Shahid Imran Tarar Official

Shahid Imran Tarar Official Poetry is when an emotion has found its thoughts and the thoughts has found in words

15/10/2023

کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا
Kash mn tere haseen hath ka kangan hota

جب بھی تو بند قبا کھولنے لگتی جاناں
اپنی آنکھوں کو ترے حسن سے خیرہ کرتا
مجھ کو بیتاب سا رکھتا تری چاہت کا نشہ
میں تری روح کے گلشن میں مہکتا رہتا
میں ترے جسم کے آنگن میں کھنکتا ہوتا
کچھ نہیں تو یہی بے نام سا بندھن ہوتا
کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا

01/10/2023

ردیف قافیہ بندش خیال لفظ گری
وہ حور زینہ اترتے ہوئے سکھانے لگی

کتاب باب غزل شعر بیت لفظ حروف
خفیف رقص سے دل پر ابھارے مست پری

کلام عروض تغزل خیال ذوق جمال
بدن کے جام نے الفاظ کی صراحی بھری

سلیس شستہ مرصع نفیس نرم رواں
دبا کے دانتوں میں آنچل غزل اٹھائی گئی

قصیدہ شعر مسدس رباعی نظم غزل
مہکتے ہونٹوں کی تفسیر ہے بھلی سے بھلی

مجاز قید معمہ شبیہ استقبال
کسی سے آنکھ ملانے میں ادبیات پڑھی

قرینہ سرقہ اشارہ کنایہ رمز سوال
حیا سے جھکتی نگاہوں میں جھانکتے تھے سبھی

بیان علم معانی فصاحت علم بلاغ
بیان کر نہیں سکتے کسی کی ایک ہنسی

قیاس قید تناسب شبیہ سجع نظیر
کلی کو چوما تو جیسے کلی کلی سے ملی

ترنم عرض مکرر سنائیے ارشاد
کسی نے سنیے کہا بزم جھوم جھوم گئی

حضور قبلہ جناب آپ دیکھیے صاحب
کسی کی شان میں گویا لغت بنائی گئی

حریر اطلس و کمخواب پنکھڑی ریشم
کسی کے پھول سے تلووں سے شاہ مات سبھی

گلاب عنبر و ریحان موتیا لوبان
کسی کی زلف معطر میں سب کی خوشبو ملی

کسی کے مرمریں آئینے میں نمایاں ہیں
گھٹا بہار دھنک چاند پھول دیپ کلی

کسی کا غمزہ شرابوں سے چور قوس‌ قزح
ادا غرور جوانی سرور عشوہ گری

کسی کے شیریں لبوں سے ادھار لیتے ہیں
مٹھاس شہد رطب چینی قند مصری ڈلی

کسی کے نور کو چندھیا کے دیکھیں حیرت سے
چراغ جگنو شرر آفتاب پھول جھڑی

کسی کو چلتا ہوا دیکھ لیں تو چلتے بنیں
غزال مورنی موجیں نجم زمانہ گھڑی

کسی کے ساتھ نہاتے ہیں تیز بارش میں
لباس گجرے افق آنکھ زلف ہونٹ ہنسی

کسی کا بھیگا بدن گل کھلاتا ہے اکثر
گلاب رانی کنول یاسمین چمپا کلی

بہ شرط فال کسی خال پر میں واروں گا
چمن پہاڑ دمن دشت جھیل خشکی تری

یہ جام چھلکا کہ آنچل بہار کا ڈھلکا
شریر شوشہ شرارہ شباب شر شوخی

کسی کی ترش‌ روئی کا سبب یہی تو نہیں
اچار لیموں انار آم ٹاٹری املی

کسی کے حسن کو بن مانگے باج دیتے ہیں
وزیر میر سپاہی فقیہ ذوق شہی

نگاہیں چار ہوئیں وقت ہوش کھو بیٹھا
صدی دہائی برس ماہ روز آج ابھی

وہ غنچہ یکجا ہے چونکہ ورائے فکر و خیال
پلک نہ جھپکیں تو دکھلاؤں پتی پتی ابھی

سیاہ زلف گھٹا جال جادو جنگ جلال
فسوں شباب شکارن شراب رات گھنی

جبین چراغ مقدر کشادہ دھوپ سحر
غرور قہر تعجب کمال نور بھری

ظریف ابرو غضب غمزہ غصہ غور غزل
گھمنڈ قوس قضا عشق طنز نیم سخی

پلک فسانہ شرارت حجاب تیر دعا
تمنا نیند اشارہ خمار سخت تھکی

نظر غزال محبت نقاب جھیل اجل
سرور عشق تقدس فریب امر و نہی

نفیس ناک نزاکت صراط عدل بہار
جمیل ستواں معطر لطیف خوشبو رچی

گلابی گال شفق سیب سرخی غازہ کنول
طلسم چاہ بھنور ناز شرم نرم گری

دو لب عقیق گہر پنکھڑی شراب کہن
لذیذ نرم ملائم شریر بھیگی کلی

نشیلی ٹھوڑی تبسم ترازو چاہ ذقن
خمیدہ خنداں خجستہ خمار پتلی گلی

گلا صراحی نوا گیت سوز آہ اثر
ترنگ چیخ ترنم ترانہ سر کی لڑی

ہتھیلی ریشمی نازک ملائی نرم لطیف
حسین مرمریں صندل سفید دودھ دھلی

کمر خیال مٹکتی کلی لچکتا شباب
کمان ٹوٹتی انگڑائی حشر جان کنی

پری کے پاؤں گلابی گداز رقص پرست
تڑپتی مچھلیاں محراب لب تھرکتی کلی

جناب دیکھا سراپا گلاب مرمر کا
ابھی یہ شعر تھے شعروں میں چاند اترا کبھی

غزل حضور بس اپنے تلک ہی رکھیے گا
وہ روٹھ جائے گا مجھ سے جو اس کی دھوم مچی

جھکا کے نظریں کوئی بولا التماس دعا
اٹھا کے ہاتھ وہ خیرات حسن دینے لگی

کشش سے حسن کی چندا میں اٹھے مد و جزر
کسی کو سانس چڑھا سب کی سانس پھول گئی

جو اس پہ بوند گری ابر کپکپا اٹھا
اس ایک لمحے میں کافی گھروں پہ بجلی گری

قیامت آ گئی خوشبو کی کلیاں چیخ پڑیں
گلاب بولا نہیں غالباً وہ زلف کھلی

طواف کرتی ہے معصومیت یوں کمسن کا
کہ قتل کر دے عدالت میں بھی تو صاف بری

بدن پہ حاشیہ لکھنا نگاہ پر تفسیر
مقلدین ہیں شوخی کے اپنی شیخ کئی

تمام شہر میں سینہ بہ سینہ پھیل گئی
کسی کے بھیگے لبوں سے وبائے تشنہ لبی

گلاب اور ایسا کہ تنہا بہار لے آئے
بہشت میں بھی ہے گنجان شوخ گل کی گلی

کمال‌ لیلیٰ تو دیکھو کہ صرف نام لیا
''پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی''

گلابی آنکھوں میں ایسے بھنور تھے مستی کے
شراب ڈوب کے ان میں بہت حلال لگی

جسارت عکس پہ لب رکھنے کی نہیں کرتے
بہت ہوا بھی تو پلکوں سے گدگدی کر دی

نہ جانے پہلی نظر کیوں حلال ہوتی ہے
کسی کے حسن پہ پہلی نظر ہی مہنگی پڑی

چمن میں ''پھول نہ توڑیں'' لکھا تھا سو ہم نے
گلاب زادی کو پہنا دی تتلیوں کی لڑی

کسی کا زلف کو لہرا کے چلنا اف توبہ
شراب ناب ازل کے نشے میں مست پری

وہ بولتا ہے تو کانوں میں شہد گھولتا ہے
مریض قند پہ قدغن ہے اس کو سننے کی

کلی کو چھوڑ کے نقش قدم پہ بیٹھ گئی
قلم ہلائے بنا تتلی نے غزل کہہ دی

صنم اور ایسا کہ بت اس کے آگے جھک جائیں
دعا دی اس نے تو دو دیویوں کی گود بھری

عطائے حسن تھی قیسؔ اک جھلک میں شوخ غزل

بیاض ہوتی مکمل مگر وہ پھر نہ ملی
شہزاد قیس

07/01/2023

ہم نہ اردو میں نہ ہندی میں غزل کہتے ہیں
ہم تو بس آپ کی بولی میں غزل کہتے ہیں

وہ امیری میں غزل کہتے ہیں کہتے ہوں گے
سچے شاعر تو فقیری میں غزل کہتے ہیں

شاعر: ارملیش

05/01/2023

استادِ محترم پروفیسر یونس بھٹی صاحب کی ایک اور پنجابی نظم "انھّے" آپ کی خوبصورت سماعتوں کی نظر۔۔۔۔

انّھے

اسیں آپے اپنیاں
اکھیں کڈھیاں
اسیں آپے
انھے ہوئے
ہُن سوٹیاں
ساڈیاں رہبر
اسیں ایہناں
دے مُتھاج
ہُن کِس نوں
دیئے واج

04/01/2023

موت سے بات آگے بڑھی ہی نہیں
زندگی کو کوئی اور جچی ہی نہیں
اس کے جانے سے پہلے دیکھتے مجھے
یہ گھڑی دیکھنے کی گھڑی ہی نہیں

آننت گپتا

03/01/2023

وہم کے اس جنگل سے باہر جانے کو
کبھی کبھی ایک راہ نظر تو آتی ہے

01/01/2023

اک شخص پاس رہ کر بھی سمجھا نہیں مجھے
اس بات کا افسوس ہے شکوہ نہیں مجھے
جون ایلیاء

31/12/2022

پھر کوئی آیا دل زار نہیں کوئی نہیں
راہرو ہوگا کہیں اور چلا جائے گا
ڈھل چکی رات بکھرنے لگا تاروں کا غبار
لڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغ
سو گئی راستہ تک تک کے ہر اک راہ گزار
اجنبی خاک نے دھندلا دیئے قدموں کے سراغ
گل کرو شمعیں بڑھا دو مے و مینا و ایاغ
اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر لو
اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا

فیض احمد فیض

30/12/2022

استادِ محترم ڈاکٹر سید مرتضیٰ حسن شیرازی صاحب کی مقبول غزل میں سے چند ایک شعر آپ کی سماعتوں کی حوالے۔۔۔

ملا کے کوئی ستارہ کسی ستارے سے
میں ڈھونڈتا تھا اسے یوں کسی سہارے سے

ہمارے پاس بھی اک زندگی پڑی ہوئی ہے
ہمیں بتاو اگر چاہیے ہمارے سے

پھر اس کے سامنے اک سرخ پھول توڑا تھا
کہ مسئلہ میرا سمجھے کسی اشارے سے

سید مرتضیٰ حسن شیرازی

28/12/2022

کبھی ہم کھل کھلاتے تھے مگر اب بین کرتے ہیں
جو ماتم ہو نہیں سکتا وہ میرے نین کرتے ہیں
شاہد عمران تارڑ

27/12/2022

استادِ محترم یونس بھٹی صاحب دی لکھی ہوئی پنجابی نظم "کھبّی پَسلی" تہاڈے حوالے۔۔۔۔

میری کھبی پسلی
دے وچ
جہڑا ڈونگھا
پھٹ اے ازلوں
تیری باجھ
ٹکور دے بھلیے
قسمے رب دی...
بھرنا نہیں ایہ

26/12/2022

کبھی اُف ، کبھی ہائے ، کبھی فریاد کرتے ہیں
خدایا کیوں نہیں ملتے جنہیں ہم یاد کرتے ہیں

Address

Sargodha
Sargodha
40100

Telephone

+923456808606

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shahid Imran Tarar Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Shahid Imran Tarar Official:

Share