EHSAN ULLAH SFC

EHSAN ULLAH SFC entertainment darama move clip

15/11/2023

زندگی اگر کبھی مہربان ہو کر کسی شخص کے انتخاب کا موقع دے تو اپنے لیے ہمیشہ ایک ذمہ دار شخص کا انتخاب کریں۔۔۔۔۔ کیوں کہ ایک ذمہ دار انسان خوب صورت انسان ہونے سے کہیں بہتر ہوتا ہے۔۔۔۔ یہ محبت وحبت قصے کہانیوں میں اچھے لگتے ہیں۔۔۔۔۔ جب زندگی کی تلخ حقیقتوں سے پالا پڑتا ہے نا۔۔۔۔ تو یہ محبت سب سے پہلے گھر کی کھڑکیوں اور روشن دانوں سے بھاگتی ہے. حقیقتیں بڑی دل خراش ہوتی ہیں ...
.

15/11/2023

🌹°。°。📚°。°。🇸🇦°。°。🌹

*🌹🤲🏻﷽🤲🏻🌹*

*🔸جوڑوں کے درد کا آسان علاج🔸*

ہر سال سردی کا موسم آتے ہی بہت سے لوگوں کی ہڈیوں اور جوڑوں میں تکلیف کی شکایت بڑھ جاتی ہے جو اذیت اور پریشانی کا باعث بنتی ہے۔

اس صورتحال سے بچنے کے لیے حفاظتی تدابیر اختیار کرنا لازم ہیں اور ساتھ ہی درد سے نجات کیلئے دوا کا استعمال یا کسی تیل کی مالش بھی اہمیت کی حامل ہے۔

سردیوں میں درجہ حرارت کا گرنا پٹھوں کے کھچاؤ کا باعث بن سکتا ہے جس کے نتیجے میں پٹھوں میں سختی اور جوڑوں میں درد ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ سردیوں میں لوگوں کا دھوپ میں نکلنا بھی کم ہوتا ہے جس کی وجہ سے وٹامن ڈی کی کمی بھی جوڑوں اور ہڈیوں میں درد کا سبب بنتی ہے، سردی سے بچنے کیلئے لوگ زیادہ تر گھر میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں جس سے جسمانی ورزش کم ہوجاتی ہے۔

سب سے اہم چیز ورزش ہے، دن کے آغاز پر ہلکی پھلکی ورزش جو گھٹنوں کو متاثر نہ کرے آپ کی ہڈیوں اور جوڑوں کو فعال اور توانا رکھنے میں مدد دیتی ہے، ورزش سے پہلے وارم اپ ہوں اور اعتدال کے ساتھ مستقل بنیادوں پر ورزش جاری رکھیں۔

ایک حکیم صاحب نے ایک آسان نسخہ اور تیل بنانے کا طریقہ بھی بتایا جسے استعمال کرکے اس درد سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔

*درد سے بچاؤ کا سفوف*
اجزاء

اسگندھ ناگوری پاوڈر : 50 گرام
ستاوری کا پاوڈر : 50 گرام
جڑ الائچی پاؤڈر: 50 گرام
سورنجان شیریں کا پاؤڈر : 20 گرام

ان تمام پاؤڈرز کو ملاکر ایک چھوٹی سی برنی میں رکھ لیں اور ایک چمچ صبح شام دودھ یا پانی سے لیں، اس کے کوئی مضر اثرات نہیں، ذیابیطس یا ہائی بلڈ پریشر کے مریض بھی اسے بلا خوف خطر استعمال کرسکتے ہیں کیونکہ یہ نہ تو نمکین ہے اور نہ ہی میٹھی۔

*خصوصی پین کلر آئل بنانے کا طریقہ*

اس کے علاوہ انہوں نے خصوصی پین کلر آئل بنانے کا طریقہ بھی بیان کیا، انہوں نے بتایا کہ کسی بھی پنساری سے 50 ملی لیٹر روغن سورنجان اور روغن جاوا 50 ملی لیٹر لے لیں اور ان دونوں کو ایک کانچ کی بوتل میں مکس کرکے ایک گھنٹے کیلئے دھوپ میں رکھ لیں تیل تیار ہے۔

پورے جسم میں کہیں بھی جوڑوں یا پٹھوں کا درد ہو پانچ منٹ کیلئے اس تیل سے مساج کریں سارا درد دیکھتے ہی دیکھتے رفو چکر ہوجائے گا۔

*▪️ضروری بات▪️*
*اس پوسٹ میں شامل تمام مواد کا مقصد صرف معلومات فراہم کرنا ہے اور اسے طبی مشورے کے طور پر نہیں لیا جانا چاہئے۔ قارئین کو صحت سے متعلق متعلقہ پیشہ ور افراد سے رابطہ کرنا چاہئے.*

*_595_* 🇵🇰🇵🇰🇵🇰

🌹°。°。📚°。°。🇸🇦°。°。🌹

آج ہم اسلام آباد سے لاہور کےلئے فیصل موورز گاڑی میں روانہ ہوئے راستے میں قیام و طعام کی جگہ پر روکا پر جب ہم اترنے لگے ت...
12/11/2023

آج ہم اسلام آباد سے لاہور کےلئے فیصل موورز گاڑی میں روانہ ہوئے راستے میں قیام و طعام کی جگہ پر روکا
پر جب ہم اترنے لگے تو ڈرائیور نے گاڑی چلا دی کہا نماز پڑھانے کی کمپنی کی طرف سے اجازت نہیں ہے میں نے کمپنی کی ہلپ لائن پر کال کی تو کمپنی کے نمائندوں نے کہا واقعی ہی نماز کی اجازت نہیں ہے میں نے کہا کہ ہم ایک مسلمان ریاست میں ہیں تو نمائندہ نے کہا بلکل لیکن کمپنی کی پالیسی یہ ہی ہے سوال پیدا ہوتا ہے اسلامی ملک ریاست میں ہوتے ہوئے یہ کمپنی ایسی پالیسی بنا رہی ہیں ایسی کمپنی کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے ۔ اور حکومت بھی ایسی کمپنیوں پر مکمل پابندی لگائی جائے اور باری جرمانہ کئے جائے ہم اپنے ملک میں بھی مکمل آزادی کے ساتھ فرائض کی ادائیگی نہیں کر سکتے اس ملک میں کیا قانون ہے کیا آئین ہے آئین میں تو لکھا ہے حاکمیت صرف اللہ کی اور کوئی قانون ایسا نہیں بن سکتا جو قرآن سنت کے منافی ہو اور اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئر کریں اور اپنے حقیقی مسلمان ہونے کا ثبوت دیں اور فیصل موورز کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے
تحریر مبشر حسین

11/11/2023
11/11/2023

سورۃ الکوثر میں عددی معجزے نے ہی مجھے حیران کر رکھا ہے، سوچا آپکے ساتھ شئیر کرلوں

سورۃ الکوثر قرآن کی سب سے چھوٹی سورت ہے اور اس سورۃ کے جملے الفاظ 10ہیں۔

قرآن بذات خود ایک معجزہ ہے

لیکن جب

- سورۃ الکوثر کی پہلی آیت میں 10 حروف ہیں۔

- سورۃ الکوثر کی دوسری آیت میں 10 حروف ہیں۔

- سورۃ الکوثر کی تیسری آیت میں 10 حروف ہیں۔

- اس پوری سورت میں جو سب سے زیادہ تکرار سے حرف آیا ہے وہ‏…حرف "ا" الف ہے جو 10 دفعہ آیا ہے۔

- وہ حروف جو اس سورت میں صرف ایک ایک دفعہ آئے ہیں انکی تعداد 10 ہیں۔

- اس سورت کی تمام آیات کا اختتام حرف "ر" راء پر ہوا ہے جو کہ حروفِ ہجا میں 10 واں حرف شمار ہوتا ہے۔

- قرآن مجید کی وہ سورتیں جو حرف "ر" راء پر اختتام پذیر ہو رہی ‏…ہیں، انکی تعداد 10 ہے جن میں سورۃ الکوثر سب سے آخری سورت ہے۔

سورت میں جو 10 کا عدد ہے اسکی حقیقت یہ ہے کہ وہ ذو الحجہ کے مہینے کا 10واں دن ہے جیسے کہ اللہ تعالی نے فرمایا
" فصل لربک وانحر"
"پس نماز پڑہو اور قربانی کرو"
وہ دراصل قربانی کا دن ہے

اللہ کی شان کے یہ ‏…سب کچھ قرآن کریم کی سب سے چھوٹی سورت ، جو ایک سطر پر مشتمل ہے، میں آگیا
آپکا کیا خیال ہے بڑی سورتوں کے متعلق!!!
‏اللہ تعالی نے اسی لئیے فرمایا
"ہم نے اپنے بندے پر جو کچھ نازل کیا ہے اگر تمہیں اس میں شک ہو تو اس جیسی ایک سورت ہی لے آؤ"
اللہ تعالی مجھے اور آپ کو حوضِ کوثر سے ایسا مبارک پانی پلائے جسکے بعد ہمیں کبھی پیاس نہ لگے۔ آمین

11/11/2023

*اللّٰــــہ کا ذکــــر...!🫀🖇️
جب تمہارا دل بلاوجہ اداس ہونے لگے..!جب دنیا کی اس رنگینیوں سے تمہارا دل اٹھنے لگے..!جب تمہیں دنیا فریب لگنے لگے تو سمجھ جانا کہ تمہاری روح کو اللّٰــــہ کے ذکر کی ضرورت ہے🥺♥️🫶♥️ وہ تڑپ رہی ہے اللّٰــــہ کی عبادت کے لیے..!اس کی بندگی کے لیے، اپنے دل کو اللّٰــــہ کے ذکر سے بھرتے رہو...!♥️✨*

10/11/2023

20ستمبر 1857ء کو بہادر شاہ ظفر کو ہمایوں کے مقبرے سے گرفتار کر لیا گیا، میجر ہڈسن نے اس کے بیٹوں اور پوتوں کو گولی مار دی۔
لال قلعہ میں بہادر شاہ ظفر کا مقدمہ چلا اور 1858ء میں اسے اس کی بیگم زینت محل کے ساتھ رنگون بھجوا دیا گیا۔
بادشاہ اس وقت سلطنت، محل، خزانے اور خاندان سے محروم ہو چکا تھا لیکن اس کے باوجود وہ بادشاہ تھا۔ اسے جب رنگون بھجوانے کے لیے کمپنی کے بحری جہاز میں سوار کیا جا رہا تھا تو ایک قلی آگے بڑھا اور جھک کر سابق بادشاہ کو سلام کیا، مغل بادشاہوں کی روایت تھی یہ لوگ جھک کر سلام کرنے والوں کو خالی ہاتھ واپس نہیں بھجوایا کرتے تھے۔
بادشاہ نے قلی کو جھکتے اور سلام کرتے دیکھا تو بے اختیار جیب میں ہاتھ ڈالا، اس وقت اس کی جیب میں عقیق کی ایک تسبیح کے سوا کچھ نہیں تھا، اس نے وہ تسبیح نکالی اور قلی کے ہاتھ میں پکڑا دی۔
یہ معزول بادشاہ کا کسی ہندوستانی شہری کے لیے آخری تحفہ تھا۔ بہادر شاہ ظفر نے چار سال رنگون میں قید میں گزارے، وہ قید کے دوران کسی ہندوستانی سے نہیں ملا، کیوں؟
اس کی بیگم زینت محل کے مطابق بادشاہ کے پاس ملاقاتیوں کو دینے کے لیے کچھ نہیں تھا اور یہ اس کی غیرت کو گوارہ نہیں تھا کوئی اسے ملنے آئے اور وہ اسے خالی ہاتھ لوٹا دے لہٰذا اس نے ملاقاتوں سے انکار کر دیا تاہم اگر انگریز سرکار کا کوئی اہلکار یا ڈاکٹر اس کا حال احوال معلوم کرنے آتا تھا تو بادشاہ اسے بھی رخصت کرتے وقت اپنی قمیض، اپنے جوتے اور بعض اوقات اپنی چادر تک عنایت کر دیتا تھا اور وصول کرنے والے کا ماتھا پسینے سے تر ہو جاتا تھا۔ بادشاہ نے قید کے دوران بھی انگریز اہلکاروں سے کوئی چیز وصول نہیں کی، ڈاکٹر ادویات تک بادشاہ کے ملازموں کو دیتے تھے اور وہ انھیں پلاتے تھے۔
بادشاہ کے لیے کپڑوں، جوتوں اور چادروں کا انتظام بھی خادموں کے ذریعے کیا جاتا تھا اور اس کے لیے کھانے پینے کا سامان بھی ملکہ عالیہ اور ملازمین کو دیا جاتا تھا۔ بادشاہ کے برتن بھی مٹی کے تھے لیکن اس کے اپنے تھے اور اس نے آخری سانس تک چمچ بھی اپنی استعمال کی اور موت سے پہلے اپنا یہ سامان بھی اپنے خادموں میں بانٹ دیا تھا۔
یہ بہادر شاہ ظفر 1862ء میں 87 سال کی عمر میں فوت ہوا۔ رنگون میں دفن ہوا اور یوں ہندوستان میں مغل سلطنت کا چراغ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بجھ گیا لیکن بجھتے بجھتے یہ بتا گیا بادشاہ حالات سے نہیں بلکہ دل سے بادشاہ ہوتے ہیں اور یہ اگر قید میں بھی ہوں اور اگر ان کی جیبیں خالی بھی ہوں تو بھی یہ کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔ ان کا ہاتھ اس وقت بھی اوپر ہوتا ہے، نیچے نہیں۔
🔖

10/11/2023

*مکہ مکرمہ کے بارے میں حیران کن معلومات #*
*__________________*
1-: یہاں پانی مہنگا اور تیل سستا هے۔۔۔
2-: یہاں کے راستوں کی معلومات مردوں سے زیادہ عورتوں کو ہے اور یہاں پر مکمل خریداری عورتیں ھی کرتی هیں مگر پردے میں رہ کر۔۔۔
3-: یہاں کی آبادی 4 کروڑ هے اور کاریں 9 کروڑ سے بھی زیادہ هیں۔۔۔
4-: مکہ شہر کا کوڑا شہر سے 70km دور پہاڑیوں میں دبایا جاتا هے۔۔۔
5-: *یہاں کا زم زم پورے سال اور پوری دنیا میں جاتا هے*
اور یہاں بھی پورے مکہ اور پورے سعودیہ میں استعمال ھوتا هے، اور الحمدلله آج تک کبھی کم نہیں ھوا۔۔۔
6-: صرف مکہ میں ایک دن میں 3 لاکھ مرغ کی کھپت ھوتی ھے۔۔۔
7-: مکہ کے اندر کبھی باھمی جھگڑا نہیں ھوتا هے۔۔۔
8- سعودیہ میں تقریبا 30 لاکھ بھارتی، 18 لاکھ پاکستانی، 16 لاکھ بنگلہ دیشی، 4 لاکھ مصری، 1 لاکھ یمنی اور 3 ملین دیگر ممالک کے لوگ کام کرتے هیں،
سوچو اللہ یہاں سے کتنے لوگوں کے گھر چلا رھا هے۔۔۔
9-: صرف مکہ میں 70 لاکھ AC استعمال ھوتے ھیں۔۔۔
10-: یہاں کھجور کے سوا کوئی فصل نہیں نکلتی پھر بھی دنیا کی ھر چیز، پھل، سبزی وغیرہ ملتی هے اور بے موسم یہاں پر بِکتی هے۔۔۔
11-: یہاں مکہ میں 200 کوالٹی کی کھجور بِکتی هے اور ایک ایسی کھجور بھی هے جس میں ھڈی یا ھڑکِل (گِڑک) ھی نہیں۔۔۔
12: مکہ کے اندر کوئی بھی چیز لوکل یا ڈپلیکیٹ نہیں بکتی یہاں تک کے دوائی بھی۔۔۔
13-: پورے سعودی عرب میں کوئی دریا یا تالاب نہیں هے پھر بھی یہاں پانی کی کوئی کمی نہیں هے۔۔۔
14-: مکہ میں کوئی پاور لائن باھر نہیں تمام زمین کے اندر ھی هے۔۔۔
15-: پورے مکہ میں کوئی نالہ یا نالی نہیں هے۔۔۔
16-: دنیا کا بہترین کپڑا یہاں بِکتا هے۔ جبکہ بَنتا نہیں۔۔۔
17: یہاں کی حکومت ھر پڑھنے والے بچے کو 600 سے 800 ریال ماھانہ وظیفہ دیتی هے۔۔۔
18-: یہاں دھوکا نام کی کوئی چیز ھی نہیں۔۔۔
19-: یہاں ترقیاتی کام کے لئے جو پیسہ حکومت سے ملتا هے وہ پورا کا پورا خرچ کیا جاتا هے۔۔۔
20: یہاں سرسوں کے تیل کی کوئی اوقات نہیں، پر بِکتا تو هے، یہاں سورج مُکھی اور مکئی کا تیل کھایا جاتا هے۔۔۔
21-: یہاں هريالی نہیں یعنی درخت پودے نہ ھونے کے برابر ھیں،
پہاڑ خشک اور سیاہ ھیں مگر سانس لینے میں کوئی تکلیف ھی نہیں، یہاں یہ سائنسی ریسرچ فیل هے۔۔۔
22-: یہاں ھر چیز باھر سے منگائی جاتی هے پھر بھی مہنگائی نہیں ھوتی۔۔۔

آبِ زم زم کا سراغ لگانے والوں کو مونہہ کی کھانی پڑی

*مزید نئے روشن پہلوؤں کے انکشافات سامنے آ گئے۔*

تفصیلات کے مطابق آبِ زم زم اور اس کے کنویں کی پُر اسراریت پر تحقیق کرنے والے عالمی ادارے اس کی قدرتی ٹیکنالوجی کی تہہ تک پہنچنے میں ناکام ھو کر رہ گئے۔
عالمی تحقیقی ادارے کئی دھائیوں سے اس بات کا کھوج لگانے میں مصروف ھیں۔۔۔

کہ آب زم زم میں پائے جانے والے خواص کی کیا وجوھات ھیں۔۔۔

اور *ایک منٹ میں 720 لیٹر*
جبکہ *ایک گھنٹے میں43 ھزار 2 سو لیٹر*
پانی فراھم کرنے والے اس کنویں میں پانی کہاں سے آ رھا ھے۔۔۔

جبکہ مکہ شہر کی زمین میں سینکڑوں فٹ گہرائی کے باوجود پانی موجود نہیں ھے۔۔۔

جاپانی تحقیقاتی ادارے ھیڈو انسٹیٹیوٹ نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں کہا ھے کہ

*آب زم زم ایک قطرہ پانی میں شامل ھو جائے تو اس کے خواص بھی وھی ھو جاتے ھیں جو آب زم زم کے ھیں*
جبکہ زم زم کے ایک قطرے کا بلور دنیا کے کسی بھی خطے کے پانی میں پائے جانے والے بلور سے مشابہت نہیں رکھتا۔۔۔

ایک اور انکشاف یہ بھی سامنے آیا ھے کہ ری سائیکلنگ سے بھی زم زم کے خواص میں تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔۔۔

آب زم زم میں معدنیات کے تناسب کا ملی گرام فی لیٹر جائزہ لینے سے پتا چلتا ھے۔
کہ اس میں
*سوڈیم 133،*
*کیلشیم 96،*
*پوٹاشیم 43.3،*
*بائی کاربونیٹ 195.4،*
*کلورائیڈ 163.3،*
*فلورائیڈ 0.72،*
*نائیٹریٹ 124.8،*
اور
*سلفیٹ 124ملی گرام فی لیٹر موجود ھے۔۔۔*

آب زم زم کے کنویں کی مکمل گہرائی 99 فٹ ھے۔۔۔

اور اس کے چشموں سے کنویں کی تہہ تک کا فاصلہ 17 میٹر ھے۔۔۔

واضح رھے کہ دنیا کے تقریباً تمام کنوؤں میں کائی کا جم جانا، انواع و اقسام کی جڑی بوٹیوں اور خود رَو پودوں کا اُگ آنا نباتاتی اور حیاتیاتی افزائش یا مختلف اقسام کے حشرات کا پیدا ھو جانا ایک عام سی بات ھے جس سے پانی کا رنگ اور ذائقہ بدل جاتا ھے۔۔۔

اللہ کا کرشمہ ھے کہ اس کنویں میں نہ کائی جمتی ھے، نہ نباتاتی و حیاتیاتی افزائش ھوتی ھے، نہ رنگ تبدیل ھوتا ھے، نہ ذائقہ۔۔۔

تھوڑی سی زحمت فرما کر یہ معلومات اپنے دوستوں سے بھی شئیر کیجئے۔جزاکم اللہ خیرا

10/11/2023

علامہ اقبال --- مختصر تعارف
پیدائشی نام: مُحمّد اقبال --- تخلص: اقبال
ولادت: 9 نومبر 1877ء ، سیالکوٹ --- وفات: 21 اپریل 1938ء ، لاہور

تصانیف:
نثر:
علم الاقتصاد- 1903ء
فارسی شاعری: اسرار خودی-1915ء ، رموز بے خودی-1915ء ، پیام مشرق-1923ء ، زبور عجم-1927ء ، جاوید نامہ-1932ء ، پس چہ باید کرد اے اقوامِ شرق-1936ء ، ارمغان حجاز (فارسی)-1938ء
اردو شاعری: بانگ درا-1924ء ، بالِ جبریل-1935ء ، ضربِ کلیم-1936ء ، ارمغانِ حجاز (اردو)-1938ء
انگریزی تصانیف:
فارس میں ماوراء الطبیعیات کا ارتقاء-1908ء ، اسلام میں مذہبی افکار کی تعمیر نو-1930ء

ڈاکٹر سر علامہ مُحمّد اقبال بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر ، مصنف ، قانون دان ، سیاستدان ، مسلم صوفی اور تحریکِ پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اُردُو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی اُن کی بنیادی وجۂ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے اُمت اسلام کی طرف تھا۔علامہ اقبال کو دورِ جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیتِ سیاستدان اُن کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے جو انہوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ گو کہ انہوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انہیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔
علامہ نے ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں ہی حاصل کی اور مشن ہائی سکول سے میٹرک اور مرے کالج سیالکوٹ سے ایف اے کا امتحان پاس کیے۔ زمانہ طالب علمی میں انھیں میر حسن جیسے اُستاذ ملے جنہوں نے آپ کی صلاحیتوں کو بھانپ لیا اور اُن کے اوصاف ، خیالات کے مطابق آپ کی صحیح رہنمائی کی۔ شعر و شاعری کا شوق بھی آپ کو یہیں پیدا ہُوا اور اس شوق کو فروغ دینے میں مولوی میر حسن کا بڑا دخل تھا۔ ایف اے کرنے کے بعد آپ اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور چلے گئے اور گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پاس کیے یہاں آپ کو پرفیسرآرنلڈ جیسے فاضل شفیق اُستاذ مل گئے۔1905ء میں علامہ اقبال اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے اور کیمبرج یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا اور پروفیسر براؤن جیسے فاضل اساتذہ سے رہنمائی حاصل کی ۔ بعد میں آپ جرمنی چلے گئے جہاں میونخ یونیورسٹی سے آپ نے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
ابتداء میں آپ نے ایم اے کرنے کے بعد اورینٹل کالج لاہور میں تدریس کے فرائض سرانجام دیئے لیکن آپ نے بیرسٹری کو مستقل طور پر اپنایا۔ وکالت کے ساتھ ساتھ آپ شعر و شاعری بھی کرتے رہے۔ 1926ء میں آپ پنجاب لیجسلیٹو اسمبلی کے ممبر چنے گئے۔ آپ آزادی وطن کے علمبردار تھے۔ سیاسی تحریکوں میں حصہ لیتے تھے۔ مسلم لیگ میں شامل ہوگئے اور آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے آپ کا الہ آباد کا مشہور صدارتی خطبہ تاریخی حیثیت رکھتا ہے اس خطبے میں آپ نے پاکستان کا تصور پیش کیا۔ 1931ء میں آپ نے گول میز کانفرنس میں شرکت کرکے مسلمانوں کی نمائندگی کی۔ آپ کی تعلیمات اور قائداعظم کی ان تھک کوششوں سے ملک آزاد ہوگیا اور پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔ لیکن پاکستان کی آزادی سے پہلے ہی علامہ انتقال کر گئے تھے۔ لیکن ایک عظیم شاعر اور مفکر کے طور پر قوم ہمیشہ اُن کی احسان مند رہے گی۔ جس نے پاکستان کا تصور پیش کرکے برصغیر کے مسلمانوں میں جینے کی ایک نئی آس پیدا کی۔
شاعرِ مشرق علامہ اقبال حساس دِل و دماغ کے مالک تھے آپ کی شاعری زندہ شاعری ہے جو ہمیشہ مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ کلامِ اقبال دُنیا کے ہر حصے میں پڑھا جاتا ہے اور مسلمانانِ عالم اسے بڑی عقیدت کے ساتھ زیرِ مطالعہ رکھتے اور اُن کے فلسفے کو سمجھتے ہیں۔ اقبال نے نئی نسل میں انقلابی روح پھونکی اور اسلامی عظمت کو اُجاگر کیا۔ ان کے کئی کتابوں کے انگریزی ، جرمنی ، فرانسیسی ، چینی ، جاپانی اور دوسرے زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں۔ جس سے بیرون ملک بھی لوگ آپ کے متعرف ہیں۔ بلامبالغہ علامہ اقبال ایک عظیم مفکر مانے جاتے ہیں

26/06/2023

میدان عرفات میں آخری نبی، نبی رحمت محمد رسول اللہﷺ نے 9 ذی الجہ ، 10 ہجری (7 مارچ 632 عیسوی) کو آخری خطبہ حج دیا تھا۔ آئیے اس خطبے کے اہم نکات کو دہرا لیں، کیونکہ ہمارے نبی نے کہا تھا، میری ان باتوں کو دوسروں تک پہنچائیں۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔۔

*۱*۔ اے لوگو! سنو، مجھے نہیں لگتا کہ اگلے سال میں تمہارے درمیان موجود ہوں گا۔ میری باتوں کو بہت غور سے سنو، اور ان کو ان لوگوں تک پہنچاؤ جو یہاں نہیں پہنچ سکے۔

*۲*۔ اے لوگو! جس طرح یہ آج کا دن، یہ مہینہ اور یہ جگہ عزت و حرمت والے ہیں۔ بالکل اسی طرح دوسرے مسلمانوں کی زندگی، عزت اور مال حرمت والے ہیں۔ (تم اس کو چھیڑ نہیں سکتے )۔

*۳*۔ لوگو کے مال اور امانتیں ان کو واپس کرو،

*۴*۔ کسی کو تنگ نہ کرو، کسی کا نقصان نہ کرو۔ تا کہ تم بھی محفوظ رہو۔

*۵*۔ یاد رکھو، تم نے اللہ سے ملنا ہے، اور اللہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت سوال کرے گا۔

*٦*۔ اللہ نے سود کو ختم کر دیا، اس لیے آج سے سارا سود ختم کر دو (معاف کر دو)۔

*۷*۔ تم عورتوں پر حق رکھتے ہو، اور وہ تم پر حق رکھتی ہیں۔ جب وہ اپنے حقوق پورے کر رہی ہیں تم ان کی ساری ذمہ داریاں پوری کرو۔

*۸*۔ عورتوں کے بارے میں نرمی کا رویہ قائم رکھو، کیونکہ وہ تمہاری شراکت دار (پارٹنر) اور بے لوث خدمت گذار رہتی ہیں۔

*۹*۔ کبھی زنا کے قریب بھی مت جانا۔

*۱۰*۔ اے لوگو! میری بات غور سے سنو، صرف اللہ کی عبادت کرو، پانچ فرض نمازیں پوری رکھو، رمضان کے روزے رکھو، اورزکوۃ ادا کرتے رہو۔ اگر استطاعت ہو تو حج کرو۔

*۱۱* ۔زبان کی بنیاد پر, رنگ نسل کی بنیاد پر تعصب میں مت پڑ جانا, کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر, عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں, ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ تم سب اللہ کی نظر میں برابر ہو۔
برتری صرف تقوی کی وجہ سے ہے۔

*۱۲*۔ یاد رکھو! تم ایک دن اللہ کے سامنے اپنے اعمال کی جوابدہی کے لیے حاضر ہونا ہے،خبردار رہو! میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا۔

*۱۳*۔ یاد رکھنا! میرے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا ، نہ کوئی نیا دین لایا جاےَ گا۔ میری باتیں اچھی طرح سے سمجھ لو۔

*۱۴*۔ میں تمہارے لیے دو چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں، قرآن اور میری سنت، اگر تم نے ان کی پیروی کی تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔

*۱۵*۔ سنو! تم لوگ جو موجود ہو، اس بات کو اگلے لوگوں تک پہنچانا۔ اور وہ پھر اگلے لوگوں کو پہنچائیں۔اور یہ ممکن ہے کہ بعد والے میری بات کو پہلے والوں سے زیادہ بہتر سمجھ (اور عمل) کر سکیں۔

*پھر آسمان کی طرف چہرہ مبارک اٹھایا اور کہا*،
*۱٦*۔ اے اللہ! گواہ رہنا، میں نے تیرا پیغام تیرے لوگوں تک پہنچا دیا۔

*نوٹ*: اللہ ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے، جو اس پیغام کو سنیں/پڑھیں اور اس پر عمل کرنے والے بنیں۔ اور اس کو آگے پھیلانے والے بنیں۔ اللہ ہم سب کو اس دنیا میں نبی رحمت ﷺ کی محبت اور سنت عطا کرے، اور آخرت میں جنت الفردوس میں اپنے نبی ﷺ کے ساتھ اکٹھا کرے، آمین۔ ثم آمین

03/02/2023

Kurulus usman ep 1 sissen 4

Address

Rawalpindi

Telephone

+923358070241

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when EHSAN ULLAH SFC posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to EHSAN ULLAH SFC:

Share