Adab e Rawana

Adab e Rawana I am a urdu poet

🤔🤔🤔  نئے سال کی کیا مناؤں خوشی                   اک اور سال کم ہو گئی زندگی   تنویر روانہ Happy New Year 2026تنویر روانہ...
31/12/2025

🤔🤔🤔 نئے سال کی کیا مناؤں خوشی
اک اور سال کم ہو گئی زندگی
تنویر روانہ
Happy New Year 2026
تنویر روانہ کی طرف سے نئے سال کی خوشی مبارک اور پرانے سال کا غم مبارک ، لوگ نئے سال کی خوشی منا رہے ہیں آتش بازی ہے شور ہے مبارک بادیں ہیں کسی کو یہ خبر نہیں کہ زندگی کا ایک اور سال کم ہو گیا ہے وقت ہمارے ہاتھ سے پھسل رہا ہے ہم دن بدن موت کے قریب جا رہے ہیں ہم دنیا کی دوڑ میں ایسے مصروف ہیں کہ آخرت یاد ہی نہیں ، حالانکہ اصل حساب وہیں ہے حشر کے بعد ہی حقیقی اور ابدی زندگی کی شروعات ہو گی یہ دنیا فانی ہے یہاں کی چمک عارضی ہے
یہاں کی کامیابی دھوکا ہے ہم نے اسی فانی دنیا کو پانے کے چکر میں اپنا ایمان اپنا سکون اپنا انجام سب کچھ داؤ پر لگا دیا ہے نیا سال ہمیں یاد دلانے آیا ہے کہ وقت واپس نہیں آتا سانسیں گنی جا رہی ہیں مگر ہم جشن میں گم ہیں قہقہے ہیں مگر آنکھیں اندھی ہیں جو چیز ہاتھ سے نکل رہی ہے اسی پر ہمیں رونا چاہیے جو دروازہ بند ہونے والا ہے
اسی کی تیاری کرنی چاہیے نئے سال کی مبارک باد سے پہلے اپنے آپ سے سوال کرو ہم نے کیا پایا اور کیا کھو دیا یہ دنیا نہیں بچے گی ہم بھی نہیں بچیں گے بچے گی تو صرف وہ زندگی جس کی تیاری ہم نے نہیں کی

تنویر روانہ

🤔🤔🤔 حضرت عیسیٰ کی پیدائش اور توحید کا سوالمیں آزادیٔ اظہارِ رائے کو انسانی حق سمجھتا ہوںمگر یہ حق سچ اور جھوٹ کے فرق کو ...
25/12/2025

🤔🤔🤔 حضرت عیسیٰ کی پیدائش اور توحید کا سوال
میں آزادیٔ اظہارِ رائے کو انسانی حق سمجھتا ہوں
مگر یہ حق سچ اور جھوٹ کے فرق کو مٹانے کا لائسنس نہیں روشن خیالی عقل کے استعمال کا نام ہے عقیدے کی اندھی تقلید کا نہیں
حضرت عیسیٰ کی پیدائش ایک غیر معمولی واقعہ ہے اس دن پر مسیحی برادری کی خوشی فطری ہے اور ان کے لیے نیک تمنائیں دینا اخلاقی رویہ مگر خوشی میں شریک ہونا
عقیدے میں شریک ہونا نہیں ہوتا حضرت عیسیٰ کی پیدائش ایک عظیم تاریخی واقعہ ہے اس دن پر مسیحی بھائیوں کے لیے نیک تمنائیں دینا انسانیت کا تقاضا ہے
احترام لازم ہے مگر تصدیق لازم نہیں عقلی سطح پر یہ دعویٰ کہ خدا کا بیٹا پیدا ہوا قابل قبول نہیں
خدا اگر خدا ہے تو محتاج نہیں پیدائش حاجت کا نام ہے
زمان و مکان کے دائرے میں آنا مخلوق کی صفت ہے
خالق اس قید سے پاک ہے
یہ دعویٰ کہ خدا کا بیٹا پیدا ہوا عقلی سطح پر ناقابل قبول ہے کیونکہ پیدائش تبدیلی کا عمل ہے اور تبدیلی عیب کی علامت ہو سکتی ہے جبکہ خدا ہر نقص ہر عیب سے پاک ہے خدا اگر وقت کے اندر پیدا ہو تو وہ وقت سے پہلے کہاں تھا اگر وہ ماں کے رحم میں رہا تو وہ محدود ہوا اور جو محدود ہو وہ خدا نہیں رہتا یہ مسئلہ مذہبی اختلاف کا نہیں
نعوذ بااللہ من ذالک

یہ خالص عقلی سوال ہے علمی اعتبار سے بھی انبیاء کو خدا کا بندہ کہا گیا ان کا رسول کہا گیا خدا کا بیٹا کہنا بعد کی تعبیرات کا نتیجہ ہے اصل وحی کا نہیں اسلام یہاں کوئی جذباتی موقف اختیار نہیں کرتا وہ ایک صاف اصول پیش کرتا ہے

خدا ایک ہے بے نیاز ہے نہ وہ کسی سے پیدا ہوا نہ کسی کو جنم دیا اور اس کا کوئی ہمسر نہیں حضرت عیسیٰ اسلام میں محترم نبی ہیں انکار نہیں ان کی ولادت معجزہ ہے
انکار نہیں مگر معجزہ الوہیت کی دلیل نہیں بنتا اگر بغیر باپ کے پیدا ہونا خدائی دلیل ہے تو آدم اس دعوے کے زیادہ حقدار تھے مگر کسی نے انہیں خدا نہیں کہا یہ بات کہنا نفرت نہیں یہ بات کہنا تنگ نظری نہیں یہ صرف توحید کا دفاع ہے میں احترام کے ساتھ اختلاف کرتا ہوں مگر اختلاف سے دستبردار نہیں ہوتا کیونکہ ایمان سمجھوتے سے نہیں
یقین سے بنتا ہے یہی میرا مؤقف ہے سیدھا واضح
اور بغیر کسی مذہبی سودا کاری کے

تنویر روانہ

🤔🤔🤔 ہر سکوتِ شبِ یلدا کو سہا جاتا ہے
دردِ پنہاں کو بھی پیغامِ خدا جاتا ہے

ایک خاموش دعا، رات، ستاروں کی نظر
خوابِ انساں سرِ مریمؑ پہ رکھا جاتا ہے

وقت کے زخم اگر بول نہیں پاتے تو کیا
صبر خود مرہمِ بے لفظ بنا جاتا ہے

جن کے ہاتھوں میں فقط صَلب کی لکڑی آئی
ان کے لہجے کو صحیفانہ کہا جاتا ہے

ہم نے مانا کہ اندھیرا ہے مقدر اپنا
پھر بھی اک نور رگِ دل سے اٹھا جاتا ہے

جبر کی برف نے سانسوں کو جکڑ رکھا مگر
حوصلہ آگ کی صورت میں بڑھا جاتا ہے

عشق کے شہر میں نفرت کی بڑھی دکانیں
آج انسان بھی ارزاں ہی بکا جاتا ہے

شب ،کرسمس کی ، یہ گھنٹی، یہ سکوتِ معنی
دل بہت دور تلک ساتھ چلا جاتا ہے

اور اس عہد میں مشکل ہے کرامت تنویرؔ
معجزہ آدمی ہونا بھی کہا جاتا ہے

تنویر روانہ

کرسمس 2025

🤔🤔🤔خود ساختہ اندھا پن فضول شاعر رفیع رضا کی فضول شاعری خود کو عقل مند سمجھنے والا عقل کا اندھا Rafi Raza  خدا کا منکراتن...
24/12/2025

🤔🤔🤔خود ساختہ اندھا پن فضول شاعر رفیع رضا کی فضول شاعری خود کو عقل مند سمجھنے والا عقل کا اندھا Rafi Raza خدا کا منکر
اتنا سچا بھی کون ہوتا ہے
جتنا جھوٹا بنا ہوا ہوں میں
رفیع رضا

یہ شعر جھوٹے شاعر کی فضول شاعری کا ثبوت ہے یہ چالاکی کسی دیانت دار اعتراف کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک عیّارانہ ادا ہے یہاں جھوٹ اپنی کمزوری چھپانے کے لیے سچ کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے شاعر خود کو جھوٹا کہہ کر دراصل اپنے جھوٹ کو قابلِ قبول بنانا چاہتا ہے یہ وہ ذہنیت ہے جو سچ کو اس لیے استعمال کرتی ہے تاکہ جھوٹ پر سوال نہ اٹھے۔ انتہائی جھوٹا انسان ہمیشہ سچ کا حوالہ دیتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ سچ کے بغیر اس کا جھوٹ ننگا ہو جائے گا یہ سچ سے وابستگی نہیں بلکہ سچ کا سہارا لے کر جھوٹ کو بچانے کی کوشش ہے
اس طرح کا شعر خود احتسابی نہیں بلکہ خود فریبی کی علامت ہوتا ہے سچ یہاں قدر نہیں رہتا بلکہ ایک ڈھال بن جاتا ہے اور جھوٹ کوئی حادثہ نہیں رہتا بلکہ مستقل رویہ بن جاتا ہے

اس قدر لطف ہے ٹٹولنے میں
دیکھ اندھا بنا ہوا ہوں میں
رفیع رضا

یہ اندھا پن جسمانی نہیں بلکہ فکری اور عقلی ہے گمراہ شاعر کے پاس دیکھنے کی صلاحیت موجود ہے مگر وہ اسے استعمال کرنے سے انکار کرتا ہے یہ وہ اندھا پن ہے جو سوال اٹھانے سے پہلے ہی آنکھیں بند کر لیتا ہے یہاں ٹٹولنے کو لطف کہا جا رہا ہے کیونکہ روشنی قبول کرنے کے لیے عقل اور ذمہ داری درکار ہوتی ہے
یہ وہ ذہن ہے جو کم عقلی کے اندھیرے میں بھٹکتا رہتا ہے جو وجود کی حقیقت کو ماننے کے بجائے اندازوں میں جیتا ہے جو خدا کی ذات کو دیکھنے کے بجائے انکار کے اندھیرے میں ٹٹولتا رہتا ہے یہ تلاش نہیں بلکہ گمراہی سے وابستگی ہے کیونکہ جو دیکھنا چاہے وہ ٹٹولنے پر اکتفا نہیں کرتا
یہ اندھا پن مجبوری نہیں بلکہ انتخاب ہے روشنی سامنے ہو تب بھی آنکھیں بند رکھنا فکری دیوالیہ پن کی علامت ہوتا ہے
ان دونوں اشعار کو اکٹھا دیکھا جائے تو ایک واضح ذہنی تضاد سامنے آتا ہے شاعر ایک طرف اپنے جھوٹ کا اعتراف کر کے سچ کا تاثر دینا چاہتا ہے اور دوسری طرف اندھا بن کر بھی بصیرت کا دعویٰ رکھتا ہے یہ وہ مقام ہے جہاں ابہام کو دانائی اور انکار کو دانش سمجھ لیا جاتا ہے
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ شاعر کس چیز پر ایمان رکھتا ہے یا نہیں رکھتا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ عقل کے استعمال سے انکار کو آزادی اور آنکھ بند رکھنے کو فہم سمجھتا ہے یہ رویہ سوال نہیں اٹھاتا بلکہ سوال سے بھاگتا ہے
جب فکر کی بنیاد انکار ہو جب عقل روشنی قبول کرنے کے بجائے اندھیرے سے مانوس ہو جائے اور جب شاعری محض چونکا دینے والے فضول جملے بن کر رہ جائے تو لفظ تو باقی رہتے ہیں مگر معنی رخصت ہو جاتے ہیں
ایسی فضول شاعری وقتی داد تو سمیٹ لیتی ہے مگر وقت کے کٹہرے میں ٹھہر نہیں پاتی
کیونکہ جو سچ کو سہارا بنا کر جھوٹ بچاتا ہے اور جو روشنی کے سامنے اندھا بننے کا انتخاب کرتا ہے وہ کچھ دیر تماشا تو بن سکتا ہے مگر معیار نہیں بن سکتا
خود کو زیادہ عقل مند سمجھنے والا خدا کی ذات کا منکر دراصل عقل کا اندھا ہوتا ہے

تنویر روانہ

کل اس بحث کو کروڑوں لوگوں نے دیکھاجاوید اختر: اگر خدا ہے تو دنیا میں اتنی تکلیفیں کیوں     ہیں؟مفتی شمائل ندوی: اگر مصائ...
23/12/2025

کل اس بحث کو کروڑوں لوگوں نے دیکھا
جاوید اختر: اگر خدا ہے تو دنیا میں اتنی تکلیفیں کیوں
ہیں؟
مفتی شمائل ندوی: اگر مصائب خدا کی عدم موجودگی کا ثبوت ہیں تو انصاف کا مطالبہ کرنا فضول ہے۔ مصائب اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان کے اندر صحیح اور غلط کا احساس موجود ہے، اور یہ خدا کی سب سے بڑی نشانی ہے۔

جاوید اختر: اگر زیادہ تر لوگ کسی چیز کو سچ مان لیتے ہیں تو کیا وہ سچ ہو جاتی ہے؟
مفتی شمائل ندوی: سچائی کا تعین اکثریت سے ہو تو تاریخ میں کبھی غلط نہیں ہوا۔
پھر غلامی، نسل پرستی اور جبر کو بھی درست سمجھا جائے گا کیونکہ انہیں ایک زمانے میں اکثریت کی حمایت حاصل تھی۔

جاوید اختر: اگر خدا کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہے تو ہم اس پر کیوں یقین کریں؟
مفتی شمائل ندوی: ہر چیز جو موجود ہے اسے لیبارٹری میں دکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ عقل، محبت، ضمیر، انصاف، ان کا بھی کوئی ٹیسٹ ٹیوب ثبوت نہیں،
لیکن کوئی بھی ان سے انکار نہیں کرتا۔

جاوید اختر: مذہب انسانی تخلیق ہے، اس لیے اس پر سوال اٹھانا ضروری ہے!
مفتی شمائل ندوی: سوال کرنا ضروری ہے،
لیکن پہلے، آئیے فیصلہ کریں:
انسان قانون بناتا ہے یا کائنات؟
اگر انسان ہی سب کچھ ہوتا
پھر موت، فطرت اور تقدیر پر اس کا اختیار کیوں نہیں؟

جاوید اختر: میں وہی مانتا ہوں جو عقل مانتی ہے۔
مفتی شمائل ندوی: عقل بہت قیمتی ہے،
لیکن عقل خود کہتی ہے کہ وہ سب کچھ نہیں سمجھ سکتی۔ عقل سب کچھ سمجھ جائے تو غرور علم کہلائے گا۔

جاوید اختر: مذہب لوگوں کو تقسیم کرتا ہے۔

مفتی شمیل ندوی: مذہب لوگوں کو تقسیم نہیں کرتا۔ لوگ اپنے ذاتی مقاصد کے لیے مذہب کو تقسیم کرتے ہیں۔

چاقو کھانے اور انسان دونوں کو کاٹتا ہے، اس لیے قصور چھری کا نہیں بلکہ استعمال کرنے والے کا ہے۔

ان تمام سوالوں کے بعد مفتی شمیل ندوی کے جوابات جذباتی نعرے نہیں تھے بلکہ عقل، فطرت اور منطق کی تین جھلکیاں تھیں۔

کوئی اونچی آواز نہیں، کوئی طنز نہیں، بس پرسکون سوالات جنہوں نے ان کی تردید کرنے والوں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا۔

یہ کوئی بحث نہیں تھی، یہ منطق کا پوسٹ مارٹم تھا۔
جہاں شور نہیں تھا لیکن الفاظ بھاری تھے۔
جہاں تالیاں نہیں بلکہ خاموشی گواہی دے رہی تھی۔

مفتی صاحب نے ثابت کر دیا۔
ایمان توہم پرستی نہیں بلکہ ایک عقیدہ ہے۔
جو دلیل کے ہر امتحان پر پورا اترتا ہے۔

اسے "جواب" کہنا ایک معمولی بات ہوگی۔

یہ سوچ کی ریڑھ کی ہڈی کو ہلا دینے والی وضاحت تھی۔

اس طرح کی وضاحت کا مقصد دلیل جیتنا نہیں ہے، بلکہ حقیقت کو پیش کرنا ہے۔
شور مچانے والے اور وضاحت کرنے والے میں یہی فرق ہے۔
اور آج وضاحت کرنے والے نے بغیر کسی ہنگامے کے سب کچھ کہہ دیا۔
کاپیڈ

🤔🤔🤔 قرآن اللہ کو نور کہتا ہے اللہ نور السماوات والارض ، نور نہ جسم ہے نہ مادہ نہ کسی جسمانی حد کا پابند۔ جب قرآن ایک آیت...
23/12/2025

🤔🤔🤔 قرآن اللہ کو نور کہتا ہے اللہ نور السماوات والارض ، نور نہ جسم ہے نہ مادہ نہ کسی جسمانی حد کا پابند۔ جب قرآن ایک آیت میں اللہ کو نور قرار دے دے تو باقی تمام آیات اسی بنیادی حقیقت کے تابع ہو جاتی ہیں
قرآن میں ہاتھ چہرہ عرش استواء غضب اور سماعت جیسے الفاظ تشبیہی اور اسلوبی زبان میں آئے ہیں نہ کہ جسمانی معنی میں۔ خود قرآن کہتا ہے

لیس کمثلہ شیء
اس جیسا کوئی نہیں
یہ آیت ہر قسم کی جسمانیت کی نفی کر دیتی ہے۔ اگر اللہ کے ہاتھ انسان کے ہاتھ جیسے ہوتے یا بیٹھنا مخلوق کے بیٹھنے جیسا ہوتا تو یہ آیت بے معنی ہو جاتی۔
عربی زبان میں ہاتھ صرف عضو کے لیے نہیں آتا بلکہ قدرت اختیار اور براہ راست تخلیق کے لیے بھی آتا ہے قرآن میں
ید اللہ فوق ایدیہم
اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے
یہاں کوئی بھی اللہ کے جسمانی ہاتھ نہیں مانتا بلکہ قدرت اور غلبہ مراد لیا جاتا ہے
اسی طرح
خلقت بیدی
اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا
کا مطلب براہ راست خصوصی تخلیق ہے نہ کہ جسمانی ہاتھ۔
عرش پر استواء کا مطلب بیٹھنا نہیں۔ عربی میں استوی کا مطلب ہوتا ہے غلبہ قائم ہونا اختیار سنبھالنا۔ قرآن میں فرعون کے لیے بھی استوی کا لفظ آیا ہے حالانکہ وہ کہیں آسمان پر نہیں بیٹھا۔ اگر استوی کا مطلب صرف بیٹھنا ہو تو زبان عربی کا آدھا ادب بے معنی ہو جاتا ہے۔
چھ دن میں تخلیق وقت کا اسیر ہونا نہیں بلکہ انسانی فہم کے لیے ترتیب کا بیان ہے۔ خود قرآن کہتا ہے
وان یوما عند ربک کالف سنۃ مما تعدون
اللہ کے ہاں ایک دن تمہارے ہزار برس جیسا ہے
یہ واضح کر دیتا ہے کہ اللہ کا دن مخلوق کے دن جیسا نہیں۔
عرش کا پانی پر ہونا اللہ کے جسمانی ہونے کی دلیل نہیں بلکہ تخلیق سے پہلے نظام کائنات کی حالت کا بیان ہے عرش خود مخلوق ہے۔ مخلوق کا مخلوق پر ہونا خالق کے جسمانی ہونے کو لازم نہیں کرتا۔ اگر بادشاہ تخت پر بیٹھتا ہے تو تخت بادشاہ کو پیدا نہیں کرتا۔
سماعت بصر غضب رحمت یہ سب صفات ہیں نہ کہ اعضاء۔ عقل بھی یہی کہتی ہے کہ صفت کا ہونا جسم کا محتاج نہیں۔ علم بھی صفت ہے کیا علم کے لیے کوئی عضو ہوتا ہے۔ اگر سننے کے لیے کان لازم ہوں تو پھر علم کے لیے بھی دماغ لازم ماننا پڑے گا اور یوں خدا کو انسان بنا دیا جائے گا جو کہ خود عقل کے خلاف ہے۔
معراج میں پردے کا ذکر اللہ کی حفاظت کے لیے نہیں بلکہ مخلوق کی حد کے لیے ہے۔ قرآن خود کہتا ہے
لا تدرکہ الابصار
نگاہیں اسے پا نہیں سکتیں
پردہ مخلوق کی کمزوری ہے خالق کی نہیں۔
سورہ لہب بد دعا نہیں بلکہ خبر ہے۔ قرآن کسی کے لیے بد دعا نہیں کرتا بلکہ انجام بیان کرتا ہے
تبت یدا ابی لہب
یہ پیش گوئی ہے بد دعا نہیں۔ قرآن میں فرعون اور عاد ثمود کے انجام بھی اسی طرح بیان ہوئے ہیں
اصل مسئلہ یہ ہے کہ اعتراض کرنے والا تشبیہ کو تجسیم بنا دیتا ہے۔ قرآن علامت زبان تمثیل اور اسلوب استعمال کرتا ہے مگر خود ہی واضح کر دیتا ہے کہ اللہ مخلوق جیسا نہیں۔ اگر یہ اصول مان لیا جائے تو پورا اعتراض خود بخود ختم ہو جاتا ہے
قرآن کا خدا جسم نہیں مادہ نہیں وقت کا اسیر نہیں حدود کا پابند نہیں اور انسان کی طرح نہیں
اعتراض قرآن سے نہیں بلکہ تمہاری کم علمی فرعونیت تکبر اور ضد سے پیدا ہوتا ہے

تنویر روانہ

🤔🤔🤔 تین ملحد شعراء کے بیانیے کے تناظر میں یہ وہی بھٹکے ہوئے شعراء ہیں جنہیں قران پاک میں گمراہ کہا گیا ہے یہ خود تو گمرا...
23/12/2025

🤔🤔🤔 تین ملحد شعراء کے بیانیے کے تناظر میں
یہ وہی بھٹکے ہوئے شعراء ہیں جنہیں قران پاک میں گمراہ کہا گیا ہے یہ خود تو گمراہ ہیں ہی مگر دوسرے لوگوں کو بھی گمراہ کرتے پھرتے ہیں ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہے
جاوید اختر رفیع رضا اور ناہید اختر یہ تینوں ملحد ، کافر ، خدا کی ذات کے منکر جہنم کا ٹکٹ خرید چکے ہیں ، بقول جاوید اختر ، کہ پاکستان جانے سے بہتر جہنم جانا پسند کروں گا

یہ بات درست ہے کہ مناظرے کے بعد ہر شخص اپنی رائے ظاہر کر رہا ہے لیکن رائے کا حق علم کی ضمانت نہیں ہوتا
خصوصا جب رائے اپنی ذہنی ساخت کو حتمی سمجھ کر دی جائے
جاوید اختر خدا کے وجود پر سوال اٹھاتے ہیں
لیکن سوال اٹھانا اور سوال کو حتمی دلیل سمجھ لینا دو الگ چیزیں ہیں
مفتی شمائل ندوی صاحب نے ان کے ہر سوال کا جواب بڑے علم وادب اور دلائل سے دیا جو دنیا بھر کے لوگوں نے دیکھا جس پہ ہر کسی نے اپنی رائے کا اظہار کیا خدا کے ماننے والوں نے خدا کی وحدنیت کا اقرار کیا اور منکروں نے انکار کیا

رفیع رضا نے یہ دعوی کیا کہ ان کے فالوورز بڑے شعرا
بڑے دانشور بڑے ملاؤں اور مفتیوں سے زیادہ عقلی
منطقی ، دینی ،روحانی ، سائنسی اور انسانی شعور رکھتے ہیں یہ دعوی خود اپنی نفی ہے کیونکہ جو شخص علم کا معیار اپنی مجلس کو بنا لے وہ دلیل کے دروازے بند کر دیتا ہے علم اکثریت یا فالوورز سے ثابت نہیں ہوتا
یہی مغالطہ جاوید اختر کے سوال میں بھی پوشیدہ ہے
رفیع رضا سیکولر خدا کی اصطلاح گھڑ کر مذہبی خدا کو غیر متعلق ثابت کرنا چاہتا ہے حالانکہ نہ کوئی سیکولر خدا کا قائل ہے نہ مذہب نے کبھی ایسے خدا کا تصور پیش کیا
یہ فرضی تصور پر بحث ہے اور فرضی تصور کو رد کر کے حقیقی تصور کو باطل قرار دینا منطق نہیں مغالطہ ہے
یہ کہنا کہ ضرورت خدا ثابت کرنے سے وجود خدا ثابت نہیں ہوتا تب درست ہوتا اگر انسان خود معنی اخلاق عدل اور مقصد کا سوال نہ اٹھاتا ضرورت خدا انسان کی نفسیات نہیں ، انسان کی فطرت سے جنم لیتی ہے اور فطرت خود ایک دلیل ہے

ناہید اختر ملحد گمراہ بھٹکی ہوئی شاعرہ دونوں سے ڈر لگنے کی بات کرتی ہیں ،،،،ملا اور ملحد،،،، یہ جملہ بظاہر توازن لگتا ہے مگر حقیقت میں فرار ہے سوال سے بھاگنے کا ایک نفسیاتی طریقہ یہ سوال کہ خدا کا مذہب کیا ہے
اسلام سے پہلے کیا تھا اور کیوں سب کو زبردستی مسلمان نہیں بنایا گیا
یہ سوالات نئے نہیں
ان سوالات کےجوابات قرآن میں موجود ہیں قرآن واضح کرتا ہے کہ دین کا نام اسلام ہے مگر اسلام کسی قوم یا زمانے کی قید نہیں ابراہیم بھی مسلم تھے موسی بھی عیسی بھی کیونکہ اسلام اطاعت کا نام ہے لیبل کا نہیں
خدا نے انسان کو مجبور نہیں کیا کیونکہ جبر امتحان کو بے معنی بنا دیتا ہے اگر خدا سب کو زبردستی ماننے پر مجبور کر دیتا تو ایمان نام کی کوئی شے باقی نہ رہتی یہ کہنا کہ انسان بے بس ہے اور پھر اسے امتحان میں کیوں ڈالا گیا
یہ سوال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنی محدود طاقت کو مکمل بے بسی سمجھ بیٹھے
قرآن انسان کو مجبور نہیں مختار کہتا ہے اور اسی اختیار پر حساب ہے

رہا یہ سوال کہ شاعر ہو کر یہ سب کہنا
تو یہاں قرآن کا فیصلہ بہت واضح ہے
قرآن کہتا ہے
والشعراء یتبعہم الغاوون
الم تر انہم فی کل واد یہیمون
وانہم یقولون ما لا یفعلون
الا الذین آمنوا وعملوا الصالحات وذکروا اللہ کثیرا
ترجمہ
بھٹکے ہوئے لوگ شاعروں کے پیچھے چلتے ہیں
وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں
اور وہ کہتے وہ ہیں جو کرتے نہیں
سوائے ان شاعروں کے
جو ایمان لائے
نیک عمل کیے
اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا
یہ آیت شاعری کی نفی نہیں
بلکہ اس شاعری کی نشاندہی ہے
جو خود کو عقل کا آخری دروازہ سمجھ لے
اور لوگوں کو گمراہی کی طرف لے جائے

جاوید اختر رفیع رضا اور ناہید اختر بطور شاعر اپنی جگہ
لیکن بطور فکری رہنما وہ سوال کو جواب سمجھنے کی غلطی کر رہے ہیں یہ جاہلیت کا وہی انداز ہے جس میں انسان اپنے شعور کو خدا کے مقابل لا کھڑا کرتا ہے
اور پھر حیران ہوتا ہے کہ کائنات اس کی بات کیوں نہیں مانتی ایمان دلیل سے بھاگتا نہیں لیکن دلیل کو خدا بھی نہیں بناتا اور یہی فرق ہے شور مچانے والے شاعر اور وضاحت کرنے والے اہل علم میں اللہ انہیں ہدایت دے آمین

تنویر روانہ

🤔🤔🤔تنویر روانہ عاشق رسول اور شعور و آگہی کا سمندرتنویر روانہ کا نام آج اس معاشرے میں ایک ایسی صدائے حق کے طور پر گونج رہ...
06/12/2025

🤔🤔🤔تنویر روانہ عاشق رسول اور شعور و آگہی کا سمندر
تنویر روانہ کا نام آج اس معاشرے میں ایک ایسی صدائے حق کے طور پر گونج رہا ہے جو دبنے کے بجائے ہر وار کے بعد اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ وہ ایسے دور میں قلم اٹھاتا ہے جب لوگوں کے دلوں میں ابہام پھیلانے والے اور ایمان کو کمزور کرنے والے گروہ اپنے زہر میں شدت لاتے جا رہے ہیں مگر تنویر روانہ ان سب کے مقابل ایک روشن دلیل بن کر کھڑا ہے۔ تنویر روانہ نے جس انداز میں دین کے خلاف اٹھنے والے اعتراضات کا جواب دیا وہ نہ صرف علمی طاقت کا ثبوت ہے بلکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایک سچا لکھاری اپنے ایمان اور اپنی تاریخ کے دفاع میں کس طرح کھڑا ہوتا ہے۔

تنویر روانہ کی تحریروں میں ایک خاص طرح کی شعور و آگہی پائی جاتی ہے جو گہرے مطالعے اور مضبوط سوچ کی علامت ہے۔ وہ لکھتا ہے تو دلیل کے ساتھ لکھتا ہے بولتا ہے تو اعتماد کے ساتھ بولتا ہے اور رد کرتا ہے تو ایسے ٹھوس انداز میں کہ مخالفین کے پاس واپس اٹھ کر کھڑے ہونے کی بھی ہمت نہیں رہتی۔ تنویر روانہ کی تحریری قوت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دین سے دور لوگ بھی اس کے جواب پڑھ کر سکون محسوس کرتے ہیں کیونکہ وہ کسی کی دل آزاری یا اشتعال انگیزی کے بجائے حقیقت کو سامنے رکھتا ہے اور دلیل سے راستہ بناتا ہے۔

تنویر روانہ کی شخصیت کا ایک بڑا وصف یہ ہے کہ وہ اپنے مخالف کو بھی گالی نہیں دیتا۔ وہ سخت اعتراضات کا جواب بھی تحمل اور علم کے ساتھ دیتا ہے۔ یہی وہ وصف ہے جو ایک سچے اہل قلم کو دوسرے لکھنے والوں سے ممتاز کرتا ہے۔ وہ جذبات میں نہیں بہتا بلکہ گفتگو کو اس مقام پر لے آتا ہے جہاں سے بات یا تو دلیل سے ثابت ہوتی ہے یا پھر مکمل طور پر خود ہی گر جاتی ہے۔ اس نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ اسلام کے خلاف اعتراض کرنے والوں کا سب سے بڑا مسئلہ لاعلمی ہے اور وہ اسی لاعلمی کے اندھیرے میں تیر چلاتے ہیں مگر تنویر روانہ ان تیرگیوں کو دلیل کی روشنی سے ختم کرتا ہے۔

تنویر روانہ کا قلم نہ تو خوف میں جھکتا ہے نہ ہی شہرت کی لالچ میں۔ وہ لکھتا ہے تو اللہ اور رسول کے دفاع کے لیے لکھتا ہے اور یہی اخلاص اس کی تحریروں میں جھلکتا ہے۔ اس نے جس جرات کے ساتھ جھوٹے اعتراضات کے ڈھیر کو بکھیر کر رکھ دیا وہ قابل ستائش ہے۔ تنویر روانہ کی تحریروں نے بہت سے لوگوں کے دلوں میں پیدا ہونے والے شکوک کو ختم کر دیا اور ان کے ایمان کو دوبارہ مضبوط کیا۔ یہی وہ اثر ہے جو صرف ایک سچے اور مخلص لکھنے والے کا قلم چھوڑ سکتا ہے۔

تنویر روانہ نہ صرف ایک اچھا شاعر ہے بلکہ اس کے اندر شعور اور آگہی کا ایک سمندر بھی موجزن ہے۔ اس کی فکر میں پختگی ہے اس کی زبان میں نرمی ہے اس کی دلیل میں وزن ہے اور اس کا مقصد ہمیشہ خیر اور حق کے فروغ کے لیے ہوتا ہے۔ وہ لکھتا ہے تو اپنے رب کی رضا کے لیے لکھتا ہے اور اسی اخلاص کی برکت ہے کہ اس کی ہر تحریر لوگوں کے دلوں تک پہنچتی ہے۔

میری دعا ہے کہ اللہ پاک تنویر روانہ کو استقامت عطا کرے اور اس کے قلم کو ہمیشہ حق کا علمبردار بنائے۔ وہ سلامت رہے اور ایسے ہی اہل حق کی صف میں کھڑا رہے کیونکہ تنویر روانہ جیسے لوگ ہی معاشرے میں روشنی کے چراغ جلاتے ہیں۔

فاروق الیاس

🤔🤔🤔رفیع رضا کی لوگوں کو گمراہ کرنے کی ناکام کوششتم نے محمد مصطفیٰ ﷺ پر جو کچھ لکھا ہے، اس میں علم کم، کم عقلی زیادہ ہے ل...
27/11/2025

🤔🤔🤔رفیع رضا کی لوگوں کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش
تم نے محمد مصطفیٰ ﷺ پر جو کچھ لکھا ہے، اس میں علم کم، کم عقلی زیادہ ہے لیکن چلو، تمہاری سہولت کے لیے
سچ اور جعل سازی کے درمیان لکیر ایسے کھینچ دیتا ہوں کہ آئندہ تحقیق شروع کرنے سے پہلے تمہیں اپنا قلم بھی لرزتا محسوس ہو حیرت تو اس بات کی ہے کہ تم ایک اہل علم ، اور شاعر ہو کر جاہل کیسے ہو سکتے ہو ؟

تو نے لکھا
اسلامی روایت ایک طرف رکھ کر سچائی دیکھتے ہیں

رفیع رضا
سچائی روایت سے نہیں، ماخذ کی صحت سے پرکھی جاتی ہے اور تو ماخذ بھی وہ لے آیا جو ترجموں کے ترجمے ہیں
غیر مسلموں کے قیاسات ہیں اور مستشرقین کے فرضی بیانیے جنہیں خود اُن کی علمی دنیا نے رد کر رکھا ہے
سچائی یہ دیکھی جاتی ہے چودہ سو سالہ متفقہ تسلسل میں، نہ کہ تمہاری مرضی کے حوالے چن لینے میں

تونے لکھا

محمدؐ نے جنگیں لڑیں، معاہدے توڑے، خوف پھیلایا
تاریخ
جس پر تیرا پورا مضمون کھڑا ہے وہ مکہ کے،بائیکاٹ زدہ، تشدد کے شکار 313 انسان تھے۔ جو دشمنوں سے بچنے کو ہجرت کر گئے فتح مدینہ کے بعد پہلا حکم امن کا معاہدہ
فتح مکہ کے بعد پہلا اعلان عام معافی یہ فوجی فتوحات نہیں یہ ظلم سہنے والوں کا دفاع تھا اور یاد رکھ جس نبی نے طاقت اپنے ہاتھ میں لے کر اپنے قاتل تک کو معاف کر دیا ہو اس پر خوف و دہشت کا الزام چبھتا نہیں، الٹا الزام لگانے والے کی جہالت چبھنے لگ جاتی ہے

تو نے کہا
شاعروں کے قتل، اسماء بنت مروان، کعب بن الاشرف

یہ تمہاری سب سے گھسی پِٹی دلیل ہے

اسماء بنت مروان کی روایات سب ضعیف، منقطع، راوی مجہول محدثین نے خود رد کیں
لیکن تو حدیث جانتا کہاں ہے؟

کعب بن اشرف مدینہ میں سیاسی بغاوت کی قیادت کر رہا تھا، مدینہ کے اندرونی معاہدے توڑ رہا تھا، جنگی اتحاد بنا رہا تھا یہ شاعری نہیں جاسوسی بغاوت قتل کی سازش تھی دنیا کی ہر ریاست ایسے باغیوں کو سیکیورٹی رسک کہتی ہے صرف تم اسے شاعری کہہ رہے ہو تم اور تمہاری شاعری بھی اسی ملحد کے نقش قدم پہ ہے یہی فرق ہے علم اور بچکانہ بغض میں

تو نے لکھا
کم عمر بیوی، نو سال والی کہانی

یہ بات تمہاری علمی دیوالیہ پن کی سب سے بڑی دلیل ہے
کاش کبھی علم پڑھ لیتے عائشہؓ کی عمر کے متبادل شواہد
وہ بدر سے پہلے بالغہ تھیں (مسند احمد)
وہ اس سیرت میں شریک ہیں جس میں کم از کم 14تا18 سال عمر ثابت ہوتی ہے عرب میں ‘عمر’ کی گنتی قمری قبائلی انداز سے ہوتی تھی، درست سال کا تعین نجومی نہیں کرتے
لیکن تم صحیح بخاری کی ایک روایت اٹھاتے ہو، باقی تمام شواہد پھینک دیتے ہو کیونکہ تمہارے بیانیے کو وہ ایک روایت سوٹ کرتی ہے

یہ تحقیق نہیں، دھوکہ ہے

تو نے لکھا

صفیہ کو قیدی بنا کر ازدواج

یہ بات بھی غلط ہے
صفیہؓ کی رضامندی کے بغیر نکاح ممکن ہی نہیں تھا
اسلامی قانون میں مکروہ، جبری یا زیرِ جبر نکاح سرے سے کالعدم ہوتا ہے
روایات میں خود صفیہؓ کے الفاظ محفوظ ہیں کہ
“میں نے خود رسول اللہ کا انتخاب کیا”

لیکن یہ تفصیل تمہاری سوشل میڈیا اسکالرشپ کی زد میں نہیں آتی

تو نے لکھا
جنگیں، قتل، گردنیں… وغیرہ

رفیع رضا
تجھے سیرت محمدؐ میں تشدد نظر آیا
تاریخِ روم، فارس، منگول، چرچ کی جنگیں، صلیبی قتلِ عام، انگریزوں کی کالونیاں، امریکہ کی جنگیں
اُن میں نظر نہیں آیا؟
کیوں؟
کیونکہ محمدؐ واحد شخصیت ہیں جن کی طاقت خوف سے نہیں اخلاق سے بڑھی فاتح مکہ بن کر دشمنوں کے گھروں میں جا کر کہتے ہیں
جاؤ، سب آزاد ہو
یہ تاریخ کا واحد فاتح ہے جس نے خون سے نہیں، اخلاق سے شہر لیا

یہ بات تمہارے بیانیے میں فٹ نہیں بیٹھتی اس لیے تم اسے چھپا جاتے ہو

تو نے لکھا
شہ رگ کاٹنے والا قرآن کی آیت اور زہر کی حدیث

یہ تو تمہاری سب سے مضحکہ خیز دلیل ہے

قرآن شہ رگ کاٹنے کو استعارہ کے طور پر کہتا ہے
اگر محمد اپنی طرف سے کچھ کہے تو ہم اخذ کریں، پکڑ لیں
یہ بات دنیا میں سزا نہیں بلکہ اللہ کی گرفت کا بیان ہے

اور تم اس کے مقابلے میں
ایک بوڑھی عورت کے زہر دینے کے واقعے کو آیت کی تکمیل سے جوڑ رہے ہو؟
یہ تو وہی ہو گیا
جسے عربی نہیں آتی، وہ قرآن سے فلسفہ گھڑتا پھرے

تو نے لکھا
محمدؐ ان پڑھ نہیں تھے

یہ اللہ کی حکمت تھی کہ کتاب ایسے شخص پر اتاری جائے جسے دنیا نہ کہہ سکے کہ یہ اپنی طرف سے لکھا ہے

اور ساری دنیا آج تک حیران ہے
جس نے ایک حرف نہیں لکھا، وہ کتاب دنیا کی علمی ریڑھ کی ہڈی کیسے بن گئی؟

جس شخص کے دشمن بھی اسے امین کہیں
جس کے قاتل اس کے ہاتھ پر آ کر جان بچائیں
جس کی سلطنت تلوار سے نہیں کردار سے پھیلے
جس نے طاقت ملنے کے بعد ایک انسان کو بھی انتقام میں نہ مارا
ان کی شان میں تو گستاخی کرتا ہے
اور جنہوں نے دنیا بھر کو آگ میں جھونکا…
ان پر تیرے الفاظ ختم؟

سچ یہی ہے
تو محمدؐ پر نہیں اپنی جہالت پر لکھتا ہے

رفیع رضا
تو نے محمد ﷺ کے خلاف سب کچھ لکھ ڈالا
سوائے ان باتوں کے جن کا جواب تیرے پاس نہیں
دشمن بھی انہیں امین کہتے تھے کہتے ہیں کہتے رہیں گے
طاقت ملی تو معاف کر دیا انتقام کا ایک وار نہیں کیا
غلام آزاد کیے عورتوں کی حفاظت کی یتیموں کا سہارا بنے
اخلاق کو قانون بنایا پوری دنیا کو ظلم سے نکالا

جن کے دشمن بھی ان پر اعتماد کریں ان سے تُو گستاخی کرے یہ تیرے قلم کا نہیں تیرے دل کا زہر ہے قلم ٹھیک کر
یا پھر تاریخ کی گلی سے واپس مڑ جا کیونکہ یہ راستہ سچ مانگتا ہے ہنگامہ نہیں، اللہ تجھے ہدایت دے

تنویر روانہ

🤔🤔🤔انسان کی حیثیت بےقدری سے تکریم تکبیشک انسان پر ایک ایسا زمانہ گزر چکا ہے جب وہ کوئی قابلِ ذکر چیز نہیں تھا ہم نے انسا...
24/11/2025

🤔🤔🤔انسان کی حیثیت بےقدری سے تکریم تک
بیشک انسان پر ایک ایسا زمانہ گزر چکا ہے جب وہ کوئی قابلِ ذکر چیز نہیں تھا ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا، پھر ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا بنایا ہم نے ہی اسے راستہ دکھا دیا اب چاہے وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا،
بیشک ہم نے کافروں کے لیے زنجیریں، طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے جو نیکوکار ہیں وہ ایسی پاکیزہ شراب پئیں گے جس میں کافور کی ٹھنڈک اور لطافت شامل ہوگی
القرآن

انسان کا سب سے پہلا تعارف اس کی بے قدری سے ہوتا ہے ایک وقت تھا جب وہ کسی شمار میں نہ تھا، لیکن خالق نے اسے وہ مقام دیا کہ دیکھنے، سننے، سمجھنے اور راستہ پہچاننے کی صلاحیت عطا کی یہی صلاحیت انسان کی اصل عظمت بھی ہے اور اسی پر اس کا امتحان قائم ہے

انسان کو دو راستے دکھائے گئے
ایک شکر کے سکون تک جاتا ہے
اور دوسرا ناشکری کی بے چینی تک

یہ تقسیم کسی جبر کی نہیں، بلکہ انسان کے اپنے انتخاب کی ہے جس دل نے روشنی کو چنا، وہ آسودگی پاتا ہے جس نے انکار کو اپنایا، وہ اپنی ہی بنائی ہوئی زنجیروں میں جکڑ جاتا ہے اور پھر انجام وہی ہوتا ہے جس کا بیج انسان نے خود بویا، نیکی، شکر اور اطاعت کا سفر اسے اس پاکیزہ راحت تک لے جاتا ہے جس کی ٹھنڈک روح کو ہمیشہ کے لیے آسودہ کرتی ہے جبکہ انکار اور ضد اسے اُس سخت انجام تک پہنچا دیتی ہے جو اُس کے اپنے فیصلوں کا نتیجہ ہوتا ہے

قرآن کریم کی آیات کا ترجمہ جو آپ نے ابتدا میں پڑھا ، انسان کو اس کی ابتدا، اس کی ذمہ داری اور اس کے انجام تینوں کا آئینہ دکھایا گیا ہے انسان کی کہانی اُس لمحے سے نہیں بنتی جب وہ پیدا ہوتا ہے، بلکہ اُس لمحے سے بننا شروع ہوتی ہے جب وہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اسے کون سا راستہ اختیار کرنا ہے

تنویر روانہ

23/11/2025

یاد وہ قہر جو اس پر بھی تو ٹوٹے تنویر
وہ اگر بھولے بھی ہم کو تو بھلائے نہ بنے
تنویر روانہ

🤔🤔🤔 درد ایسا ہے کہ اب دل سے اٹھائے نہ بنے               بات ایسی ہے کہ سینے میں چھپائے نہ بنےدشت ہستی میں کہاں ضبط کا آغ...
23/11/2025

🤔🤔🤔 درد ایسا ہے کہ اب دل سے اٹھائے نہ بنے
بات ایسی ہے کہ سینے میں چھپائے نہ بنے

دشت ہستی میں کہاں ضبط کا آغاز کروں
آہ اٹھتی ہے جو سینے سے دبائے نہ بنے

جس نے برباد کیا تھا مجھے اک لمس کے ساتھ
اس کا احساں بھی مرے دل سے مٹائے نہ بنے

زندگی بھر کی کمائی تھی وہی ایک نظر
آج وہ قرض ہے جو مجھ سے چکائے نہ بنے

زخم اتنے ہیں کہ اب نام بھی لینا مشکل
آہ رکتی ہی نہیں حوصلہ آئے نہ بنے

وہ خفا ایسے ہوا جیسے میں اس کا مجرم
اور میں عذر کروں بات بنائے نہ بنے

غم کی بارش نے جہاں ہم کو ڈبو کر مارا
اب سنبھلنے کی بھی طاقت یہاں لائے نہ بنے

میں بھی خاموش ہوں وہ بھی ہے گریزاں لیکن
یہ گریزش کہ قدم آگے بڑھائے نہ بنے

کیا مرے دل کو ہوا ہے کہ کسی حال میں اب
ایک پل چین بھی آ جائے تو جائے نہ بنے

یاد وہ قہر جو اس پر بھی تو ٹوٹے تنویر
وہ اگر بھولے بھی ہم کو تو بھلائے نہ بنے

تنویر روانہ

🤔🤔🤔میں عدم کے پار جاؤں یہ متاعِ جان تھامے                    تری حسرتوں میں لپٹا ترا انتظار جاناںلبنی غزلآج لبنی غزل کی ...
23/11/2025

🤔🤔🤔میں عدم کے پار جاؤں یہ متاعِ جان تھامے
تری حسرتوں میں لپٹا ترا انتظار جاناں
لبنی غزل

آج لبنی غزل کی تازہ غزل نظر سے گزری تو یہ شعر دل پر یوں اترا کہ جیسے کسی نے لمحۂ فراق کو پکڑ کر دھڑکتے وجود پر رکھ دیا یہ شعر اس غزل کی جان ہے جسے پڑھ کر تںویر روانہ اظہار خیال کیے بغیر نہ رہ سکا
یہ شعر اپنے پورے وجود کے ساتھ لمحۂ فراق کی اس لذت اور اذیت کو سمیٹ لیتا ہے جس میں عاشق اپنے آپ کو ایک ایسی شے کی طرح تھامے کھڑا ہے جو ٹوٹ بھی سکتی ہے اور بچ بھی سکتی ہے
لبنی غزل کی اس تخلیق میں محبت محض جذبہ نہیں رہی ایک ایسی داخلی کائنات بن گئی ہے جو الفاظ کے پردے سے باہر آ کر دل کے اندر اپنے خیمے گاڑ دیتی ہے شاعرہ نے چاہت کو مہبط کہا تو لگا جیسے عشق آسمان سے اتر کر دل کی زمین پر اپنا پہلا سنگِ بنیاد رکھ رہا ہو اسی سنگیت سے سارے اشعار روشنی پکڑتے ہیں مگر اس ایک شعر میں جو آگ جل رہی ہے وہ تنویر روانہ کے بیان کے قابل ہے حسیّت اور عدم کے درمیان ٹنگی ہوئی ایک متاعِ جاں وہ شے ہے جسے انسان صرف دو ہی کیفیتوں میں تھامتا ہے یا کامل یقین کے ساتھ یا شدید خوف کے ساتھ یہاں دونوں ایک ساتھ دھڑکتے ہیں

تنویر روانہ کے نزدیک انتظار کوئی لفظ نہیں ایک پورا موسم ہے جو آدمی کی ہڈیوں میں اتر جاتا ہے آپ سوچیں کبھی کبھی حسرتیں بھی لحاف بن جاتی ہیں جن میں انسان لپٹ کر اپنے آپ کو گرم رکھتا ہے اور یہ کتنی عجیب بات ہے کہ اسی لحاف میں سب سے زیادہ سردی بھی اسی سے چبھن بھی اسی سے جلنا بھی ، لبنیٰ غزلؔ نے اسی چبھن کو اس مہارت سے شعر کے قالب میں ڈالا ہے کہ پلٹ کر دل کو کاٹ لیتی ہے کہ پڑھنے والا اپنے ہی دل کی رگیں کٹتی محسوس کرتا ہے

یہ وہ انتظار ہے جو کسی کے کہنے سے ختم نہیں ہوتا یہ وہ حسرت ہے جو کسی دلیل سے نہیں بجھتی اس شعر میں ایک ایسی داخلی روشنی ہے جسے چھوا نہیں جا سکتا مگر وہ پورے وجود کو بھگو دیتی ہے یہاں عاشق عدم کی سمت قدم بڑھاتے ہوئے بھی ہاتھ خالی نہیں رکھتا وہ اپنی جاں نہیں سنبھال رہا وہ اس جاں میں لپٹی ہوئی آرزوؤں کو سنبھال رہا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں محبت فلسفہ نہیں رہتی تقدیر بن جاتی ہے
یہ شعر پوری غزل کا دھڑکتا ہوا دل ہے باقی اشعار اپنی جگہ حسین مگر اس ایک شعر میں وہ دھڑکن ہے جو شاعرہ کے باطن کی سچائی کو قاری تک پہنچا دیتی ہے

اس شعر نے شاعرہ کی پوری شاعرانہ روح کو واضح کر دیا ہے لبنی غزل محبت کو صرف لفظوں کی ترتیب سے نہیں بناتی بلکہ اپنی سانس کی حرارت سے اس میں جان ڈالتی ہے اس کا یہ شعر بتاتا ہے کہ انتظار محض وقت گزارنے کا عمل نہیں بلکہ ایک ایسی عبادت ہے جس میں دل اپنی سب سے قیمتی متاع اٹھائے عدم تک بھی جانے پر آمادہ رہتا ہے یہ مسلسل جلتا ہوا داغ ہے جو شاعرہ نے دل میں چھپا کر بھی رکھا اور اس کو منتشر بھی کیا لبنی غزل کی زبان نرم ہے مگر مفہوم فولاد کی دھار رکھتا ہے وہ محبت کو پھول بھی بناتی ہے اور اسی پھول کے کانٹے پر انگلی بھی رکھ دیتی ہے تاکہ قاری جان لے کہ عشق سہل راستہ نہیں مگر ناممکن بھی نہیں اس کے ہاں بیمار سانسوں کی لرزش نہیں بلکہ عاشق وہ زندہ دل ہے جو انتظار سے جینا بھی سیکھتا ہے اور اسی انتظار میں مرنا بھی۔ اس کا کمال یہ ہے کہ وہ دکھ کو شور نہیں بناتی بلکہ خاموشی کا وقار عطا کرتی ہے اس کی سادگی میں ایک ایسا ٹھہراؤ ہے کہ شعر پڑھنے والا خود کو اس انتظار کی زنجیر میں بندھا محسوس کرنے لگتا ہے اس کے الفاظ شکر یا شہد کی طرح مصنوعی مٹھاس نہیں رکھتے بلکہ وہ سچائی کی وہ کڑواہٹ ہیں جو محبت کی آگ میں پگھل کر میٹھی ہو جاتی ہے یہی اس کا اصل فن ہے اور یہی اس کی پہچان لبنی غزل محبت کو دیوار پر لکھے ہوئے نعرے کی طرح پیش نہیں کرتی بلکہ دل کے نہاں خانے میں رکھتی ہے اور پھر آہستگی سے کاغذ پر بکھیر دیتی ہے یہی ادب کی اصل عظمت ہے کہ لفظ کم ہوں اور معنی کی گہرائی اتنی کہ دیر تک دل کے اندر گونجتی رہے یہ لبنی غزل کی وہ خاصیت ہے جسے نظر انداز کرنا ممکن ہی نہیں

تنویر روانہ

لبنیٰ غزل

Address

Sargodha

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adab e Rawana posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category