16/09/2026
۔ المانی/ المانے ( رند )
********------********
المانی یا المانے قوم کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے اسے محض کسی ایک گاؤں، ضلع یا موجودہ برادری تک محدود کرنا درست نہیں۔ دستیاب قدیم نسلیاتی مواد سے یہ نام ایک وسیع بلوچ قبائلی پس منظر میں سامنے آتا ہے۔ انیسویں صدی کے آخر کے ایک اہم تصنیفی ماخذ A Short Sketch, Historical and Traditional of the Musalman Races Found in Sindh, Baluchistan and Afghanistan میں رند قبیلے کی ذیلی شاخوں کی فہرست دی گئی ہے اور اس میں Almani کا نام باقاعدہ طور پر شامل ہے۔ یہ اس تحقیق کی سب سے اہم ابتدائی دستاویزی بنیاد ہے، کیونکہ اس سے کم از کم اتنا ضرور ثابت ہوتا ہے کہ المانی نام برطانوی دور سے پہلے کی بلوچ قبائلی شناخت کے تسلسل میں محفوظ تھا اور اسے رندوں کے دائرۂ نسب میں شمار کیا جاتا تھا۔
المانی قوم کے دورِ آغاز کو سمجھنے کے لیے بلوچوں کی عمومی تاریخ ضروری ہے، لیکن اسے المانیوں کی مخصوص تاریخ سمجھ لینا غلط ہوگا۔ بلوچ قبائلی روایت میر جلال خان کو ایک قدیم مشترکہ شخصیت کے طور پر پیش کرتی ہے اور رند، لاشاری، ہوت، کورائی اور جتوئی بڑے قبائلی سلسلوں کو اسی روایتی نسب سے وابستہ کرتی ہے۔ جدید تاریخ نگاری اس پورے شجرے کو لفظ بہ لفظ ثابت شدہ نسب نامہ نہیں سمجھتی، مگر بلوچ قبائل کی تشکیل اور مختلف قبائلی اتحادوں کے وجود کو تاریخی حقیقت تسلیم کرتی ہے۔ اس لحاظ سے رند ایک بڑا قبائلی مجموعہ تھا جس کے اندر وقت کے ساتھ متعدد شاخیں شامل یا الگ شناخت اختیار کرتی رہیں۔
بلوچوں کی تاریخ میں تیرہویں اور چودھویں صدی کے دوران سندھ کی طرف نقل مکانی کا ذکر ملتا ہے، جبکہ پندرھویں صدی میں ایک بڑی لہر جنوبی پنجاب کی طرف بڑھی۔ اسی زمانے میں میر چاکر رند کی شخصیت سامنے آتی ہے، جس کے گرد رند قبائلی طاقت نے غیر معمولی شہرت حاصل کی۔ رند و لاشاری تنازع نے بلوچ تاریخ پر گہرا اثر ڈالا۔ طویل جنگ کے نتیجے میں قبائلی طاقتیں منتشر ہوئیں اور مختلف خاندان و شاخیں نئے علاقوں کی طرف منتقل ہوئیں۔ یہی وہ وسیع تاریخی ماحول ہے جس میں رند سے متعلق المانی جیسی شاخوں کے بعد کے جغرافیائی پھیلاؤ کو سمجھنا چاہیے۔
لیکن یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ موجودہ تمام المانی خاندان براہ راست میر چاکر کے کسی ایک بیٹے یا پوتے سے نکلے اور فلاں مخصوص سال میں ایک ساتھ پنجاب پہنچے۔ ایسا مخصوص شجرہ ابھی دستیاب معتبر تاریخی مواد سے ثابت نہیں ہوتا۔ زیادہ محتاط تاریخی نتیجہ یہ ہے کہ المانی رند قبائلی دائرے کی ایک شاخ کے طور پر سامنے آتے ہیں اور ان کی بعد کی آبادیاں بلوچوں کی صدیوں پر محیط مشرقی نقل مکانی کے وسیع عمل کا حصہ معلوم ہوتی ہیں۔
پندرھویں اور سولہویں صدی جنوبی پنجاب کی تاریخ میں فیصلہ کن زمانہ تھا۔ رند بلوچوں کے مختلف گروہ سبی اور ملحقہ علاقوں سے نکل کر پنجاب کی وادیوں میں پھیلتے گئے۔ معتبر علمی مواد کے مطابق رندوں کے گروہ چناب، راوی اور ستلج کی وادیوں تک پہنچے، جبکہ ملتان کے لنگاہ دور میں بلوچوں کو فوجی خدمات کے عوض جاگیریں دیے جانے کا ذکر ملتا ہے۔ مغل شہنشاہ بابر کے پنجاب پہنچنے تک بلوچ جنگجو علاقے میں موجود تھے اور بعد میں مغل سیاست و فوجی معاملات میں بھی بلوچوں نے کردار ادا کیا۔
یہی وہ تاریخی دروازہ ہے جس سے جنوبی پنجاب میں المانیوں کی موجودگی کو دیکھنا چاہیے۔ ممکن ہے بعض خاندان سندھ کے راستے آئے ہوں، بعض رند گروہوں کے ساتھ براہ راست پنجاب پہنچے ہوں اور بعض بعد کی صدیوں میں دریائے سندھ کے کناروں کے ساتھ نقل مکانی کرتے ہوئے نئے علاقوں میں آباد ہوئے ہوں۔ اس لیے المانی قوم کی تاریخ ایک سیدھی لکیر کے بجائے مختلف شاخوں اور مختلف ادوار کی تاریخ معلوم ہوتی ہے۔
بلوچستان اور کچھی المانی قوم کے قبائلی پس منظر کو سمجھنے کے لیے اہم ہیں، کیونکہ رند طاقت کا تاریخی مرکز اسی وسیع خطے میں رہا۔ سبی، کچھی اور مشرقی بلوچستان وہ علاقے تھے جہاں رند قبائلی اتحاد نے سیاسی و عسکری قوت حاصل کی۔ لیکن ابھی دستیاب مواد کی بنیاد پر کسی مخصوص موجودہ المانی بستی کو براہ راست بلوچستان کے کسی خاص المانی موضع سے جوڑ دینا قبل از وقت ہوگا۔
سندھ المانی قوم کی تاریخ کا دوسرا بڑا میدان ہے۔ یہاں المانی نام صرف نسبی فہرستوں تک محدود نہیں بلکہ جدید قبائلی اور سیاسی زندگی میں بھی نمایاں ہے۔ سندھ کے قبائلی ماحول میں المانیوں کی سرداری شناخت موجود رہی ہے۔ اخباری ریکارڈ میں ایک اہم نام سردار محمد عثمان المانی کا سامنے آتا ہے، جو المانی قبیلے کی نمائندگی کرنے والی نمایاں شخصیت کے طور پر مذکور ہیں۔ 2004 کے ایک معروف قبائلی تنازع کے سلسلے میں المانی برادری کی نمائندگی بھی انہی کے نام سے سامنے آئی، جس سے کم از کم اتنا واضح ہوتا ہے کہ جدید سندھ میں المانیوں کا ایک منظم قبائلی ڈھانچہ اور تسلیم شدہ قیادت موجود تھی۔
سندھ میں المانیوں کے حوالے سے نواب شاہ، نوشہروفیروز، سکھر اور وسطی سندھ کے بعض علاقوں کے سراغ ملتے ہیں۔ جدید برادری کے اپنے ذرائع میں نوشہروفیروز کے سردار محمد عثمان خان المانی اور میر علی خان کا ذکر نمایاں افراد کے طور پر کیا گیا ہے، تاہم ان مقامی دعوؤں کی مکمل تاریخی دستاویزات ابھی الگ سے جانچنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح مقامی مواد المانیوں کو زراعت اور زمین داری سے وابستہ بتاتا ہے، جو سندھ کے وڈیرہ دارانہ نظام میں ان کے سماجی مقام کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
یہاں المانی قوم کی ایک اہم سماجی خصوصیت سامنے آتی ہے۔ بلوچستان کے روایتی قبائلی معاشرے سے نکل کر سندھ اور پنجاب کے میدانی علاقوں میں آنے والے بہت سے بلوچ قبائل نے مستقل زراعت اختیار کی۔ نتیجتاً ان کی شناخت صرف جنگجو قبیلے کی نہ رہی بلکہ بڑے زمیندار، وڈیرے، نمبردار اور مقامی بااثر خاندان کے طور پر بھی ابھری۔ المانیوں کی تاریخ بھی غالباً اسی تبدیلی کا حصہ ہے: قبائلی شناخت + زمین داری + مقامی سیاسی اثرورسوخ۔
جنوبی پنجاب میں المانیوں کی موجودگی خاص توجہ کی مستحق ہے۔ مظفرگڑھ، غازی گھاٹ، جھنگ اور دوسرے علاقوں سے المانی خاندانوں کے سراغ ملتے ہیں۔ مقامی برادری کے مواد میں ضلع جھنگ کے المانیوں کو بڑی حد تک زمیندار اور انتخابی سیاست میں شریک بتایا گیا ہے، جبکہ مظفرگڑھ اور غازی گھاٹ کے المانی خاندانوں کو زراعت، ملازمت اور تدریسی شعبے سے وابستہ قرار دیا گیا ہے۔ تاہم ان جدید دعوؤں کو قدیم سیٹلمنٹ ریکارڈ، انتخابی فہرستوں اور ضلعی گزیٹیئرز کے ساتھ ملانا ضروری ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ کون سا خاندان کب سے کس علاقے میں آباد ہے۔
غازی گھاٹ اور دریائے سندھ کا مشرقی کنارہ اس سلسلے میں خصوصی تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ علاقہ صدیوں تک مختلف بلوچ قبائل کے درمیان نقل و حرکت کا قدرتی راستہ رہا۔ دریائی راستوں، چراگاہوں، بعد میں زراعت اور پھر نہری نظام نے مختلف قبائل کو مستقل آبادی کی طرف منتقل کیا۔ اس لیے اگر المانی خاندان یہاں قدیم آباد ہیں تو ان کی تاریخ کو صرف موجودہ تحصیل یا ضلع کی سرحدوں سے نہیں بلکہ ڈیرہ غازی خان، غازی گھاٹ، دریائے سندھ اور مظفرگڑھ کے مشترک تاریخی جغرافیے میں دیکھنا چاہیے۔
برطانوی دور المانی قوم کی تاریخ کا شاید سب سے زیادہ قابلِ تحقیق زمانہ ہے۔ انگریزوں نے پنجاب اور سندھ میں زمین کی پیمائش، مردم شماری، سیٹلمنٹ، نمبرداری اور ذیلداری کا ایک تفصیلی انتظامی نظام قائم کیا۔ یہی وہ دور ہے جہاں کسی قوم کی سماجی حیثیت نسبتاً واضح دستاویزات میں سامنے آ سکتی ہے۔ بڑے زمینداروں کے نام، موضع، رقبہ، نمبردار اور ذیلدار کے عہدے، اعزازی مجسٹریٹ، ضلع بورڈ کے ارکان اور سرکاری وفاداریوں کے صلے میں ملنے والے اعزازات ریکارڈ ہونے لگے۔
المانی قوم کی مکمل تاریخ میں اس مرحلے کو خاص اہمیت حاصل ہوگی، کیونکہ اصل سوال یہی ہے کہ کیا المانی خاندانوں میں کوئی ذیلدار، لمبردار، اعزازی مجسٹریٹ، جاگیردار یا برطانوی حکومت کا اعزاز یافتہ شخص موجود تھا؟ یہ سوال ابھی کھلا ہے اور اسے مخصوص ضلع وار ریکارڈ سے حل کرنا ہوگا۔ عمومی بلوچ تاریخ سے کسی مخصوص المانی خاندان کے عہدے کا دعویٰ کرنا درست نہیں۔
سکھ دور میں جنوبی پنجاب کا سیاسی منظر مسلسل بدلتا رہا۔ ملتان، ڈیرہ جات اور مظفرگڑھ کے علاقوں میں مقامی بلوچ، سدوزئی، قریشی، جتوئی اور دیگر خاندان مختلف اوقات میں سکھ حکومت اور مقامی طاقتوں سے تعلق رکھتے تھے۔ اگر کسی المانی خاندان نے اس دور میں جاگیر یا سرکاری نوازش حاصل کی تو اس کا ثبوت سنَدات، سیٹلمنٹ ریکارڈ یا بعد کے برطانوی گزیٹیئرز سے تلاش کرنا ہوگا۔ فی الحال المانیوں کے بارے میں ایسی کسی مخصوص جاگیر کو تاریخی حقیقت کے طور پر لکھنا قبل از وقت ہوگا۔
سیاسی میدان میں المانی نام سندھ کے قبائلی سیاست کے تناظر میں زیادہ واضح طور پر سامنے آتا ہے۔ سردار محمد عثمان المانی کی حیثیت اس بات کی علامت ہے کہ المانی قوم نے جدید دور میں بھی اپنی سرداری اور قبائلی نمائندگی برقرار رکھی۔ قبائلی سردار صرف روایتی حیثیت نہیں رکھتے بلکہ سندھ میں ایسے خاندان انتخابی سیاست، زمین داری، جرگہ نظام اور مقامی انتظامی معاملات میں بھی اثر رکھتے رہے ہیں۔
المانی قوم کی جدید تاریخ کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ مختلف علاقوں میں اس کی سماجی ساخت یکساں نہیں۔ سندھ میں بعض المانی خاندان قبائلی سرداری اور زمین داری کے حوالے سے نمایاں ہیں، جبکہ جنوبی پنجاب میں المانی شناخت زیادہ تر زراعت، تعلیم، سرکاری ملازمت اور مقامی سماجی اثر کے ساتھ ملتی ہے۔ جھنگ کے بعض خاندان انتخابی سیاست میں شریک رہے، جبکہ غازی گھاٹ اور مظفرگڑھ کے متعلق مقامی معلومات تعلیم اور تدریسی پیشوں میں نمایاں وابستگی کی بات کرتی ہیں۔
علمی اور ادبی شخصیات کے معاملے میں ابھی محتاط رہنا ضروری ہے۔ عمومی بلوچ قوم میں بڑے مورخ، محقق، شاعر اور ماہرین لسانیات کی ایک طویل فہرست موجود ہے، مگر ان میں سے ہر بلوچ شخصیت کو المانی کہنا غلط ہوگا۔ المانی قوم کے اپنے مخصوص ادیبوں، شاعروں، اساتذہ، پروفیسروں، محققین اور بیوروکریٹس کی فہرست الگ شناخت اور خاندانی تصدیق کے بعد ہی شامل ہونی چاہیے۔ یہی اصول فوجی افسران، ججوں، پولیس افسران، ڈاکٹروں اور صنعتکاروں پر بھی لاگو ہوگا۔
اسی طرح مخیر حضرات اور سماجی کارکنوں کے معاملے میں بھی تاریخ کو خاندان کی شہرت سے الگ رکھنا ہوگا۔ اگر کسی المانی شخصیت نے مسجد، مدرسہ، اسکول، کالج، ڈسپنسری، ہسپتال، سڑک یا عوامی منصوبہ قائم کیا تو اس کا نام، مقام اور خدمت ضرور المانی قوم کی تاریخ میں شامل ہونی چاہیے۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو کسی قوم کے اصل سماجی کردار کو ظاہر کرتی ہیں۔
صنعت و تجارت کے میدان میں بھی المانی قوم کی تحقیق صرف روایتی زمینداری تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ پاکستان کے جدید دور میں بہت سے قبائلی خاندان زراعت سے تجارت، ٹھیکیداری، صنعت، بیرون ملک کاروبار اور جدید پیشوں کی طرف منتقل ہوئے۔ المانی خاندانوں میں بھی اگر نمایاں صنعتکار، کاروباری شخصیات یا بڑے تجارتی ادارے ملتے ہیں تو انہیں شامل کرنا ضروری ہوگا، لیکن اس کے لیے صرف نام کی مماثلت کافی نہیں ہوگی۔
تاریخ کے روشن رخ کے ساتھ اس کا تاریک رخ بھی شامل ہونا چاہیے۔ سندھ اور جنوبی پنجاب کی قبائلی تاریخ میں زمین، پانی، عزت، خون اور طاقت کے جھگڑوں نے کئی نسلوں کو متاثر کیا۔ بعض افراد کو سرکاری ریکارڈ نے ڈاکو کہا، بعض کو مقامی لوگ مزاحمت کار سمجھتے رہے۔ کچھ خاندان جرائم کے بجائے سیاسی دشمنیوں میں مشہور ہوئے۔ اس لیے المانی قوم کے اندر اگر کوئی ایسا شخص تاریخی طور پر معروف ہوا جس کا نام ڈاکو، لٹیرے، مسلح گروہ، قتل، قبائلی جنگ یا ریاست مخالف سرگرمیوں سے وابستہ رہا ہو تو اسے بھی تحقیق سے خارج نہیں کیا جائے گا۔
لیکن یہاں ایک بنیادی اصول ضروری ہے: جرم کے الزام اور تاریخی شہرت میں فرق ہے۔ کسی زندہ یا حالیہ شخصیت کے بارے میں غیر ثابت شدہ الزام کو تاریخ کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔ جبکہ کسی قدیم کردار کو اگر سرکاری ریکارڈ، عدالتی فیصلے اور متعدد تاریخی ذرائع ایک ہی حیثیت سے پیش کریں تو اس کا ذکر ممکن ہے۔ اسی طرح بعض برطانوی ریکارڈ جنہیں “ڈاکو” کہتے ہیں، مقامی روایات انہیں مزاحمت کار قرار دیتی ہیں؛ دونوں بیانیوں کو الگ الگ سمجھنا چاہیے۔
المیوں اور داخلی تنازعات سے کوئی قبائلی تاریخ خالی نہیں ہوتی۔ رند و لاشاری جنگ خود اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ بلوچ قبائل کی تاریخ صرف بہادری کی داستان نہیں بلکہ طاقت کی کشمکش، انتقام، ہجرت اور بقا کی تاریخ بھی ہے۔ المانی قوم نے بھی اگر رند قبائلی دنیا سے اپنی شناخت حاصل کی ہے تو اس تاریخی مزاج کے اثرات ان کی ابتدائی اجتماعی روایت میں ضرور رہے ہوں گے، اگرچہ ہر المانی خاندان کو جنگجو کہنا درست نہیں۔
المانی قوم کی زبان اور ثقافتی تبدیلی بھی قابلِ ذکر ہے۔ قبائلی شناخت باقی رہتے ہوئے زبان بدل جانا جنوبی ایشیا کے بلوچ قبائل میں عام تاریخی عمل رہا۔ بلوچستان میں بلوچ قبائل بلوچی سے وابستہ رہے، سندھ پہنچنے والے بہت سے خاندان سندھی بولنے لگے، جبکہ جنوبی پنجاب کے بلوچ سرائیکی بولنے لگے۔ اس طرح زبان کی تبدیلی کو نسل یا قبیلے کی تبدیلی سمجھنا غلط ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی المانی خاندان کے مختلف جغرافیائی حلقوں میں بولی، لباس، رسم و رواج اور سماجی ڈھانچہ مختلف ہو سکتا ہے، مگر قبائلی نام مشترک رہتا ہے۔
اس پوری تحقیق سے اب تک المانی قوم کا ایک نسبتاً واضح تاریخی نقشہ بنتا ہے۔ ان کی شناخت ایک قدیم بلوچ قبائلی دائرے میں ملتی ہے اور دستیاب نسلیاتی فہرست انہیں رند کی شاخ قرار دیتی ہے۔ رند قبائل کی پندرھویں صدی کی بڑی نقل مکانی جنوبی پنجاب تک پہنچی اور بلوچوں کا پھیلاؤ سندھ، ڈیرہ جات، چناب اور ستلج کی وادیوں تک ہوا۔ المانیوں کی مختلف شاخیں بھی غالباً اسی طویل اور مرحلہ وار نقل مکانی کے عمل میں مختلف علاقوں تک پہنچیں۔
ان کی موجودہ جغرافیائی تاریخ کم از کم تین بڑے حلقوں میں دیکھی جا سکتی ہے: بلوچستان و کچھی کا قبائلی پس منظر، سندھ کا سرداری و زمین دارانہ حلقہ، اور جنوبی پنجاب کا زرعی و سماجی حلقہ۔ ان کے اندر مختلف ادوار میں سردار، بڑے زمیندار، مقامی سیاسی کارکن، انتخابی امیدوار، سرکاری ملازمین، اساتذہ اور دیگر پیشہ ور طبقات پیدا ہوئے ہوں گے، مگر ان سب کی نام وار فہرست کو ابھی مزید مخصوص سرکاری و مقامی ریکارڈ سے نکالنا باقی ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ المانی قوم کی تاریخ کو اب صرف اس ایک جملے پر ختم نہیں کرنا چاہیے کہ “یہ رند بلوچ ہیں”۔ ایک مکمل قوم نامہ میں یہ سب شامل ہونا چاہیے:
اصل نسب، قدیم وطن، ہجرت کے راستے، بلوچستان، سندھ اور پنجاب کی آبادیاں، ہر علاقے کے بڑے خاندان، سردار، جاگیردار، زمیندار، نمبردار و ذیلدار، سکھ و برطانوی دور کے عہدے دار، سیاست دان، فوجی و بیوروکریٹس، علما، مشائخ، ادیب، شاعر، اساتذہ، دانشور، صنعتکار، تاجر، مخیر حضرات، سماجی کارکن، کھیلوں کی شخصیات اور تاریخ کے وہ کردار بھی جن کا نام جرائم، بغاوت، ڈاکہ زنی یا قبائلی تنازعات سے مستند طور پر وابستہ ہو۔
زیر نظر تصویر سے کون نہیں واقف۔
سلیم الرحمن خان المانی مرحوم
( چنوالہ۔ کوٹ ادو )
Nasrullah Khan Almani
M Akbar Almani
Azhar Manzoor Almani