Shozab Hakeem

Shozab Hakeem شاعر | Engineer

جیسا ہوں ابھی ایسا پریشان نہیں تھا!میں شہرِ محبّت کا نگہبان نہیں تھا!!دامن کو کئے چاک میں پھرتا رہا اور وہ!حیرت ہے مُجھے...
02/04/2026

جیسا ہوں ابھی ایسا پریشان نہیں تھا!
میں شہرِ محبّت کا نگہبان نہیں تھا!!

دامن کو کئے چاک میں پھرتا رہا اور وہ!
حیرت ہے مُجھے دیکھ کے حیران نہیں تھا!!

دُنیا کی سرابی تُجھے لے ڈوبی وگرنہ!
قسمت میں تری اتنا بھی نقصان نہیں تھا!!

جھیلا ہے جوانی میں کسی ہجر کا صدمہ!
صدمہ بھی وہ جِس کا کوئی امکان نہیں تھا!!

اِک روز محبّت نے ٹھکانہ کیا دل میں!
دِل ورنہ کبھی دشت سا ویران نہیں تھا!!

کِس بات سے پہنچے گی مجھے خوب اذیّت!
تھا علم اُسے! یعنی کہ انجان نہیں تھا!!

دل میں ہو اُداسی تو حسیں لگتے ہیں چہرے!
اِس واسطے چہرہ مرا سُنسان نہیں تھا!!

کر کے مُجھے رُسوا کی طلب اُس نے معافی!
کہتا ہے قسم لے لو مرا دھیان نہیں تھا!!

قسمت بھی تردّد سے بدل جاتی ہے اکثر!
اِس بات پہ اُس کا ذرا ایمان نہیں تھا!!

شوزب وہ یقیں رکھتا تو بچ جانا تھا اُس نے!
روتا تو بہت تھا مگر ایقان نہیں تھا!!

شوزب حکیم

ایسے قسمت میں سَحَر آ جائے!درد لِکھنے کا ہُنر آ جائے!!رنجِ نمناک کو اِس دُنیا سے!نہ مِلے کُچھ تو اِدھر آ جائے!!روح یعقوب...
17/03/2026

ایسے قسمت میں سَحَر آ جائے!
درد لِکھنے کا ہُنر آ جائے!!

رنجِ نمناک کو اِس دُنیا سے!
نہ مِلے کُچھ تو اِدھر آ جائے!!

روح یعقوب ہوئی جاتی ہے!
اُس کی کُچھ خیر خبر آ جائے!!

چشم پہچان نہیں کر پاتی!
گر کبھی رستے میں گھر آ جائے!!

حسرتِ دید کے مَرنے سے قبل!
یہ دُعا ہے وہ نظر آ جائے!!

بےثباتی کو سمجھنے کے بعد!
موت نعمت ہے اگر آ جائے!!

نہ کوئی زاد! نہ ساتھی! نہ دُعا!
اور پھر سَر پہ سفر آ جائے!!

وہ محبّت کے محافظ شوزب؟
جِن کے دل میں کوئی ڈر آ جائے!!

شوزب حکیم

03/01/2026

مجھ کو درپیش مسائل تو بہت ہیں لیکن!
ترکِ الفت پہ دلائل تو بہت ہیں لیکن!!

وہ بھی آنکھوں سے ہی کرتا ہے ہمیشہ باتیں!
ہم بھی اُس آنکھ کے قائل تو بہت ہیں لیکن!!

شوزب حکیم

وہ روز چوٹ لگاتا ہے لوٹ جاتا ہے!ہمارا درد بڑھاتا ہے لوٹ جاتا ہے!!ہماری آنکھ کی غربت سمجھتا ہے پھر بھی!ادھورے خواب دِکھات...
15/11/2025

وہ روز چوٹ لگاتا ہے لوٹ جاتا ہے!
ہمارا درد بڑھاتا ہے لوٹ جاتا ہے!!

ہماری آنکھ کی غربت سمجھتا ہے پھر بھی!
ادھورے خواب دِکھاتا ہے لوٹ جاتا ہے!!

وہ ہم سے بات نہیں کرتا پر پرندوں کو!
ہمارے گیت سُناتا ہے لوٹ جاتا ہے!!

ہم ایسے لوگ سدا مفلسی ہی جھیلتے ہیں!
ہمیں ہی وقت ستاتا ہے لوٹ جاتا ہے!!

سکون نام کا پنچھی ہزار سال کے بعد!
ہمارے شہر میں آتا ہے لوٹ جاتا ہے!!

وہ جِس کے نین جلاتے ہیں دیپ دنیا کے!
وہ میرے دِل کو بُجھاتا ہے لوٹ جاتا ہے!!

ہر ایک رات اُمڈ آنے والا روشن چاند!
ذرا سی آس دِلاتا ہے لوٹ جاتا ہے!

یہ ایک خواب اذیّت کو گھٹنے دیتا نہیں!
وہ آ کے ہاتھ لگاتا ہے لوٹ جاتا ہے!!

میں کِس طرح سے جُدائی کا ڈر سنبھالوں بتا!
یہ ڈر تو آنکھ مِلاتا ہے لوٹ جاتا ہے!!

شوزب حکیم

04/11/2025

"کمی"

کوئی یاد لگاتار موجود رہتی ہے!
اداسی بھی اتنی ہے کہ خُدا کی پناہ!
ماحول کا خوف بھی ویسے ہی زندہ ہے!
دنیا آج بھی اُتنی ہی بُری لگتی ہے!
لیکن!
اب مجھ سے کوئی شعر نہیں ہوتا!
جانے کیا کمی ہے؟

شوزب حکیم

01/11/2025

دنیا کس قدر تنگ پڑ گئی ہے!
آخری خط لکھنا چاہتا ہوں اور!
کوئی نام ذہن میں آ نہیں رہا!!

شوزب حکیم

31/10/2025

"تروینی"

تجھ کو لاعلم ہی خُدا رکّھے!
یہ بھی اک قِسم کی دُعا ہی ہے!

جان لینا بڑی اذیّت ہے!!

شوزب حکیم

اُلجھا اور مقسوم رہا ہے یاد کا پنچھی!یُوں کچھ دن مغموم رہا ہے یاد کا پنچھی!!وصل کے لمحے داب کے پنجوں میں دُکھ سے چُور!جن...
29/10/2025

اُلجھا اور مقسوم رہا ہے یاد کا پنچھی!
یُوں کچھ دن مغموم رہا ہے یاد کا پنچھی!!

وصل کے لمحے داب کے پنجوں میں دُکھ سے چُور!
جنگل جنگل گھوم رہا ہے یاد کا پنچھی!!

وحشت بڑھنے پر اتنا بےچین ہُوا ہے!
ورنہ تو معصوم رہا ہے یاد کا پنچھی!!

برسوں بعد اماوس میں برسات ہوئی ہے!
اِس کَارَن ہی جھوم رہا ہے یاد کا پنچھی!!

تنہا برسوں زرد اُداسی کی زد میں تھا!
اتنا تو مظلوم رہا ہے یاد کا پنچھی!!

جِن پیڑوں پر ہم نے مِل کر نام لِکھا تھا!
اُن پیڑوں کو چوم رہا ہے یاد کا پنچھی!!

سخت ریاضت کی پر منزل ہاتھ نہ آئی!
شوزب یُوں میشوم رہا ہے یاد کا پنچھی!!

شوزب حکیم

ایک پتّھر سے محبّت کی ہے!اِس طرح ہم نے ریاضت کی ہے!!شام ڈھلنے پہ بھی وہ لوٹا نہیں!آج پھر اُس نے قیامت کی ہے!!آپ کا نام ل...
28/10/2025

ایک پتّھر سے محبّت کی ہے!
اِس طرح ہم نے ریاضت کی ہے!!

شام ڈھلنے پہ بھی وہ لوٹا نہیں!
آج پھر اُس نے قیامت کی ہے!!

آپ کا نام لے لے کر ہم نے!
روز ہی شہر میں وحشت کی ہے!!

رنگ بیچے ہیں اُداسی کے عوض!
ہم نے کیا خوب تجارت کی ہے!!

مُجھے پیارا تھا وہ اِک دُکھ جِس نے!
آنکھ کے راستے ہجرت کی ہے!!

ایک نسبت کے سبب راز کُھلے!
ہم نے پھر جو جو زیارت کی ہے!!

کون دریا کو اُٹھا لایا ہے!
کون ہے جِس نے یہ ہمّت کی ہے!!

کِس کو شوزب یہ سمجھ آئے گی!
جِس طرح تُم نے وضاحت کی ہے!!

شوزب حکیم

آنکھ ہے اور پانی پانی ہے!رائیگانی ہی رائیگانی ہے!!شاہ رگ سے قریب رہتے ہو!یہ بھلا کیسی لامکانی ہے!!آپ بھی مثلِ دُنیا ہی ت...
24/10/2025

آنکھ ہے اور پانی پانی ہے!
رائیگانی ہی رائیگانی ہے!!

شاہ رگ سے قریب رہتے ہو!
یہ بھلا کیسی لامکانی ہے!!

آپ بھی مثلِ دُنیا ہی تو ہیں!
آپ نے کونسا نِبھانی ہے!!

شام ہونی ہے زندگی کی شام!
اک یہی بات بس سُہانی ہے!!

کیوں لگاؤں نہ ہجر سینے سے!
یہ مِرے یار کی نشانی ہے!!

بس اُداسی ہی مستقل ہے یہاں!
باقی ہر چیز آنی جانی ہے!!

تھک گیا ہے تُمہارا شوزب اب!
ختم ہوتی ہوئی کہانی ہے!!

شوزب حکیم

دل کے مکین چھوڑ گئے اپنا ہی مکاں!نہ وہ رہے نہ اُن کی محبّت رہی یہاں!!تم نے قلم اٹھا تو لیا پر یہ سوچ لو!کیسے کرو گے اتنی...
30/09/2025

دل کے مکین چھوڑ گئے اپنا ہی مکاں!
نہ وہ رہے نہ اُن کی محبّت رہی یہاں!!

تم نے قلم اٹھا تو لیا پر یہ سوچ لو!
کیسے کرو گے اتنی اُداسی کو تم بیاں؟

وہ تو بچھڑ رہا ہے ابھی خوش بھی ہے مگر!
ڈھونڈے گا پاگلوں کی طرح پھر مِرے نشاں!

زنجیر پیر میں تھی مگر بھار اور کہیں!
رہنا بدن تھا اور رہی روح ہی گراں!!

قائل کرے گا پھر سے جدائی پہ وہ مجھے!
پھر سے گِرے گا سر پہ مرے وہ ہی آسماں!!

وحشت نے، ہجر اور اُداسی نے یہ کِیا!
خود کو ہی اپنے حال کا اب کچھ نہیں گُماں!

میں اِک فسوں کی قید میں ہوں سو خموش ہوں!
ورنہ تو ایک آگ ہے میرے دروں نہاں!!

شوزب حکیم

25/07/2025

میں حادثے کی جگہ سب سے پہلے پہنچا تھا!
پھر ایک عمر میں نے ایک صدمہ جھیلا تھا!!

ہنسی خوشی جو بسر کر دیا گیا جیون!
وہ اور کچھ بھی نہیں تھا بس ایک سپنا تھا!!

ہم آج شہرِ خموشاں سے گُزرے تب یہ کُھلا!
کہ تھوڑا بولنے کا کیوں بڑوں نے بولا تھا!!

چراغ دست و گریباں تھے پھر ہواؤں سے!
کسی بزرگ کی مرقد پہ آج میلا تھا!!

بنا بنایا ہُوا کھیل کیوں بگاڑ دیا!
میں اچّھا خاصا ابھی دشت میں اکیلا تھا!!

انا کے نام محبّت تمام کر دی تھی!
گو فیصلہ ذرا مشکل تھا لیکن اچّھا تھا!!

دلِ تباہ میں مسکن کی چاہ رکھتے تھے!
کسی کسی کو محبّت نے ایسے مارا تھا!!

خموش رہ کے بھی اندر کا شور کم نہ ہُوا!
نجانے کِس نے خموشی کو مار ڈالا تھا!!

پھر ایک روز کہانی کچھ ایسے ختم ہوئی!
کہیں پہ میں تھا کہیں پر مِرا بُڑھاپا تھا!!

میں شرم سار تھا شوزب کہ ساتھ چل نہ سکا!
مگر وہ جیسے ہنسا دل تبھی تو ٹوٹا تھا!!

شوزب حکیم

Address

Sharaqpur Shareef, Sheikhupura, Punjab
Sharqpur
39460

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shozab Hakeem posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Shozab Hakeem:

Share

Category