kull کُل: آرٹ کا شعور، ادب کی چاشنی اور ثقافت کے رنگ

17/06/2026

🌹 جُھمر پَل ݙو پَل دی🌹
گیت لکھاری:- غلام عباس سیفی
پیشکش:َ کُل سٹوڈیوز (پُرتگال)

14/06/2026

نیا مکمل ورژن
وے بیلیا،
گیت لکھاری:- پروفیسر اظہر کلیاݨی
پیشکش:َ کل سٹوڈیوز (پُرتگال)

11/06/2026

🌹سرائیکی فوک گیت🌹
واہ وے ڈھولا واہ وے ڈھولا
ترتیب وپشکش:کل سٹوڈیو (پرتگال)

09/06/2026

وے ٻیلیا وے ٻیلیا (سرائیکی فوک)
شاعر :- پروفیسر اظہر کلیاݨی
ایڈیٹنگ ،میوزک، و لیرکس ترتیب؛:- کُل پروڈکشن

08/06/2026

سرور کوں تیڈے شہر دو ول بھیج ڈیویجے..

ایک 'صاحب ثروت ' نے جب گاڑی میں بیٹھے بیٹھے  تمسخر سے کہا 'دس روپے کا تو بجا دیں یہ ڈھول!' تو ایسا لگا جیسے صدیوں تکبر ب...
05/06/2026

ایک 'صاحب ثروت ' نے جب گاڑی میں بیٹھے بیٹھے تمسخر سے کہا 'دس روپے کا تو بجا دیں یہ ڈھول!' تو ایسا لگا جیسے صدیوں تکبر بول رہا ہو۔۔ محسوس ہوا کہ یہ وہ طبقہ ہے جو دولت کے نشے میں چور غریب کی محنت اور وقار کو ایک بازاری شے سمجھ کر خریدنا چاہتا ہے۔ سڑک کے کنارے چلتا ہوا یہ ڈھول والا اس معاشرے کا وہ آئینہ تھا جسے ہم دیکھنا نہیں چاہتے۔

لیکن اس ڈھول والے نے کیا خوب جواب دیا۔ وہ جواب دیا جو کسی بھی فلسفی کی کتاب میں درج ہونے کے قابل ہے۔ 'نہیں بھائی، پڑوس میں فوتگی ہوئی ہے، میں نہیں بجا سکتا' بس۔ اتنا ہی۔ یہ نوجوان غصہ ہوا اور نہ ہی کوئی شکوہ کیا۔

سماجیات میں اسے symbolic violence کہتے ہیں یعنی تشدد کی وہ قسم جس میں کسی کو مارنے کی بجائے توڑا جاتا ہے۔ طاقتور طبقہ ہمیشہ اپنی برتری کو اس طرح ظاہر کرتا ہے کہ کمزور خود کو چھوٹا محسوس کرنے لگے۔ اس شخص نے بھی کچھ یہی کیا لیکن اسے نہیں معلوم تھا کہ جس انسان کے سامنے وہ یہ کھیل کھیل رہا ہے وہ اس کھیل کا حصہ بننے سے انکاری ہے۔

پشتو کے معروف شاعر ممتاز اورکزئی کا ایک شعر ہے:

زه کـــــله د تذليل په انتها کښې خنديدی شم
زه دومــــــــــــره حوصله نه لرم ياره لکه ډم
ترجمہ:
میں کیسے تذلیل کی انتہاء پر پہنچ کر مسکرا سکتا ہوں؟ مجھ میں اتنا حوصلہ نہیں ہے جتنا کہ ایک فنکار(ڈم) میں ہوتا ہے۔

اس شعر میں ایک منظر کی عکاسی ہے۔ جب انسان پر ذلت کی انتہا ہو جائے، جب اس کے ہاتھ سے وہ سب کچھ چھین لیا جائے جو اس کی پہچان تھی اور پھر بھی اسے مسکرانے پر مجبور کیا جائے تو سوچیں وہ کیا کرے گا؟ اس شعر سے متعلق ایک وٹس ایپ گروپ میں بحث چل رہی تھی تو تشریح بڑی شاندار معلوم ہوئی۔

شاعر نے یہاں ڈم کا لفظ استعمال کیا ہے یعنی وہ روایتی پشتون موسیقار یا فنکار جو ڈھول بجا کر اپنی زندگی گزارتا ہے یا جس کا پورا وجود اس کے فن سے جڑا ہے۔ گروپ میں ایک صاحب بتا رہے تھے کہ جب افغانستان میں تالیبان کی حکومت آئی تو ان فنکاروں کے ساز و سرود کا سامان توڑا گیا۔ ان کی روزی چھینی گئی اور پھر اسلحے کے سائے میں انہیں مسکرانے کا حکم دیا گیا۔ یہ ذلت کی وہ انتہا تھی جس کا تصور بھی محال ہے۔ اس مخصوص شعر کا پس منظر بھی اسی طرح کی ایک ویڈیو ہے جس میں کچھ اسی طرح کا حکم دیا جا رہا ہوتا ہے۔ ویڈیو اب تک نہیں ملی تاہم اگر مل گئی تو شئیر کر دوں گا۔

شاعر اپنے آپ کو اس آزمائش کے سامنے بے بس پا کر کہتا ہے 'میرے اندر وہ طاقت نہیں کہ اپنی تذلیل کی انتہا پر بھی ہنس سکوں۔ یہاں طنز کی گہرائی یہ ہے کہ ڈم کو اس حوصلے پر داد نہیں دی جا رہی بلکہ اس کی بے بسی بتائی جا رہی ہے۔ یعنی یوں سمجھیے کہ سب کچھ چھن جانے کے بعد مسکرانے یا ہنسنے کا حکم ماننا جبر کے سامنے زندگی بچانے کی آخری کوشش تھی۔

پشتو شاعری کا یہ خاصہ رہا ہے کہ یہاں ظلم کو براہ راست نہیں بیان کیا جاتا بلکہ ایک چھوٹی سی علامت میں پوری تاریخ سمو دی جاتی ہے۔

اس ویڈیو میں اگرچہ اس قدر تذلیل نہیں کی گئی تھی لیکن ایک طرح سے اگر سوچا جائے تو تضحیک کی گئی تھی۔ سماجیات ہمیں بتاتی ہے کہ کسی بھی معاشرے کی اخلاقی بنیاد اس کے محروم طبقے کے عمل میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جس شخص کا چولہا اسی ڈھول کی تھاپ سے جلتا ہو، جس کے بچوں کا کل اسی دن کی کمائی پر موقوف ہو، اس نے چند سکوں کے عوض اپنے غمزدہ پڑوسی کا احترام بیچنے سے انکار کر دیا۔ اس نے بھوک قبول کی لیکن انسانیت کا سودا نہ کیا۔ یہ وہ رویہ ہے جو تنگدستی کی بھٹی میں تپ کر کندن بنتا ہے۔

ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے دولت کو وقار کا پیمانہ بنا لیا ہے۔ ہم اس شخص کے سامنے جھکتے ہیں جس کی جیب بھاری ہو اور اس شخص کو نظرانداز کرتے ہیں جس کا ضمیر وزنی ہو۔ ہم نے طے کر لیا ہے کہ عزت خریدی جاتی ہے حالانکہ اس ڈھول والے نے ثابت کیا کہ عزت بکتی نہیں۔

جو لوگ سماج کے حاشیے پر کھڑے ہیں۔۔۔ یہ مزدور، یہ دستکار، یہ محنت کش۔۔۔ یہ سارے دراصل اس معاشرے کی وہ ریڑھ کی ہڈی ہیں جسے ہم دیکھ کر بھی نہیں دیکھتے۔

کبھی سوچا ہے؟ سڑکوں پر چلتے ہوئے ہم کتنے لوگوں کو دیکھتے ہیں اور کتنوں کو محسوس کرتے ہیں؟ حقیقت ہے کہ ہم دیکھتے بہت ہیں لیکن محسوس بہت کم کرتے ہیں اور یہی بے حسی ہمیں اس مقام پر لے آئی ہے جہاں ایک غریب ڈھول والے کا جواب ہمیں چونکاتا ہے۔۔۔ حیران کرتا ہے۔۔۔ شرمندہ کرتا ہے۔

ادیب یوسفزئی

04/06/2026

سونا سرکار کا کیسے ہوا؟.. 😊

31/05/2026

سِر تیں وچھوڑے تار ہِن
کافی:- حمید راول
موسیقی ترتیب:- کُل پروڈکشن
ایڈیٹنگ:- کُل پروڈکشن

31/05/2026

آئیےاس میلے کچیلے لباس والے بزرگ سے خودداری کا سبق سیکھتے ہیں جس کا باطن شاید ہم سب سے کہیں زیادہ روشن صاف اور اجلا ہے... ❤️🌹❤️

30/05/2026

کیویں ساکوں یاد نہ رہسی
کلام رفعت عباس
❤️🌹🌹🌹❤️

Endereço

Basti Buzdar
Castelo Branco
32200

Website

Notificações

Seja o primeiro a receber as novidades e deixe-nos enviar-lhe um email quando kull publica notícias e promoções. O seu endereço de email não será utilizado para qualquer outro propósito, e pode cancelar a subscrição a qualquer momento.

Compartilhar