26/07/2026
☣️ سمندر کی تہہ میں زہریلے پلوٹونیم کا بم: غرقاب سوویت ایٹمی آبدوز دنیا کے لیے بڑا خطرہ!
سنہ 1989 میں ناروے کے ساحل کے قریب سمندر میں ڈوبنے والی سوویت یونین کی جدید ایٹمی آبدوز "کومسومولیٹس" (Komsomolets) کا ملبہ 37 سال بعد بھی دنیا اور خاص طور پر سمندری حیات کے لیے ایک بڑا خطرہ بنا ہوا ہے۔
🌊 ایک ہزار میٹر کی گہرائی میں ڈوبا ٹائم بم
💥 حادثہ: 7 اپریل 1989 کو آبدوز میں آگ لگنے کے باعث یہ سمندر میں تقریباً 1700 میٹر (ایک میل) کی گہرائی میں غرق ہو گئی تھی، جس میں 42 اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔
☢️ زہریلا پلوٹونیم: اس آبدوز میں 2 ایٹمی وار ہیڈز سے لیس ٹارپیڈوز اور تقریباً 4 کلوگرام انتہائی زہریلا پلوٹونیم موجود ہے۔
🛠️ عارضی حل: 1996 میں آبدوز کے سوراخوں کو سائنسی بنیادوں پر سیل (Seal) کیا گیا تھا، لیکن اس کی میعاد صرف 30 سال تھی جو اب مکمل ہو چکی ہے۔
🔬 حالیہ صورتحال اور ماہرین کا تحفظات
♨️ ری ایکٹر کی خرابی: مارچ 2026 میں آنے والی رپورٹ کے مطابق آبدوز کا جوہری ری ایکٹر مسلسل زنگ آلود ہو رہا ہے اور اس سے وقفے وقفے سے تابکاری کے بادل خارج ہو رہے ہیں۔
🐟 سمندری حیات کو خطرہ: ماہرین کا کہنا ہے کہ پلوٹونیم کی نصف عمر (Half-life) 24,000 سال ہوتی ہے۔ اگر تابکاری میں اضافہ ہوا تو سمندری مچھلیوں اور خوراک کے ذریعے یہ زہر انسانوں تک پہنچ سکتا ہے۔
🚧 نکالنا ناممکن: 1700 میٹر کی شدید گہرائی کی وجہ سے اس آبدوز کو سمندر سے باہر نکالنا یا فی الحال مکمل طور پر محفوظ بنانا انتہائی دشوار ترین چیلنج ہے۔