07/09/2020
سر عزیر ہمارا ٹیچر اور بھائی جیسا دوست
پشاور یونیورسٹی سے بی بی اے میں گولڈ میڈلسٹ اور
ایم فل میں بھی ایچ ای سی (HEC) ریکارڈ میں ٹاپ سکور لیا ہے
ان کا اسپیشلائزیشن HR میں لیڈرشپ اینڈ مینیجمنٹ تھا
موصوف یونیورسٹی کیمپس پشاور میں سٹوڈنٹ لیڈر اور پختون سٹوڈنٹس فیڈریش کے صدر رہے
جن کا طلباء کے لئے گراقدر خدمات ہیں،
جس نے قلیل مدت میں اہم مقام پیدا کیا
2011.12 میں امریکہ سکالرشپ کے لئے Nominate ہوگیا تھا،
2014 عبدالولی خان یونیورسٹی میں بطور لیکچرر بھرتی ہوئے اور وہاں کے پروفیسرز لیکچرز اتنے متاثر ہوئے کہ یونیورسٹی کا سب سے کم عمر All employees association کا نائب صدر منتخب ہوئے۔
2018 میں یونیورسٹی سے Terminate ہوئے، جب عدالت گئے تو عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ آپ مشال قتل کیس میں Terminate ہوئے ہوں۔
سر عزیر انتہائی خدمت والا انسان ہے اُن انتک جدوجہد کی بدولت عبدالولی خان یونیورسٹی کے contract ملازمین permanant ہوئے،
وہ پروفیسرز، لیکچرز، کلاس فور اور طلباء کا یکساں خدمت کرتے تھے، اپنا پورا چار سالہ کیرئیر دوسروں کی خدمت میں صرف کیا تھا
کلاس بھی بڑی ایماندار سے لیتے تھے جو کورس ملتا انہیں ٹائم سے پہلے پہلے مکمل کرتا
جب بھی طلباء کو کوئی مسئلہ پیش آتا
خواہ وہ فیس کا ہو کورس کے حوالے سے ہو یا ڈگری پیپر کے حوالے سے ہو فوری حل کرلیتا
کلاس لینے کے ساتھ ساتھ اچھائی کی نصیحت اور برائی سے بچنے کی تلقین کرتے تھے
جن کے ہاتھوں لاتعداد لوگوں کے جاب ہوئے تھے
جن کی بدولت بےشمار بےروزگار تعلیم یافتہ نوجوان برسرروزگار ہوئے
آج وہ خود حکومت کی نااہلی اور عدم دلچسپی کی وجہ سے بے روزگاری پر مجبور ہے
shah