30/04/2026
*صادق آباد*
ادبی تنظیم " تخلیق کار" کے زیر انتظام صادق آباد کے معروف شعراء خالد کھو کھر ، باسط ادیب اور احمد نوید کے اعزاز میں ایک شام کا اہتمام کیا گیا جس میں جدید لب و لہجے کے معروف شاعر علمدار حسین نے تقریب کی صدارت کی جب کہ انجنیئر سید معین اس تقریب کے مہمانِ خاص تھے ۔
مہمان شعراء نے اپنے کلام پر بھرپور داد سمیٹی ۔
شعراء کے کلام سے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
مسند و جبہ و دستار کو بے کار سمجھ
جس کا سر دار پہ ہے بس اسے سردار سمجھ
یہ مرا دور نہیں کرب و بلا ہے پیارے
جس کو رونا نہیں آتا اسے بیمار سمجھ
( علمدار حسین)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ربط باہم جو بڑھاؤ تو کوئی بات بنے
وعدہ کر کے جو نبھاؤ تو کوئی بات بنے
جاں دینے کا دکھاوا تو سبھی کرتے ہیں
جان دے کے بھی دکھاؤ تو کوئی بات بنے
( خالد کھو کھر)
۔۔۔۔۔۔۔
ذرا کام وام کو ٹال کر مجھے کال کر
کوئی ایک لمحہ نکال کر مجھے کال کر
مرا دل ہے کب سے رکا ہؤا مرے باوفا
مری دھڑکنوں کو بحال کر مجھے کال کر
(باسط ادیب)
۔۔۔۔۔۔۔
منظر اگر چہ آنکھ سے بڑھ کر حسین تھا
آزار بن رہی تھی سو کھڑکی اکھاڑ دی
تصویریں کر سکیں نہ مرے ہجر کا علاج
کل شب دوا کی آخری پرچی بھی پھاڑ دی
( احمد نوید)
مہمانِ خاص انجینئر سید معین احمد نے شعرا کے کلام اور تقریب کے معیار کو سراہتے ہوئے اس ادبی سلسلے کو جاری رکھنے کا مشورہ دیا ۔
تقریب کے اختتام پر خالد کھوکھر صاحب نے صاحب صدارت اور مہمان خاص کی خدمت میں اپنے شعری مجموعے " بلا جواز" اور " موجودگی" پیش کیے اور اس عزم کے ساتھ نشست برخاست کی گئی کے آئندہ بھی اسی ولولے کے ساتھ ایسی نشستیں جاری رہیں گی ۔
پاکستان زندہ آباد
شکریہ