KAAM KE BAAT

KAAM KE BAAT fb/Kaam ke baat Offical.com

07/10/2025

کچھ دیر پہلے میرے گھر کے قریب ہی ایک خاتون کپڑے دھوتے ہوئے واشنگ مشین کا کرنٹ لگنے سے فوت ہوگئی ہیں ، ان کے میاں سعودی عرب ہوتے ہیں اور پچھلے ہفتے ہی وہ واپس گئے ہیں ، تین چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ، 5 سال کا بیٹا اور ڈیڑھ سال کی دو جڑواں بیٹیاں ۔۔۔۔۔
خاتون الگ رہتی تھیں نہ ماں حیات ہے نہ ساس ۔۔۔ گوالا دودھ دینے آیا تو اس کو بچے نے بتایا کہ ماما صحن میں گرگئی ہیں ، اسے کیا پتا وہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئی ہیں۔ محلے کی عورتیں بچوں کو سنبھال رہی ہیں ، معصوم بیٹا پھٹی پھٹی آنکھوں سے ماں کی میت دیکھ رہا ہے اور دونوں بچیاں ماں کی گود میں جانے کے لیے بلک بلک کر رو رہی ہیں ۔
مجھے نہیں معلوم اب ان تین بچوں کا مستقبل کیا ہوگا، اور خاتون کو کرنٹ لگنے کا سبب کیا تھا لیکن یہ سانحہ ان تمام خواتین کے لیے نصیحت ہے جو الیکڑک مشینوں کا بٹن آف کیے بغیر کام کرتی رہتی ہیں ۔ گیلے کپڑوں سے چلتی واشنگ مشین ، استری اور موٹر کو ہاتھ لگاتی ہیں ۔ گھر کے سربراہ اپنے گھروں میں مین سرکٹ بریکر ضرور لگوائیں جو شارٹ سرکٹ ہونے سے پہلے گھر کی بجلی بند کردیتا ہے ۔ اور خواتین بجلی والی مشینوں میں احتیاط سے کام لیں ۔ اک ذرا سی غلطی سے جان تو جاتی ہے ، گھر بھی ویران ہوجاتے ہیں ۔
اس لیے ۔۔۔ احتیاط ۔۔ خدارا احتیاط

آصفہ عنبرین قاضی

( Memory 2024)

ایک صاحب کو انگور بہت پسند تھے… صبح اپنی فیکٹری جاتے ہوئے انہیں راستے میں اچھے انگور نظر آئے…انہوں نے گاڑی روکی اور دوکل...
06/10/2025

ایک صاحب کو انگور بہت پسند تھے… صبح اپنی فیکٹری جاتے ہوئے انہیں راستے میں اچھے انگور نظر آئے…انہوں نے گاڑی روکی اور دوکلو انگور خرید کر نوکر کے ہاتھ گھر بھجوا دئیے اور خود اپنی تجارت پر چلے گئے… دوپہر کو کھانے کے لئے واپس گھر آئے…دستر خوان پر سب کچھ موجود تھا مگر انگور غائب… انہوں نے انگوروں کا پوچھا… گھر والوں نے بتایا کہ وہ تو بچوں نے کھا لئے…کچھ ہم نے چکھ لئے…معمولی واقعہ تھا مگر بعض معمولی جھٹکے انسان کو بہت اونچا کر دیتے ہیں… اور اس کے دل کے تالے کھول دیتے ہیں… وہ صاحب فوراً دستر خوان سے اٹھے… اپنی تجوری کھولی، نوٹوں کی بہت سی گڈیاں نکال کر بیگ میں ڈالیں اور گھر سے نکل گئے… انہوںنے اپنے کچھ ملازم بھی بلوا لئے …پہلے وہ ایک پراپرٹی والے کے پاس گئے … کئی پلاٹوں میں سے ایک پلاٹ منتخب کیا…فوراً اس کی قیمت ادا کی…پھر ٹھیکیدار اور انجینئر کو بلایا … جگہ کا عارضی نقشہ بنوا کر ٹھیکیدار کو مسجد کی تعمیر کے لئے… کافی رقم دے دی… اور کہا دو گھنٹے میں کھدائی شروع ہونی چاہیے…وہ یہ سب کام اس طرح تیزی سے کر رہے تھے…جیسے آج مغرب کی اذان تک ان کی زندگی باقی ہو…ان کاموں میں ہفتے اور مہینے لگ جاتے ہیں… مگر جب دل میں اخلاص کی قوت ہو… ہاتھ بخل اور کنجوسی سے آزاد ہو تو… مہینوں کے کام منٹوں میں ہو جاتے ہے…
یہی صورتحال تاجر صاحب کے ساتھ بھی ہوئی… اخلاص اور شوق کی طاقت نے …چند گھنٹوں میں سارے کام کرا دئیے… بہترین موقع کا پلاٹ بھی مل گیا… اچھا انجینئر اور اچھا ٹھیکیدار بھی ہاتھ آ گیا… اور مغرب کی اذان سے پہلے پہلے کھدائی اور تعمیر کا کام بھی شروع ہو گیا …شام کو وہ صاحب واپس گھر آئے تو گھر والوں نے پوچھا کہ آج آپ کھانا چھوڑ کر کہاں چلے گئے تھے؟… کہنے لگے… اپنے اصلی گھر اور اصلی رہائشی گاہ کا انتظام کرنے…اور وہاں کھانے پینے کا نظام بنانے گیا تھا…الحمد للہ سارا انتظام ہو گیا … اب سکون سے مر سکتا ہوں… آپ لوگوں نے تو میری زندگی میں ہی… انگور کے چار دانے میرے لئے چھوڑنا گوارہ نہ کئے… اور میں اپنا سب کچھ آپ لوگوں کے لئے چھوڑ کر جا رہا تھا … میرے مرنے کے بعد آپ نے مجھے کیا بھیجنا تھا؟ … اس لئے اب میں نے خود ہی اپنے مال کا ایک بڑا حصہ اپنے لئے آگے بھیج دیا ہے…اس پر میرا دل بہت سکون محسوس کر رہا ہے.
اس پوری تحریر نے ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ہے.
جب تک موت کی کیفیت طاری نہ ہو جائے
اس میسج کو Delete کرنے سے پہلے کسی ایک کو ضرور بهیج دیں

‏صبح صبح آنکھ کھلنے پر جلدی اور بےدھیانی میں اہلیہ کی ایام خاص کی چڈی پہن کر بچوں کو اسکول ، خواتین کو یونیورسٹی و دفاتر...
26/09/2025

‏صبح صبح آنکھ کھلنے پر جلدی اور بےدھیانی میں اہلیہ کی ایام خاص کی چڈی پہن کر بچوں کو اسکول ، خواتین کو یونیورسٹی و دفاتر چھوڑنے والے پیدل اور موٹر سائیکل سوار ادھ ننگے بےغیرتوں سے عاجزانہ درخواست ہیکہ اپنی ٹانگوں پہ پورا کپڑا چڑھا لیا کریں
یقین کریں کہ برابر سے گزرتی سکول کی عبایا میں چھپی اور چادر میں لپٹی نوعمر بچیوں ، نوکری پیشہ خواتین و مرد حضرات کو آپکی بالوں بھری برہنہ کالی سیاہ جریان کی وجہ سے بانس جیسی ٹانگیں دیکھنے میں قطعی دلچسپی نہیں ہوتی

دیکھنے والے صرف یہ سوچتے ہیں کہ کسی بےغیرت فیملی کی بےغیرت اولاد جا رہی ہے
حیرت کی بات یہ ہے کہ ایسے لباس میں ماں بہن کے سامنے کیسے جاتے ہیں یا پھر وہ بھی گھر میں ادھ ننگی ہی بیٹھی ہوں گی
اس عمر میں تو اپ کو اپ کے بچے پسند نہیں کرتے تو کسی عورت نے کیا پسند کرنا ہے

26/09/2025
06/06/2025

نواب شاہ: جعلی جوس بنانے والی فیکٹری پر چھاپہ — مالک حج پر گیا ہوا ہے!
ملازم کا انکشاف 🙄

29/05/2025

یہ کچھ سال پہلے کی بات ہے ایک دکان پر تازہ جلیبی بن رہی تھی وہ خریدی تو اخبار کا ساتھ آنے والا ٹکڑا پوری زندگی تبدیل کر گیا ۔۔۔ پڑھنے کا شروع سے شوق تھا
ہوا کچھ یوں کہ اُس ٹکڑے پر ایک کالم چھپا ہوا تھا۔ کالم نگار کا نام اب یاد نہیں ہے لیکن اس نے جو لکھا تھا وہ سب یاد ہے حرف بہ حرف تو نہیں، لیکن یاد ہے۔ آپ بھی پڑھیں۔
اُس نے لکھا کہ:
میں کل اپنے ایک کاروباری دوست کے پاس دفتر گیا چائے پی گپ شپ لگاتے ہوئے گھر جانے کا وقت ہو گیا۔ جب دفتر سے باہر نکل رہے تھے تو کلرک نے آ کر ایک شکایت لگائی کی جناب فلاں چپڑاسی سست ہے کام نہیں کرتا، ڈرائیور نے بھی اسکی ہاں میں ہاں ملائی۔
میرے اُس دوست نے کہا اگر کام نہیں کرتا تو کس لیے رکھا ہو ہے، فارغ کرو اسے۔ میں نے فورا مداخلت کی اور کہا، کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ ایک دفعہ اس سے بات کر لو، کیا پتہ اسکے کچھ مسائل ہوں۔ پھر میں نے اپنے دوست کو ایک شیخ صاحب کا واقعہ سنایا۔
💥شیخ صاحب لاہور میں ایک معمولی سے دفتر میں ملازم تھے، دن کچھ ایسے پھرے کہ اسی دفتر کے صاحب کو پسند آ گئے اور یوں انکی فیملی میں ہی شیخ صاحب کی شادی ہو گئی۔
قدرت شیخ صاحب پر مہربان تھی، دن رات اور رات دن میں بدلتے گئے اور شیخ صاحب ایک دکان سے ایک مارکیٹ اور پھر ایک فیکٹری سے دو، چار، اور پھر نہ جانے کتنی فیکٹریوں کے مالک بنتے گئے۔
دھن برستا گیا، دو بچے ہو گئے۔ شیخ صاحب نے کرائے والے کمرے سے ایک اپارٹمنٹ اور پھر لاہور کے انتہائی پوش علاقے میں دو کنال کی ایک کوٹھی خرید لی۔ مالی کی ضرورت پیش آئی تو چکوال سے آئے ہوئے سلطان کو فیکٹری سے نکال کر پندرہ سو روپے ماہوار پر اپنی کوٹھی پر ملازم رکھ لیا۔
سلطان ایک انتہائی شریف اور اپنے کام سے کام رکھنے والا انسان تھا، نہ کسی سے کوئی جھگڑا، نہ کوئی عداوت، نہ کبھی کوئی شکایت۔ ایک بار شیخ صاحب دن کے دس بجے کسی کام سے گھر واپس آئے تو گاڑی دروازے پر ہی کھڑی کر دی
کہ ابھی واپس دفتر جانا تھا۔ دروازے سے گھر کے داخلی دروازے کے درمیان اللہ جانے کیا ہوا کہ پودوں کو پانی دیتے سلطان کے ہاتھ سے پائپ پھسلا اور شیخ صاحب کے کپڑوں پر پوری ایک تیز پھوار جا پڑی،
شیخ صاحب بھیگ گئے۔ سلطان پاؤں میں گر گیا، گڑگڑا کر معافی مانگنے لگا کہ صاحب غلطی ہو گئی۔ لیکن شیخ صاحب کا دماغ آسمان پر تھا۔ غصے میں نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ، وہیں کھڑے کھڑے سلطان کو نوکری سے نکال دیا۔کہا شام سے پہلے اس گھر سے نکل جاؤ۔
سلطان بیچارہ سامان کی پوٹلی باندھ کر گھر سے نکل کر دروازے کے پاس ہی بیٹھ گیا کہ شاید صاحب کا غصہ شام تک ٹھنڈا ہو جائے تو واپس بلا لیں۔ شام کو شیخ صاحب واپس آئے، دیکھا سلطان ابھی تک بیٹھا ہوا تھا، گارڈ کو کہا اسے دھکے دیکر نکال دو، یہ یہاں نظر نہ آئے، صبح ہوئی تو سلطان جا چکا تھا۔ رب جانے کہاں گیا تھا۔
وقت گزرتا گیا، شیخ صاحب کے تیزی سے ترقی پاتے کاروبار اور فیکٹریوں میں ایک ٹھہراؤ سا آنے لگا۔ کاروبار میں ترقی کی رفتار آہستہ آہستہ کم پڑتی گئی۔ لیکن شیخ صاحب زندگی سے بہت مطمئن تھے۔
پھر ایک فیکٹری میں آگ لگ گئی، پوری فیکٹری جل کر راکھ ہو گئی۔ کچھ مزدور بھی جل گئے۔ شیخ صاحب کو بیٹھے بٹھائے کروڑوں کا جھٹکا لگ گیا۔ کاروبار میں نقصان ہونا شروع ہوا تو شیخ صاحب کے ماتھے پر بل پڑنا شروع ہو گئے۔ بڑا بیٹا یونیورسٹی کا سٹوڈنٹ تھا،
دوستوں کے ساتھ سیر پر مری گیا واپسی پر حادثہ ہوا تو وہ جوان جہان دنیا سے رخصت ہو گیا۔ شیخ صاحب کی کمر ٹوٹ گئی۔
نقصان پر نقصان ہوتے گئے۔ دو کنال کی کوٹھی بیچ کر دس مرلے کے عوامی طرز کے محلے میں آ گئے۔ جب عقل سے کچھ پلے نہ پڑا تو پیروں فقیروں کے ہاں چلے گئے کہ شاید کوئی دعا ہاتھ لگ جائے اور بگڑی ہوئی زندگی پھر سے سنور جائے۔ باقی ماندہ کاروبار بیچ کر اور کچھ دیگر پراپرٹی کو رہن رکھ کر بنک سے قرضہ لیا اور چھوٹے بیٹے کو ایک نیا کاروبار کر کے دیا۔
اسکے پارٹنر دوست نے دغا کیا اور سارا پیسہ ڈوب گیا۔ شیخ صاحب ساٹھ سال کی عمر میں چارپائی سے لگ گئے۔
ایک دن ایک پرانا جاننے والا ملنے آیا، حالات دیکھے تو بہت افسوس کیا۔ کہا شیخ صاحب ایک بزرگ لاھور آئے ہوئے ہیں، بہت بڑے اللّہ والے ہیں، اگر ان کے پاس سے دعا کروا لیں تو اللہ کرم کرے گا۔
شیخ صاحب فورا تیار ہو گئے۔ ان کے پاس پہنچے، ملاقات کی، مسئلہ بیان کیا۔ انہوں نے آنکھیں بند کیں، کچھ دیر مراقبے کی کیفیت میں رہے، پھر آنکھیں کھولیں، شیخ کو دیکھا اور کہا "تم نے سلطان کو کیوں نکالا تھا؟"
شیخ کے سر کے اوپر گویا ایک قیامت ٹوٹ پڑی، آنکھوں سے آنسوؤں کی ایک نہ تھمنے والی لڑی جاری ہو گئی، شیخ بزرگ کے پاؤں میں گر گیا، معافیاں مانگنے لگا۔ بزرگ نے اسے کہا میری بات سنو۔ پروردگار رازق ہے، وہ رزق ضرور دے گا لیکن اسکا وسیلہ انسانوں کو ہی بنائے گا۔اوپر سے نیچے آتے پانی کی تقسیم جس طرح نہروں نالوں کی طرح ہوتی ہے رزق کی تقسیم اسی طرح ہے۔
پروردگار کے نزدیک ہم میں سے ہر ایک شخص وسیلہ ہے کسی اور کے رزق کا۔ اگر آپ وسیلہ بننے سے انکار کرو گے تو تمہارے حصے کا وہ رزق جو اس وسیلے سے تمہیں بطور معاوضہ مل رہا تھا ختم ہو جائے گا۔
تمہیں لاکھوں کروڑوں سلطان کو پندرہ سو روپے دینے کے لیے ملتے تھے۔ تم نے وہ روک لیے، اوپر والے نے تمہارا معاوضہ ختم کر دیا۔ اب جاؤ اور سلطان کو ڈھونڈو، اگر وہ مان جائے معاف کر دے تو تمہارے دن پھر جائیں گے۔
شیخ کی دنیا لٹ گئی، وہ سر پیٹتا گھر آیا پرانے کاغذات ڈھونڈتا رہا کہ شاید کہیں سلطان کا کوئی پتہ، کوئی شناختی کارڈ، کوئی اور معلومات مل سکیں۔ کچھ بھی نہ ملا تو شیخ دیوانہ وار سلطان کو ڈھونڈنے چکوال جانے والی بس میں بیٹھ کر چکوال چلا گیا۔ مگر سلطان نہ ملا۔

چھوٹا بیٹا ڈھونڈتا ڈھونڈتا چکوال اڈے پر آ پہنچا اور باپ کو واپس لاہور لے آیا۔ لیکن شیخ کا دل کا سکون ختم ہو گیا تھا۔ کچھ دن بعد شیخ پھر گھر سے غائب ہوا تو بیٹے کو معلوم تھا کہ کہاں ملے گا۔
وہ چکوال پہنچا تو دیکھا باپ زمین پر بیٹھا سر میں راکھ ڈال رہا تھا اور کہہ رہا تھا سلطان تم کہاں ہو، سلطان تم کہاں ہو۔ بیٹا خود روتا ہوا باپ کو واپس لے آیا۔ چند دن کے بعد شیخ کا انتقال ہو گیا۔
کالم نگار نے لکھا، میں نے اپنے دوست کو یہ پوری کہانی سنائی اور اسے کہا، چپڑاسی کو نہ نکالو، اسکا رزق تمہارے رزق سے جُڑا ہے، اسے تو رب کہیں اور سے بھی دے دے گا کہ اس کے پاس وسیلہ بنانے کے لیے کسی چیز کی کوئی کمی نہیں لیکن کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اس معاوضے والی نعمت سے محروم ہو جاوؐ۔
مجھے یہ واقعہ پڑھے ہوئے کافی سال گزر گئے ہیں۔ آپ یقین کریں اس تحریر نے میری زندگی بدل دی۔ میں مالی معاملات میں بہت زیادہ محتاط رھتا ہوں۔ اگر کسی کے پاس کچھ پیسے ادھار کیصورت میں رہ گئے تو نہیں مانگے کہ کہیں اوپر والے سے ملنے والا معاوضہ کم نہ ہو جائے۔
کوشش ہوتی ھے کہ میری وجہ سے لوگوں کا رزق لگا رھے گھر میں کام والی رکھی تو مشکل حالات میں بھی انکار نہیں کیا کہ اسکا رزق لگا رھے
اپنے پاس کام کرنے والے کسی لڑکے کو کبھی نہیں نکالا کہ میری وجہ سے کسی کے گھر میں پریشانی نا ہو کسی کے رزق کا وسیلہ ختم نا ھو جائے
میں نے ہمیشہ نیک نیتی سے وسیلہ بننے کی کوششیں بھی کیں، میں کبھی تنگ دست نہیں ہوا۔ اللّٰہ نے ہمیشہ مجھے نوازا ، ایک سے بڑھ کر ایک وسیلہ ملتا گیا اور میں آگے بڑھتا رہا ۔۔۔
آپ بھی ارادہ کریں کہ کبھی آپکی وجہ سے کسی کا رزق بند نہیں ہو گا
آپ وسیلہ بنتے رھیں اللہ پاک آپ کیلئے وسیلے بناتا رھے گا ان شاءاللہ ..
منقول

06/05/2025

‏آج کے دور میں چار رشتےدار ایک ساتھ تبھی چلتے ہیں جب پانچواں کندھے پر ہوتا ہے

سبزی تولتے وقت اگر مکھی کانٹے پر بیٹھ جائے تو کچھ فرق نہیں پڑے گا۔لیکن یہی مکھی اگر سونا تولتے وقت کانٹے پر بیٹھ جائے تو...
20/04/2025

سبزی تولتے وقت اگر مکھی کانٹے پر بیٹھ جائے تو کچھ فرق نہیں پڑے گا۔
لیکن یہی مکھی اگر سونا تولتے وقت کانٹے پر بیٹھ جائے تو اس کی قیمت 10، 20 ہزار کی ہو جائے گی۔

یہاں وزن معنی نہیں رکھتا، آپ کس جگہ بیٹھے ہیں وہ اہمیت رکھتی ہے۔
اس لیے کوشش کریں کہ اچھی محفلوں میں بیٹھا جائے اور اپنا وقار بحال رکھا جائے۔

18/03/2025

کچھ دن سے دل میں ایک خیال پیدا ہورہا تھا۔ دل چاہ رہا تھا ایک بار دو رکعت نماز ترجمعے کے ساتھ ادا کروں، تاکہ مجھے معلوم ہوسکے ۤآج تک جو نماز ادا کرتا رہا ہوں اسکا مطلب کیا ہے:😟😟😟😟😟😟😟😟😟😟
اپنے ارادہ کو حقیقت بنانے کے لئے وضو کرکے جائے نماز بچھائی اور پہلے تعوذ اور تسمیہ پڑھی:
🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻
میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کی شیطان مردود سے
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام کے ساتھ جو نہایت مہربان اور رحم والا ہے
🌲🌲🌲🌲🌲🌲🌲🌲🌲🌲🌲🌲🌲🌲
اسکے بعد دو رکعت نفل نماز کی نیت کی اور ہاتھ کانوں تک اٹھائے اور کہا
اللہ سب سے بڑا ہے
☘️☘️☘️☘️☘️☘️☘️☘️☘️☘️☘️☘️☘️☘️
اسکے بعد ثنا پڑھی
اے اللہ تو پاک ہے اور تمام تعریفیں تیرے لئے ہیں اور تیرا نام برکت والا ہے اور تیری شان بہت بلند ہے اور تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے
🪴🪴🪴🪴🪴🪴🪴🪴🪴🪴🪴🪴🪴🪴
اسکے بعد سورہ فاتحہ یوں پڑھی
تمام تعریفیں یا اللہ آپ کے لئے جو تمام جہانوں کے پالنے والے ہیں
نہایت ہی مہربان اور نہایت ہی رحم کرنے والے ہیں
قیامت کے دن کے مالک ہیں
ہم ۤآپ کی ہی عبادت کرتے ہیں اور آپ سے ہی مدد مانگتے ہیں
ہمیں سیدھا راستہ دکھلائیے
ان لوگوں کا راستہ جن پر آپ نے انعام کیا
نہ ان لوگوں کا جن پر آپ غصہ ہوئے اور نہ گمراہوں کا
🌳🌳🌳🌳🌳🌳🌳🌳🌳🌳🌳🌳🌳🌳🌳
اسکے بعد سورہ اخلاص پڑھی
کہہ دو کہ وہ اللہ ایک ہے
اللہ بے نیاز ہے
نہ اسکی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے
اور نہ ہی کوئی اسکی برابری کرنے والا ہے۔۔
🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁
اسکے بعد اللہ اکبر (اللہ سب سے بڑا ہے) کہ کر رکوع میں چلا گیا
رکوع میں تین بار یہ تسبیع پڑھی
پاک ہے میرا رب بڑی عظمت والا
پاک ہے میرا رب بڑی عظمت والا
پاک ہے میرا رب بڑی عظمت والا
🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱
اسکے بعد یہ پڑھتے ہوئے کھڑا ہوا
سن لی اللہ نے جس نے اسکی تعریف کی
کھڑے ہوکر پڑھا
اے ہمارے رب تمام تعریفیں آپ کے لئے ہی ہیں
اسکے بعد اللہ اکبر(اللہ سب سے بڑا ہے) پڑھ کر سجدہ میں چلا گیا
اور سجدہ میں یہ تین تسبیعات پڑھیں
پاک ہے میرا رب بڑی شان والا
پاک ہے میرا رب بڑی شان والا
پاک ہے میرا رب بڑی شان والا
🌾🌾🌾🌾🌾🌾🌾🌾🌾🌾🌾🌾🌾🌾
اب دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا کرنے بعد دوسرے سجدے
کے بعد تشعد میں بیٹھ گیا، اور اب یہ پڑھا
تمام قولی اور بدنی عبادتیں صرف اللہ کے لئے ہیں
اے نبی آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور برکت ہو
سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر
میں گواہی دیتا ہوں اللہ کے سوا کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں ہے
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں
🪷🪷🪷🪷🪷🪷🪷🪷🪷🪷🪷🪷🪷🪷🪷
اسکے بعد درود شریف پڑھا
اے اللہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور انکی آل پر دورد بھیجئے
جیسے کہ آپ نے رحمت بھیجی حضرت ابراہیم علیہ السلام و انکی آل پر
بے شک تو تعریف کے لائق بزرگی والا ہے
اے اللہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور انکی آل پر برکت نازل فرمائے
جیسے کہ آپ نے برکت نازل فرمائی حضرت ابراہیم علیہ السلام و انکی آل پر
بے شک تو تعریف کے لائق بزرگی والا ہے
❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️
اب میں نے دعا پڑھی
اے اللہ مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنا والا بنائیے
اے ہمارے رب ہماری دعا قبول فرمائیے
اے ہمارے رب مجھے اور میرے والدین اور تمام مومنین کو اس دن
بخش دیجئیے،جس دن حساب قائم ہوگا۔
اے ہمارے رب ہمیں دنیا اور آخرت میں اچھی زندگی عطا کیجیئے
اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچائیے۔
🌼🌼🌼🌼🌼🌼🌼🌼🌼🌼🌼🌼🌼🌼🌼🌼
اسکے بعد دونوں کندھوں پر موجود فرشتوں کو سلام کیا۔

نماز کا یہ ترجمعہ اپنے جاننے والے تمام افراد کو بھیجیئے تاکہ سب لوگ سمجھ کر نماز ادا کرسکیں
یقین جانیئے ایک وقت آئیگا آپ اس صدقہ جاریہ پر فخر کریں گے۔منقول
🌲🌻🌼🪷🌾🌱🍁🌳🪴☘️🌻🌲🌼?

ملازم بڑا ہی تابعدار تھا۔ مالک نے خوش ہو کے اس کی پانچ ہزار تنخواہ بڑھا دی۔ تابعداری میں فرق نہیں آیا لیکن وہ بہت زیادہ ...
16/03/2025

ملازم بڑا ہی تابعدار تھا۔ مالک نے خوش ہو کے اس کی پانچ ہزار تنخواہ بڑھا دی۔ تابعداری میں فرق نہیں آیا لیکن وہ بہت زیادہ مشکور بھی نہیں ہوا۔
مالک کو بڑا غصہ آیا کہ میں نے اس کی تنخواہ بڑھائی لیکن یہ ہے کہ اچھے سے شکریہ بھی ادا نہیں کیا۔ اس نے اگلے ماہ تنخواہ پانچ ہزار کم کر دی۔
ملازم کی ‏تابعداری اب بھی وہی رہی کوئی شکایت نہیں کی۔
مالک نے اسے بلوا بھیجا اور کہا، "بڑے عجیب انسان ہو، میں نے تمھاری تنخواہ پانچ ہزار بڑھائی، پھر کم کر دی۔ تم جوں کے توں رہے۔ یہ سب کیا ہے؟"
ملازم بولا، "اوہ! آپ نے خود کو رازق سمجھ لیا تھا؟
میرے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو اس سے اگلے دن آپ نے تنخواہ پانچ ‏ہزار بڑھا دی۔ میں سمجھ گیا کہ جس خالق نے بچہ دیا اسی نے رزق کا انتظام بھی ساتھ ہی کر دیا ہے، سو اسی کا شکریہ ادا کیا۔ پھر جس دن آپ نے تنخواہ کم کر دی اسی دن میری والدہ وفات پا گئیں۔ میں نے جان لیا کہ وہ اپنا رزق اپنے ساتھ لے گئیں۔ سو تب بھی اللہ کا شکر ادا کر کے مطمئن رہا۔"
پھر بولا، "صاحب، ‏یہ روزی روٹی کے فیصلے کہیں اور ہی ہوتے ہیں۔ ہم تو بس مہرے ہیں جنہیں آگے پیچھے کرکے اسباب پیدا کیا جاتے ہیں۔"
سبحان اللہ ، الحمدللہ ، اللہ اکبر☝

Address


Alerts

Be the first to know and let us send you an email when KAAM KE BAAT posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to KAAM KE BAAT:

  • Want your establishment to be the top-listed Arts & Entertainment?

Share