20/03/2026
عید، فریش کیش اور ایک بینکرز کی خاموش قربانی
عید خوشیوں کا نام ہے…
نئے کپڑے، میٹھی خوشبو، بچوں کی مسکراہٹیں… اور ہاتھوں میں فریش کرنسی 💸
لیکن ان خوشیوں کے پیچھے ایک کہانی ایسی بھی ہے…
جو اکثر نظر نہیں آتی۔
عید سے پہلے ہر بینک برانچ میں ایک ہی آواز گونجتی ہے:
"فریش کیش چاہیے… وہ بھی زیادہ!"
مگر حقیقت یہ ہے کہ برانچ کو ملنے والا فریش کیش
اتنا کم ہوتا ہے کہ اگر انصاف سے تقسیم کیا جائے
تو شاید ہر ایک کے حصے میں بہت تھوڑا آئے۔
لیکن مسئلہ صرف کمی کا نہیں ہے…
مسئلہ توقعات کا ہے۔
ہر آنے والا خود کو حق دار سمجھتا ہے
ہر ایک کو لگتا ہے کہ اس کا کام پہلے ہونا چاہیے
اور جب اسے مرضی کے مطابق فریش کیش نہیں ملتا تو
لہجہ بدل جاتا ہے…
"اگر ہمیں زیادہ کیش نہ ملا تو ہم اکاؤنٹ بند کر دیں گے"
یہ جملہ ایک دھمکی نہیں…
ایک دباؤ ہوتا ہے… جو سیدھا دل پر لگتا ہے۔
ایک طرف کسٹمرز کی ناراضگیاں…
تو دوسری طرف برانچ کا اپنا اسٹاف…
وہی لوگ جو روز ساتھ کام کرتے ہیں،
وہ بھی امید رکھتے ہیں کہ ان کے لیے “کچھ الگ” رکھا جائے۔
اور جب ایسا نہ ہو… تو ان کی خاموش ناراضگی بھی محسوس ہوتی ہے۔
اور پھر… جب یہ سب ختم ہوتا ہے
تو منیجر گھر جاتا ہے…
مگر وہاں سکون نہیں ہوتا۔
وہاں بھی لوگ منتظر ہوتے ہیں:
رشتہ دار… دوست… جاننے والے…
سب کی ایک ہی خواہش:
"ہمارا بھی خیال رکھنا"
وہ مسکرا کر سب کو یقین دلاتا ہے…
لیکن اندر سے جانتا ہے کہ
وہ سب کو خوش نہیں کر پائے گا۔
وہ کوشش کرتا ہے…
بار بار کرتا ہے…
ہر ممکن طریقے سے کرتا ہے…
لیکن کچھ چیزیں اس کے اختیار میں نہیں ہوتیں۔
کیش کی کمی، دباؤ، توقعات…
یہ سب مل کر اسے ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کرتے ہیں
جہاں وہ خود کو بے بس محسوس کرتا ہے۔
یہاں تک کہ بعض اوقات
وہ اپنا موبائل فون بند کر دیتا ہے…
لوگوں سے دور ہو جاتا ہے…
اور جب باقی دنیا عید کی خوشیوں میں مصروف ہوتی ہے
وہ ایک کمرے میں بیٹھ کر صرف یہ سوچ رہا ہوتا ہے:
"کاش میں سب کو خوش کر سکتا…"
یہ وہ لمحے ہوتے ہیں
جہاں ایک بینک منیجر صرف منیجر نہیں رہتا…
بلکہ ایک ایسا انسان بن جاتا ہے
جو اپنی ذمہ داریوں اور رشتوں کے درمیان پِس رہا ہوتا ہے۔
خدارا…
ان لوگوں کے خلاف بات کرنے سے پہلے
ان کی جگہ خود کو رکھ کر دیکھیں۔
یہ لوگ نہ تو جان بوجھ کر انکار کرتے ہیں
نہ ہی کسی کو محروم کرنا چاہتے ہیں…
یہ صرف اپنی حد کے اندر رہ کر
ہر ممکن کوشش کر رہے ہوتے ہیں
کہ آپ خوش رہیں، آپ کی عید اچھی گزرے۔
🙏 اس عید پر تھوڑا سا صبر، تھوڑا سا احساس اور تھوڑی سی سمجھداری دکھائیں
کیونکہ بعض اوقات…
“انکار کے پیچھے نیت نہیں، مجبوری ہوتی ہے”