31/01/2018
افسر منہاس ١۹٥٦میں ھری پور میں پیدا ھوۓ,
میٹرک,سے ایف اے تک تعلیم ہری پور میں حاصل کی اور گریجویشن عبداللہ ہارون کالج کراچی سے کی ۔
١۹۸٤میں کراچی یونیورسثی سے فلسفے میں ایم اے کیا,
جہاں ﮈاکٹر منظور احمد , ﮈاکٹر سعید احمد اور ﮈاکٹر حسن ظفر عارف جیسے جید اساتذہ کے حلقہ تلامذہ میں شامل رھے۔ شاعری کا آغاز پرائمری سکول کے زمانے میں کر چکے تھے۔
شاعری میں ابتدائی دور میں نشتر رامپوری کی شاگردی اختیار کی، اور اردو کے ممتاز ادیب اور شاعر پروفیسر صوفی عبدالرشید سے عقیدت کے اظہار کے طور پر اپنا قلمی نام افسر رشیدی اختیار کیا؟
پرنم الہ آبادی کے حلقہ تلامذہ میں شامل رھے۔
۸۰ کی دھائی کی ابتدائی سالوں میں ہری پور میں کاروانِ ادب کے نام سے قائم ھونے والی ادبی تنظیم میں بنیادی کردار ادا کیا، بعد ازاں اس تنظیم کو بزم لوح و قلم میں ضم کردیا گیا۔ وہ اسی بزمِ لوح و قلم کے جنرل سیکرٹری بھی رھے ۔ جبکہ ممتاز شاعر ریاض ساغر اس تنظیم کے صدر تھے۔
افسر منہاس صاحب پرنم الہ آبادی کے زیر سرپرستی قائم ھونے والے حلقہ قمر ادب سے بھی وابستہ رھے۔
۲۰۰۰ کے بعد ہری پور میں بزم لوح و قلم کی سرگرمیاں معطل ھونے کے نتیجے میں پیدا ھونے والے جمود کو توڑنے کے لئے کی جانے والی کوششوں میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔
ہزارہ رائٹرز فورم، پروگریسو رائٹرز فورم کے بعد اپنے دیرینہ دوست وحید قریشی کے ساتھ ملکر انجمن ترقی پسند مصنفین پاکستان کے ساتھ وابستہ ھونے کے بعد انجمن کی ہری پور شاخ قائم کی، وہ اس تنظیم کے ضلعی اور صوبائی نائب صدر بھی رھے، ۲۰١٦میں انکا انتقال ھوا۔
افسر منہاس ایک صاحب اسلوب شاعر تھے، نشتر رامپوری، صوفی عبدالرشید، ریاض ساغر اور پرنم الہ آبادی کی مصاحبت کے باوجود ان شخصیات میں سے کسی کا رنگ انکی شاعری پر نظر نہیں آتا، انکا اپنا ہے ۔
اپنے منفرد اسلوب اور فن شاعری کے جملہ اسرار و رموز سے بھر پور آشنائی اور عبور رکھنے کی بناء پر ادبی اور عوامی حلقوں میں ابتداء ھی میں مقبولیت حاصل کر چکے تھے۔
انہوں نے اپنی شاعری میں انسانوں کے مسائل کو موضوع بنایا لیکن اردو شاعری کی روایت کا اتباع بھی کیا۔
انکی شاعری میں فصاحت اور بلاغت کی کرشمہ سازیاں جا بجا دیکھی جا سکتی ہیں، نطریاتی حوالے سے بھی انکی مخصوص طرز فکر واضح ترقی پسند نظریے کی عکاس تھی، اسی بناء پر انکا شمار اس عہد کے ترقی پسند شعراء میں ھوتا ھے۔
ا نکے بہت سے شعر زبان زد عام ھیں۔ بلکہ شعر زبان زد عام ھو کر ضرب المثل کا درجہ اختیار کر چکے ھیں۔
انکا شعری مجموعہ "کوئی تصویر تو پتھر سے نکلے" , ٧ برس قبل شائع ھوا، جسے ادبی حلقوں میں بے پناہ پزیرائی حاصل ھوئی۔
وہ غیر سرکاری تنظیم ساؤتھ ایشیاء پارٹنر شپ کے ساتھ وابستہ رہے۔جہاں انہوں نے سماجی ترقی کے شعبے میں متعدد تربیتی منصوبوں کی نگرانی کی اور سماجی مسائل سے آگاہی کی غرض سے متعدد مضامین اور کتابچے بھی تحریر کئے، اسکے علاوہ تحقیقی اور تنقیدی مضامین بھی لکھے۔
(اس البم میں ان کا کلام شامل کیا جائے گا)
انکا کچھ کلام اہل ذوق کی تسکین کے لئے.
آہ ۔۔۔۔۔ افسر منہاس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل پر جو گزرتی ہے وہ کیونکر نہیں کہتے
کیوں لوگ ستمگر کو ستمگر نہیں کہتے
سبزہ اگر اُگنے لگے پربت کے بھی اوپر
قد میں اسے پربت کے برابر نہیں کہتے
ہم لوگ بھی کیا خوب منافق ہیں کہ افسر
سچ کہتے ہیں لیکن کبھی منہ پر نہیں کہتے
۔۔۔۔۔۔
ہستی کیا ہے گھر ہے بہتے پانی پر
جیون ایک سفر ہے بہتے پانی پر
ڈوبے گی یا پار لگے گی اپنی ناؤ
اس کی کسے خبر ہے بہتے پانی پر
۔۔۔۔۔۔
دل گاؤں کا اک حجرہ ویران ھو جیسے
تو شہر سے آیا ھوا مہمان ھو جیسے
۔۔۔۔۔۔
یہ کوہ قاف ھے آنکھوں پہ اعتبار نہ کر
نظر سنبھال کہ منظر فریب دیتا ھے
۔۔۔۔۔۔
افسر نہین تم کو ہی منانے کا سلیقہ
تقدیر تو روٹھے ھوۓ ساجن کی طرح ھے
۔۔۔۔۔۔