Words Bubble

Words Bubble this page is for sharing funny posts

*ایسی لڑکیاں جن کا نکاح ہو چکا ہو اور ان کے والدین مہنگائی کی وجہ ابھی رخصتی نہیں کر سکے، وہ یہ فارم فل کر کے اپنے ضلع ز...
29/04/2026

*ایسی لڑکیاں جن کا نکاح ہو چکا ہو اور ان کے والدین مہنگائی کی وجہ ابھی رخصتی نہیں کر سکے، وہ یہ فارم فل کر کے اپنے ضلع زکوۃ دفتر میں جمع کروائیں اور گورنمنٹ کی طرف سے 10 سے 12 دنوں میں اہل ہونے پر دو لاکھ کا چیک مل جائے گا اور اپنی ضروریات کا سامان لے سکے گے.۔CP
شیئر کیجئے پلیز

ان لائن تجوید کورس للبنين والبنات
15/04/2026

ان لائن تجوید کورس للبنين والبنات

افسوسناک خبر۔۔۔صوابی (پختونخوا) سے تعلق رکھنے والے ایک ذہین نوجوان  ڈاکٹر احمد لطیف جو چلڈرن ہسپتال لاہور میں خدمات انجا...
12/04/2026

افسوسناک خبر۔۔۔

صوابی (پختونخوا) سے تعلق رکھنے والے ایک ذہین نوجوان ڈاکٹر احمد لطیف جو چلڈرن ہسپتال لاہور میں خدمات انجام دے رہے تھے ،کے بارے میں اطلاع آئی ہے ۔کہ گاڑی میں ان کی لاش پڑی تھی
افسوسناک امر یہ ہے کہ ان کی نعش مبینہ طور پر چار دن تک ان کی اپنی گاڑی میں موجود رہی جو ہسپتال کی پارکنگ میں کھڑی تھی۔ اس واقعے نے ہسپتال انتظامیہ اور سسٹم کی کارکردگی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
پولیس معاملے کی تحقیقات کررہیں اور CDR تک رسائی کے بعد اہم معلومات مل سکیں گے۔
ان کے بارے ميں رہورٹ پڑھی تھی کہ پسند کی شادی تھی مگر ڈيڑھ سال بعد طلاق ھو گئی ۔ anti depressants medicine لے رھے تھے اوورڈوز سے ھوا ۔ امی کراچی گئی ھوئ تھيں اور پہلے بھی دو دو دن گھر نہين آتے تھے کال بھی نہيں کرتے تھے ۔ چار دن گزرنے پر ان کی امی کو تشویش ھوئ ۔ باقی اللہ کو پتا

30/03/2026

یہ صرف ایک فرد کی موت نہیں… یہ پورے نظامِ صحت پر ایک سوالیہ نشان ہے۔گاؤں حمزہ ڈھیر کا ایک سادہ اور بے گناہ مریض علاج کی امید لے کر شاہ منصور میڈیکل کمپلیکس پہنچا، مگر افسوس! وہاں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت اور غلط انجکشن کی وجہ سے وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ یہ محض ایک “غلطی” نہیں بلکہ انسانی جان کے ساتھ کھلا کھیل اور شدید لاپرواہی کی علامت ہے۔جب شفا دینے والے ادارے ہی موت کا سبب بن جائیں تو عوام کس پر اعتماد کریں؟ کیا غریب اور دیہاتی مریضوں کی زندگیاں اتنی بے وقعت ہو چکی ہیں؟ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ:شاہ منصور میڈیکل کمپلیکس میں پیش آنے والے اس واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیںذمہ دار ڈاکٹرز اور عملے کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائےمتاثرہ خاندان کو فوری انصاف اور مناسب معاوضہ فراہم کیا جائےیہ صرف ایک خاندان کا نقصان نہیں… یہ ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔اگر آج ہم خاموش رہے تو کل کسی اور “حمزہ ڈھیر” کا چراغ بھی اسی طرح بجھا دیا جائے گا۔آواز اٹھائیں… کیونکہ خاموشی ظلم کو مضبوط کرتی ہے، اور انصاف ہی معاشرے کو زندہ رکھتا ہے۔. District Police Swabi DPO Kurram DPO Shangla Khyber Pakhtunkhwa Police Shahram Khan Tarakai Asad Qaiser Malak Liaqat Ali Khan Usman Khan @

روس 🇷🇺 کا شرحِ پیدائش بڑھانے کا ایک انوکھا اور چونکا دینے والا طریقہ کارجاپان اور مغربی یورپ کے کئی ممالک کی طرح روس بھی...
30/12/2025

روس 🇷🇺 کا شرحِ پیدائش بڑھانے کا ایک انوکھا اور چونکا دینے والا طریقہ کار

جاپان اور مغربی یورپ کے کئی ممالک کی طرح روس بھی آج کل آبادی میں خطرناک حد تک کمی کے مسئلے سے دوچار ہے۔ شرحِ پیدائش مسلسل نیچے جا رہی ہے، نوجوان آبادی سکڑ رہی ہے اور مستقبل کا سماجی و معاشی ڈھانچہ شدید دباؤ میں ہے۔ اس پر مستزاد یوکرین کے ساتھ حالیہ جنگ نے روسی آبادی کو ایسا ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے جس کے اثرات آنے والی کئی دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

اسی سنگین صورتحال کے پیشِ نظر روسی حکومت عرصے سے مختلف حکمتِ عملیاں آزما رہی ہے۔ زیادہ بچے پیدا کرنے والے خاندانوں کو سرکاری خزانے سے وظائف دینا، مالی مراعات، سہولیات اور مراعاتی پیکجز اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ مگر ان تمام کوششوں کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے، جس کے بعد اب حکومت ایسے طریقوں پر غور کر رہی ہے جو بظاہر غیر معمولی بلکہ کچھ لوگوں کے نزدیک مضحکہ خیز بھی لگ سکتے ہیں۔

حالیہ اطلاعات کے مطابق روسی حکومت ایک ایسے منصوبے پر غور کر رہی ہے جس کے تحت ملک کے بعض حصوں میں رات دس بجے سے صبح دو بجے تک بجلی اور انٹرنیٹ کی فراہمی معطل کر دی جائے۔ مقصد یہ بتایا جا رہا ہے کہ لوگ انٹرنیٹ، موبائل فون اور ٹیلی ویژن جیسی مصروفیات سے ہٹ کر ایک دوسرے پر توجہ دیں، گھریلو زندگی کو وقت دیں اور وہ سرگرمیاں اختیار کریں جو فطری طور پر خاندانی نظام کے فروغ کا سبب بنتی ہیں۔
اس اسکیم کا ایک دلچسپ اور قدرے طنزیہ پہلو بھی ہے۔ روس دنیا کے سرد ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے، اور ان اوقات میں بجلی کی بندش کا مطلب یہ ہوگا کہ ہیٹنگ سسٹمز بھی کام نہیں کریں گے۔ شدید سردی میں، جب گھروں کے اندر درجہ حرارت ناقابلِ برداشت ہو جائے، تو لوگوں کے پاس گرم رہنے کے لیے محدود ہی راستے بچتے ہیں… اگر آپ میری بات سمجھ رہے ہوں۔

اگرچہ یہ منصوبہ تاحال صرف زیرِ غور ہے اور عملی طور پر نافذ نہیں کیا گیا، لیکن اس کا سامنے آنا ہی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ روس آبادی میں کمی کے مسئلے کو کس قدر سنجیدہ اور خطرناک بحران سمجھ رہا ہے۔ یہ ایک ایسا بحران ہے جس سے نمٹنے کے لیے ریاست ہر ممکن راستہ آزمانے پر آمادہ نظر آتی ہے، چاہے وہ راستہ دنیا کو کتنا ہی عجیب، غیر روایتی یا مضحکہ خیز کیوں نہ محسوس ہو۔

یہ کہانی دراصل ایک ملک کی آبادیاتی بے چینی، مستقبل کے خوف اور وجودی جدوجہد کی عکاس ہے—جہاں سوال صرف بجلی اور انٹرنیٹ کا نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے وجود کا ہے۔

یہ دکان سال 2006 میں عمان کے ایک انڈسٹریل ایریا میں بنی۔ جس وقت یہاں پورے روڑ پر اس کام کی صرف چار دکانیں تھیں۔ اس وقت ک...
01/09/2025

یہ دکان سال 2006 میں عمان کے ایک انڈسٹریل ایریا میں بنی۔ جس وقت یہاں پورے روڑ پر اس کام کی صرف چار دکانیں تھیں۔ اس وقت کہا جاتا تھا ایکسل ریپئر کی دکان کسی ٹوئے (کھڈے) میں بھی کھل جائے تو کسٹمر آئے گا۔ سال 2009 تک اس دکان پر اتنا گاہک ہو چکا تھا کہ چار پانچ گاڑیاں انتظار میں کھڑی ہوتی تھیں۔ لوگ چابیاں دے کر کام بتا کر گھر چلے جاتے تھے کہ جب کام ہوگیا تو بتانا۔ اور مزدوری بھی منہ مانگی یعنی اتنی کہ اچھا اور معیاری کام کرنے کو دل کرے۔ سال 2012 تک یعنی چھ سالوں میں اسی کام کی دکانی کی تعداد ڈبل ہوگئی۔ اور کام سب میں بٹنے لگا تو آدھا رہ گیا۔ اگلے تین چار سال میں ریٹس بھی بہت کم ہوگئے اور دکانیں بڑھنے سے گاہک بھی کم ہوگئے۔

سال 2016 میں استاد نے دکان بیچنا چاہی تو شاگرد نے خرید لی۔ استاد واپس پاکستان چلا گیا۔ اسکے پاس ان دس سالوں میں کمایا ہوا پچاس ساٹھ ہزار عمانی ریال موجود تھا۔ آج کے لگ بھگ چار کروڑ پاکستانی روپے۔

شاگرد آج بھی اس دکان کو چلا رہا ہے۔ استاد کے پاس اسکی تنخواہ دو سو ریال تھی۔ جب دکاندار بنا تو سارے اخراجات نکال کر چار پانچ سو ریال بچنے لگا۔ جو یقینا بہت اچھی آمدن تھی۔ کہ اپنے کام کا وہ خود مالک بن گیا۔ شاگرد کو دکان خریدے نو سال ہوچکے ہیں۔ آمدن آج بھی وہی ہے۔ نہ بڑھی نہ کم ہوئی۔ چار پانچ سو ریال اخراجات کرنے کے بعد صافی بچ جاتا ہے۔

استاد کئی کاموں کے تجربے کرکے اپنے سارے پیسے خرچ کرکے پھر اسی روڑ پر آکر اپنی دکان پچھلے سال بنا چکا ہے۔ اور جس بندے کی ماہانہ آمدن دو ہزار ریال تک تھی۔ آج اپنے شاگرد کے برابر چار پانچ سو ریال میں خود سارا کام اپنے ہاتھوں سے کرکے کما رہا ہے۔ دونوں ہی ایک کاریگر رکھنا افورڈ نہیں کر سکتے کہ اتنا کام ہی نہیں ہے۔ جب چھٹی جاتے ہیں دکان بند کرکے جاتے ہیں۔

جس شاگرد کی بات کر رہا ہوں۔ وہ میرا دوست بن گیا ہے۔ کل شام ہم بیٹھے تھے تو اس نے ساری کہانی سنائی۔ اور پوچھا کہ یار ایسا کیوں ہوتا ہے کہ دس پندرہ سال بعد ہم پاکستانیوں کے کاروبار بتدریج کم ہوتے ہوئے ختم ہوجاتے ہیں۔ پاکستان ہو یا گلف ممالک ہماری گروتھ ہونا تو دور گراوٹ کی طرف جانا شروع ہو جاتے ہیں۔ کیا وقت گزرنے کے ساتھ ہمیں کام بدل لینا چاہئیے، لوکیشن بدل لینی چاہئیے، یا کیا ایسا کرنا چاہئیے کہ ہمیں ایسا نہ لگے جیسا کام پچھلے سالوں میں تھا اب ویسا کام نہیں رہا۔ ظاہر ہے ہر کام میں وقت کے ساتھ مقابلہ بڑھ جاتا ہے۔ اس مقابلے کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں کیا ایسا کرنا چاہئیے کہ وقت کی مار ہمیں مات نہ دے سکے۔ جو وہ کر سکتا تھا اپنے کام سے متعلقہ پارٹس بھی رکھے مگر گاہک کی مرضی ہو تو ہی وہاں سے سامان خریدتا ہے۔ ورنہ اپنی مرضی کی دکان سے سامان لاکر کاریگر کو بس مزدوری دے کر کام کرواتا ہے۔ یعنی پارٹس رکھنا نہ رکھنا کوئی خاص فرق نہیں ڈال سکا۔

اس کے سوالوں کا کوئی جواب میرے پاس نہیں تھا۔ یہاں لکھا ہے۔ شاید اس کا کوئی جواب مل سکے۔ اور نہ صرف وہ بلکہ کئی اور دوستوں کو بھی کوئی راہ مل سکے۔ جنکے کام اب نہ صرف گروتھ میں رک چکے ہیں بلکہ مسلسل ڈاؤن ہو رہے ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اور اس کا حل کیا ہے؟

پوسٹ کو شیئر کریں
اچھی اچھی پوسٹ کیلئے پیج کو لائیک اور فالو کریں شکریہ

27/08/2025

Address

Doha

Telephone

+923305898671

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Words Bubble posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category