Bazm E Ameerwala

Bazm E Ameerwala سرائیکی شاعری اور پنجابی دوہڑوں کیلیے ہمارا پیج لائیک ۔❤

31/03/2025

سجنڑ دشمنڑ دے روپ اچ ہا

وفادار خودکشی کر لئی۔

#عیدمبارک

30/03/2025

سجنڑ دی بقاء لئی بغاوت میں کیتی۔

#چاند #رات #مبارک

15/09/2024

Best clacker Ball .

آنکھوں پہ پٹی باندھ کے محمد عون نے کلیکر بال کی پریکٹس کی ۔

ویڈیو کو لائک اور شئیر کرنا نہ بھولیں ۔
شکریہ۔


18/06/2024

اگر گوشت کھانے سے بلڈ پریشر بڑھے تو سونف، زیرہ سفید، الائچی سبز کا قہوہ۔

‏بدہضمی، پیٹ درد ہوتو اجوائن، پودینہ، تیز پات کا قہوہ۔

‏لوز موشن، متلی ہو تو لونگ، دارچینی، لیمن چند قطرے کا قہوہ۔

‏مسوڑوں پر ورم، دانت درد ہو تو نمک سونٹھ سرسوں تیل ملا کر دانتوں مسوڑوں پر ملیں۔

‏کچھ بھی ہو جائے گوشت نئیں چھڈنا 😂😂😂۔

31/03/2024

حضرت علیؓ کی شہادت کیسے ہوئی اور اُن کا قاتل کون تھا؟

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا 21 رمضان کو یومِ شہادت منایا جارہا ہے، آپ نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ صلی علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور داماد تھے اور مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ تھے۔

حضرت علی ؓ 13 رجب کو ہجرت سے 24 سال قبل مکہ میں پیدا ہوئے آپ کی پیدائش سے متعلق تاریخ میں لکھا گیا ہے کہ آپ بیت اللہ کے اندر پیدا ہوئے، حضرت علی ؓ کی امتیازی صفات اور خدمات کی بنا پر نبی کریم ؐ ان کی بہت عزت کرتے تھے اور اپنے قول و فعل سے ان کی خوبیوں کو ظاہر کرتے رہتے تھے۔ جتنے مناقب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں احادیث نبوی ﷺمیں موجود ہیں کسی اور صحابی رسول کے بارے میں نہیں ملتے۔

حضرت علیؓ کا حسبِ نسب

آپ ؓکے والد حضرت ابو طالب اور والدہ جنابِ فاطمہ بنت ِ اسد دونوں قریش کے قبیلہ بنی ہاشم سے تعلق رکھتے تھے اور ان دونوں بزرگوں نے بعدِ وفات حضرت عبدالمطلب پیغمبر اسلام صلی علیہ وآلہ وسلم کی پرورش کی تھی۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں، بچپن میں پیغمبر کے گھر آئے اوروہیں پرورش پائی۔ پیغمبرکی زیرنگرانی آپ کی تربیت ہوئی، وہ ایک لمحہ کے لئے بھی حضورؐ کو تنہا نہیں چھوڑتے تھے۔

آپ کے بارے میں عام روایت ہے کہ آپ نے 13 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔ حضرت علی ؓ کی امتیازی صفات اور خدمات کی بنا پر رسول کریمؐ ان کی بہت عزت کرتے تھے او اپنے قول اور فعل سے ان کی خوبیوں کو ظاہر کرتے رہتے تھے۔

حضرت علیؓ سے منسوب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چند احادیث

امت مسلمہ کے چوتھے خلیفہ حضرت علیؓ کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چند احادیث مبارکہ درجہ ذیل ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ؛

”علیؓ مجھ سے ہیں اور میں علیؓ سے ہوں“

”تم سب میں بہترین فیصلہ کرنے والا علیؓ ہے“

”علیؓ کو مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ علیہ السّلام سے تھی“

”یہ (علیؓ) مجھ سے وہ تعلق رکھتے ہیں جو روح کو جسم سے یا سر کو بدن سے ہوتا ہے“

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تین فضیلتیں

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ خدا اور رسولؐ کے سب سے زیادہ محبوب ہیں یہاں تک کہ مباہلہ کے واقعہ میں حضرت علیؓ کو نفسِ رسول کا خطاب ملا۔

حضرت علیؓ کا عملی اعزاز یہ تھا کہ مسجد میں سب کے دروازے بند ہوئے تو علی کرم اللہ وجہہ کا دروازہ کھلا رکھا گیا۔

جب مہاجرین و انصار میں بھائی چارہ کیا گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیغمبر نے اپنا دنیا وآخرت میں بھائی قرار دیا۔

آخر میں غدیر خم کے میدان میں ہزاروں مسلمانوں کے مجمع میں حضرت علی کو اپنے ہاتھوں پر بلند کر کے یہ اعلان فرما دیا کہ جس کا میں مولا (مددگار، سرپرست) ہوں اس کا علی بھی مولا ہیں۔

حضرت علیؓ کی شہادت کیسے ہوئی اور اُن کا قاتل کون تھا؟

ایک مسلمان جو کلمہ پڑھتا تھا لیکن اس کے دل میں چوتھے خلیفہ کیلئے بغض بھرا ہوا تھا، حضرت علی 19 رمضان المبارک 40 ہجری کو مسجدِ کوفہ میں تشریف لائے تو عبد الرحمن بن ملجم مسجد میں سورہا تھا اُلٹا لیٹا ہوا نیچے تلوار کو چھپائے تلوار بھی زہر میں بُجھی ہوئی۔

علی نے کہا ”اے ابنِ مُلجم اُٹھ جا، نماز کا وقت نکلا جارہا ہے نماز ادا کر۔

وہ ملعون اُٹھا علی نے آخری سجدہ ادا کیا یکایک ابنِ ملجم آگے بڑھا اور ایسا وار کیا سرِ مبارک پر کہ زہر میں بجھے ہوئے خنجر نے فورا اپنا اثر دکھادیا، روزہ میں روزے دار کو ایسا زخم لگا کہ پھر اُٹھ نہ سکے، مسجد کوفہ میں شور برپا ہوگیا قیامت کا منظر تھا۔ تمام چاہنے والے نالہ و فریاد کرنے لگے حسن و حسین علیہ السلام مسجد میں تشریف لائے اپنے بابا کی ریشِ مبارک خون سے تر دیکھی اور گِریہ کرنے لگے۔

اصحاب حضرت علیؓ کو کاندھوں پہ ڈال کر گھر لے گئے گھر میں کہرام برپا ہوگیا بیٹیاں تڑپ گئیں باپ کی حالت دیکھ کر۔

حکیم نے علاج شروع کیا مگر زہر اپنا کام کرچکا تھا۔ دو روز تک حضرت علیؓ بستر بیماری پر انتہائی کرب اور تکلیف کے ساتھ رہے آخرکار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور 21 رمضان کو نمازِ صبح کے وقت آپ کی شہادت ہوئی😢😢😢😢


#اسلامی

30/03/2024

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Safdar Humdani Pti, Naqeeb Ur Rehaman

روشن ستارے ' خلیفۂ پنجم ' امام دوئم ' سردار جنت ' جگر گوشۂ بتول ' لخت جگر مولا علی علیہ السلام 'راکبِ دوش مصطفےٰحضرت سید...
26/03/2024

روشن ستارے ' خلیفۂ پنجم ' امام دوئم ' سردار جنت ' جگر گوشۂ بتول ' لخت جگر مولا علی علیہ السلام '
راکبِ دوش مصطفےٰ

حضرت سیدنا امام حسن مجتبیٰ علیہ السّلام

حضرتِ سیّدہ فاطمۃُالزّہراء سلام اللّٰه علیہا کے گلشن کے مہکتے پھول، اپنے نانا جان ،رحمتِ عالمیان صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم کی آنکھوں کے نور ، راکبِ دوشِ مصطفےٰ مصطفےٰ جانِ رحمت صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم کے مبارک کندھوں پر سواری کرنے والے، سردارِ امّت، حضرت سیّدُنا امام حَسَن المجتبیٰ علیہ السلام کی ولادتِ باسعادت 15رمضان المبارک 3 ہجری کو مدینہ طیبہ میں ہوئی۔ (البدايۃوالنہایہ، 5/519

شہد خوارِ لعابِ زبانِ نبی
چاشنی گیر عصمت پہ لاکھوں سلام

حضورِ اکرم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم کو آپ علیہ السلام سے بے پناہ محبت تھی۔
پیارے آقا صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم آپ علیہ السلام کو کبھی اپنی آغوشِ شفقت میں لیتے تو کبھی مبارک کندھے پر سوار کئے ہوئے گھر سے باہر تشریف لاتے،آپ علیہ السلام کی معمولی سی تکلیف پر بےقرار ہوجاتے، آپ کو دیکھنے اور پیار کرنے کے لئے سیّدتنا فاطمہ زہرا سلام اللّٰه علیہا کے گھر تشریف لے جاتے۔

آپ علیہ السلام بھی اپنے پیارے نانا جان صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم سے بے حد مانوس تھے، نماز کی حالت میں پشت مبارک پر سوار ہو جاتے تو کبھی داڑھی مبارک سے کھیلتے لیکن سرکارِ دو عالم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم نے انہیں کبھی نہیں جھڑکا۔ ایک مرتبہ آپ علیہ السلام کو حضور پرنور صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم کےشانۂ مبارک پر سوار دیکھ کر کسی نے کہا: صاحبزادے! آپ کی سواری کیسی اچھی ہے تو نبیِّ کریم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: سوار بھی تو کیسا اچھا ہے۔

(ترمذی،5/432،حدیث:3809)

حسنِ مجتبیٰ، سیّد الاسخیاء
راکبِ دوشِ عزت پہ لاکھوں سلام

شبیہِ مصطفےٰ: حضرت سیّدناانس رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُ فرماتے ہیں: امام حسن المجتبٰی علیہ السلام سے بڑھ کرکوئی بھی حضور اکرم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم سے مُشابہت رکھنے والا نہ تھا۔

(بخاری، 2/547، حدیث :3752

سخاوت: آپ علیہ السلام کثرت سے صدقہ و خیرات فرماتے حتّی کہ دو مرتبہ اپنا سارا مال اور تین مرتبہ آدھا مال را ہِ خدا میں صدقہ فرمایا۔ (ابن عساکر، 13/243)


Address

Ameerwala Parhyal
Quaidabad Colony

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bazm E Ameerwala posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Bazm E Ameerwala:

Share