30/01/2024
گندم سبسڈی کی تحریک اور جوانوں کا گریبان
حسن خان
پڑھا لکھا تعلیم یافتہ جوان مکمل تابعداری کررہے ہیں صوبائی وزیر راجہ ناصر خان کا۔ وہی فیس بک پر چورن بیچتا ہے کہ صرف گندم قیمتیں کم نہیں کرنا تھا اٹانومی چاہئے تھی۔۔۔۔ نیچے کومنٹس میں واہ واہ ۔۔۔۔۔ ملا بک گئے، تحریک وڑ گئی جیسی باتیں آتی ہیں، بندہ خوش ہوجاتا ہے۔
روز شہزاد آغا کے ساتھ سلفیاں لیتا ہے۔ خود کو قوم پرست کہتا ہے اور ضرورت کے مطابق جیالا بھی بنتا ہے۔ پی پی کی میٹنگ اور کھانے بھی کھاتے ہیں۔ وہ بھی ڈھٹائی سے لکھتا ہے کہ ہمیں تو کشمیر والا سیٹ اپ چاہئے۔ نگر والے بک گئے۔ مذہبی لوگ سودا کر رہے۔ صرف گندم کیلئے دھرنا نہیں دیا۔ نیچے پھر کومنٹس۔ واہ واہ۔ بےشک بے شک۔
امجد زیدی کے چیف سپورٹر۔ خود کو یوٹیوبر بھی، صحافی بھی اور سب کچھ کہلاتا ہے۔ پر امن احتجاج کرنے والوں کے خلاف ڈی سی کو لیٹر دیا کہ یہ دہشت گردی کرتے ہیں۔ وہ بھی فیس بک پر پوسٹ ٹھوک رہا ہے کہ مذہبی جماعت والے صرف گندم لے کر سودا کررہے۔ نیچے پھر کمنٹ آتا ہے۔ اپنے جیسے لوگ جی بھر کر برا بلا کہتا ہے۔ آزادی سے کم پر کوئی راضی نہیں۔
گندم کیلئے تحریک شروع ہوئی اور 35 دن دھرنا دیا گیا۔ سکردو میں ہوتے ہوئے۔ بازار گھومتے ہوئے کبھی یادگار پر دو منٹ نہیں بیٹھا۔ نعرہ لگاتے ہوئے شرم آتی ہے۔ بلکہ فیس بک پر کبھی تاجران کے خلاف کمنٹ کئے اور کبھی آغا علی پر تنقید کردی۔ مگر جب دھرنا جاری رہا اور شدت آتی گئی تو ایک دم سے فیس بک واٹس ایپ پر پوسٹ پر پوسٹ ٹھوکنا شروع کردیا کہ اب تحریک آزادی شروع ہوگئی ہے۔ حقوق لیں گے۔ اٹانومی لیں گے۔ یہ کریں گے وہ کریں گے۔ یعنی خود کچھ نہیں کریں گے۔ آغا علی اور غلام اطہر کو فیس بک کے ذریعے ہدایت سے رہے ہیں کہ وہ گلگت مارچ کریں۔ اسلام آباد مارچ کریں۔ اور سارے حقوق لیکر فیس بک لائیو پر بتائیں کہ یہ لو اٹانومی لے آیا ہوں تم اب ہمارے حق میں ایک پوسٹ ٹھوک کر مہربانی کردو۔ عمر بھر احسان مند رہیں گے۔
یہ ذہنیت ان چند نمونوں کی حد تک نہیں ہے۔ بعض اچھے صحافیوں کو چھوڑ کر بہت سے صحافی کہلانے والے لوگوں بھی یہی منافقت کرتے نہیں شرماتے۔ جیالا کہلانے والے بھی یہی کررہے ہوتے ہیں۔ نون لیک کے رہنماوں کا بھی یہی حال ہے اور کٹر منافقت کو اپنے لئے واجب سمجھتے ہیں۔ اب وفاق میں عمران خان اور علاقے میں راجہ ناصر اور مشتاق جیسے مفاد پرستوں کو واہ واہ کرنے والے ڈبل گیمر بھی یہی منافقت کررہے ہیں۔
وہ مولوی جو عوام کے مسئلے پر سامنے نہیں آتا اور اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں انکا تو تذکرہ کرنا ہی زیادتی ہے۔ وہ وزیر جو عوام کو سڑکوں پر دیکھتے شہروں میں عیاشی کرتے رہے انکی حیثیت تو مسخ ہوگئی ہے۔ یہ عوامی نمائندہ کہنے کے قابل نہیں رہے۔ عوام گندم کو ترستے رہے مگر یہ وزیر مشیر اور دوسرے پٹھو اپنی عیاشیوں میں مگن عوام کی بابت جھوٹے بیان دیتے رہے۔
جوانوں کو اب منافقت کرتے ہوئے شرم آنی چاہئے۔ جھوٹ بولتے ہوئے حیا کرنی چاہئے۔ خوشامدی کرنا عیب سمجھنا چاہئے۔ الزام تراشی کرنا اور حقیقت کو مسخ کرنا شیطان کا کام ہوتا ہے اسلئے حقائق کو سمجھ کر سچ بولنے کی ضرورت ہے۔ نہیں تو اپنے آپ کو دھوکہ دیتے رہ جائیں گے۔ ایک کے بعد دوسری اور دوسری سے تیسری مرتبہ جھوٹے اور مکار لوگوں کی خوشنودی کی کوشش میں علاقے اور عوام میں اپنی حیثیت اور تربیت بھی زیر سوال لاتے رہ جائیں گے۔ جو قربانی دے رہے ہیں انکی قدر کرنا سیکھیں۔ جو خیانت کررہے ہیں ان سے نفرت نہیں کرسکتے تو شناخت تو درست رکھیں۔ جو قوم کیساتھ کھڑے ہوتے ہیں انکے ساتھ کھڑے ہونے کی اوقات نہیں تو انکو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہوئے تو شرم محسوس کریں۔ کم از کم اپنے آپ کو دھوکہ دینے سے باز رہیں۔ یہ کم سے کم فریضہ اور زمہداری ہے کہ اپنا گریبان تو سنبھالیں۔