19/03/2026
امریکی انٹیلی جنس کا یہ دعویٰ کہ پاکستان ICBM (بین البراعظمی بیلسٹک میزائل) کی صلاحیت کی طرف بڑھ رہا ہے، اس بات کا اعتراف ہے کہ پاکستان کی ٹیکنالوجی اب 5,500 کلومیٹر سے زائد فاصلے تک مار کرنے کی دہلیز پر کھڑی ہے۔یہ ایک نئے عالمی توازن کی جھلک ہے، روس، چین، ایران اور شمالی کوریا وہ ممالک ہیں جو امریکی اثر و رسوخ کو براہِ راست چیلنج کر رہے ہیں،اس فہرست میں پاکستان کا نام شامل ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ اب پاکستان کو محض ایک "سیکیورٹی پارٹنر" کے بجائے ایک ایسے بلاک کے قریب دیکھ رہا ہےجو مغرب کے لیے دفاعی خطرہ بن سکتا ہے،یہ بیان محض ایک فوجی رپورٹ نہیں بلکہ عالمی صف بندیوں میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے، دہائیوں تک پاکستان کے میزائل پروگرام کو صرف "علاقائی" یعنی بھارت کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا ہے، لیکن اسے روس اور چین جیسے عالمی حریفوں کے ساتھ ایک ہی فہرست میں
رکھنا Strategicلحاظ سے بہت معنی خیز ہے
اس رپورٹ میں پاکستان کے حوالے سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ اسلام آباد مبینہ طور پر ایسے بین البراعظمی میزائل تیار کر رہا ہے جو براہ راست امریکی سرزمین کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔