17/12/2025
یوکرین ایک بہترین ملک تھا لوگ خوشحال تھے امن تھا اور ہمسائے روس کے ساتھ مثالی تعلقات تھے پھر وہاں پر ایک مسخرہ آیا جس نے حکومت پر تنقید کرنا شروع کی اس نے اپنی شہرت کا فائدہ اٹھایا اور سب کو چور کرپٹ کہا اور یہ بھی کہ اگر یوکرین یورپی یونین میں ہو تو وہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ جائیں گی ، سوشل میڈیا اور میڈیا نے اس کو خوب پروموٹ کیا یہاں تک کہ وہ مسخرہ صدر بن گیا اور آتے ہی اس نے نیٹو کا رکن بننے کی کوششیں شروع کر دیں جس کا نقصان یہ ہوا کہ روس کو اپنے دروازے پر یورپی یونین اور امریکہ نظر آنے لگا اور آخر کار روس نے جنگ چھیڑ دی ، وہ یوکرین جو نیٹو کا رکن بننا چاہتا تھا اسلحہ اور مکمل سپورٹ کے باوجود تباہ ہو گیا ، اکانومی فارغ ہو گئی وہ عوام جو اسے لائی تھی دوسرے ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئی یوکرینی لڑکیاں قحبہ خانوں میں پہنچ گئیں اور نیٹو امریکہ نے پورا زور لگا لیا لیکن حالات اب یہ ہیں کہ سالوں کی مار ہزاروں زندگیاں گنوانے اور لاکھوں لوگوں کو متاثر کروانے کے بعد مسخرہ آج نیٹو میں نہ جانے کی باتیں کرنے لگا ہے ، وہی بات جو روس نے اسے جنگ سے پہلے سمجھائی تھی۔
پاکستان والوں اللہ کا شکر ادا کرو کہ یہاں پر مسخرے کو لانے والوں کو اللہ نے عقل دی اور وہ پیچھے ہٹ گئے حالانکہ جو تباہی ہمارا کھوتا مچا گیا ہے اس کو ٹھیک کرتے کرتے ہمیں سالوں لگنے ورنہ ہمارے حالات یہ تھے کہ سعودیہ چین اور ترکی تک ہمیں اگنور کرنے لگے تھے ورنہ شاید ہم بھی آج بھارت سے مار کھا کر یوکرین والی حالت میں ہوتے نہ ہماری عزتیں محفوظ ہوتیں نہ جان و مال۔
فیصلہ سازوں سے درخواست ہے کہ قائد اعظم نے پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ کہا تھا اس کا مطلب یہ نہیں آپ یہاں پر سیاسی تجربات کرتے رہیں ، ہن ساڈے تے رحم ای کرنا