24/05/2024
تمہارے ہونٹوں کی جُنبشوں میں
جو نام میرا چھُپا ہُوا ہے
پھسل کے آنکھوں سے ایک آنسو
تمہارے گالوں پے آ گِرا ہے
تمہارے لہجے میں جانے کتنے
ہیں زخم اب تک جو ان کہے ہیں
خاموشیوں کے یہ کُفل کب سے
تمہاری باتوں پے جو لگے ہیں
نہ توڑ پاو گے تم اگر تو
زباں محبت کی اور بھی ہے
چھُپا رہے ہو جو بات دل کی
یہ دل دھڑک کر وہ کہہ رہا ہے ...
کہ آو اپنے وجود کو ہم
یوں بانٹ لیتے ہیں آدھا آدھا
ٹمہاری سانسوں سے بس جُڑا ہو
ہماری سانسوں کا ایک دھاگہ
یہی مقدر ہے چاہتوں کا
اے ہمنشیں تم بھی جانتے ہو
وہ اِک ادھُورا سا عشق تھا جو
ہمیں ادھُورا سا کر گیا ہے. ۔۔۔
ہماری قسمت کے تانے بانے
ہتھیلیوں پر جو بُن رہے ہو
جُدائی والے وہ سارے لمحے
تُم ان لکیروں سے چُن رہے ہو
تم اپنی آنکھوں میں درد بھر کے
زمانے بھر سے یہ پُوچھتے ہو
کوئی بتائے مجھے خدایا ،،،
یہ پیار ہے یا کہ پھر سزا ہے ؟
کہ جب سے احرامِ ہجر باندھا ہے
ہم مُسلسل طواف میں ہیں
تمہارے سنگ تھیں جو ساری یادیں
وہ اب غموں کے غِلاف میں ہیں
یہ دل پڑھے وصل کی جو آیت
تو تیرے چہرے کی ہو تلاوت
یہی عقیدت کا ہے تقاضہ ،،،،
کہ تیرے قدموں میں سر جھُکا ہے
ملی ہے اذنِ جدائی ہمکو
کہ ہم پے لازم ہے اب بچھڑنا
تمہیں قسم ہے کہ مُسکرا کر
ادا محبت کا فرض کرنا ،،،،
یُوں فاصلوں پر بھی رہ کے جاناں
تم رسمِ اُلفت کی لاج رکھنا ،،،،
چلا گیا ہے جو چھوڑ کر وہ
نہ سوچنا تُم کہ بیوفا ہے ۔۔۔۔۔
سائرہ راحیل خان۔