13/10/2025
دو گھوڑے دو کمہار
اسکرپٹ: فرزانہ خان
ایک گاؤں میں دو کمہار رہا کرتے تھے۔ ایک کا نام بالا تھا اور دوسرے کا گامو۔ دونوں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ایک دوسرے کے پڑوس میں رہتے تھے۔ وہ مہینے کے شروع کے پندرہ دنوں میں تو چکنی مٹی اور ریت سے برتن بنا بنا کر انھیں ایک جگہ جمع کرتے رہتے پھر مہینے کے باقی پندرہ دنوں میں انہیں فروخت کرنے کے لیے نکل جاتے۔
بالے کے پاس بھی ایک گھوڑا تھا اور گامو کے پاس بھی۔ وہ دونوں اپنے اپنے گھوڑوں پر برتن لاد کر گلی گلی محلے محلے بیچا کرتے تھے۔ کسی روز گاؤں میں ان کے برتنوں کی بکری نہیں ہوتی تھی تو اگلے روز وہ شہر کا رخ کرتے۔
شہر اگرچہ دور پڑتا تھا مگر وہاں ان کے برتن ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوجاتے تھے اور انھیں اچھے پیسے بھی مل جاتے تھے۔ بالا سوچتا تھا کہ شہر والے برتنوں کو زیادہ جلدی توڑتے ہیں، اس لیے انھیں ہمیشہ نئے برتنوں کی ضرورت رہتی ہے۔ وہ اس بات پر بہت حیرت کرتا تھا کہ شہر میں رہنے والے ان کی حفاظت پر زیادہ توجہ کیوں نہیں دیتے جس کی وجہ سے وہ جلد ہی ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں۔ وہ فخر سے سوچتا کہ اس کے گھر میں تو ابھی تک مٹی کا وہ پیالہ موجود ہے جس میں اس کی دادی پانی پیا کرتی تھی۔
بالے اور گامو کے گھوڑے شکل و صورت میں بالکل ایک جیسے تھے، قد کاٹھ بھی ایک سا اور رنگ بھی ایک سا۔ ان کی شکل و صورت تو ایک ہی جیسی تھی مگر ان کے مزاجوں میں زمین آسمان کا فرق تھا۔
بالے کا گھوڑا نہایت اچھا تھا۔ وہ بالے کا تو دوست تھا ہی مگر اس کے گھر والوں سے بھی بڑا مانوس تھا۔ جب بالا اس پر مٹی کے برتن لادتا تو وہ خاموشی سے کھڑا رہتا اور ذرا بھی ادھر ادھر نہ ہوتا۔ اسے پتہ تھا کہ اس کے حرکت کرنے سے اس کے مالک کے مٹی کے برتن نیچے گر کر ٹوٹ جائیں گے اور اس کا نقصان ہوگا۔
بالے کو اپنے گھوڑے سے بہت محبّت تھی۔ وہ اس کا بہت خیال رکھتا تھا۔ وقت پر چارہ اور پانی دیتا۔ شام کو میدان سے اس کے لیےہری ہری اور نرم نرم گھاس درانتی سے کاٹ کر لاتا اور اس کے سامنے ڈالتا۔ اس کے گھوڑے کو جو اور باجرہ بہت پسند تھا۔ جو اور باجرہ اگرچہ خریدنے میں مہنگے تھے مگر بالا ہفتے میں دو تین دفعہ اس کے لیے جو کے دانے اور باجرہ بھی لے آتا۔ بالے نے آج تک اپنے گھوڑے کو نہیں مارا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ یہ میرا دوست ہے۔ میں اپنے دوست کو کبھی نہیں ماروں گا۔ بالے کا گھوڑا اس لیے اچھا تھا کہ اس کے مالک کا سلوک اس کے ساتھ اچھا تھا۔
اس کے برعکس گامو کا گھوڑا بڑا اڑیل تھا۔ کسی اور کو تو کیا گامو کو بھی اپنے قریب نہیں آنے دیتا تھا۔ ایک روز تو اس نے گامو کے ہی دولتیاں جھاڑ دی تھیں اور وہ دور زمین پر جا گرا تھا۔ اس کے بعد غصے میں آ کر اس نے ایک موٹے ڈنڈے سے اپنے گھوڑے کی بہت پٹائی کی تھی۔ جس جگہ گھوڑے کی دولتیاں پڑی تھیں اس جگہ گامو کو کئی روز تک شدید درد ہوتا رہا تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اس بدتمیز گھوڑے کا کیا علاج کرے۔ گامو کا گھوڑا اس لیے ایسا بن گیا تھا کہ گامو کا رویہ اس کے ساتھ اچھا نہیں تھا۔
ایک روز صبح صبح کا وقت تھا۔ گامو اپنی چھت پر چڑھا ادھر ادھر دیکھ رہا تھا کہ اسے بالا نظر آیا۔ بالا اپنے گھوڑے کے نزدیک گیا تو گھوڑا اسے دیکھ کر زمین پر سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور خوشی سے دم ہلاتے ہوےٴ ہنہنانے لگا۔ بالے نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ اس کے چارے کی بالٹی کا جائزہ لیا اور جب اسے اطمینان ہوگیا کہ اس کے گھوڑے نے پیٹ بھر لیا ہے تو وہ مٹی کے برتنوں سے بھری دو ٹوکریاں لے آیا اور انھیں احتیاط سے گھوڑے کی پشت سے لگی کاٹھی میں لٹکا دیں اور برتنوں کو بیچنے کے لیے گھر سے نکل گیا۔
یہ منظر دیکھ کر گامو نے بڑی حسرت سے سوچا کہ ایک گھوڑا بالے کا ہے کتنا اچھا، سیدھا سادھا اور شریف۔ میرے گھوڑے کو دیکھو تو زمانے بھر کا بدمعاش ہے۔ یہ بات سوچ کر ہی اسے غصہ آگیا، اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، ڈنڈا اٹھا کر دے دھنا دھن اپنے گھوڑے پر برسا دیے۔“
اس اچانک افتاد پر پہلے تو گھوڑا حیران ہوا، پھر اس نے جو دولتی جھاڑی تو اس روز کی طرح گامو پھر دور جاگرا اور جس جگہ گھوڑے کی لاتیں پڑی تھیں، زور کا درد شروع ہوگیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔
شور شرابا سن کر اس کی بیوی جو اپنے کام میں مصروف تھی، دوڑ کر آئی۔ اسے دیکھ کر گامو ہائے ہائے کرتے ہوےٴ اٹھ کھڑا ہوا اور آنکھیں نکال کر بولا۔ ”سارا قصور تیرا ہے۔ نہ جہیز میں ایسا گھوڑا لاتی، نہ میں روز روز پٹتا۔ دور ہو جا میری نظروں سے۔“
اس کی بیوی اس کی عادتوں سے اچھی طرح واقف تھی، اس نے سوچا کہ اگر کچھ کہے گی تو اور بات بڑھے گی۔ وہ خاموشی سے چلی گئی۔
گامو کا درد اتنا بڑھا کہ اس روز وہ کام پر بھی نہ جا سکا۔ دن بھر چارپائی پر پڑا ہائے ہائے کرتا رہا۔ شام کو اس کے ذہن میں ایک ترکیب آئی۔ اس نے سوچا کہ میرا گھوڑا اور بالے کا گھوڑا دونوں ایک جیسے ہیں، تو کیوں نہ میں چپکے سے اپنے گھوڑے سے بالے کے گھوڑے کو بدل لوں۔ یہ سوچ کر اس کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ آگئی۔ وہ رات ہونے کا انتظار کرنے لگا۔
جب آدھی رات ہوگئی تو وہ دھیرے سے اٹھا۔ دیوار پھاند کر بالے کے گھر میں داخل ہوا ۔ پھر باہر کا دروازہ کھولا اور اپنا گھوڑا اندر صحن میں لے آیا۔ اپنے گھوڑے کی رسی اس نے منہ میں دبائی اور زمین پر بیٹھ کر بالے کے گھوڑے کی رسی کھونٹے سے کھولنے لگا۔
وہ سارا کام نہایت خاموشی سے کر رہا تھا کہ اچانک اس کے گھوڑے نے اچھل کود شروع کردی۔ وہ گھبرا گیا۔ اس کو ڈر تھا کہ اس شور سے بالے کی آنکھ نہ کھل جائے۔ پھر وہ ہی ہوا۔ اس کے گھوڑے نے اچھل کود بند نہیں کی تھی جس کی وجہ سے بہت شور ہورہا تھا۔ اس شور سے بالے اور اس کی بیوی کی آنکھ کھل گئی
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
Urdu Novels, Urdu Stories, Hindi Kahaniyan, Moral Stories, Horror Novels, Horror Stories, PDF Stories, Scary Stories, Urdu Quotes, Hindi Stories