رات گئے

رات گئے Entertainment

28/03/2026

مجھے ایسا لطف عطا کیا کہ جو ہجر تھا نہ وصال تھا
مرے موسموں کے مزاج داں تجھے میرا کتنا خیال تھا

کسی اور چہرے کو دیکھ کر تری شکل ذہن میں آ گئی
ترا نام لے کے ملا اسے میرے حافظے کا یہ حال تھا

کبھی موسموں کے سراب میں کبھی بام و در کے عذاب میں
وہاں عمر ہم نے گزار دی جہاں سانس لینا محال تھا

کبھی تو نے غور نہیں کیا کہ یہ لوگ کیسے اجڑ گئے
کوئی میرؔ جیسا گرفتہ دل تیرے سامنے کی مثال تھا

ترے بعد کوئی نہیں ملا جو یہ حال دیکھ کے پوچھتا
مجھے کس کی آگ جلا گئی مرے دل کو کس کا ملال تھا

کہیں خون دل سے لکھا تو تھا ترے سال ہجر کا سانحہ
وہ ادھوری ڈائری کھو گئی وہ نہ جانے کون سا سال تھا
کہاں جاؤگے مجھے چھوڑ کے میں یہ پوچھ پوچھ کے تھک گیا
وہ جواب مجھکو نہ دے سکا وہ تو خود سراپا سوال تھا
وہ ملا جو صدیوں کے بعد تو میرے لب پہ کوئ گلہ نہ تھا
اسے میری چپ نے رلا دیا جسے گفتگو میں کمال تھا

12/11/2025

میں اک دیوتائے انا
نرگسیت کا مارا ہوا

اور ازل سے تکبر میں ڈوبا ہوا
کافی خود سر ہوں

ضدی ہوں مغرور ہوں
میرے چاروں طرف میری اندھی انا کی وہ دیوار ہے

جس میں آنے کی اور مجھ سے ملنے کی گھلنے کی کوئی اجازت کسی کو نہیں ہے
تمہیں بھی نہیں ہے

اسے بھی نہیں ہے
مجھے بھی نہیں ہے

میں اپنی انا کی دیواروں میں تم سے الگ ہو رہوں
مجھ پہ سجتا بھی ہے یہ

میں شاعر ہوں جو کہ فعولن فعولن سے بحر رمل تک
ہر اک نغمگی کا مکمل خدا ہوں

میں لفظوں کا آقا
تخیل کا خالق

میں سارے زمانے سے یکسر جدا ہوں
مجھے زیب دیتا ہے میں اپنی دیوار میں اس طرح سے مقید رہوں

یوں ہی سید رہوں
مجھ پہ سجتا ہے یہ

۔
پر جو کل شب ترے شبنمی سے تبسم میں لپٹی ہوئی

اک نظر بے نیازی سے مجھ پر پڑی
تیری پہلی نظر سے مری جان جاں

میری دیوار میں اک گڑھا پر پڑ گیا
اور یہ ہی نہیں مجھ پہ وہ ہی نظر

جب دوبارہ دوبارہ دوبارہ پڑی
میری دیوار میں زلزلے آ گئے

اور رخنے شگافوں میں ڈھلنے لگے
میرے اندر تلاطم وہ آتش فشاں

وہ بگولے وہ طوفاں وہ محشر بپا تھا
کہ میں وہ کہ جس کے تحمل کی حکمت کی

فہم و لطافت کی تمثیل شاید کہیں بھی نہیں تھی
سلگنے لگا

اپنی حدت سے خود ہی پگھلنے لگا
تجھ سے کہنا تھا یہ کہ مری جان جاں

ہر ستارے کی اپنی کشش ہوگی لیکن
خلاؤں میں مردہ ستاروں کی قسمت

وہ ہاکنگ کی تھیوری کے کالے گڑھے
وہ وہی وہ کہ جن میں ہے اتنی کشش کہ مکاں تو مکاں

وہ زماں کو بھی اپنے لپیٹے میں لے لیں
وہ ہاکنگ کی تھیوری کے کالے گڑھوں کی گریوٹی بھی

تیری انکھوں کی گہری کشش کے مقابل میں کچھ بھی نہیں
اور یہ تو فقط ایک دیوار تھی

اس کو گرنا ہی تھا
تیری نظروں سے ہاری ہے بکھری پڑی ہے

کہ دیوار کا ریزہ ریزہ تری اک نظر سے مری جان
اجڑا پڑا ہے

میں جو دیوتائے انا نرگسیت کا مارا ہوا وہ جو خود سر تھا
ضدی تھا مغرور تھا

جو فعولن فعولن سے بحر رمل تک ہر اک نغمگی کا مکمل خدا تھا
تری اک نظر سے اناؤں کے عرش معلیٰ سے سیدھا ترے پاؤں میں آ کے

بکھرا پڑا ہے

صہیب مغیرہ صدیقی

02/08/2022

ؤہ لٹ جاے جو تم سے دل کو لگاے۔
پھرے ھسرتوں کا جنازا اٹھاے۔

30/03/2022
Kind a sad , isn’t it?
30/03/2022

Kind a sad , isn’t it?

10/03/2022

Address

Rahimyar Khan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when رات گئے posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share