IT'S MTV

IT'S MTV Myself Mohsin Abbas. Welcome to my page " IT'S MTV ".I create most of video about comedy.

_*`دیواریں (21) ۔ برصغیر ۔ روہنگیا`*_بنگلہ دیش کے دو ہمسائے ہیں۔ اس کی تقریباً تمام سرحد انڈیا کے ساتھ ہے جبکہ ایک چھوٹا...
03/02/2025

_*`دیواریں (21) ۔ برصغیر ۔ روہنگیا`*_

بنگلہ دیش کے دو ہمسائے ہیں۔ اس کی تقریباً تمام سرحد انڈیا کے ساتھ ہے جبکہ ایک چھوٹا سا حصہ (160 میل) میانمار کے ساتھ ہے اور یہاں پر بنگلہ دیش کو ایک اور طرح کا مسئلہ ہے۔ یہ روہنگیا کا علاقہ ہے۔
بدھ اکثریت کے ملک میں مسلمان اقلیت ہیں۔ ساڑھے سات لاکھ مسلمان اراکان کے علاقے میں رہائش پذیر ہیں۔ نسلی طور پر یہ جنوبی بنگلہ دیش میں چٹاگانگ میں رہنے والوں سے قریب تر ہیں اور میانمار میں مسائل کا شکار ہیں۔ انہیں میانمار کی طرف سے شہری کے طور پر قبول نہیں کیا جاتا۔ تحریک پاکستان کے وقت میں شمالی اراکان مسلم لیگ کا مطالبہ تھا کہ اس علاقے کو پاکستان کا حصہ بنایا جائے یا آزاد رکھا جائے۔ ایسا نہیں ہوا اور یہ برما کی مرکزی حکومت کے زیرِ عتاب رہے۔
میانمار میں طویل عرصہ فوجی آمریت رہی ہے اور عسکری قیادت کی طرف سے ریاستی جبر کا زیادہ نشانہ اقلیتی قومیتیں بنی ہیں۔ اس کا بدترین پہلو فوجی اور مذہبی شدت پسندوں کا گٹھ جوڑ ہے جس کی بڑی مثال اراکان کی ریاست ہے، جہاں بدھ شدت پسندوں اور فوج کا نشانہ روہنگیا بنتے رہے ہیں۔
میانمار کی فوجی حکومت نے 1982 میں شہریت کا قانون بنایا جس میں 135 قومیتوں کی فہرست تھی۔ جو لوگ ان قومیتوں سے تعلق نہیں رکھتے تھے، انہیں شہریت کا حق نہیں دیا گیا۔ اس کا معیار یہ رکھا گیا کہ وہ قومیتیں جو کہ 1823 کے وقت ملک میں نہیں تھیں، وہ ملک کا حصہ نہیں۔ یہ وہ وقت تھا جب 1823 برٹش اراکان پہنچے تھے۔ میانمار کی سرکاری پوزیشن یہ ہے کہ یہ بنگال سے آنے والے لوگ ہیں جنہیں برٹش اپنے ساتھ لے کر آئے تھے۔ برٹش واپس چلے گئے تو انہیں بھی ملک میں مزید رہنے کا حق نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگرچہ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ روہنگیا میں یہ لوگ ساتویں صدی سے آبادی ہیں لیکن حکمرانوں نے فیصلہ کیا کہ یہ لوگ میانمار سے تعلق نہیں رکھتے۔ نہ ہی انہیں شہری حقوق حاصل ہیں، نہ سفر کر سکتے ہیں، نہ کاروبار کر سکتے ہیں۔ نہ ہی شادیاں رجسٹر کر سکتے ہیں اور نہ ہی اولاد کو۔ ان کے لئے فرار ہو کر جانے کی جگہ بنگلہ دیش ہے کیونکہ انہیں اپنے ملک میں فوج کی طرف سے تشدد، قتل، ریپ اور جبری مشقت کا خطرہ ہے۔ ڈھائی لاکھ لوگ 1990 کی دہائی میں بنگلہ دیش پہنچے۔ ابتدا میں بنگلہ دیش نے انہیں جگہ دی لیکن پھر جب تعداد بڑھنے لگی تو ساتھ ہی پالیسی بھی۔ دسیوں ہزار لوگوں کو واپس زبردستی میانمار بھیجا گیا۔ نئی رجسٹریشن روک دی گئی۔ بنگلہ دیش کا کہنا تھا کہ وہ دنیا کا غریب ترین ملک ہے۔ لاکھوں مزید افراد کا بوجھ نہیں سہار سکتا۔
اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے کمیشن نے میانمار کے جنرلوں سے مطالبہ کیا کہ وہ روہنگیا کو حقوق دیں۔ اس کا باضابطہ طور پر جواب میانمار کی حکومت نے دیا۔ “روہنگیا میانمار کے باشندے نہیں۔ ان کی نسل الگ ہے۔ زبان الگ ہے۔ مذہب الگ ہے۔ یہ اجنبی ہیں”۔ روہنگیا کے خلاف مظالم جاری رہے۔ دیہاتوں کو آگ لگائی گئی۔ مساجد جلائی گئیں۔ اس نے خاص طور پر اس وقت شدت اختیار کر لی جب اگست 2017 میں روہنگیا کی طرف سے بارڈر پولیس پر حملہ کیا گیا۔ اس کے بعد بنگلہ دیش میں داخل ہونے والوں کی تعداد میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہو گیا۔ چھ لاکھ روہنگیا 2017 کے دوسرے نصف میں نقل مکانی کر رہے تھے۔
اس وقت بنگلہ دیش میں تیرہ لاکھ سے زائد روہنگیا آباد ہیں۔ ان کی بڑی تعداد اقوام متحدہ کے قائم کردہ پناہ گزین کیمپوں میں ہے یا پھر بنگلہ دیش کے ساحل شہر کاکس بازار میں۔ ایک غریب اور گنجان آباد ملک کے لئے یہ بڑا مسئلہ ہے۔ اور چونکہ ان کے پاس کام کرنے کا کوئی قانونی طریقہ نہیں، اس لئے جرائم میں ملوث ہونے کی شرح بھی زیادہ ہے۔ اس وجہ سے بنگلہ دیش میں اگرچہ روہنگیا سے ہمدردی پائی جاتی ہے لیکن اسکے شہریوں کی طرف سے سرحدی کنٹرول زیادہ سخت کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ایک اور خوف یہ ہے کہ انتہاپسندی اور دہشتگردی جڑ نہ پکڑ لے۔
بنگلہ دیش مہاجرین کو واپس کرنا چاہتا ہے۔ میانمار انہیں واپس لینے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔ دو سو سے زیادہ روہنگیا دیہات نذرِ آتش کئے جا چکے ہیں۔
اس مسئلے کا حل فی الوقت موجود نہیں۔ یہ اس علاقے میں کشیدگی اور عدم استحکام کا باعث رہے گا،

(جاری ہے)

تحریر: وہارا امباکر

سابقہ اقساط اور مزید ایسی دلچسپی سے بھرپور پوسٹس کے لیے واٹس ایپ چینل دلچسپ معلومات کو فالو کرلیں

رزسٹر ، کپیسٹر ، انڈکٹر کیا ہیں اور ان کو کیوں استعمال کیا جاتا ہے ؟سب سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ یہ تینوں کمپونینٹ الیکٹریک...
03/02/2025

رزسٹر ، کپیسٹر ، انڈکٹر کیا ہیں اور ان کو کیوں استعمال کیا جاتا ہے ؟
سب سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ یہ تینوں کمپونینٹ الیکٹریکل ٹیکنالوجی کے بنیادی بلڈنگ بلاکس ہیں یعنی پوری ٹیکنالوجی ان تینوں پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے اور انہی کی مدد سے مختلف سرکٹ بنتے جو مختلف امور سر انجام دیتے ہیں ۔

رزسٹر :
یہ کرنٹ کے راستے میں مزاحمت پیدا کرتا ہے ۔ یعنی ولٹیج اور کرنٹ کی مقدار کو کم و بیش کر کے کنٹرول کیا جاتا ہے ۔
بناوٹ :
آجکل کاربن ، میٹل آکسائڈ وغیرہ سے بنائے جا رہے ہیں۔

استعمالات : انہیں سوئچنگ سرکٹس ، ایمپلیفائینگ سرکٹس ، کنٹرول سرکٹس ، پاور سپلائ سرکٹس وغیرہ میں استعمال کیا جاتا ہے ۔

کپیسٹر :
کپیسٹر ایک چارج سٹور کرنے والا آلہ ہے جو سٹیٹک چارج کے اصول پر کام کرتا ہے اور الیکٹرک فیلڈ کی صورت میں چارجز سٹور کرتا ہے۔
۔یہ بیٹری کی طرح نہیں ہوتا اور نہ اس اصول پر کام کرتا ہے ۔ کپیسٹر بہت معمولی مقدار میں سٹور کرتا ہے (عموما)

بناوٹ :
کپیسٹر دو دھاتی پلیٹوں کے درمیان ایک انسولیٹنگ مٹریل رکھ کر بنایا جاتا ہے جسے ڈائ الیکٹرک کہتے ہیں جو کہ پیپر ، گلاس ، مائیکا وغیرہ یو سکتا ہے ۔

استعمالات : انہیں فلٹر سرکٹس، سوئچنگ سرکٹس وغیرہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔
کپیسٹر سے اے سی کرنٹ گزر سکتی ہے جبکہ ڈی سی نہیں۔

انڈکٹر:
انڈکٹر بھی ایک انرجی سٹور کرنے والا آلہ ہے جو انڈکشن کے اصول پر کام کرتا ہے اور میگنیٹک فیلڈ کی صورت میں انرجی سٹور کرتا ہے ۔
بناوٹ :
اسے آپ خود بھی بنا سکتے ہیں ایک کاپر وائر لیں اور اسے سپرنگ کی شکل دے دیں لیجئے انڈکٹر تیار ہے

ان کے استعمالات بھی سوئچنگ سرکٹس ، مایکرو ویوز والے سرکٹس میں بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔
انڈکٹر سے ڈی سی کرنٹ با آسانی گزر جاتی ہے جبکہ اے سی کرنٹ کے راستے میں رکاوٹ ڈالتا ہے ۔

تحریر:حافظ صہیب اسماعیل ، الیکٹریکل ٹیکنالوجسٹ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تینوں چیزوں کی کچھ خصوصیات ہیں ان کے بارے میں بات کرنا چاہوں گا۔۔ کیونکہ ان خصوصیات کو ہی استعمال کرتے ہوئے ان کا استعمال کیا جاتا ہیے
1) مزاحمت ( resistance ) کی خاصیت ہیے کہ وہ کرنٹ کو oppose کرتا ہیے
2) انڈکٹر کی خاصیت ہیے کہ وہ بہتے کرنٹ کو اس وقت تک oppose نہیں کرتا جب تک اس کرنٹ کی مقدار کم یا زیادہ نہ ہو رہی ہو ۔۔یعنی rate of change of current کو oppose کرتا ہیے ۔۔۔ اسی لیے ایک ڈی سی سرکٹ میں انڈکٹر switch on کرتے ہوئے open circuit کی طرح ہوتا ہیے لیکن کچھ دیر بعد ( جس کا وقت اس کی قدر اور اس کے ساتھ لگی مزاحمت کی قدر پر منحصر ہیے) بالکل شارٹ سرکٹ کی طرح behave کرتا ہیے کہ جیسے وہ سرکٹ میں لگا ہی نہیں ہیے
3) کیپیسٹر وولٹیج کی مقدار بڑھانے یا کم کرنے کے عمل کی مزاحمت کرتا ہیے ۔۔ یعنی rate of change of voltage کو مزاحمت کرتا ہیے ۔۔۔ اس لیے ایک ڈی سی سرکٹ میں switch کو on کرتے ہی یہ پہلے شارٹ سرکٹ کی طرح behave کرتا ہیے اور کچھ دیر بعد یہ open circuit ہو جاتا ہیے جب فل چارج ہو جاتا ہیے۔

از: سر انیس احمد صاحب

*محکمہ موسمیات کے مطابق سال 2025 میں دو سورج اور 2 چاند گرہن ہوں گے، سال کا پہلا سورج گرہن 29 مارچ کو ہوگا جو کہ پاکستان...
03/02/2025

*محکمہ موسمیات کے مطابق سال 2025 میں دو سورج اور 2 چاند گرہن ہوں گے، سال کا پہلا سورج گرہن 29 مارچ کو ہوگا جو کہ پاکستان میں دکھائی نہیں دے گا*
رواں سال کا دوسرا سورج گرہن 21 سے 22 ستمبر کو ہوگا یہ بھی پاکستان میں نظر نہیں آئے گا۔*

*اس کے علاوہ رواں سال کا پہلا چاند گرہن 14 مارچ کو ہوگا، پہلا چاند گرہن صبح 8 بجکر 57 منٹ پر شروع ہوگا، پاکستان میں اس وقت دن ہونے کی وجہ سے یہ چاند گرہن پاکستان میں دکھائی نہیں دے گا۔*
*سال 2025 کا دوسرا جزوی چاند گرہن 7 اور 8 ستمبر کی درمیانی شب ہوگا، یہ چاند گرہن رات 8 بج کر 28 منٹ پر شروع اور ایک بج کر 55 منٹ پر اختتام پذیر ہوگا، یہ چاند گرہن پاکستان سمیت یورپ، ایشیا اور افریقہ میں دکھائی دے گا۔*

*زمین پر سورج گرہن اُس وقت ہوتا ہے جب چاند گردش کے دوران سورج اور زمین کے درمیان میں آجاتا ہے، جس کے بعد زمین سے سورج کا کچھ یا پھر پورا حصہ نظر نہیں آتا۔*

*چاند گرہن اس وقت ہوتا ہے جب زمین چاند اور سورج کے درمیان آ جاتی ہے، جس سے چاند پر سورج کی روشنی نہیں پڑتی اور چاند نظر نہیں آتا، چاند گرہن کبھی جزوی اور کبھی مکمل ہوتا ہے، چاند گرہن کا جزوی یا مکمل ہونا اس کی گردش پر منحصر ہے۔**محکمہ موسمیات کے مطابق سال 2025 میں دو سورج اور 2 چاند گرہن ہوں گے، سال کا پہلا سورج گرہن 29 مارچ کو ہوگا جو کہ پاکستان میں دکھائی نہیں دے گا*
رواں سال کا دوسرا سورج گرہن 21 سے 22 ستمبر کو ہوگا یہ بھی پاکستان میں نظر نہیں آئے گا۔*

*اس کے علاوہ رواں سال کا پہلا چاند گرہن 14 مارچ کو ہوگا، پہلا چاند گرہن صبح 8 بجکر 57 منٹ پر شروع ہوگا، پاکستان میں اس وقت دن ہونے کی وجہ سے یہ چاند گرہن پاکستان میں دکھائی نہیں دے گا۔*
*سال 2025 کا دوسرا جزوی چاند گرہن 7 اور 8 ستمبر کی درمیانی شب ہوگا، یہ چاند گرہن رات 8 بج کر 28 منٹ پر شروع اور ایک بج کر 55 منٹ پر اختتام پذیر ہوگا، یہ چاند گرہن پاکستان سمیت یورپ، ایشیا اور افریقہ میں دکھائی دے گا۔*

*زمین پر سورج گرہن اُس وقت ہوتا ہے جب چاند گردش کے دوران سورج اور زمین کے درمیان میں آجاتا ہے، جس کے بعد زمین سے سورج کا کچھ یا پھر پورا حصہ نظر نہیں آتا۔*

*چاند گرہن اس وقت ہوتا ہے جب زمین چاند اور سورج کے درمیان آ جاتی ہے، جس سے چاند پر سورج کی روشنی نہیں پڑتی اور چاند نظر نہیں آتا، چاند گرہن کبھی جزوی اور کبھی مکمل ہوتا ہے، چاند گرہن کا جزوی یا مکمل ہونا اس کی گردش پر منحصر ہے۔**محکمہ موسمیات کے مطابق سال 2025 میں دو سورج اور 2 چاند گرہن ہوں گے، سال کا پہلا سورج گرہن 29 مارچ کو ہوگا جو کہ پاکستان میں دکھائی نہیں دے گا*
رواں سال کا دوسرا سورج گرہن 21 سے 22 ستمبر کو ہوگا یہ بھی پاکستان میں نظر نہیں آئے گا۔*

*اس کے علاوہ رواں سال کا پہلا چاند گرہن 14 مارچ کو ہوگا، پہلا چاند گرہن صبح 8 بجکر 57 منٹ پر شروع ہوگا، پاکستان میں اس وقت دن ہونے کی وجہ سے یہ چاند گرہن پاکستان میں دکھائی نہیں دے گا۔*
*سال 2025 کا دوسرا جزوی چاند گرہن 7 اور 8 ستمبر کی درمیانی شب ہوگا، یہ چاند گرہن رات 8 بج کر 28 منٹ پر شروع اور ایک بج کر 55 منٹ پر اختتام پذیر ہوگا، یہ چاند گرہن پاکستان سمیت یورپ، ایشیا اور افریقہ میں دکھائی دے گا۔*

*زمین پر سورج گرہن اُس وقت ہوتا ہے جب چاند گردش کے دوران سورج اور زمین کے درمیان میں آجاتا ہے، جس کے بعد زمین سے سورج کا کچھ یا پھر پورا حصہ نظر نہیں آتا۔*

*چاند گرہن اس وقت ہوتا ہے جب زمین چاند اور سورج کے درمیان آ جاتی ہے، جس سے چاند پر سورج کی روشنی نہیں پڑتی اور چاند نظر نہیں آتا، چاند گرہن کبھی جزوی اور کبھی مکمل ہوتا ہے، چاند گرہن کا جزوی یا مکمل ہونا اس کی گردش پر منحصر ہے۔*

Social Media Of Pakistani People In Ramadan Kareem....😲🤣
12/03/2024

Social Media Of Pakistani People In Ramadan Kareem....😲🤣

12/03/2024

اگر آپ نےیہ وڈیو نہیں دیکھی تو کچھ نہیں دیکھا ۔۔۔۔۔۔🥺🕋|| Beautiful Islamic Video

11/03/2024

*کل سے رمضان المبارک شروع ہو جائے گا۔۔ خیال رھے آپکی سحر و افطار میں کہیں فلسطینی مسلمانوں کا خون شامل نا ھو۔۔🙏*

10/03/2024

Respect The Elder 🤗 || Peer Sab Beautiful Massage 👌 || Don't miss end 🤔 ||

09/03/2024

Pesay Denay Wala Darakht 😯 || Pase Dene Waly Darakht Ka Raaz 🤔|| Don't miss end 🤣

One Like For This Post...👀❤️
07/03/2024

One Like For This Post...👀❤️

Address

Talagang, Mianwali Rod
Talagang
48222

Telephone

+923230981220

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when IT'S MTV posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category