18/08/2026
چلئے آپ کو ایک کہانی سناتے ہیں بس رونا نہیں
1. مٹی کا گھر، چاند سی بیٹی
لاہور کی ایک تنگ گلی میں یونس موچی اپنے 6 سال کی بیٹی حورین کے ساتھ رہتا تھا۔ بیوی مر چکی تھی۔ حورین کی کل کائنات ایک پھٹے ہوئے کپڑے کی گڑیا تھی۔ اس کا نام اس نے "ماں" رکھا تھا۔ رات کو اسے سینے سے لگا کر کہتی: "ماں، ابا تھک جاتے ہیں، آپ ان کے پاؤں دبا دیا کرنا۔"
2. عید کا خواب
عید میں 3 دن تھے۔ گلی کی بچیوں نے نئی گڑیاں دکھائیں — بولنے والی، آنکھ جھپکانے والی۔ حورین نے کچھ نہ کہا، بس اپنی گڑیا کا میلا آنچل اور کس کے پکڑ لیا۔
رات کو یونس نے بیٹی کو چپ دیکھا تو پوچھا: "گڑیا بیٹی، کیا چاہیے؟"
حورین بولی: "ابا، کیا جنت کی دکان سے ماں واپس لائی جا سکتی ہے؟ میری گڑیا کہتی ہے اسے ماں کی گود یاد آتی ہے۔"
یونس کا کلیجہ پھٹ گیا۔ جیب میں صرف 200 روپے تھے — دو دن کا راشن۔
3. ابا کی قربانی
عید سے ایک رات پہلے یونس ساری رات جاگا۔ پرانے جوتوں کے ڈبے سے سرخ چمڑے کا ٹکڑا نکالا، سوئی دھاگہ لیا، اور حورین کی گڑیا کا نیا جوڑا بنانے بیٹھ گیا۔ ساتھ میں گتے کا ایک چھوٹا سا جھولا بھی بنایا۔ وہ کھانستا جاتا تھا — مہینے سے بخار تھا مگر دوا کے پیسے نہیں تھے۔
فجر کے وقت گڑیا تیار تھی۔ سرخ فراک، پیلے جوتے، اور ماتھے پر چھوٹی سی ٹِکلی۔ یونس نے کانپتے ہاتھوں سے پرچی لکھی: "میری حورین، یہ ماں تجھے عید مبارک کہتی ہے۔"
4. عید کی صبح جو کبھی نہ آئی
حورین کی آنکھ کھلی۔ تکیے کے پاس نئی گڑیا، نیا جھولا۔ وہ خوشی سے چیخی: "ابا! دیکھیں ماں کتنی پیاری لگ رہی ہے!" مگر... ابا نے جواب نہ دیا۔
یونس چارپائی پر خاموش لیٹا تھا۔ ہاتھ میں سوئی دھاگہ، ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ۔ رات کا بخار اسے کھا گیا تھا۔ ڈاکٹر کہتے اگر دوا لے لیتا تو بچ جاتا۔
حورین سمجھ نہ سکی۔ وہ ابا کو ہلاتی رہی: "ابا اٹھیں نا، دیکھیں ماں ہنس رہی ہے۔ آپ نے کہا تھا عید پر سیر کرانے لے جائیں گے... ابا اٹھیں نا..."
5. آخری تحفہ
جنازہ اٹھا تو حورین کے ایک ہاتھ میں ابا کا ہاتھ تھا، دوسرے میں وہ گڑیا۔ قبرستان میں اس نے گڑیا کو ابا کے سینے پر رکھ دیا اور بولی: "ابا، آپ کو جنت میں اکیلے نیند نہیں آئے گی نا... ماں کو ساتھ لے جائیں۔ میں بڑی ہو کر خود آ جاؤں گی۔"
آج بھی عید والے دن گلی کے بچے دیکھتے ہیں — ایک 16 سال کی لڑکی قبر پر بیٹھی پھٹے کپڑے کی گڑیا سے باتیں کر رہی ہوتی ہے: "ماں، ابا کو کہنا حورین ڈاکٹر بن گئی ہے۔ اب کسی غریب کی بیٹی عید پر ابا کے بغیر نہیں روئے گی۔"
غریب کی گڑیا مہنگی نہیں ہوتی... مگر اس کی قیمت میں کبھی کبھی کسی کا سارا جہاں چلا جاتا ہے۔
اگر پڑھتے ہوئے آپ کی آنکھ نم ہو گئی ہے، تو اپنے ابا کو ایک بار گلے لگا لیں۔ کیا پتہ ان کی "عید" آپ کے ایک جملے "ابا میں آپ سے پیار کرتا ہوں" کی منتظر ہو۔
Mustafa Qazi