30/05/2026
دیکھا ایک خواب تو یہ سلسلے ہوئے
دور تک نگاہوں میں ہیں گل کھلے ہوئے
یہ گلا ہے آپ کی نگاہوں سے
پھول بھی ہوں درمیاں تو فاصلے ہوئے
دیکھا ایک خواب تو
میری سانسوں میں بسی خوشبو تیری
یہ تیرے پیار کی ہے جادوگری
تیری آواز ہے ہواؤں میں
پیار کا رنگ ہے فضاؤں میں
دھڑکنوں میں تیرے گیت ہیں ملے ہوئے
کیا کہوں کے شرم سے ہیں لب سلے ہوئے
دیکھا ایک خواب تو
میرا دل ہے تیری پناہوں میں
آ چھپا لوں تجھے میں باہوں میں
تیری تصویر ہے نگاہوں میں
دور تک روشنی ہے راہوں میں
کل اگر نہ روشنی کے قافلے ہوئے
پیار کے ہزار دیپ ہیں جلے ہوئے
دیکھا ایک خواب تو