30/12/2023
کوئٹہ ۔
*بی ایس او کے سابقہ مرکزی چیئرمین اور بی این پی عوامی کے مرکزی سیکریٹری جنرل ، ایڈوکیٹ سعید فیض بلوچ نے ڈاکٹر مہرنگ بلوچ اور بلوچ* *یکجہتی کونسل کے اسلام آباد دھرنے کے حوالے سے* *بیان جاری کرتے ھوئے کہا کہ مظلوم بلوچوں کی چیخ و پکار اب دُور تک پہنچ چکی ھے۔ اگر یہ ماورائے عدالت ہلاکتیں اور اغواء نما گرفتاریاں نہیں روکی گئیں تو مزید نفرتیں ، مایوسیاں پھیلیں گی۔ بلوچستان کی ماہیں ، بہنیں قابل سد احترام ہیں جو اپنے لخت جگر کی بازیابی کیلئے بلا خوف و ججھک اسلام آباد میں سراپا احتجاج ہیں۔* *ریاست نے ان بچیوں کے سرپرستوں والد اور بھائیوں کو ان سے جدا کیا ، نتیجہ یہ برآمد ھوا کہ آج ڈاکٹر مہرنگ بلوچ اور سمی دین جیسے باہمت خاتون لاپتہ افراد کے لواحقین اور سینکڑوں بلوچ خاندانوں کی آواز بن گئی ھیں ، جنکی قائدانہ* *صلاحیتوں کو نکھارنے کے لئے ملک بھر سے لوگ ان کی حمایت میں آگے آرہے ھیں۔*
*انہوں نے کہا کہ جو بھی شخص اس جدوجہد سے منحرف ھے یا شدید اختلاف رکھتا ھے ، اس سے سوال ھے کہ یہ ماہیں اور بوڑھے باپ کیا کریں ، اپنی فریاد کہاں لے کر جائیں؟*
*انہوں نے کہا کہ پتہ نہیں یہ مخاصمانہ ماحول کب تک قائم رہے گا مگر مقتدر اعلیٰ کو سوچنا چاہئیے کہ ان خوف زدہ اور سہمے ہوئے لوگوں میں یہ اشتعال کیسے پیدا ہورہی ھے۔ شاید وہ ارتقاء کے قوانین اور جدلیاتی عمل سے نا واقف ھیں۔*
*چیئرمین سعید فیض نے مزید کہا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جیسے اصول پسند جج کو ھم کس معیار پر ناپیں ، کچھ تو امید ابھی باقی ھے۔ انصاف کے سنگلاخ راستوں سے گزرنے کا وقت آگیا ھے۔انہوں نے کہا مہرنگ بلوچ کا کاروان سرائے عالمگیر ہے ، یہ تو صحرا کی خاک چھانتا ھوا ، مارامارا پھرتا ھوا ، صدائے احتجاج بلند کرتا ھوا، وفاقی دارالحکومت پہنچا ھے۔ افسوس کہ فورسز نے ان پر بہیت ستم ڈھائے ھیں ، یہ ڈاکٹر مہرنگ کامریڈ عبدالغفار بلوچ کی صاحبزادی ھے۔ غفار لانگو برسوں سے لاپتہ تھا ، بعد میں ان کی مسخ شدہ لاش ملی جو انتہائی دردناک ھے ، ھم طویل عرصے سے ڈاکٹر دین محمد ، زاکر مجید اور اپنے دیگر جگر گوشوں کی راہ دیکھ رہے ھیں۔ بلوچ لاپتہ نوجوانوں کی ماہیں کئی سالوں سے اپنے دل کے پھپھولے جلاتے رہے اور جگر پر لگنے والے داغ سہلاتے رہے مگر اس دفعہ جو تحریک شروع ہوئی ھے اس تحریک کو مکران کے شہید بالاچ بلوچ نے اپنے خون سے جلا بخشی ھے اس لئے یہ نتیجہ خیز ثابت ہو گا۔*