Sham

Sham wah

13/06/2025

اے حور جیسی
جوان لڑکی
محبتوں کا
بیان لڑکی
تُو حسن کی ہے
زبان لڑکی
جنون لڑکی
یقین لڑکی
گمان لڑکی
اے تیر لڑکی
کمان لڑکی
اے نور لڑکی
جہان لڑکی
اے آتشِ دل
فشان لڑکی
اے قلب کا
درمیان لڑکی
اے جانِ جاناں
اے جان لڑکی
خیالِ جاں کا
حساب لڑکی
سوالِ دل کا
جواب لڑکی
شباب لڑکی
شراب لڑکی
سراب لڑکی
حباب لڑکی
سوال دل کا
جواب لڑکی
تُو میرے غم کا
حساب لڑکی
تُو میرے دل کا
نصاب لڑکی
تُو میری دھن ہے
رباب لڑکی
اے شاعری سی
بے تاب لڑکی
اے دھڑکنوں کا
خطاب لڑکی
اے ورق لڑکی
کتاب لڑکی
اے اچھی لڑکی
خراب لڑکی
اے پھول لڑکی
اے خار لڑکی
اے میری جانم
اے میری جاناں
اے میری دھڑکن
اے میری لیلیٰ
اے میری شیریں
اے خواب زادی
گلاب زادی
اے مہ جبینہ
مری حسینہ
اے ناز مینہ
میں جانتا ہوں
میں تجھ سے چھوٹا ہوں عمر میں بھی
یہ عمرِ الفت کی گفتگو ہے
میں جانتا ہوں ہماری ذاتیں
الگ الگ ہیں
میں جانتا ہوں کہ فاصلے ہیں
زمینی رستوں کی بندشیں ہیں
میں جانتا ہوں
ہماری رسمیں
ہمارا کنبہ
ہماری باتیں
جدا جدا ہیں
اے خوب سيرت
جمیل لڑکی
اے خوب صورت
حسین لڑکی
اے حزن کی
ہم نشین لڑکی
اے بھولی بھالی
ذہین لڑکی
اے جانِ جاناں
یہ چھوڑو ذاتیں
یہ خار رستے
زمینی رستوں کی بکھری الجھن
یہ ساری باتیں فضول سی ہیں
میں تیری تعریفِ حسن پر نظم لکھ رہا ہوں
میں جانتا ہوں کہ لفظ کم ہیں
یہ خوب گردن
حسین آنکھیں
یہ خوب زلفیں
حسین باہیں
بیان مشکل ہے لفظ کم ہیں
میں چاہ کر بھی ترے بدن کے کسی بھی حصے کی بات کرنے میں بے زباں ہوں
مگر میں کوشش کروں گا پوری کہ تیرے اوصاف خوب لکھ دوں
میں تیری آنکھوں پہ شعر لکھ دوں یا نظم لکھ دوں کتاب لکھ دوں
میں جو بھی لکھ دوں یہ سب ہی کم ہے
یہ نیم آنکھیں
رباب آنکھیں
یہ خوش نما
ماہ تاب آنکھیں
رخِ محبت پہ تیری آنکھیں
عجب سا منظر بنا رہی ہیں
کہ جیسے کوئی
جوان ہرنی
کسی چمن میں
گلوں کا سایہ
بنی ہوئی ہو
ملوک چہرے
پہ خواب آنکھیں
فسوں سا نغمہ
بجا رہی ہیں
سنا رہی ہیں
کوئی کہانی
کہ جیسے بارش
کے موسموں میں
کسی ابر کا
گلاب قطرہ
ہوا کے شانوں
پہ چل رہا ہو
مچل رہا ہو
بنا رہا ہو
حسین منظر
ہیں آنکھیں ایسی
کہ جیسے کوئی
بہت پرانی
شراب بکھری
ہو لال پھولوں
کی رنگتوں پر
یہ تیر آنکھیں
نظیر آنکھیں
محبتوں کی
وزیر آنکھیں
سعادتوں کی
بشیر آنکھیں
یہ خواب آنکھیں
رخِ مسرت
پہ اِس طرح سے
دمک رہی ہیں
کہ جیسے نکلا
ہو کوئی جگنو
اندھیری راتوں
کے زیر پردوں
کی آہٹوں پر
کہ جیسے نکلا
ہو کوئی پنچھی
بہار موسم
کی سرد راتوں
میں گل کھلانے
ہوا کی لہروں
میں پنکھ کھولے
ٹہل رہا ہو
مچل رہا ہو
میں کیا بتاؤں
ہیں کیسی آنکھیں
ہیں آنکھیں ایسی
کہ جو بھی دیکھے
قفس کا مطلب
سمجھ میں آئے
یہ دَور آنکھیں
شراب آنکھیں
جنہوں نے دیکھا
وہ تیری آنکھوں
کی چاہتوں میں
اسیرِ زنداں ہوئے پڑے ہیں
مچل رہے ہیں
میں کیا بتاؤں
یہ چاند آنکھیں
محبتوں کا نصاب آنکھیں
یہ وہ ہیں آنکھیں
کہ جن پہ میں نے
کبھی لکھا تھا
اِدھر ہیں آنکھیں
اُدھر ہیں آنکھیں
ابر سی آنکھیں
ثمر سی آنکھیں
سپر سی آنکھیں
نگر سی آنکھیں
زبر ہیں آنکھیں
امر ہیں آنکھیں
سحر ہیں آنکھیں
خبر ہیں آنکھیں
ضرر ہیں آنکھیں
میں کیا بتاؤں
ہیں کیسی آنکھیں
کہ ساری دنیا
کی وہ کتابیں
جو آنکھوں پر بس
لکھی ہوئی ہیں
وہ سب کتابیں
بھی تیری آنکھوں
کا آئینہ ہیں
اندھیرے رستے
بھی تیری آنکھوں
کے زیر رہ کر
گزر رہے ہیں
بدلتے موسم بھی
تیری آنکھوںکے پاس
جانے سے ڈر رہے ہیں
کہ رک نہ جائیں
یہ پیار آنکھیں
یہ روشنی کا
مدار آنکھیں
خمار آنکھیں
سکون آنکھیں
قرار آنکھیں
یہ میرے دل کا
حصار آنکھیں
میں جتنی بھی
تعریف کر لوں کم ہے
اگر یہ سب کچھ
بھی تیری آنکھوں
کے سامنے ہو
تو پھر بھی کم ہے
ابھی تو آنکھیں بیان کی ہیں
بہت سی باتیں تو رہ گئی ہیں
ابھی تو زلفیں بھی رہ گئی ہیں
ابھی تو باہیں بھی رہ گئی ہیں
یہ ہونٹ تیرے یہ نرم گیسو
یہ پھول رنگت
گلاب چہرہ
شراب آنکھیں
یہ نرم بازو
ملوک ٹانگیں
تری کمر ہے چنبیلی جیسی
ہیں تیرے بازو بھی موم جیسے
ہیں تیری پلکیں بھی زہر جیسی
نشیلی پلکیں
نشیلے ابرو
نشیلی سانسیں
میں کیا بتاؤں
میں کیا سناؤں
میں کیسے بولوں
میں کیسے لکھوں
قسم خدا کی
کہ چاہ کر بھی
میں تیرے بارے
نہ لکھ سکوں گا 🥀🌱

14/02/2025

کبھﯽ ﺟﺐ ہم ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮنگے
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺳﺐ ﯾﺎﺩ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ
ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮯ ﮐﺮﺍﮞ ﭼﺎﮨﺖ
ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻧﺎﻡ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ
ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﻋﺸﻖ ﮐﯽ ﺷﺪﺕ
ﻭﺻﺎﻝ ﻭ ﮨﺠﺮ ﮐﯽ ﻟﺬﺕ
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﮨﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﻮ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﺩﮮ ﺩﯾﻨﺎ
ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺍﮨﺸﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮯ ﺑﺴﯽ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﺩﮮ ﺩﯾﻨﺎ
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺳﺐ ﯾﺎﺩ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ
ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﺎ ﻧﻢ ﺑﮭﯽ
ﻭﻓﺎﺅﮞ ﮐﺎ ﻭﮦ ﻣﻮﺳﻢ ﺑﮭﯽ
ﺟﻨﻮﮞ ﺧﯿﺰﯼ ﮐﺎ ﻋﺎﻟﻢ ﺑﮭﯽ
ﻣﺮﯼ ﮨﺮ ﺍﮎ ﺧﻮﺷﯽ ﻏﻢ ﺑﮭﯽ
ﻣﺮﺍ ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺩﺭﺩ ﮐﻮ ﺩﻝ ﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﻟﯿﻨﺎ
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﺎ ﮨﺮ ﺁﻧﺴﻮ ﭼﺮﺍ ﻟﯿﻨﺎ
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺳﺐ ﯾﺎﺩ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺳﻮﭺ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﺎ
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺑﮯ ﺭﺧﯽ ﺳﮩﻨﺎ
ﺑُﮭﻼ ﮐﺮ ﺭﻧﺠﺸﯿﮟ ﺳﺎﺭﯼ
ﻓﻘﻂ " ﺍﭘﻨﺎ " ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﮩﻨﺎ
ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻧﺎﻡ ﮐﻮ ﺗﺴﺒﯿﺢ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﻨﺎ
ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺫﮐﺮ ﺳﮯ ﺩﻝ ﮐﺎ ﮨﺮ ﺍﮎ ﮔﻮﺷﮧ ﺳﺠﺎ ﻟﯿﻨﺎ
ﺍﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺗﻢ ﻣﺮﯼ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﻨﺘﮯ ہو
ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﺟﺎﻥ ﻟﻮ ﺟﺎﻧﺎﮞ !
ﮐﺒﮭﯽ
ﺟﻮ ہم نہیں ہوﻧﮕﮯ
تمہیں سب یاد آئے گا۔۔۔

02/01/2025

ایک عاشق سے سرِ راہ ملاقات ہوئی
بڑی تفصیل سے پھر اُس سے مِری بات ہوئی

میں نے پوچھا تِری پوشاک یہ دھانی کیوں ہے
چشمِ ویراں میں چُھپا درد کا پانی کیوں ہے

میں نے پوچھا کہ یہ گیسو ہیں پریشاں کیونکر
چاک کر رکھا ہے تُو نے یہ گریباں کیونکر

کیوں ہے چہرے پہ یہ صدیوں کی مسافت صاحب!
الجھی الجھی سی ہے کیوں تیری طبیعت صاحب!

تیری پوشاک کی شکنوں میں شکایت کیوں ہے
تیری آنکھوں میں یہ دریاؤں سی وحشت کیوں ہے

پاؤں زخمی ہیں زمیں پر بھی نہیں ٹکتے ہیں
مَیں سمجھتا ہوں تِرے پاؤں میں بھی چھالے ہیں

آنکھ چپ چاپ ہے اشکوں سے بہت بھاری ہے
ایسا لگتا ہے چھلک جانے کی تیاری ہے

ہونٹ لگتا ہے کہ صدیوں سے کسی آس میں ہیں
اُن کی خاموشی سے لگتا ہے بہت پیاس میں ہیں

میری باتوں کا تسلسل تھا کہ رُکتا ہی نہ تھا
ایسا لگتا تھا کہ شاید اسے سنتا ہی نہ تھا

وہ بہت دیر خموشی سے مجھے سنتا رہا
کبھی خود کو کبھی چہرے کو مِرے تکتا رہا

پھر ہنسا اتنا ہنسا اتنا کہ ہنستا ہی گیا
میں ڈرا اتنا ڈرا اتنا کہ ڈرتا ہی گیا

پھر مجھے پیار سے پہلو میں بٹھایا اس نے
بڑی تفصیل سے یوں عشق پڑھایا اس نے

تجھ کو حیرت مِرے گیسو مِری پوشاک سے ہے
زخمی پیروں سے ہے اور سر میں پڑی خاک سے ہے

تجھ کو بتلاتا ہوں ایسا مجھے کیا لاحق ہے
تجھ سے اس لمحہ مخاطب ہے جو، اِک عاشق ہے

عشق کا نام تو تُو نے بھی سنا ہو شاید
کیسے ہوتا ہے یہ کم بخت پڑھا ہو شاید

عشق ہستی بھی ہے مستی بھی ہے پندار بھی ہے
عشق آنسو بھی ہے نوحہ بھی ہے آزار بھی ہے

عشق پاگل ہے دوانہ بھی ہے اُستاد بھی ہے
عشق گریہ بھی تمنا بھی ہے فریاد بھی ہے

عشق بستی بھی ہے جنگل بھی ہے زندان بھی ہے
عشق مذہب ہے عقیدہ بھی ہے ایمان بھی ہے

عشق مکتب بھی ہے، استاد بھی،اُسلوب بھی ہے
عشق یوسفؑ بھی ہے عیسؑیٰ بھی ہے یعقوبؑ بھی ہے

عشق یونسؑ بھی ہے منصور بھی تبریز بھی ہے
عشق کومل سا تبسم بھی جنوں خیز بھی ہے

عشق حمزہؓ بھی علیؓ بھی یہ بلالِ حبشی
اور یہ مکہّ کا ہے قریہ یہی طائف کی گلی

عشق اصغرؓ بھی ہے اکبرؓ بھی ہے حسنینؑ بھی ہے
عشق زینبؓ بھی ہے عباسؓ بھی ہے زینؓ بھی ہے

عشق آدمؑ بھی ہے ادریسؑ، خلیلؑ اللہ بھی
عشق کے داعی رہے موسیٰ کلیم اللہ بھی

عشق ہی نعرہءِ توحید ہے اسلام بھی ہے
عشق آغاز بھی دوران بھی انجام بھی ہے

عشق جو عین بھی ہے شین بھی ہے قاف بھی ہے
عشق دعویٰ بھی ہے منصف بھی ہے انصاف بھی ہے

عشق ظالم ہے جو بازار میں بِکواتا ہے
بیچ بازار کے عاشق کو یہ نچواتا ہے

عشق نے چیر کے عاشق کو بھی دو لخت کیا
جب بھی چاہا کسی بد بخت کو خوش بخت کیا

یہ تو معمولی سی لغزش پہ سزا دیتا ہے
کر کے مدہوش یہ سسی کو سُلا دیتا ہے

عشق پاگل ہے دُعاؤں سے اُلجھ پڑتا ہے
اتنا خود سر ہے خداؤں سے اُلجھ پڑتا ہے

عشق آتش سے نہ سولی سے کبھی ڈرتا ہے
عشق دُنیا کے خداؤں سے نہیں مرتا ہے

پردے اک اور حقیقت سے اٹھانے ہوں گے
حضرتِ عشق کے اوصاف بتانے ہوں گے

اِس نے جنگل میں بھی بستی کا نظارہ دیکھا
اِس نے ہر روز محبت کا شمارہ دیکھا

اس نے بپھری ہوئی موجوں سے لڑائی کی ہے
جو بھی پوشیدہ تھی اس کو وہ دکھائی دی ہے

اس نے جلتی ہوئی آتش میں قدم رکھا ہے
زہرِ قاتل کا بھی ہنس ہنس کے مزا چکھا ہے

اس نے تپتی ہوئی آتش کو زباں پر رکھا
اس نے ہنستے ہوئے ہر ظلم کو جاں پر رکھا

حُسنِ لیلیٰ نے محبت کی زیارت کی ہے
اِس کی فرہاد نے مجنوں نے وضاحت کی ہے

حُسنِ یوسفؑ میں ہے پوشیدہ جوانی اس کی
نوعِ انسان سے پہلے تھی کہانی اس کی

اس کو مارے ہیں زمانے نے اٹھا کر پتھر
اس نے رکھے ہیں وہ سینے سے لگا کر پتھر

اس کے بازو کبھی گردن کبھی سر کٹتا ہے
پھر بھی محبوب کے مقصد سے نہیں ہٹتا ہے

مذہبِ عشق کا آئین انوکھا دیکھا
اصل کے نام پہ ہوتا یہاں دھوکا دیکھا

عشق عاشق سے بغاوت کا عقیدہ مانگے
عشق عاشق سے محبت کا وظیفہ مانگے

ان کی پوشاک کی شکنوں پہ نہ جاؤ صاحب!
وحشتِ چشم کے سمجھو گے نہ بھاؤ صاحب!

ان کی میراث ہے پاؤں کے ابلتے چھالے
بڑے مضبوط ہیں ہونٹوں پہ لگائے تالے

جیسے اس عشق کی تعریف نہیں ممکن ہے
ایسے عاشق کی بھی توصیف نہیں ممکن ہے

زلف و رخسار کے رسیا کو نہ عاشق کہنا
جب بھی کہنا ہے اُسے عشق کا فاسق کہنا

جو بھی بتلایا محبت سے سنبھالے رکھنا
یاد یہ قصّے یہ حکمت یہ حوالے رکھنا

آج کے واسطے اتنی ہی نصیحت ہے بہت
عشق کی راہ میں صدمے ہیں صعوبت ہے بہت

میں یہ بولا کہ بتا دو تو چلا جاؤں گا
کیا کبھی عشق کے عُقدے کو سمجھ پاؤں گا

کہہ اٹھا فال نکالی ہے تِرا نام بھی ہے
حلقہ ءِ عشق میں دانشؔ جی تِرا کام بھی ہے

دانش عزیز

08/11/2024

صراحی کا بھرم کھلتا ، نہ میری تشنگی ہوتی۔۔
ذرا تم نے نگاہِ ناز کو تکلیف دی ہوتی۔۔

مقامِ عاشقی دنیا نے سمجھا ہی نہیں ورنہ،
جہاں تک تیرا غم ہوتا وہیں تک زندگی ہوتی۔۔

تمہاری آرزو کیوں دل کے ویرانے میں آ پہنچی؟
بہاروں میں پلی ہوتی، ستاروں میں رہی ہوتی۔۔

زمانے کی شکایت کیا، زمانہ کس کی سنتا ہے،
مگر تم نے تو آوازِ جنوں پہچان لی ہوتی۔۔

یہ سب رنگینیاں خونِ تمنا سے عبارت ہیں،
شکستِ دل نہ ہوتی تو، شکستِ زندگی ہوتی۔۔

رضائے دوست "قابل"، میرا معیارِ محبت ہے،
اُنہیں بھی بھول سکتا تھا،اگر اُن کی خوشی ہوتی۔۔

31/08/2024

بسمل عظیم آبادی

اس غزل کی شہرت رام پرساد بسمل کی وجہ سے بھی ہے، تاہم محققین نے اس حقیقت کو آشکارا کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس غزل کے خالق رام پرساد بسمل نہیں بلکہ اس کے خالق بسمل عظیم آبادی تھے اور یہ غزل ان کے مجموعہ کلام’ حکایت ہستی’ میں موجود ہے۔ روایت ہے کہ جب رام پرساد بسمل کو پھانسی کا پھندا پہنایا گیا تو ان کی زبان پر اس غزل کا مطلع تھا۔
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

اے شہید ملک و ملت میں ترے اوپر نثار
لے تری ہمت کا چرچا غیر کی محفل میں ہے

وائے قسمت پاؤں کی اے ضعف کچھ چلتی نہیں
کارواں اپنا ابھی تک پہلی ہی منزل میں ہے

رہرو راہ محبت رہ نہ جانا راہ میں
لذت صحرا نوردی دورئ منزل میں ہے

شوق سے راہ محبت کی مصیبت جھیل لے
اک خوشی کا راز پنہاں جادۂ منزل میں ہے

آج پھر مقتل میں قاتل کہہ رہا ہے بار بار
آئیں وہ شوق شہادت جن کے جن کے دل میں ہے

مرنے والو آؤ اب گردن کٹاؤ شوق سے
یہ غنیمت وقت ہے خنجر کف قاتل میں ہے

مانع اظہار تم کو ہے حیا، ہم کو ادب
کچھ تمہارے دل کے اندر کچھ ہمارے دل میں ہے

مے کدہ سنسان خم الٹے پڑے ہیں جام چور
سرنگوں بیٹھا ہے ساقی جو تری محفل میں ہے

وقت آنے دے دکھا دیں گے تجھے اے آسماں
ہم ابھی سے کیوں بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے

اب نہ اگلے ولولے ہیں اور نہ وہ ارماں کی بھیڑ
صرف مٹ جانے کی اک حسرت دل بسملؔ میں ہے

24/08/2024

زندہ رہنے کو بھی لازم ہے سہارا کوئی
کاش مل جائے غم ہجر کا مارا کوئی

ہے تیری ذات سے مجھکو وہی نسبت جیسے
چاند کے ساتھ چمکتا ہو ستارہ کوئی

کیسے جانو گے کہ راتوں کا تڑپنا کیا ہے
تم سے بچھڑا جو نہیں جان سے پیارا کوئی

ہم محبت میں بھی قائل رہے یکتائی کے
ہم نے رکھا ہی نہیں دل میں دوبارہ کوئی

سوچتی ہوں کہ تیرے پہلو میں جو بیٹھا ہوگا
کیسا ہوگا وہ پری وش وہ تمہارا کوئی

کون بانٹے گا مرے ساتھ مری تنہائی
ڈھونڈ کے لا دو مجھے زیست سے ہارا کوئی

23/08/2024

۔۔۔ وہ جب ناراض ہوتا ہے
میں اکثر اس سے کہتی ہوں
ہزاروں عیب ہیں مجھ میں
تو رشتہ توڑ لو نہ تم
مجھے پھر چھوڑ دو ناں تم۔۔۔!

۔۔۔ وہ کچھ لمحے تو
بالکل چپ ہو جاتا ہے
امڈتے اشکوں کو اپنے
چھپا کر پلکوں کے پیچھے
دبا کر درد سینے میں
بڑے ہی پیار سے بے ربط لہجے میں
مرے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لے کر تھپکتا ہے۔۔۔!

وہ کہتا ہے!
دوبارہ ہجر کی باتیں نہ کرنا تم
مرا دل ایسی باتوں سے دھڑکنا بھول جاتا ہے
مری سانسیں اٹکتی ہیں
زمیں رکتی ہوئی معلوم ہوتی ہے
مری جاں سوچ کر دیکھو
کبھی ایسا جو ہو جائے
زمیں چلنے سے رک جائے
تباہ ہو جائے گی دنیا
نہ دن سے رات ہو گی
اور نہ کوئی رُت ہی بدلے گی
جدھر نظریں اٹھیں گی پھر
بیاباں دشت ہی ہو گا
مری جاں یاد رکھنا تم
میں زندہ ہوں فقط جو ساتھ ہے ترا
رہیں سانسیں مری چلتی
ضروری پیار ہے ترا
میں یہ بھی جانتا ہوں جاں
ذرا ہوں تیز غصے کا
مگر تم ہو جنوں مرا
یہ ہے معلوم تم کو بھی
ہو حاصل زندگی کا تم
چلو مانا کہ تم کو چھوڑ دیتا ہوں
میں رشتہ توڑ لیتا ہوں
مگر بولو
مرے بن رہ سکو گی تم ؟
نہ کوئی خواب ٹوٹے گا ؟
لبوں پہ درد کا نغمہ نہیں ہو گا۔۔۔؟

۔۔۔ میں سن کے ساری باتوں کو
بہت حیران ہوتی ہوں
کہ میری کیفیت سے
کس قدر ہی آشنا ہے وہ
میں سر اپنا خا موشی سے
لگاکراس کے کاندھے سے
میں آنکھیں موند لیتی ہوں
مجھے پھر دیکھ کر
یوں مسکراتا ہے
اُسے اپنے سوالوں کے
سبھی حل مل گئے جیسے۔۔۔!

"""/___________❤️

21/08/2024

آنکھوں کو رتجگوں کے عذابوں میں چھوڑ کر
نیندیں چرا کے لے گیا خوابوں میں چھوڑ کر

جھونکا ہوا کا لے گیا خوشبو کو اپنے ساتھ
سوکھے ھوئے گلاب کتابوں میں چھوڑ کر

اے عشق تیرا قرض بھی ہم نے چکا دیا
اپنی وفا کو زندہ نصابوں میں چھوڑ کر

جانے وہ مجھ سے ہاتھ چھڑا کر کہاں گیا
اس شہر ِ بے اماں کے خرابوں میں چھوڑ کر

صحرا ئے ہجر میں ہمیں زخموں کی دی ردا
گم ہو گیا کہیں وہ سرابوں میں چھوڑ کر

دامن میں لے کے سارے خسارے میں آ گئی
سود و زیاں کے اسکو حسابوں میں چھوڑ کر

10/08/2024

پروین شاکر کی یہ غزل ایک خاص مقام رکھتی ہے کیونکہ ان کی قبر پر ان کے ہی دو اشعار درج ھیں (پہلا اور چوتھا)۔

یارب مرے سکوت کو نغمہ سرائی دے
زخمِ ہُنر کو حوصلہ لب کشائی دے

لہجے کو جُوئے آب کی وہ نے نوائی دے
دُنیا کو حرف حرف کا بہنا سنائی دے

رگ رگ میں اُس کا لمس اُترتا دکھائی دے
جو کیفیت بھی جسم کو دے ،انتہائی دے

شہرِ سخن سے رُوح کو وہ آشنائی دے
آنکھیں بھی بند رکھوں تو رستہ سجھائی دے

تخیئلِ ماہتاب ہو، اظہارِ آئینہ
آنکھوں کو لفظ لفظ کا چہرہ دکھائی دے

دل کو لہو کروں تو کوئی نقش بن سکے
تو مجھ کو کربِ ذات کی سچی کمائی دے

دُکھ کے سفر میں منزلِ نایافت کُچھ نہ ہو
زخمِ جگر سے زخمِ ہُنر تک رسائی دے

میں عشق کائنات میں زنجیر ہو سکوں
مجھ کو حصارِ ذات کے شہر سے رہائی دے

پہروں کی تشنگی پہ بھی ثابت قدم رہوں
دشتِ بلا میں، رُوح مجھے کربلائی دے

10/08/2024

تصورات میں اِک زندگی بناتے ہوئے
مَیں ڈر گئ ہوں تُمہاری کَمی بناتے ہوئے

نگار خانہء ہستی کے ایک گوشے میں
وہ ہنس رہا تھا مِری بے بسی بناتے ہوئے

وہ چاہتا تھا کہ رخصت اُسے مَیں ہنس کے کروں
مگر مَیں رو پڑی اُس کی خوشی بناتے ہوئے

اِدھر اُدھر کے فسانے سنانے پڑتے ہیں
کبھی کبھی تِری موجودگی بناتے ہوئے

اُسے پسند تھے جُگنو سو بند مُٹھی میں
وہ دیکھتا تھا اُنہیں روشنی بناتے ہوئے

بِنائے اشک سے پہلے بھی رو رہا تھا کوئی
کسی کا وقت بُرا تھا گھڑی بناتے ہوئے❤❤

06/08/2024

نگاھوں کے تصادم سے عجب تکرار کرتا ہے ۔
یقیں کامل نہیں لیکن گماں ہے پیار کرتا ہے ۔

لرز جاتی ہوں میں یہ سوچ کر کافر نہ ہو جاؤں
دل اسکی پوجا پر بڑا اسرار کرتا ہے۔

اسے معلوم ہے شائد میرا دل ہے نشانے پر ۔
زباں سے کچھ نہیں کہتا نظر سے وار کرتا ہے ۔

میں اس سے پوچھتی ہوں خواب میں مجھ سے محبت ہے ؟؟؟
پھر آنکھیں کھول دیتی ہوں وہ جب اظہار کرتا ہے۔

پروین شاکر۔
🍁

04/08/2024

نظم: تم کون ہو؟

یہ دو جہاں! یقین و گماں! ان کے درمیاں
بس اک مساوی جنگ چھڑی ہوئی ہے جہاں

ہاں اک جہانِ رنگِ پراسرار بھی ہے یہاں
جانے یہ کون شخص ہے جانے ہے کیا گماں

میں سوچتا ہوں کون ہے یہ میرے آس پاس
جو جاتا بھی نہیں ہے نہ آتا ہے مجھ کو راس

کوئی خیالِ جبر لیے ہوۓ پھرتا ہوں
میں تو سوالِ جبر لیے ہوۓ پھرتا ہوں

تم سوز ہو کہ ساز، کوئی رنگ ہو کہ راز؟
تم جسم ہو کہ عکس، حقیقت ہو یا مجاز؟

تم لطف ہو ادا ہو حیا ہو کہ کوئی نور؟
تم اپسرا ہو دیوی ہو شہزادی ہو کہ حور؟

تم جاذب و جمیل ہو، دلکش کہ نازنیں؟
تم حسن ہو حسین ہو یا حسنِ آفریں؟

تم خواب ہو کہ نیند ہو، بستر ہو یا ردا؟
تم لمس ہو تپش ہو بدن ہو کہ ہو قبا؟

تم ناز ہو کہ طیش ، جنوں کوئی، یا فسوں؟
تم شور ہو، سکوت ہو، آلام یا سکوں؟

تم دھیان ہو، خلل ہو، ضرر ہو، شرر کہ بار؟
تم سچ ہو یا سراب، مرے پاس یا فرار؟

تم راہ ہو، سفر ہو، مسافت ہو یا قیام؟
تم در ہو، زر ہو، دار ہو، ٹھہراؤ یا خرام؟

تم دشت ہو دیوار ہو، تم ریت ہو کہ سنگ؟
تم جیت ہو شکست ہو، یا ہو نئی امنگ؟

تم رقص ہو کہ شوق، دمِ حزن یا حبیب؟
تم جبر ہو کہ لمحۂِ بے چین یا شکیب؟

تم باد ہو کہ یاد، تمنا ہو یا خیال؟
تم لے ہو، دھن ہو، تار ہو، سنگیت ہو کہ تال؟

تم عیش ہو کہ آس کوئی آہ یا گمان؟
تم اور ہی جہان ہو تم اور ہی بیان!!

میں اتنا جانتا ہوں کہ تم ہو مری امان
تم اور ہی جہان ہو تم اور ہی بیان!!

Address

Peshawar
03139263118

Telephone

+923139263118

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sham posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Sham:

Share

Category