انسان سازی کیلئے عمل پیہم کرنا ہی اصل ہے،اور یہی وہ طریقہ ہے جس پر بہتر نتیجہ کی امید ہے،جو عین رم جھم بارش کے بعد خوش رنگ اور خوش نظر سر سبز وشادابی کی مانند ہے،یا جس طرح کوئی بہتا آبشار اور جھرنوں کی کوئی معمولی لڑی سے سنگ سخت میں بھی سوراخ ہوجائے،یہ عین شرعی اور سنت نبوی کا طریقہ بھی ہے،جو یقینا عند اللہ مقبول وممدوح ہے، خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ اس پر شاہد ہے،اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ اصلاح و دعوت اور تبلیغ واشاعت کی بنیاد بھی اسی پر ہے،تین سالہ مخفی دعوت اور مکہ مکرمہ میں تمام ظلم وجور کے باوجود اپنے ہاتھوں کو روکے رکھنا اور صبر و ضبط کی تلقین کرتے رہنا،یا ہجرت کی خفیہ ترکیب،مدینہ منورہ میں حکیمانہ قبائلی عہد وپیماں، معرکوں کے لائحہ عمل کو پوشیدہ رکھنا،صلح حدیبیہ کا واقعہ اور سب سے بڑی بات طائف کی ستم ظرفیوں کے بعد بھی عذاب الہی سے انکار کرتے ہوئے آئندہ نسل سے ایمان کی امید رکھنا؛ دراصل اسی طریقہ پیہم اور سنت دیر نبوی علیھم السلام کا دیرینہ پر تو ہے۔*
اس سلسلہ میں حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی اسوہ حسنہ ہے کہ "وأن أحب الأعمال إلى الله أدومها وإن قل"(بخاری:۶۰۹۹)،یعنی اسلام میں وہ عمل سب سے زیادہ پسندیدہ ہے؛ جو مسلسل کیا جائے، خواہ وہ کم ہی کیوں نہ ہو! اس کےبر خلاف کرنے والوں کیلئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادیا ہے"ھلک المتنطعون "(مسلم:۴۸۲۹) یعنی یک بیک اصلاح کی فکر یا طوفان کی طرح برس جانا اور آندھیوں کی طرح ہر چیز کو تہ وبالا کر کے رکھ دینا تخریب کا طریقہ ہے؛ نہ کہ اصلاح کا،دربار رسالت میں ایک شخص نے زنا کرنے کی اجازت مانگی اور اس پر وہ مصر بھی ہوگیا،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے سخت نگاہون سے دیکھا قریب تھا کہ کچھ غیر متوقع واقع ہوجائے ایسے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکمت ودانائی کے ساتھ اسے قریب بیٹھا کر فہم فہمائش کی اس سے کہا کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ تمہاری محرموں کے ساتھ زنا کیا جائے تو اس نفی مین جواب دیا سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم عرض کیا؛اب تم ہی بتاو کہ تم اس شنیع فعل کو دوسرے کیکئے کیسے پسند کروگے(رواه الألباني، في السلسلة الصحيحة، عن أبي أمامة الباهلي، الصفحة أو الرقم: 1/712، إسناده صحيح)،حتی کہ ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مسجد نبوی میں پیشاب کردینا اور اس پر تمام تر قابو کے باوجود نکیر نہ کرتے ہوئے فراغت کے بعد اصلاح کرنا بھی کیا خوب نمونہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔(بخاری:۶۱۲۸)
*افسوس کی بات ہے کہ عصر حاضر میں تبلیغ وصلاح کا وہ رویہ نہیں اختیار کیا جاتا،جو اسوہ نبوی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک زیادہ محبوب ہے،اس کے برعکس مجمع عام میں کسی کی عزت تا رتار کردینا اور نکیر کے نام پر اپنی بزرگیت اور مرتبت و سالمیت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اور اپنی مقبولیت اور عند الناس محبوبیت کا بے جا فائدہ استعمال کرتے ہوئے؛ کسی اپے ہی پروردہ اور زمانہ ماضی کے تخم کا برگ وبار لانے کے بعد اس کے ببول سے گلاب کی کی امید کرتے ہوئے؛اسے اکھاڑ پھینکنے کے درپے نظر آتے ہیں،کیا ہی عجیب بات ہے؟ اور کیا ہی حسن وقبح کا عجب پیمانہ ہے کہ اپنی گود کا پروردہ اور اپنئ ہی نگیداشت کا کا ثمرہ کبھی مسک اور عرق گلاب کی طرح مشام جان کو معطر کرتا تھا تو اب وہی خار کے چبھتا ہے،اور اس نکیر کر کے زمانے کو پیغام دینے کی کوشش کی جاتی یے؛بلکہ اس سے زیادہ لائق عبرت اور کیا ہو کہ بہت سے دانا بھی حاشیے کے زیر و بم میں الجھا دئے جاتے ہیں، اور انہیں ماتن کے متن سے نظریں پھیرنے پر مجبور کیا جاتا یے؛لیکن سب ہی جانتے ہیں متن کی درستگی کے بغیر حواشی و شروحات کسی معنی میں نہیں،یہی وجہ ہے کہ فقہاء نے بھی فقہ فتاوی میں متن ہی کو اولیت دی ہے۔(دیکھئے:عقود رسم المفتی،از:شامی)۔*

✍ *محمد صابرحسین ندوی*
[email protected]
8120412392
28/04/2018

21/03/2018

🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺(129)
*عصر حاضر اور غزوہ خندق*

*غزوات نبوی میں سے ایک اہم غزوہ "غزوہ خندق یا غزوہ احزاب"ہے،جو سنہ پانچ ہجری ماہ شوال میں ہوا تھا، واقعہ تو یہ یے؛ کہ یہ "احزاب" محض عام جنگ و غزوہ کا نام نہیں؛بلکہ یہ اسلام کو جڑ اکھاڑنے کیکئے متحدہ عرب کی دو ٹوک اور فیصلہ کن کوشش اور سازشوں کے ترکش کا آخری تیر تھا،اس جنگ کو بپا کرنے والے مدینہ منورہ کے (خباثت و دیوسیت کا پلندی)یہودی قبائل بنو نظیر اور بنو وائل کا ہاتھ تھا؛جنہوں نے مذہبی و مسلکی اور ملکی سیاست و حکومت کی خواہش، اور اسلام کے بڑھتے قدم سے ہیبت ورعب پاکر مشرکین مکہ اور قبیلہ غطفان جیسے بڑے بڑے قبائل کو آمادہ جنگ کرکے تقریبا دس ہزار کی فوج تیار کی اور ابوسفیان کی قیادت میں مدینہ منورہ پر چڑھائی کردی، ایک طرف موسم سرما کا ظلم وقہر اور دوسری طرف غزوہ احد، واقعہ رجیع اور بیر معونہ کے تازہ زخم خوردہ اپنے زخموں کو مندمل کیا کرتے؛کہ لشکر جرار نے دستک دیدی تھی*۔
محاذ شہر پر لشکر دیکھ؛آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جمع فرمایا؛تاکہ جنگی حکمت عملی پر غور وخوض ہو،ایسے میں فارسی النسل اور راہ ہدایت کا شیداحضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے شہر کی سرحد پر خندق کھودنے اور مدینہ منورہ میں ہی ٹھہرتے ہوئے مقابلہ کرنے کی راہ سجھائی،اور "الحكمة ضالة المومن"کی پالیسی اپناتے ہوئے مشورہ پر اتفاق کیا گیا،قرآن کریم نے اس ہولناک وجاں سوز اور اعصاب شکن کیفیت کا نقشہ یوں کھینچا ہے؛سچ تو یہ ہے کہ اس کا ترجمہ ،ان الفاظ کی تاثیر وٹیمپریچر کو ادا نہیں کیا جاسکتا؛تاہم کچھ اندازہ لگایا جاسکتا ہے،ارشاد ہے: "جب وہ تم پر تمہارے اوپر سے اور تمہارے نیچے سے چڑھ آئے،اور جب نگاہیں ڈگمگانے لگیں اور کلیجے منھ کو آگئے اور تم اللہ پر طرح طرح کے گمان کرنے لگے"(احزاب:۱۰)۔
*سیرت طیبہ کے اس پہلو اور قرآن کریم کی اس تصویر کشی پر عصر حاضر کی تصویر بھی بہت حد تک مناسب و موزوں معلوم ہوتی ہے، چہار دانگ عالم میں مسلمانوں کی پرسوز کیفیت اور حالت زار کسی سے پوشیدہ نہیں،ہر پل یہودی و صہیونی اور صلیبی سازشوں کا سایہ منڈلاتا رہتا ہے بلکہ اپنے سایئہ عاطفت میں ڈھانپ رکھا ہے،مغربی تہذیب اور مستشرقین کی موشگافیوں نے اسلامی معاشرے میں رخنہ ڈال دیا ہے،زعفرانیت اور ہندو احیائیت یا بدھ ازم غرض تمام ادیان و قبائل کا متحدہ محاذ غزوہ احزاب کی یاد دلاتا ہے؛لیکن کف افسوس ! امت مسلمہ میں سلمان فارسی نہیں،نتیجتا قیادت وحکمت اور سیاسی بصارت کے فقدان اور ناعاقبت اندیشی نے گرد کارواں بننے یا ساحل پر بیٹھ کر کشتی غرق آب ہوتے دیکھنے یا ذلت و خواری میں سر خم کئے ہوئے زندگی بسر کرنے یا ڈر و خوف اور ہراساں ہوکر مرنے پر مجبور کر دیا ہے۔*

✍ *محمد صابرحسین ندوی*
[email protected]
8120412392
20/03/2018

20/03/2018

🌺 *صدائے دل ندائے وقت*🌺(128)
*شریعت مصالح انسانی سے تعبیر*

*اسلامی تعلیمات اور تمام احکام وقواعد کا خلاصہ انسانی مصالح کو مدنظر رکھنا اور مفاسد سے محفوظ کرنا ہے ،اس سلسلہ میں علامہ عز بن عبدالسلام ؒنے بڑی وقیع بات لکھی ہے ،یہاں پر ان کی تحریر کا خلاصہ نقل کردینا ہی زیادہ مفید معلوم ہوتا ہے،آپ رقمطراز ہیں:تمام فقہی قواعد وفروعات کا مرجع جلب منفعت اور دفع مضرت ہے،بلکہ کل احکام کی بنیاد جلب منفعت ہی ہے،اس لئے کہ دفع مضرت حصول منفعت ہی کی ایک قسم ہے،اس مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے خود لکھتے ہیں:احکام کے اندر دنیا وآخرت کے مصالح کے حصول اور مفاسد کے دفع پر اعتماد کرنا ظن غالب کی بنیاد پر ہوتا ہے،دنیا وآخرت کے کچھ مصالح جن کے نہ حاصل ہونے کی صورت میں دونوں جہاں کا معاملہ بگڑ جاتا ہے،اسی طرح دونوں کے کچھ مفاسد ہیں،گر وہ دور نہ کئے جائیں؛تو دنیا وآخرت دونوں جہاں میں لوگوں کی تباہی ہے۔*
ان میں سے اکثر منافع کا حصول ان کے اسباب کے پائے جانے کے بعد قطعی تو نہیں ہوتا ؛لیکن ظن غالب کے دائرے میں آجاتا ہے،آخرت کیلئے نیک کام کرنے والوں کو یہ قطعی یقین نہیں ہوتا؛ کہ ان کا خاتمہ بالخیر ہوگا،لیکن پھر بھی اللہ تعالی سے حسن ظن کی بناپر اعمال خیر میں مشغول رہتے ہیں،اور اس بات سے ڈرتے بھی رہتے ہیں کہ کہیں وہاں ان کے اعمال کے بارے میں عدم قبولیت کا فیصلہ نہ ہوجائے،قرآن کریم کی یہ آیت اسی مفہوم کو بتلاتی ہے:’’والذین یؤتون ماآتواو قلوبھم وجلۃ أنھم الی ربھم راجعون ‘‘(مؤمنون:۶۰)اسی طرح دنیا میں بھی لوگ اپنے کام اور تصرفات حسن ظن ہی کی بنا پر کرتے ہیں،اس لئے کہ حصول منافع کے اسباب پائے جانے کے بعد ظن غالب یہی ہوتا ہے؛ کہ ان منافع کا حصول ہوگا،لہذا ایسے مصالح سے جن کا حصول غالب ہوتا ہے،محض شذوذ یا خلاف گمان ہوجانے کے اندیشہ سے صرف نظر کرلینا درست نہ ہوگا،پس سمجھ لینا چاہئے۔: ’’الشریعۃ قائمۃ علی جلب المصالح للعباد،ودرء المفاسد عنھم‘‘یعنی شریعت کا دارومدار انسانی مصالح کا خیال رکھنا، اسے اولیت دینا اور اس سے مفاسد کو دور کرنے کاہر ممکن لحاظ کرنا ہے۔
*علامہ موصوف نے اسے ثابت کرتے ہوئے متعدد دلیلیں پیش کی ہیں،بالخصوص یہ بات پورے وثوق و اطمینان کے ساتھ کہی ہے؛ کہ قرآن کریم میں جہاں کہیں"ياأيها الذين آمنوا" کاتذکرہ آئے تو غور کیجئے؛کہ ندا و خطاب کے بعد کبھی تو خیر پر آمادہ کیا جارہا ہوگا اور کبھی شر سے روکا جارہا ہوگا،اور کبھی ایک ساتھ خیر کی تحریض اور شر پر زجر و ممانعت بھی ملے گی،نیز اللہ تعالی قرآن کریم میں بعض احکام کے مفاسد کا صراحتا بھی ذکر کرکے اس سے اجتناب پر ابھارتا ہے اور اس طرح بعض دیگر احکام کی مصلحتوں کو بیان کرتے ہوئے اس کے حصول کی ہدایت کرتا ہے۔*(قواعد الأحكام:۱/۴تا ۱۰،دیکھئے:ڈاکٹر جمال فقہ الدین عطیہ، اسلامی کی نظریہ سازی:دوسری فصل"شریعت کے مقاصد")

✍ *محمد صابرحسین ندوی*
[email protected]
8120412392
19/03/2018

Address

Doha

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dini Malumat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category