Beyond Book

Beyond Book Discovered Nature Health And Beauty

12/10/2025
09/10/2025
29/09/2025

Resting place of my dear brother Dr Amjad Iqbal.

زینو کا فلسفہ: فطرت کے ساتھ ہم آہنگیآپ نے ایک بہت اہم فلسفیانہ قول کا ذکر کیا ہے جو کہ سائپرس کے شہر Citium سے تعلق رکھن...
13/01/2025

زینو کا فلسفہ: فطرت کے ساتھ ہم آہنگی
آپ نے ایک بہت اہم فلسفیانہ قول کا ذکر کیا ہے جو کہ سائپرس کے شہر Citium سے تعلق رکھنے والے فلسفی زینو کا ہے۔
زینو کا یہ بیان دراصل اس کے اس فلسفے کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں وہ فطرت کو ایک ایسی حقیقت کے طور پر دیکھتے ہیں جس کے ساتھ انسان کو ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ ان کے خیال میں انسان کی خوشی اور سکون اسی میں پوشیدہ ہے کہ وہ فطرت کے قوانین اور اصولوں کے مطابق اپنی زندگی گزارے۔
اس قول کی تفصیل:
* فطرت ایک حقیقت: زینو کے مطابق فطرت ایک ایسی حقیقت ہے جو ہمارے کنٹرول سے باہر ہے لیکن ہم اس کے ساتھ تعامل کر سکتے ہیں۔
* انسانی فطرت: زینو انسان کی فطرت کو بھی فطرت کا ایک حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کے خیال میں انسان کی فطرت میں بھی وہی خواہشات اور رجحانات پائے جاتے ہیں جو فطرت میں پائے جاتے ہیں۔
* ہم آہنگی: زینو کا کہنا ہے کہ انسان کو اپنی فطری خواہشات کو دباتے ہوئے مصنوعی اور غیر فطری زندگی گزارنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے بلکہ اسے فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہیے۔
* خوشحالی: زینو کے مطابق جب انسان فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتا ہے تو وہ خوشحال اور مطمئن زندگی گزارتا ہے۔
زینو کے اس فلسفے کی اہمیت:
* موجودہ دور: آج کے دور میں جب انسان فطرت سے دور ہوتا جا رہا ہے، زینو کا یہ فلسفہ ہماری توجہ فطرت کی طرف مبذول کراتا ہے۔
* ماحولیاتی مسائل: ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے زینو کا فلسفہ ایک اہم رہنما اصول ثابت ہو سکتا ہے۔
* ذاتی خوشی: ذاتی خوشی اور سکون کے حصول کے لیے بھی زینو کا فلسفہ مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
خلاصہ:
زینو کا فلسفہ انسان کو فطرت کے ساتھ گہرا تعلق جوڑنے کا درس دیتا ہے۔ ان کے مطابق انسان کی خوشی اور سکون اسی میں پوشیدہ ہے کہ وہ فطرت کے قوانین کے مطابق اپنی زندگی گزارے۔

2025 میں خود کی عزت کرنے کے اصول1. ان لوگوں کو تلاش کرنا چھوڑ دیں جو آپ کو تلاش نہیں کر رہے۔اپنی توانائی اور توجہ کی قدر...
30/12/2024

2025 میں خود کی عزت کرنے کے اصول

1. ان لوگوں کو تلاش کرنا چھوڑ دیں جو آپ کو تلاش نہیں کر رہے۔
اپنی توانائی اور توجہ کی قدر کریں۔

2. منت سماجت بند کریں۔
اپنی عزت نفس اور وقار کو قائم رکھیں۔

3. صرف وہی بات کریں جو ضروری ہو۔
بلاوجہ وضاحت یا زیادہ بات سے پرہیز کریں۔

4. بدتمیزی کا فوراً جواب دیں۔
اسے نظرانداز نہ کریں؛ عزت کے ساتھ اور مضبوطی سے سامنا کریں۔

5. دوسروں کی سخاوت کا زیادہ فائدہ نہ اٹھائیں۔
لین دین میں توازن رکھیں۔

6. ان لوگوں کے پاس کم جائیں جو آپ کے پاس نہیں آتے۔
تعلقات میں دوسروں کے رویے کے مطابق برتاؤ کریں۔

7. اپنے آپ پر سرمایہ کاری کریں۔
اپنی خوشی اور ترقی کو ترجیح دیں۔

8. چغلی اور غیبت سے بچیں۔
مثبت سوچیں اور اپنی شخصیت کی تعمیر پر توجہ دیں۔

9. بولنے سے پہلے سوچیں۔
آپ کے الفاظ دوسروں کے سامنے آپ کی پہچان بناتے ہیں۔

10. ہمیشہ اچھے دکھائی دیں۔
اعتماد کے ساتھ اپنا لباس اور انداز پیش کریں۔

11. اپنے مقاصد پر کام کریں۔
کامیابیاں آپ کی خود کی عزت میں اضافہ کرتی ہیں۔

12. اپنے وقت کی عزت کریں۔
اسے قیمتی سمجھیں اور دوسروں سے بھی یہی توقع رکھیں۔

13. بدتمیز تعلقات سے دور ہو جائیں۔
خود کو اتنا اہم سمجھیں کہ زہریلے ماحول سے نکل سکیں۔

14. اپنے اوپر خرچ کریں۔
دوسروں کو دکھائیں کہ خود کی دیکھ بھال آپ کے لیے اہم ہے۔

15. کم دستیاب رہیں۔
اپنی موجودگی کو قیمتی بنائیں۔

16. دوسروں کو خود سے زیادہ دیں۔
سخاوت آپ کی شخصیت کو مزید قابل احترام بناتی ہے۔

میرا دل کرتا ہے تمہیں دل سے معاف کردوں اور تم سے کہوں آجاؤ!!! پھر سے خوابوں کے ملبے سے پرانی محبت ڈھونڈ نکالتے ہیں پھر س...
20/12/2024

میرا دل کرتا ہے تمہیں دل سے معاف کردوں اور تم سے کہوں آجاؤ!!! پھر سے خوابوں کے ملبے سے پرانی محبت ڈھونڈ نکالتے ہیں پھر سے ایک دوسرے سے وعدہِ وفا کرتے ہیں. تم پھر سے اپنے کشادہ سینے پر میرا سر رکھ دو ایک بار پھر سے تم لمبی کال کرو اور میں کال پر ہی سو جاوں.اور تم کال جاری رکھو پھر جب میری آنکھ کھلے تو تم اپنی دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہو سو جاو، میں جاگ رہا ہوں... اور میں تم پر ایک خوبصورت مان جتاؤں. سنو، تم پھر سے گفتگو کرو نا... یقین کرو میرے قہقہے پھر سے جنم لیں گے، پھر سے آواز کھنکھنائے گی... میرا جی چاہتا ہے سب پہلے جیسا ہو جائے، تم میں اور ہماری محبت . اور محبت کے سب حسین لمحے پھر سے تازہ ہوجائیں

پھر یوں ہوا کے ساتھ تیرا چھوڑنا پڑا ثابت ہوا کے لازم و ملزوم کچھ نہیں پھر یوں ہوا کہ راستے یکجا نہیں رہے وہ بھی انا پرست...
11/12/2024

پھر یوں ہوا کے ساتھ تیرا چھوڑنا پڑا
ثابت ہوا کے لازم و ملزوم کچھ نہیں

پھر یوں ہوا کہ راستے یکجا نہیں رہے
وہ بھی انا پرست تھا میں بھی انا پرست

پھر یوں ہوا کہ ہاتھ سے کشکول گر گیا
خیرات لے کے مجھ سے چلا تک نہیں گیا

ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﻟﺬّﺕ ﺑﮭﯽ ﭼﮭﻦ ﮔﺌﯽ
ﺍﮎ ﺷﺨﺺ ﻣﻮﻡ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺘﮭﺮ ﺑﻨﺎ ﮔﯿﺎ

پھر یوں ہوا کہ لب سے ہنسی چھین لی گئی
پھر یوں ہوا کہ ہنسنے کی عادت نہیں رہی

پهر یوں ہوا کہ، زخم نے جاگیر بنا لی
پهر یوں ہوا کہ، درد مجھے راس آ گیا

پھر یوں ہوا کہ، وقت کے تیور بدل گئے
پھر یوں ہوا کہ راستے یکسر بدل گئے

پھر یوں ہوا کہ حشر کے سامان ہوگئے
پھر یوں ہوا کہ شہر بیابان ہوگئے

پھر یوں ہوا کہ صبر کی انگلی پکڑ کے ہم
اتنا چلے کہ راستے حیران ہوگئے.

28/11/2024

جمال احسانی کے 100 اشعار

اپنے نام کی طرح منفرد لب و لہجہ کے شاعر جمال احسانی ان شاعروں میں سے ہیں جو شاید میڈیا پر تو اتنے مشہور نہیں ہوئے مگر اپنی عمدہ شاعری کی بدولت ہمیشہ قارئین کے ذہنوں پر راج کریں گے۔ان کا شعری سفر تین مجموعوں پر مشتمل ہے جبکہ ۲۰۰۸ء میں ان کی کلیات بھی شائع ہو چکی ہے۔

تیری یاد اور تیرے دھیان میں گزری ہے
ساری زندگی ایک مکان میں گزری ہے

اُس رستے میں پیچھے سے اتنی آوزیں آئیں جمال
ایک جگہ تو گھوم کے رہ گئی ایڑی سیدھے پاوں کی

یاد کرنے کے سِوا اب کر بھی کیا سکتے ہیں ہم
بھول جانے میں تجھے ناکام ہو جانے کے بعد

کوئی ہو بھی ذرا چاہنے والا تیرا
راہ چلتوں سے رقابت نہیں کی جا سکتی

ہر رنگ جنوں بھرنے والو شب بیداری کرنے والو
ہے عشق وہ مزدوری جس میں محنت بھی وصول نہیں ہوتی

جو آسماں پہ ستارے دکھائی دیتے ہیں
یہ سارے پھول ہیں تیرے یہ زخم سب میرے

کمال اس نے کیا اور میں نے حد کر دی
کہ خود بدل گیا اس کی نظر بدلنے تک

وہ جس منڈیر پہ چھوڑ آیا اپنی آنکھیں میں
چراغ ہوتا تو لو بھول کر چلا جاتا

اک تیرے تغافل کو خدا رکھے وگرنہ
دنیا میں خسارے ہی خسارے ہیں کم و بیش

کتنی گنجائشیں اس آنکھ نے رکھی ہیں جمال
ہجر کی آس میں بھی وصل کے امکان میں بھی

اس کی نظر بدلنے سے پہلے کی بات ہے
میں آسمان پر تھا ستارہ زمین پر

عجب ہے تو کہ تجھے ہجر بھی گراں گزرا
اور ایک ہم کہ ترا وصل بھی گوارہ کیا

جہانِ اجر و سزا میں بجز دل آزاری
میں سوچتا نہیں کوئی گناہ کرتے ہوئے

گزشتہ عشق کے ہر دکھ سے ماسوا ہے یہ دکھ
تجھے بھلا دیا میں نے یہ کیا کیا میں نے

پوچھا تھا چارہ ساز نے عمر مرض ہے کیا
تیماردار بولے کہ بچپن سے عشق ہے

اس کائناتِ خواہش و امکاں کے اس طرف
ایک منظر ہے اور وہ منظر خراب ہے

جھوٹوں کے بہت کار محبت میں مزے ہیں
میں سچ ہوں جبھی مجھ کو رعایت نہیں ملتی

ہر عہدہ ہوا پیش مگر عشق میں ہم نے
جز دربدری کوئی بھی منصب نہیں رکھا

نہ میں ہی کھلتا ہوں تجھ پر نہ تو عیاں مجھ پر
ترے سوا ترے اقرار سے ادھر کیا ہے

ذرا اس کرب کا اندازہ کیجئے
میں اپنے آپ کو پہچانتا ہوں

بڑھا کے اس سے رہ و رسم اب یہ سوچتے ہیں
وہی بہت تھا جو رشتہ دعا سلام کا تھا

مچل گیا تھا یہ دل دیکھ کر اسے سر راہ
سو میں بھی آگیا ہوں باتوں میں اس کمینے کی

ہزار طرح کے تھے رنج پچھلے موسم میں
پر اتنا تھا کہ کوئی ساتھ رونے والا تھا

ترا فراق تو رزقِ حلال ہے مجھ کو
یہ پھل پرائے شجر سے اتارا تھوڑی ہے

رخصت ہوا ہے دل سے تمہارا خیال بھی
اس گھر سے آج آخری مہمان بھی گیا

سچا اگر ہو عشق تو رہتی ہے ساتھ ساتھ
اک فکر ہجر و وصل کے آزار سے الگ

میری آنکھیں ہیں اور دیوں کی قطار
تیرا وعدہ ہے اور لمبی رات

یہ اب کھلا ہے کہ ان میں میرے نصیب کی دوریاں چپھی تھیں
میں اس کے ہاتھوں کی جن لکیروں کو مدتوں چومتا رہا ہوں

ترتیب دینا ہوں گی پھر اپنی صفیں مجھے
دشمن سے جا ملا جو نمائندہ تھا میرا

میں کیا مرے ہجر و وصل کیا ہیں
اس شخص کا ہی دیا ہے سب کچھ

دشت سے گزرا تو دریا پر کُھلا
کوئی دریا سے بھی بڑھ کر اور ہے

اس کے ملنے ہی سے پہلے دل میں کیوں
اس کے کھو جانے کا ڈر موجود ہے

رقیبوں پر عنایت بر سربزم
بہت خاطر ہماری ہو رہی ہے

جو عشق کرتا ہے چلتی ہوا سے لڑتا ہے
یہ جھگڑا صرف ہمارا تمہارا تھوڑی ہے

خوش وہ ہے جس کے واسطے دنیا سراب ہے
اس کی خوشی بھی کیا جو میسر سے خوش ہوا

کچھ اور وسعتیں درکار ہیں محبت کو
وصال و ہجر پہ دارومدار مشکل ہے

میرے ہم مکتبوں کو علم نہیں
وصل اک مشق ہے جدائی کی

تنہائی سی تنہائی تھی دریا کے کنارے
اس رات میرا عکس بھی پانی میں نہیں تھا

سارے مریض اپنا مرض بھولنے لگے
اس کے حنائی ہاتھوں میں گلدستہ دیکھ کر

ان دنوں عشق سے معطل ہوں
نصف تنخواہ پر گزارہ ہے

دوچار قدم دور تھا دیدار سے تیرے
جس وقت کہ کنڈی تیرے درباں نے لگائی

کسی کے عشق سے کوئی سبق نہیں لیتا
یہ آگ وہ ہے کہ سب اس میں جل کے دیکھتے ہیں

دنیا پسند آنے لگی دل کو اب بہت
سمجھو کہ اب یہ باغ بھی مرجھانے والا ہے

وہ رویا تھا کہ ایام عزا میں رونا نعمت ہے
کوئی میرے بچھڑ جانے کا تھوڑی غم کیا اس نے

جس انا پر ہے تجھے اتنا گھمنڈ
وہ تو تجھ سے بھی بڑی ہے مجھ میں

یہ کائنات ورنہ کبھی کی تمام تھی
دو چار لوگ تھے کہ جنہوں نے بنائی بات

اس کے نزدیک پہنچ کر مجھے معلوم ہوا
وہ کسی دوسرے دریا کا کنارہ تھا کوئی

ایک بس تیرے نہ ہونے سے جہانِ خاک میں
بے پناہ افسردگی ہے بے کنار افسوس ہے

پانی نہیں دینا مرے یادوں کے شجر کو
یہ کام مرے بھولنے والے نہیں کرنا

بچھڑتے وقت ڈھلکتا نہ گر ان آنکھوں سے
اس ایک اشک کا کیا کیا ملال رہ جاتا

کشتی سے یہ کس کا عکس اتر آیا
ماہی گیر کے ہاتھوں میں پتوار جلے

آنسو بہتے ہیں اور دل یہ سوچ کے ڈرتا ہے
آنکھ کہیں کوئی بات نہ کہہ دے اس روانی میں

جتنے چہرے ہیں وہ مٹی کے بنائے ہوئے ہیں
جتنی آنکھیں ہیں وہ پانی کے سوا کچھ بھی نہیں

بات بگڑنے پر آئے تو ایسے بگڑ جاتی ہے
بعض اوقات تو ماں کی دعا بھی کام نہیں آتی

یاد رکھنا ہی محبت میں نہیں ہے سب کچھ
بھول جانا بھی بڑی بات ہوا کرتی ہے

ہماری روح کے صحرا سے کون گزرے گا
کسے بتائیں گئی بارشوں میں کیا تھے ہم

آو مل کے دعائیں مانگیں اپنے کھیت اجڑنے کی
اب کے گھر گھر آگ بٹے گی فصل اگر تیار ہوئی

کاش میں تجھ پہ ریاضی کے سوالوں کی طرح
خود کو تقسیم کروں کچھ بھی نہ حاصل آئے

آنکھوں میں اشک نام کی شے تک نہیں رہی
جھیلیں بھی اب ترستی ہیں پانی کے واسطے

ہونٹ سے ہونٹ مل گئے دل سے دل نہ ملا
یہ بات بھول جاو اگر گھر چلانا ہے

جواز رکھتا ہے ہر ایک اپنے ہونے کا
یہاں پہ جو ہے کسی سلسلے میں آیا ہے

نہ وہ حسین نہ میں خوب رو مگر اک ساتھ
جو ہمیں دیکھ کے وہ دیکھتا ہی رہ جائے

عین ممکن ہے چراغوں کو وہ خاطر میں نہ لائے
گھر کا گھر ہم نے اٹھا راہ گزر پر رکھا

بچھڑا تو اک جہان تعلق اجڑ گیا
جس جس سے رابطے تھے اسی کے سبب سے تھے

ہم نے پڑھی ہیں صاف صاف ہم نے سنی ہیں غور سے
نظریں کہ جو اٹھیں نہیں باتیں کہ جو ہوئیں نہیں

اُسی مقام پہ کل مجھ کو دیکھ کر تنہا
بہت اداس ہوئے پھول بیچنے والے

متاعِ عمر ہوئی خرچ اور بتاتے ہوئے
نہ وہ دریچہ نہ وہ بام کوئی یاد نہ تھا

اعتبار اٹھ جاتا آپس کا جمال
لوگ اگر اُس کا بچھڑنا دیکھتے

جو میرے ذکر پہ اب قہقہے لگاتا ہے
بچھڑتے وقت کوئی حال دیکھتا اس کا

ترا اصرار سر آنکھوں پہ تجھ کو بھول جانے کی
میں کوشش کرکے دیکھوں گا مگر وعدہ نہیں کرتا

اس آنکھ میں اک رنگ ہے اور رنگ ندامت
اک ہار ہے اور ماننے والے کےلیے ہے

شجر بھی کاٹنے ہیں آنگنوں سے
پرندوں کا بھی دل رکھنا پڑے گا

کوئی تو معتبر گواہ رات کا
کسی کے نام کا دِیا جلاو بھی

سحر تلک کوئی آیا نہ ساتھ کے گھر میں
برآمدے میں کوئی رات بھر ٹہلتا رہا

اب اور کوئی کفیت ہو عشق میں
وصال و ہجر سے میں تنگ آچکا

وہ آنکھ چپ ہے ہمیشہ سے پھر بھی لگتا ہے
کہ جیسے اب سخن آغاز کرنے والی ہے

عجب در تھا نہ کھلنے پر بھی اس کا فیض جاری تھا
عجب خیرات تھی جس کو کوئی سائل نہیں سمجھا

کسی کے ہونے نہ ہونے کے بارے میں اکثر
اکیلے پن میں بڑے دھیان جایا کرتے ہیں

خوش ہے بہت وہ اپنے نئے ہم سفر کے ساتھ
اتنی ذرا سی بات پہ کیوں رو رہا ہوں میں

یہی سوچتا گھر سے دور آگیا
کوئی روک لے گا ٹھہر جاوں گا

یہ لمحہ رائگاں گزرے تو ساری عمر کا روگ
نہ رائگاں ہو تو رسوائی عمر بھر کی ہے

تونے جب دل توڑ کر ہی رکھ دیا
پھر یہ سکہ کِن دکانوں پر چلے

ایک کلی مہکائے ہوئے تھی پورا باغ کا باغ
اُس کی گلی کے سارے لوگ تھے اچھی عادت والے

اس کی خواہش ہے کہ جلدی بھول جانا چاہیے
بھول جانے کے لیے جس کو زمانہ چاہیے

پوچھنا چاہتا ہوں میں ان آنکھوں سے جمال
کس کو آباد کیا ہے مجھے بے گھر کر کے

ہم فقیروں سے دوستی کرکے
کر شمار اپنا بادشاہوں میں

آنسو نہیں رہے ہیں تو آنکھوں سے فائدہ
پانی نہیں تو جھیل کی گہرائی کیا کرے

جمال اس وقت کوئی مجھ سے بچھڑ رہا تھا
زمین اور آسماں جب ایک ہو رہے تھے

یہ دیکھ تجھ کو فراموش کرکے زندہ ہیں
نہ پوچھ بوجھ یہ کتنے عذاب سے اٹھا

غیر یقینی صورتِ حال میں ملنے والے
بچھڑ گئے ہیں رستوں کی یکجائی پر

حل ہوگیا خون میں وہ آخر
جو وہم جڑیں پکڑ رہا تھا

نیا شریکِ سفر چاہتیں جتاتا رہا
جمال پچھلی محبت کی یاد آتی رہی

اس قدر عیش محبت پہ نہ ہو خوش کہ تجھے
دوسرے عشق میں نقصان اٹھانا پڑ جائے

میں ابھی پہلے خسارے سے نہیں نکلا ہوں
پھر بھی تیار ہے دل دوسری نادانی پر

مقصود صرف ڈھونڈنا کب تھا تجھے سو میں
جس سمت تو نہیں تھا اُدھر بھی نکل گیا

مجھے بدلتے ہوئے وقت نے جو بخشے تھے
وہ زخم رسنے لگے تیری مسکراہٹ سے

لکھنی مجھے پڑ جائے جو تقدیرِ زمانہ
شاید میں تمہارے لبِ نوخیز سے لکھوں

ہار جانے پہ لوگ کہتے ہیں
کون جھگڑا کرے مقدر سے

خموش ہوں تو مجھے اتنا کم جواز نہ جان
مرے بیان باہر بھی ہیں سبب میرے

تجھ سے اکتا جانے کی ایک ساعت بھی
تیرے عشق ہی کے دوران میں گزری ہے

Address

Vehari

Telephone

+923014738968

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Beyond Book posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Beyond Book:

Share