28/07/2023
آپ 9-10 محرم کو کرکٹ کھیلیں آپ گھر میں پارٹی کریں آپ شادی کی تقریب منعقد کریں.آپ ڈیٹ پر جائیں , آپ چھتوں پر چڑھ کر پتنگ اڑائیں ..... کوئی بات نہیں.
آپ کربلا کی داستان سن کر نہ روئیں , کوئی آپ کو رونے پر کوئی مجبور نہیں کرتا اور یقین جانیے نہ ہی کیا جائے گا . آپکا دل بھی غمگین نہ ہو تو بھی آپ پر کوئی جبر نہیں.
آپ 4 سالہ معصوم سکینہ بنتِ الحسین سلام الللہ علیہ کے منہ پر پڑے زرو دار طمانچوں پربھی غمگین نہیں ہوتے جبکہ آپ خود اک بیٹی کے باپ ہیں تو کوئی بات نہیں۔ آپ 6 ماہ کے علی اصغر ۴ کے پیاسے گلے پر تیر لگنے پر بھی افسردہ نہیں ہوتے جبکہ آپ کا اپنا بچہ 6 ماہ کا ہے تو بھی کوئی بات نہیں. آپ نبی ِرحمت محمد مصطفی ص کے گھر کی ہی عورتوں کی چادریں چھننے پر بھی دکھ کا اظہار نہیں کرتے تو چلیں اس پر بھی آپ سے کوئی بحث نہیں۔
آپ بیمارِ کربلا جنابِ سجاد علیہ سلام کے پابند سلاسل ہونے اور اہلبیت ۴ کے قیدی قافلہ کی اونٹوں کی مہار تھام کر کربلا سے شام تک تازیانے کھانے پر بھی مطمئن ہیں اور آپ کو جنابِ عباس علم دار کا دریا سے پانی بھرنا اور اپنے بازو کٹوا دینا بھی اک عام حادثے جیسے ہی لگتا ہے تو بھی آپ سے بحث نہیں .
آپ کو نواسہ رسول ص جناب حسین علیہ سلام کو حالتِ نماز میں پشت پر سے زبح کر ڈالنا اور سر تن سے جدا کر کے نیزے پر بلند کرنا بھی کوئی رونے دھونے والا معاملہ نہیں دکھتا تو بھی خیر ہے.
مگر جو یہ سب سن کر روتے ہیں جن کا کلیجہ پھٹتا ہے یہ سب کچھ سن کر، جن کو 6 ماہ کے علی اصغر اور 4 سالہ سکیہ بنت الحسین پر ڈھائے جانے پر مظالم پر خون رونے کا دل کرتا ہے خدارہ ان کا تمسخر مت اڑائیں .ان کے رونے کو فقط اک رونا نہ کہیں.ان کا احترام نہ کریں مگر ان پر لعن طعن کرنے کا حق آپ نہیں رکھتے۔