12/11/2025
کل ڈگری کالج چترال کے سامنے جو دل خراش حادثہ پیش
آیا اسے محض ایک واقعہ کہنا ظلم ہے۔ ڈاکٹر ایک نہایت ذمہ دار انسان ہوتا ہے جس کے ہاتھوں سے شفا کی توقع کی جاتی ہے، جس کی موجودگی زندگی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اس قسم کی سڑک، جہاں سے سکول کے ننھے بچے، کالج کے طلبہ اور آس پاس کے ہاسٹلوں میں رہنے والے ہزاروں طالب علم گزرتے ہیں، خاص طور پر اسکول اور کالج کی چھٹی کے اوقات میں خصوصی طور پر نگہبانی کا متقاضی ہے۔ چونکہ سڑک اتنی تنگ ہے کہ وہاں انتہائی احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ ڈرائیونگ کرنی چاہیے، چاہے کتنی ہی ایمرجنسی کیوں نہ ہو۔ ڈاکٹر نور الاسلام صاحب کی ڈرائیونگ کسی بھی لحاظ سے سنجیدہ نوعیت کی نہیں تھی۔ سننے میں آرہا ہے کہ یہ اس کا تیسرا حادثہ ہے۔ اس سے پہلے بھی ڈاکٹر صاحب دو بار حادثے کا شکار ہوئے اور اس پر گاڑی چلانے کی پابندی بھی تھی۔ انہوں نے انتہائی خطرناک رفتار سے ایک نوجوان کو کچل دیا۔ ایک ماں کے دل سے دھڑکن چھین لی، ایک باپ کا سہارا توڑ دیا اور ایک گھر کے صحن سے رونق چھین لی۔ لہٰذا اس واقعے کی صاف اور شفاف تحقیقات ہونی چاہییں اور اس کی سزا اسے ملنی چاہیے۔۔
Copied:
Sanau Miraan