30/05/2026
چراغِ سحر
نسیمِ سحر چھیڑتی ہے رُباب
کہ بیدار ہوئے خوابیدہ گلاب
شبنم کے موتی پر پڑتی کرن
دھنک بن کے رنگوں میں نکھرتی کرن
فلک سے اترتی ہے اُجلی ضیا
کرنوں میں لپٹتی سنورتی ضیا
شبنم کے قطروں کو حدت ملی
گُلابوں کی خوشبو ہوا میں گھلی
چمکنے لگی شاخ پر روشنی
مچلنے لگی تتلیوں کی بنسی
فضا میں پرندوں کا نغمہ بہا
کہ شب کی خموشی کا پردہ گرا
گھٹائیں سنہری ردائیں لیے
پہاڑوں کی چوٹی پہ ادائیں لیے
صبا گنگناتی ہوئی چل پڑی
بہار اپنی خوشبو میں ڈھلنے لگی
چراغِ سحر نے دکھایا سماں
یہ منظر، یہ قدرت، یہ رنگین جہاں
شاعر: اشفاقؔ احمد بھٹی