05/05/2026
دشمن ہمارے درمیان ہی ہیں، محراب اور منبر میں بیٹھے ہوئے،
اللہ ہی جانتا ہے کہ کل کس ملا کا نمبر آئے گا…
[عالم کی موت، پوری دنیا کی موت ہوتی ہے]
علمی اختلاف یا فقہی مسائل اس حد تک نہیں پہنچنے چاہئیں کہ انسان تعصب کا شکار ہو جائے، اور پھر اپنے عناد، جہالت اور حسد کی وجہ سے دوسرے انسان کو انسانیت کی حدود سے خارج کر دے۔
جیسے اللہ کا خوف (خشیتِ الٰہی) اب پیدا نہیں ہو رہا، تو پھر کب ہوگا؟
شیخ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ ایک عظیم محدث اور مسلمہ شخصیت تھے۔
اور شیخ دیوسہ (رح) اور محدثِ دوراں، فقیہِ زماں، فخرِ KPK، خال مہتمم صاحب (رح) جیسے لوگ بھی اپنی جگہ بڑی ہستیاں تھے، ہمیں چاہیے کہ ہم خود ساختہ درجے (گریڈ) بنا کر لوگوں کو نہ تولیں۔
استادِ محترم، اسیرِ اسلام الشیخ فضل محمد صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ کے مطابق اگر درجات (گریڈ) ہیں بھی، تو ان میں فرق کرنا بہت نازک اور مشکل کام ہے۔
بجلی گھر والے مولانا صاحب رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ پنج پیریوں کا مشن بہت خوبصورت تھا، مگر انہوں نے اپنے ہی لوگوں کی وجہ سے اسے خراب کر دیا۔
اسی طرح ایک دوست نے پوچھا کہ اگر ہمارے ساتھیوں میں اخلاص اور للّٰہیت زیادہ ہے، تو پھر ہم عام تبلیغی حضرات سے پیچھے کیوں ہیں؟
تو ہم نے جواب دیا کہ وہ لوگ نرمی، محبت اور اخلاق کے ساتھ اپنا مشن چلاتے ہیں، اور اللہ سے ان کا تعلق بھی ہم سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔
اگرچہ ان کا علم ہم سے کم ہو، مگر ہم نے تو اپنا کام صرف رد، تنقید اور اعتراض تک محدود کر لیا ہے۔
ہم ہر بات میں غلطیاں تلاش کرتے ہیں اور ہر وقت مسائل میں الجھے رہتے ہیں۔
مختصر یہ کہ اگر کوئی دوست غلط فہمی یا لاعلمی کی وجہ سے شیخ الحدیث صاحب (رح) کے بارے میں غلط اور بے بنیاد پوسٹیں کرتا ہے،
تو اللہ کے لیے ایسی بے دلیل افواہوں سے بچیں۔
جب ہم زندگی میں کسی کو معاف کرنے کو تیار نہیں ہوتے،
تو مرنے کے بعد اس کے لیے دعائیں اور استغفار بھی نہیں مانگ سکتے،
تو کم از کم مرنے کے بعد اس کا ذکر برائی سے نہ کریں۔
کچھ لوگ اپنے لیے دلائل گھڑتے ہیں کہ فسق و فجور کے ظاہر ہونے یا کسی بدعتی یا گمراہ شخص سے بدعات کے صادر ہونے کی وجہ سے یہ سب جائز ہے وغیرہ وغیرہ۔
تو بھائی! اگر بالفرض تمہاری بات ہم مان بھی لیں،
تو دلیل کے ساتھ بات کریں گے اور دلیل کے ساتھ ہی چھوڑیں گے۔
بے دلیل اور بغیر تحقیق کے کسی مسلمان کی تکفیر اور تحقیر کرنا
اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔