04/05/2024
ضرور پڑھیں!
مشتاق احمد یوسفی لکھتے ہیں کہ:
ایک صاحب کہنے لگے، "یار ساری عمر ڈرتے ڈرتے ہی گزر گئی ہے۔ پہلے والدین سے، پھر اساتذہ سے، پھر افسران سے، پھر موت سے اور پھر موت کے بعد والے حساب کتاب سے"۔
میں نے پوچھا ، "آپ نے بیوی کا ذکر نہیں کیا؟“
کہنے لگے، "ڈر کے مارے نہیں کیا"۔