04/04/2026
خلیل الرّحمٰن اعظمی (پیدائش: 1927ء اعظم گڑھ، وفات: 1978ء علی گڑھ)
ہم بانسری پر موت کی، گاتے رہے نغمہ ترا
اے زندگی! اے زندگی! رتبہ رہے بالا ترا
اپنا مقدّر تھا یہی، اے منبعِ آسودگی!
بس تشنگی، بس تشنگی، گو پاس تھا دریا ترا
تُو کون تھا، کیا نام تھا، تجھ سے ہمیں کیا کام تھا؟
ہے پردۂ دل پر ابھی دھندلا سا اک چہرہ ترا
سورج ہے گو نا مہرباں، ہے سر پہ نیلا سائباں
اے آسماں! اے آسماں! دائم رہے سایہ ترا