Voice of Peshawar

Voice of Peshawar We Cover all the Cultural, Political & Funny Activities Around Us.

21/03/2026

عید مبارک! 🌙✨
اللہ تعالیٰ آپ کی زندگی کو خوشیوں، محبتوں اور کامیابیوں سے بھر دے۔
یہ بابرکت دن آپ کے لیے ڈھیروں مسکراہٹیں، سکون اور خوشحالی لے کر آئے۔

میری طرف سے آپ اور آپ کے اہلِ خانہ کو دل کی گہرائیوں سے عید کی ڈھیروں خوشیاں مبارک ہوں۔
اللہ آپ کی ہر جائز دعا قبول فرمائے۔ 🤲💫

🌹 محمد فرقان انصاری

19/03/2026

کل خیبرپختونخوا کے کن کن علاقوں میں عید الفطر منائی جا رہی ہے ؟

امریکی انٹیلی جنس کا یہ دعویٰ کہ پاکستان ICBM (بین البراعظمی بیلسٹک میزائل) کی صلاحیت کی طرف بڑھ رہا ہے، اس بات کا اعترا...
19/03/2026

امریکی انٹیلی جنس کا یہ دعویٰ کہ پاکستان ICBM (بین البراعظمی بیلسٹک میزائل) کی صلاحیت کی طرف بڑھ رہا ہے، اس بات کا اعتراف ہے کہ پاکستان کی ٹیکنالوجی اب 5,500 کلومیٹر سے زائد فاصلے تک مار کرنے کی دہلیز پر کھڑی ہے۔یہ ایک نئے عالمی توازن کی جھلک ہے، روس، چین، ایران اور شمالی کوریا وہ ممالک ہیں جو امریکی اثر و رسوخ کو براہِ راست چیلنج کر رہے ہیں،اس فہرست میں پاکستان کا نام شامل ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ اب پاکستان کو محض ایک "سیکیورٹی پارٹنر" کے بجائے ایک ایسے بلاک کے قریب دیکھ رہا ہےجو مغرب کے لیے دفاعی خطرہ بن سکتا ہے،یہ بیان محض ایک فوجی رپورٹ نہیں بلکہ عالمی صف بندیوں میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے، دہائیوں تک پاکستان کے میزائل پروگرام کو صرف "علاقائی" یعنی بھارت کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا ہے، لیکن اسے روس اور چین جیسے عالمی حریفوں کے ساتھ ایک ہی فہرست میں
رکھنا Strategicلحاظ سے بہت معنی خیز ہے

اس رپورٹ میں پاکستان کے حوالے سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ اسلام آباد مبینہ طور پر ایسے بین البراعظمی میزائل تیار کر رہا ہے جو براہ راست امریکی سرزمین کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔

‏پاکستانی صحافی مبشر لقمان 63 سال کے ہیں، نہ کوئی جذباتی نوجوان کہہ سکتے ہیں اور نہ ہی ان پڑھ۔ مگر افسوس کہ دو مختلف پرو...
18/03/2026

‏پاکستانی صحافی مبشر لقمان 63 سال کے ہیں، نہ کوئی جذباتی نوجوان کہہ سکتے ہیں اور نہ ہی ان پڑھ۔ مگر افسوس کہ دو مختلف پروگراموں میں انہیں کھلے عام یہ کہتے سنا کہ افغانستان کے پل گرائے جائیں، گندم جلائی جائے، تیل کو آگ لگائی جائے اور سڑکیں و عمارتیں تباہ کی جائیں تاکہ انہیں دوبارہ بنانے میں بیس سال لگ جائیں۔

‏اس طرح کی باتیں دو باتوں کی طرف اشارہ کرتی ہیں: یا تو ماضی میں بھی ایسے کام اسی سوچ کے تحت کیے گئے، یا پھر یہ صاحب انسانی اقدار اور جنگ کے عالمی قوانین سے بالکل ناواقف ہیں۔ 1949 کے جنیوا کنونشن کے مطابق شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا ممنوع ہے۔

‏جنگ کے میدان میں کھڑے شخص سے تو کبھی کبھی عقل و منطق کی امید کم ہوتی ہے، مگر جو شخص خود کو تعلیم یافتہ کہتا ہو اور انسانیت کے خلاف ایسی باتیں کرے، اسے کسی صورت معاف نہیں کیا جا سکتا۔

‏پھر یہی لوگ حیران ہوتے ہیں کہ افغان عوام ان سے نفرت کیوں کرتے ہیں!!‬⁩

سابق مئیر پشاور حاجی زبیر علی نے چار سالہ کارکردگی ریپورٹ پیش کردی۔ 650 سے زائد سولرائزیشن کا عمل مکمل، 12 جنازگاہوں، 20...
18/03/2026

سابق مئیر پشاور حاجی زبیر علی نے چار سالہ کارکردگی ریپورٹ پیش کردی۔ 650 سے زائد سولرائزیشن کا عمل مکمل، 12 جنازگاہوں، 20 کلو میٹر پائپ لائن بچھائیں۔ ہم نے صوبائی حکومت کے سوتیلی ماں جیسے رویے کے باوجود پشاور کے شہریوں کی بھرپور خدمت کی، سابق میئر پشاور حاجی زبیر علی

جن افسران نے وزرا کے دباؤ میں آکر روڑے اٹکائے انہیں معاف کرتا ہوں ، لیکن جنہوں نے منافقت کی اور ہمارہ و عوام کا وقت ضائع کیا انہیں کسی طور معاف نہیں کروں گا یہ اعلان کرتا ہوں، الوداعی تقریب سے خطاب

ضلع ناظم رہتے ہوئے اس شہر پشاور اور اسکے باسیوں کے لیے کئی ایک منصوبے پورے کیے، زبیر علی سمیت صوبے کے اکثریت بلدیاتی نمائندوں کو جماعتی بنیاد پر صوبائی حکومت نے فنڈز و اختیارات سے محروم رکھ کر آئین قانون اور عوام کے ساتھ زیادتی کی، سابق گورنر حاجی غلام علی

پشاور
مدت پوری ہونے کے بعد سبکدوش ہونے والے میئر پشاور حاجی زبیر علی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے نتائج آنے کے بعد سے لے کر مدت پوری ہونے تک صوبائی حکومت نے ہر طرح سے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات اور فنڈز سے محروم رکھا تاہم اسکے باوجود بطور میئر پشاور ریکارڈ کام کیا اور عوام کی فلاح و بہبود سمیت انکی خدمت کو یقینی بنایا، اس تمام عرصہ میں جن افسران نے وزرا اور صوبائی حکومت کے دباؤ کی وجہ سے مسائل پیدا کیے انہیں تو معاف کر بھی دیں لیکن جنہوں نے جان بوجھ کر منافقت کی اور بلدیاتی نمائندوں سمیت شہر کی عوام کا وقت ضائع کیا انہیں کسی طور معاف نہیں کروں گا، سابق گورنر حاجی غلام علی نے مسائل و مشکلات کے باوجود کارکردگی دکھانے پر سابق میئر سمیت منتخب بلدیاتی نمائندوں کو شاباش دی اور صوبائی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔
ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز سابق میئر پشاور حاجی زبیر علی اور سابق گورنر حاجی غلام علی کی جانب سے دیے گئے الوداعی افطار ڈنر کی تقریب میں خطاب اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا گیا۔ الوداعی تقریب میں سینکڑوں کی تعداد میں نیبر ہوڈ و ویلج کونسل کے چیئرمینز ، کونسلرز، خواتین کونسلرز ، اقلیتی اراکین اور لوکل گورنمنٹ افسران نے شرکت کی۔ تقریب میں شرکا کی جانب سے سابق میئر پشاور حاجی زبیر علی کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور اس امر پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ صوبائی حکومت نے صوبہ بھر بالخصوص پشاور کے منتخب بلدیاتی نمائندوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا۔ تقریب سے خطاب اور میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سابق میئر کا کہنا تھا کہ الحمدللہ ہم اپنے کام کی وجہ سے اللہ اور عوام کے سامنے سرخرو ہیں ، انہوں نے کہا کہ جتنا وقت بھی عوامی خدمت میں گزارا اس میں اصل وقت وہ تھا جب صوبے میں نگران حکومت تھی جس میں ہم نے عوامی فلاح و بہبود اور خدمت کے ریکارڈ کام کیے۔ اس دوران پشاور میں 650 سے زائد سولرازیشن کی گئی، 12 جنازہ گاہ اور 22 پرائمری مڈل سیکنڈری میل فی میل سکول تعمیر کیے۔ حلقہ پی کے 83 میں 16 کلومیٹر جبکہ دیگر تمام نیبر ہوڈ و ویلج کونسلز میں 4,4 کلومیٹر تک گیس پائپ لائنز انسٹال کی گئیں، ہر ایک نیبر ہوڈ و ویلج کونسل میں بجلی کے ٹرانسفارمرز لگوائے گئے، سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر تزئین و آرائش مکمل کی، شہر بھر کے 75000 سے زائد نوجوانوں کو کھیلوں کا سامان مفت فراہم کیا گیا اور تمام منصوبے و کاوشیں بلدیاتی نظام سے ہٹ کر اپنی کوششوں سے سر انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ صوبائی حکومت نے سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھتے ہوئے ترامیم اور دیگر ذرائع سے راستے روکے اور روڑے اٹکائے لیکن اسکے باوجود ہم نے خدمت کا جذبہ ترک نہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے جیتنے کے بعد جماعتی وابستگی سے بالہ تر ہو کر ہر ایک منتخب چیئرمین ، میئر کونسلر کو ساتھ لے کر کام کرنے کے رویے کو مضبوط کیا۔ سابق میئر کا کہنا تھا کہ آئندہ بلدیاتی انتخابات میں شہر پشاور اور صوبے کی عوام ایسے عناصر سے اپنے ووٹ کے ذریعے حساب لے گی جنہوں نے بلدیاتی نظام کو کمزور کیے رکھا اور عوامی خدمات کو بند کرنے کی پوری کوشش کی، ایسے افسران جنہوں نے صوبائی حکومت اور وزرا کے دباؤ کی وجہ سے کاموں میں کمی بیشی کی انہیں معاف کرتا ہوں لیکن جنہوں نے جانتے بوجھتے ہوئے منافقت کی اور منتخب بلدیاتی نمائندوں سمیت شہر پشاور کی عوام کا وقت ضائع کیا انہیں کسی طور معاف نہیں کیا جائے گا۔ سابق میئر نے واضح کیا کہ آئندہ بلدیاتی انتخابات میں بھی اس صوبے کی عوام خدمات کا تسلسل برقرار رکھنے والوں کو اپنے ووٹ سے کامیاب کریں گے اور منافقت کرنے والوں کا محاسبہ کریں گے۔ سابق گورنر حاجی غلام علی نے بھی اپنے خطاب میں تمام تر مسائل اور مشکلات کے باوجود عوامی خدمت کرنے پر سابق میئر پشاور حاجی زبیر علی اور دیگر بلدیاتی نمائندوں کو شاباش دی اور کہا کہ یہ اسی خدمت کا تسلسل ہے جو انہوں نے اپنے ضلع ناظم ہونے کے وقت میں پشاور کی عوام کے لیے کیے۔ تقریب میں شریک تمام شرکاء کو انکی خدمات کے صلے میں تعریفی اسناد سے بھی نوازا گیا
#پشاور

16/03/2026

پاکستان میں مندرجہ ذیل باتوں پہ کبھی یقین نہ کریں بھلے کوئی لاکھ قسمیں کھائے:

۱۔ اسلام آباد سے نئی ہاؤسنگ سکیم کا فاصلہ دو کلو میٹر ہے۔
۲۔ ہوٹل سے حرم کا فاصلہ 500 میٹر ہے۔
۳۔ ہمارا آئل لگانے سے بال واپس آ جائیں گے۔
۴۔ ہمارے پاس چھوٹی مکھی کا اصلی شہد ہے۔
۵۔ تصویر بھیج دو دیکھ کر ڈیلیٹ کر دوں گا۔
۶۔ تم اگر غریب بھی ہوتے تو پھر بھی تمہیں پیار کرتی۔
۷۔ علماء دین کی خدمت کر رہے ہیں۔
۸۔ مردانہ کمزوری کا شرطیہ علاج موجود ہے۔
۹۔ وعدہ رہا ہم مل کر صرف چمی کریں گے۔
۱۰۔ کمپنی کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔
۱۱۔ ایک تعویذ سے سنگدل محبوب آپ کے قدموں میں ہوگا۔

‏📞 میکرون نے جناب مجتبیٰ خامنہ ای کو فون کیا:جنگ روک دیں اور آپ جو چاہیں لے سکتے ہیں…انہوں نے جناب خامنہ ای سے کہا، “آپ ...
16/03/2026

‏📞 میکرون نے جناب مجتبیٰ خامنہ ای کو فون کیا:

جنگ روک دیں اور آپ جو چاہیں لے سکتے ہیں…

انہوں نے جناب خامنہ ای سے کہا، “آپ دنیا کو سزا دے رہے ہیں، ٹرمپ کو نہیں، اور دنیا کو بے مثال قحط اور معاشی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔”

جناب خامنہ ای نے بات کاٹتے ہوئے پوچھا، “جب ایرانی عوام 45 سال سے بھوکے مر رہے تھے تو آپ کہاں تھے؟”

میکرون: “یہ امریکی پالیسی ہے، اور ہم اسے مسترد کرتے ہیں، جیسا کہ ہم نے پہلے بھی بیان کیا ہے۔”

میکرون: “اب میں یورپی یونین ممالک کے ساتھ ملاقات کا مطالبہ کرتا ہوں، اور آپ جو چاہیں حاصل کر سکتے ہیں۔”

جناب خامنہ ای نے جواب دیا، “ہم کچھ نہیں چاہتے سوائے ٹرمپ اور نیتن یاہو کو سزا دینے کے۔”

میکرون: “اور فرانسیسی جہازوں کے لیے استثنیٰ مانگتے ہیں کہ وہ گزر سکیں۔”

جناب خامنہ ای نے جواب دیا، “امریکی اور اسرائیلی سفیروں کو نکال دیں، پھر آپ گزر سکتے ہیں۔ ہم ان لوگوں سے سودا نہیں کرتے جو دو طرفہ کھیلتے ہیں۔ بس یہی میرا کہنا ہے۔” اس کے بعد انہوں نے فون کاٹ دیا۔

13/03/2026

اپنی بھوک پر اتنا قابو رکھو کہ دوسروں کی خوشیاں کھانے کی نوبت نہ آئے۔

جو عزت اور بصیرت اللّه نے آیت اللہ خامنئی کو دیا اجکل کے دور میں کسی کو بھی شاید میسر نہ ہو۔ ایک لمبی عمر پایا، پوری زند...
12/03/2026

جو عزت اور بصیرت اللّه نے آیت اللہ خامنئی کو دیا اجکل کے دور میں کسی کو بھی شاید میسر نہ ہو۔ ایک لمبی عمر پایا، پوری زندگی شیر کی طرح گزارا اور پھر شہادت کے آعلیٰ درجے پر فیض بھی ہوا، اور تو اور اپنے شہادت کے بعد بھی پوری اسلامی دنیا میں مسلمانوں کو کسی نہ کسی حد تک یکجا بھی کیا اور اتفاق و اتحاد پیدا کر کے گیا۔ آج کے دور کا وہ واحد رہنما ہے جسکو پوری امت مسلمہ نے اختلافات بھلا کر دعا دی۔

11/03/2026

📛 “پاکستان اگر اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہوا تو یہ خودکشی ہوگی —" اسکاٹ رِٹر — سابق امریکی میرین کور انٹیلیجنس افسر، اقوامِ متحدہ کے سابق اسلحہ معائنہ کار (UN Weapons Inspector) اور فوجی و جیو پولیٹیکل تجزیہ کار

"پاکستان کو بہت محتاط رہنا ہوگا کیونکہ جہاں تک مجھے معلوم ہے، پاکستان میں شیعہ آبادی بھی بڑی تعداد میں ہے اور اسلام پسند بھی کافی ہیں۔ اور سعودی عرب کے ساتھ جو معاہدہ کیا گیا تھا وہ اسرائیل کو مضبوط کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس سے تحفظ کے لیے تھا۔ اگر پاکستان اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے تو یہ دراصل پاکستانی حکومت کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے۔

لہٰذا اگر پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اسرائیل کے مقابلے میں اُس ملک کے خلاف کھڑا ہوتا ہے جس نے اسرائیل کے خلاف کھڑے ہونے کی ہمت کی ہے، تو یہ خودکشی کے مترادف ہوگا۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ یہ زیادہ تر محض بیانات ہیں، کیونکہ انہوں نے ایک معاہدہ کیا ہے اور انہیں کچھ نہ کچھ کہنا پڑتا ہے، لیکن میں اسے سنجیدگی سے نہیں لیتا۔

پاکستان کی آبادی کا ایک نمایاں حصہ شیعہ ہے، تقریباً 10 سے 15 فیصد۔ اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ وہاں امریکی سفارت خانے اور قونصل خانے پر حملوں کی خبریں بھی آئیں۔ اس لیے اگر ایسی صورتحال بنتی ہے تو پاکستانی حکومت کے لیے حالات اچھے نہیں ہوں گے۔

پہلے ہی وہاں جرنیلوں کے اندر اختلافات کی خبریں آ چکی ہیں۔ ایک جنرل نے بغاوت کی ہے اور زیرِ زمین بھی کچھ سرگرمیاں جاری ہیں۔ ایسی صورتحال پاکستان کو اندر سے کمزور کر سکتی ہے، حتیٰ کہ اسے اندرونی طور پر ٹوٹنے کے قریب لے جا سکتی ہے۔ اور یقین کریں، بھارت ایسی صورتحال دیکھ کر خوش ہوگا۔

ابھی متحدہ عرب امارات میں بھی ایک وارننگ جاری ہوئی ہے کہ موجودہ حالات کے باعث ممکنہ میزائل خطرہ موجود ہے۔ لوگوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ فوراً محفوظ جگہوں پر پناہ لیں، کھڑکیوں اور دروازوں سے دور رہیں اور مزید ہدایات کا انتظار کریں۔ خاص طور پر دبئی میں بہت سے یورپی اور مغربی لوگ ہیں جو جنگی حالات کے عادی نہیں ہیں، اس لیے یہ صورتحال خلیجی ممالک کے لیے بھی اچھی نہیں لگتی۔

اب ایران کی جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت کی بات کریں۔ آپ نے یوکرین کی مثال دی۔ یوکرین نے جنگ کا آغاز ایک بڑی فوج کے ساتھ کیا تھا جسے 2015 کے بعد سے نیٹو نے تربیت دی تھی۔ تقریباً ہر 30 دن بعد ایک بٹالین کے برابر فوجیوں کو تربیت دی جاتی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ تقریباً 60 ہزار فوجی نیٹو نے تربیت دیے تھے، اس کے علاوہ یوکرین کے پاس پہلے سے ہی لاکھوں فوجی موجود تھے۔

لیکن موسمِ گرما کے وسط تک روس نے اس فوج کو بڑی حد تک تباہ کر دیا تھا۔ اس بارے میں زیادہ بات نہیں کی جاتی، مگر حقیقت یہی ہے کہ وہ فوج بنیادی طور پر ختم ہو چکی تھی۔ اسی وجہ سے امریکہ کو 48 ارب ڈالر کا نیا لینڈ لیز پروگرام شروع کرنا پڑا اور نیٹو کو ایک نئی فوج تیار کرنی پڑی جس میں بڑی تعداد میں کرائے کے جنگجو بھی شامل تھے۔

میری بات کا مقصد یہ ہے کہ نیٹو مسلسل یوکرین کو وسائل فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ روس کا مقابلہ کر سکے۔ روس نے بھی جنگ کا آغاز محدود وسائل کے ساتھ کیا تھا۔ وہ ایک لاکھ سے کم فوجیوں کے ساتھ داخل ہوا جبکہ یوکرین کی فوج اس وقت تقریباً چھ لاکھ تھی۔ عام طور پر جنگ میں تین کے مقابلے میں ایک کا تناسب چاہیے ہوتا ہے، یعنی روس کو تقریباً 18 لاکھ فوجیوں کے ساتھ آنا چاہیے تھا، لیکن وہ کبھی اس کے قریب بھی نہیں پہنچا۔

اب ایران کی بات کرتے ہیں۔ 2005 میں ڈک چینی نے ایران پر حملے کی دھمکی دی تھی۔ امریکہ کی فوج آذربائیجان کو بیس بنا کر کیسپین سمندر کے راستے تہران پر حملے کی تیاری کر رہی تھی۔ ایرانی اس سے آگاہ تھے۔

اسی وقت ایران نے اپنے ملک کو 12 خود مختار فوجی اضلاع میں تقسیم کر دیا۔ یہ 2005 کی بات ہے۔ اس کے بعد سے ایران اسی جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔ اکیس سال سے ایران میزائل بنا رہا ہے، میزائل جمع کر رہا ہے، جنگی صلاحیتیں بڑھا رہا ہے، معلومات جمع کر رہا ہے، منصوبے بنا رہا ہے اور کمزور پہلوؤں کا جائزہ لے رہا ہے۔

اکیس سال کی تیاری کے بعد ایران ایک ایسا جنگی منصوبہ نافذ کر رہا ہے جو دو دہائیوں سے زیادہ عرصے میں تیار کیا گیا ہے۔ وہ اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہیں کسی چیز نے حیران نہیں کیا۔

اسی لیے وہ یہ سب کچھ کر رہے ہیں اور کامیابی سے کر رہے ہیں، کیونکہ انہوں نے اس کی مکمل منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ انہیں امریکہ کی صلاحیتوں کا بھی علم ہے اور اسرائیل کی طاقت کا بھی۔

یاد رکھیں، ایران حزب اللہ کا سب سے بڑا مشیر ہے۔ اس لیے ایران طویل عرصے سے اسرائیلی فضائیہ کے طریقۂ کار کو دیکھ رہا ہے اور اسے بخوبی سمجھتا ہے کہ اسرائیل کس طرح حملہ کرتا ہے اور اس سے کتنا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسی طرح انہیں امریکہ کی طاقت اور اس کی تباہی کی صلاحیت کا بھی اندازہ ہے۔

آخر میں میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ عمارتیں تباہ کرنے سے ایران کی اصل صلاحیت کو نقصان نہیں پہنچ رہا۔ 1990 کی دہائی میں ایک عراقی عہدیدار نے مجھے کہا تھا کہ تم لوگ عمارتیں گرانے میں بہت اچھے ہو، اور ہم لوگ دوبارہ کنکریٹ ڈالنے میں بہت اچھے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ تم خالی عمارتوں پر بمباری کرتے ہو کیونکہ ہم پہلے ہی سب کچھ وہاں سے نکال چکے ہوتے ہیں۔

پھر ہم دوبارہ کنکریٹ ڈالتے ہیں، سامان واپس لے آتے ہیں اور وہ جگہ دوبارہ کام کرنے لگتی ہے۔ اس لیے یہ تصور کہ عمارتیں تباہ کرنے سے ایران کی صلاحیت رک جائے گی، انتہائی غلط ہے۔

اور آخر میں ایک اور بات: علی خامنہ ای وہ واحد وجہ تھے جس کی وجہ سے ایران نے ایٹمی بم نہیں بنایا۔

11/03/2026

سی این این (CNN) کی رپورٹ کے مطابق، روس اب پردے کے پیچھے نہیں رہا بلکہ وہ براہِ راست ایران کو ایسی مخصوص تکنیکی مشاورت (Tactics) دے رہا ہے جس کے ذریعے ڈرونز کو امریکی اور خلیجی ممالک کی دفاعی رکاوٹوں سے بچا کر نشانہ بنایا جا سکے۔

روس کے پاس یوکرین جنگ کا وسیع تجربہ ہے جہاں انہوں نے جدید ترین مغربی دفاعی نظام (جیسے پیٹریاٹ) کو ڈرونز کے ذریعے ناکارہ بنانا سیکھا ہے۔ اب وہی تجربہ وہ ایران کو منتقل کر رہے ہیں۔

یہ ویڈیو مندان پارک کی ہے، جو ایک ایسی جگہ ہے جہاں لوگ عید، یومِ آزادی، مقامی تہواروں یا شادی کی تقریبات کے مواقع پر جمع...
11/03/2026

یہ ویڈیو مندان پارک کی ہے، جو ایک ایسی جگہ ہے جہاں لوگ عید، یومِ آزادی، مقامی تہواروں یا شادی کی تقریبات کے مواقع پر جمع ہوتے ہیں، اس لیے اسے غلط رنگ دینا سراسر پروپیگنڈا ہے۔ ان میں سے بہت سے لڑکے تو صرف اپنے دوستوں کے ساتھ گھومنے آئے ہوتے ہیں اور اچھے کپڑے پہنے ہوتے ہیں۔ لیکن کچھ پشتون مخالف لوگ ان پر بچہ بازی جیسے سنگین الزامات لگا رہے ہیں اور یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بنوں میں کوئی ایسا میلہ لگتا ہے جہاں لڑکے خریدے جاتے ہیں۔ یہ الزامات نہ صرف بے بنیاد ہیں بلکہ پوری پشتون قوم کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔ بغیر کسی ثبوت کے کسی کو سوشل میڈیا پر بدنام کرنا ایک جرم ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ کچھ لوگ صرف اپنی فضول سوشل میڈیا لائکس اور سستی شہرت کے لیے پشتون کمیونٹی کو بدنام کر رہے ہیں۔

پشتون وکلاء کو چاہیے کہ اس کے خلاف قانونی کارروائی کریں اور جو لوگ پشتونوں کو بدنام کر رہے ہیں ان کے خلاف کیس دائر کریں۔ اسی طرح تمام پشتون رہنماؤں کو بھی اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے، کیونکہ ایک مخصوص طبقہ اس پروپیگنڈے کے ذریعے نہ صرف پشتونوں بلکہ ضلع بنوں کو بھی بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

Address

Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Voice of Peshawar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share