12/05/2022
آج میں نے اپنا نمبر تمہارے نام سے اپنے موبائل میں محفوظ کیا۔
پھر جیسے تم مجھے پکارتی تھی ویسے ہی اپنے دوسرے نمبر سے خود کو میسج لکھ کر بھیجا...
موبائل کی میسج بیل بجی...
دیکھا تو تمہارا نام چمک رہا تھا...
میں نے میسج اوپن کیا اور پڑھا۔
پہلے تو ہنسا لیکن اسکے بعد خود ہی جواب دیا اور بہت رویا اتنا کہ میرا تکیہ تر ہو گیا...میری آنکھیں سوج گئی... سر میں درد ہونے لگا۔
آنکھوں میں آنسو تھے کہ رک ہی نہیں رہے تھے...
پندرہ مارچ دو ہزار کا دن دو بج کے چالیس منٹ پہ تمہارا آخری میسج یاد آیا مجھے...
آج دس مئی دو ہزار اکیس ہے۔۔
ایک سال سے بھی زیادہ ہو گیا تمہاری آواز نہیں سنی میں نے۔ نہ ہی تمہارا چہرا دیکھا...
تمہاری انگلیوں سے لکھا ہوا ایک میسج تک نہیں دیکھا...
وہ جو تم راتوں کو مجھے کال کر کے رویا کرتی تھی وہ رونا اب میرا مقدر بن چکا ہے۔...
تمہیں یاد ہے ایک کورس کے دوران جب میرا کراچی جانا ہوا اور میں نے تمہیں تین دن تک جواب نہیں دیا تھا تو تمہاری جان پہ بن گئی تھی۔؟
آج ایک سال سے زیادہ ہو گیا ہماری بات نہیں ہوئی اور اب کی بار تمہیں پرواہ تک نہیں تم...؟؟؟
اب کی بار تو میری جان پہ بنی ہوئی ہے۔ اس بار تم لوٹ آؤ نا...
یاد ہے ایک بار میں ناراض ہوا تھا تو تم نے رو رو کر اپنی حالت تک بگاڑ لی تھی۔ راتوں کو نیند سے اٹھ اٹھ کر چلانا اور سارے گھر کو پریشان کر دیا تھا تم نے۔ جب مجھے پتا چلا تو میں نے کتنا ڈانٹا تھا؟
وہ چند لمحوں کی جدائی میں خود کو کتنی اذیت دی تھی تم نے؟؟
اور آج ایک سال ہو گیا۔
یاد ہے تم نے کہا تھا کہ تمہارے علاوہ کسی اور کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ لیکن آج میری ہی سوچ نہیں تم کو...
پلیز تم لوٹ آؤ...اور آ کر سنبھال لو مجھ کو۔ میں اب ٹوٹ کر بکھر رہا ہوں، اجڑ رہا ہوں، سسک رہا ہوں۔
یہاں مجھے سمجھنے والا کوئی نہیں ہے۔ کچھ بھی کہوں سب واہ واہ کرتے ہیں۔ ان کو یہ نہیں پتا کہ کس حال میں ہوں میں اور کس حالت میں کچھ کہا ہے میں نے...
ان کو یہ نہیں پتا کس حال میں سب لکھا ہے میں نے۔
سب مجھے ہی غلط سمجھتے ہیں تم ہو کہ سنتی ہی نہیں ہو اور نہ ہی انہیں روکتی ہو۔؟؟؟
پلیز تم لوٹ آؤ۔
مجھے تمہارا سہارا چاہیے۔
مجھے تمہارے ساتھ جینا ہے۔
مجھے سنبھال لو آکر۔
پلیز لوٹ آؤ نا...!!