02/04/2026
جیسا ہوں ابھی ایسا پریشان نہیں تھا!
میں شہرِ محبّت کا نگہبان نہیں تھا!!
دامن کو کئے چاک میں پھرتا رہا اور وہ!
حیرت ہے مُجھے دیکھ کے حیران نہیں تھا!!
دُنیا کی سرابی تُجھے لے ڈوبی وگرنہ!
قسمت میں تری اتنا بھی نقصان نہیں تھا!!
جھیلا ہے جوانی میں کسی ہجر کا صدمہ!
صدمہ بھی وہ جِس کا کوئی امکان نہیں تھا!!
اِک روز محبّت نے ٹھکانہ کیا دل میں!
دِل ورنہ کبھی دشت سا ویران نہیں تھا!!
کِس بات سے پہنچے گی مجھے خوب اذیّت!
تھا علم اُسے! یعنی کہ انجان نہیں تھا!!
دل میں ہو اُداسی تو حسیں لگتے ہیں چہرے!
اِس واسطے چہرہ مرا سُنسان نہیں تھا!!
کر کے مُجھے رُسوا کی طلب اُس نے معافی!
کہتا ہے قسم لے لو مرا دھیان نہیں تھا!!
قسمت بھی تردّد سے بدل جاتی ہے اکثر!
اِس بات پہ اُس کا ذرا ایمان نہیں تھا!!
شوزب وہ یقیں رکھتا تو بچ جانا تھا اُس نے!
روتا تو بہت تھا مگر ایقان نہیں تھا!!
شوزب حکیم