SUN Poetry Naveed

SUN Poetry Naveed تم نے ہی کہا کہ تھا آنکھ بھر کے دیکھ لیا کرو مجھے !

اب تو آنکھ بھر آتی ہے مگر تم نظر نہیں آتے سیاست ہو یا محبت

جیتتا وہی ہے جو فریبی ہو

29/07/2026
ہمیشہ ہی نہیں رہتے چہرے نقابوں میں سبھی کردار کھلتے ہیں کہانی ختم ہونے پر
20/07/2026

ہمیشہ ہی نہیں رہتے چہرے نقابوں میں

سبھی کردار کھلتے ہیں کہانی ختم ہونے پر

20/07/2026

20/07/2026

15/07/2026

15/07/2026

ابتدا کے بعد انتہا کو دیکھا
عشق کے بعد میں نے خدا کو دیکھا

14/07/2026

💔🥹😞🙏

14/07/2026

بعد میں لوگ لوٹ کر نہیں آتے

بعد میں تعلق کو زنگ لگ جاتا ہے۔

بعد میں تعلق کی چابیاں بے اثر ہو جاتی ہے

بعد میں چائے ٹھنڈی ہو جاتی ہے بعد میں بال بکھرے رہتے ہیں

اور سب سے بڑھ کر یہ یہ کہ بعد میں تم نہیں ہوں گے.
بھول گئے ہیں کچھ لوگ ہمیں اس طرح
یقین مانو یقین ہی نہیں آتا ۔

Address

Swabi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SUN Poetry Naveed posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to SUN Poetry Naveed:

Shortcuts

Share

Category