20/07/2025
یہ تیرے حسن کی جو شہرت ہے
سب مرے عشق کی بدولت ہے
ان سے الفت تو در حقیقت ہے
اب یہ کہنے کی کس کو جرأت ہے
شادماں کوئی اور کوئی ناشاد
دیکھیے اپنی اپنی قسمت ہے
یاد رکھنا ہمارا شیوہ ہے
بھول جانا تمہاری عادت ہے
کیا بتاؤں کہ حال کیسا ہے
تم نے پوچھا یہی غنیمت ہے
صبر سے کام لو ذرا
ہر مصیبت کے بعد راحت ہے