01/01/2026
پہاڑ — زمین کے کیل؟ سائنسی حقیقت
قرآن مجید نے پہاڑوں کو محض زمین کی خوبصورتی یا قدرتی ساخت قرار نہیں دیا بلکہ ایک نہایت گہری سائنسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَأَلْقَىٰ فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ﴾
(سورۃ النحل: 15)
ترجمہ: “اور اس نے زمین میں پہاڑ گاڑ دیے تاکہ وہ تمہیں لے کر ہلنے نہ لگے۔”
آج جدید جیولوجی بتاتی ہے کہ پہاڑ صرف اوپر نظر آنے والی چٹانیں نہیں بلکہ ان کی جڑیں زمین کے اندر بہت گہرائی تک پھیلی ہوتی ہیں، جنہیں Mountain Roots کہا جاتا ہے۔ یہ جڑیں زمین کی پلیٹوں کو استحکام فراہم کرتی ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے خیمے کو کیلیں مضبوطی دیتی ہیں۔
سائنس کے مطابق اگر پہاڑ موجود نہ ہوں تو زمین کی ٹیکٹونک پلیٹس شدید غیر مستحکم ہو جائیں، جس کے نتیجے میں زلزلے اور زمین کی شدید ہلچل معمول بن جائے۔
یہی بات قرآن نے 1400 سال پہلے نہایت سادہ مگر بامعنی انداز میں بیان کر دی۔
یہ تصور کہ “پہاڑ زمین کے کیل ہیں” کوئی شاعرانہ تشبیہ نہیں بلکہ ایک ٹھوس سائنسی حقیقت ہے، جسے جدید تحقیق نے ثابت کیا۔
یہ قرآن کا وہ اعجاز ہے جو انسان کو غور و فکر پر مجبور کرتا ہے۔
#پہاڑ #ارضیات