Daily AAJ

Daily AAJ For detailed news, features and latest articles visit dailyaaj.com.pk

29/10/2021

ظلم حد سے گزرتا رہا
اشک فریاد کرتا رہا

جناب عبدلواحد یوسفی (مرحوم) میرے والد بزرگوار۔ بانی  #روزنامہ  #آججن کی آج دوسری برسی ہے۔  آپکے ساتھ ہی آپکی ناموس کا بھ...
17/10/2021

جناب عبدلواحد یوسفی (مرحوم) میرے والد بزرگوار۔
بانی #روزنامہ #آج
جن کی آج دوسری برسی ہے۔

آپکے ساتھ ہی آپکی ناموس کا بھی جنازہ پڑھ دیا گیا تھا۔

آپ کے بعد آپکے کہے کسی لفظ کی لاج نا رہی
آپکا کوئی بھی وعدہ وفا نا ہوا
آپکا ایک بھی دعوی درست ثابت نہیں ہوسکا۔
اور آپکی کی تمام پیشنگوئیاں بھی فقط دیوانے کی بڑ نکلیں۔

افسوس ہے کہ آپکی عمر بھر کی کمائی۔۔۔ آپکی نیک نامی، بھی آپکے جسد خاکی کے ساتھ ہی دفن کر دی گئی۔

آج آپ کی سمجھداری، معاملہ فہمی، مردم شناسی و دور اندیشی پر بھی ہمالیہ جتنے بڑے سوالیہ نشان کھڑے ہو چکے ہیں۔

جن سانپ اور بچھوؤں کو آپ تمام عمر اپنی آستینوں میں پالتے رہے، آج آپ دیکھ سکتے تو دیکھتے کہ وہی سنپولئے اپنی نوکریاں بچانے کی سازشوں میں کمینگی کی تمام حدیں عبور کر گئے۔
وہ جن کی اپنی اوقات آپ کی قدموں میں بیٹھنے کی بھی نہ تھی انہیں آپ کے نام لیواؤں نے اپنا مختار کُل بنا رکھا ہے.

آپ تک میری آواز پہنچے تو سُن لیجئے کہ اپنا حق لینے اورمظلوم کاساتھ دینے کی اگر مجھ میں ہمت نہیں تو میرا وجود زندگی کےگندے نالےمیں تیرتی لاش کےسوا کچھ بھی نہیں۔

سانپوں اور بچھوؤں کا تو پہلے بھی مقابلہ کیا ہے مگر اس بار ان کو معاف کرنے کا ارادہ چھوڑ چکا۔
چاہے جتنی بھی دیر لگے جب تک سانسیں ہیں اس بار انشاللہ سنپولیوں کے سرانکے پھن سمیت کاٹ ڈالنےکا پختہ عزم کررکھا ہے۔

علی یوسفزئی۔۔

روزنامہ آج کا پریس کارڈ رکھنے والا شخص چرس سمگل کرتے پکڑا گیا۔ موجودہ انتظامیہ روزنامہ آج اور سمگلروں کا گٹھ۔جوڑ جرائم پ...
02/10/2021

روزنامہ آج کا پریس کارڈ رکھنے والا شخص چرس سمگل کرتے پکڑا گیا۔
موجودہ انتظامیہ روزنامہ آج اور سمگلروں کا گٹھ۔جوڑ جرائم پیشہ عناصر کو پریس کارڈ جاری کر رکھے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق تھانہ رسالپور پولیس نے گزشتہ روز سمگلنگ کی اطلاع پر خیرآباد پل پر ناکہ بندی کے دوران ایک موٹر سائیکل سوار جس نے روزنامہ آج کی نمبر پلیٹ لگا رکھی تھی کو روکا۔ دوران تفتیش محمد یونس ولد عثمان غنی سکنہ بہاولنگر پنجاب سے تعلق رکھنے والے شخص کی موٹر سائیکل سے ڈیڑھ کلو چرس برآمد ہوئی۔ ابتدائی تفتیش میں محمد یونس نے خود کو روزنامہ آج کا خصوصی نمائندہ بتایا اور روزنامہ آج سے جاری شدہ پریس کارڈ بھی پیش کیا۔
اطلاعات کے مطابق رابطہ کرنے پر پولیس کو روزنامہ آج کی جانب سے ملزم کو وارننگ وغیرہ دیکر چھوڑ دینے کی سفارش کی گئی۔ جب پولیس کی جانب سے ملز م سے چرس برآمدگی کا بتایا گیا تو روزنامہ آج کی انتظامیہ کا رویہ بدل گیا اور اس شخص سے روزنامہ آج انتظامیہ نے لا تعلقی کا اظہار کیا۔

اطلاعات کے مطابق بہاولنگر پنجاب سے تعلق رکھنے والا شخص محمد یونس پشاور شہر کے مشہور حاجی کیمپ کے قریب حالیہ مقیم ہے جہاں وہ ایک ہوٹل میں باورچی کا کام کرتا ہے۔ مذکورہ ہوٹل میں روزنامہ آج کو افرادی قوت مہیا کرنے والے ادارے اے بی سلوشنز کے اہلکاروں کا باقاعدگی سے آنا جانا ہے جس کے باعث ان افراد کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ اے بی سلوشنز کا پروپرائٹر عدنان ظفر ولد شمیم اختر نامی شخص ہے جو ان جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی میں ملوث ہے۔

مبینہ طور پر روزنامہ آج کی انتظامیہ نے ملزم محمد یونس کو زبان بندی پر اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی جس پر ملزم نے ایف آئی آر میں خود ہی جعلی پریس کارڈ بنوانے کا اعتراف کیا اور بدلے میں روزنامہ آج کی انتظامیہ کی جانب سے ملزم محمد یونس پر جعلی پریس کارڈ رکھنے، نمبر پلیٹ پر بلا اجازت آج کا لوگو استعمال کرنے اور خود کو صحافی کہنے پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کروائی گئی۔

بنام نگہت شاہین، روزنامہ آج عنوان: کھلا خط نمبر ۱۔ ہر دور میں ایک ایسا وقت آتا ہے جب باطل، حق نما دکھتا ہے جب بَدی اپنی ...
19/09/2021

بنام نگہت شاہین،

روزنامہ آج

عنوان: کھلا خط نمبر ۱۔

ہر دور میں ایک ایسا وقت آتا ہے جب باطل، حق نما دکھتا ہے جب بَدی اپنی بدصورتی پر جھوٹے نقاب چڑھا کر خود کو خیر ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے اور جب برائی خود کو نیکی کے طور پیش کرتی ہے۔
مگر تاریخ کے بے رحم قلم کے آگے کسی بھی ظالم شخص کی نا چل سکی۔ باطل کو ہمیشہ باطل ہی لکھا گیا۔

محترمہ نگہت شاہین صاحبہ آپ نے بھی اپنے چہرے پر نیکی اور اچھائی کے جھوٹے نقاب اوڑھ رکھے ہیں جن کے اتر آنے میں اب بہت کم دنوں کا وقت رہ گیا ہے۔

کہتے ہیں کہ جھوٹ بولنے والا بھی خوب جانتا ہے کہ وہ جھوٹا ہے اور یہ بھی کہ اس کے متواتر بولنے سے بھی جھوٹ کبھی سچ نہیں بن جاتا۔
آپ بھی جانتی ہیں کہ جو موقف آپ نے ڈیلی آج کے اثاثہ جات اور وسائل پر ناجائز قبضہ برقرار رکھنے کے لئیے اپنا رکھا ہے وہ فقط جھوٹ کی بیساکھی کے سہارے کھڑا تھا اور اب اس بیساکھی میں دراڑیں پڑ چکیں ہیں۔ جبکہ دوسری جانب میرا موقف پہلے روز سے بالکل واضح رہا اور آج تک درست اور سچ ثابت ہوا ہے۔بہت ہی قریب ہے وہ وقت بھی جب آپ کے ہاتھ سوائے رسوائی اور پچھتاوے کے کچھ نہیں رہ جانے والا۔

محترمہ آپ کی بدقسمتی ہوئی کہ آپ نے اپنے شوہر کے مرض الموت میں مبتلا ہوتے ہی اپنے لالچ سے مجبور ہو کر محلاتی سازشوں کا آغاز کر دیا تھا اور مرحوم یوسفی صاحب کے انتقال کے ساتھ ہی نا مِحرم مردوں کیساتھ مِل کر میرے خلاف وہ جنگ شروع کردی جو آپ کبھی جیت ہی نہیں سکتیں تھیں۔ نا ہی اخلاقی اعتبار سے اور نا ہی اصولی طور پر اور قانونی طور پر تو قطعی نہیں۔
میری خاموشی کو میری کمزوری سمجھا گیا اور میری مصالحتی کوششوں کو میری مجبوری۔ ہائے افسوس کہ اب اسی چند کنال کی زمین کے لئیے اپنی بقیہ زندگی آہنی سلاخوں کے پیچھے گذارنے والی ہیں جس کے لئے اپنے شوہر سے بیوفائی کی مرتکب ہوئیں اپنی سگی اولاد کے حقوق مارے اور اپنے پوتی پوتوں کے حال پر بھی رحم نا کیا اور جن غیروں کے لئیے اپنی رسوائی کا سبب بنی ہو وہی آپ کو چھوڑ کر جانے والے ہیں۔ پشاور اور صوبہ خیبر کی تاریخ میں لکھا جائگا کہ کیسے آپ نے خود اپنے خاندان کو اپنے لالچ اور ناجائز خواہشات کے بھینٹ چڑھا دیا ۔
محترمہ نگہت شاہین صاحبہ روزنامہ آج کو جعلسازی سے ہتھیانے کی جو سازش آپ نے تیار کی تھی اس کا بھانڈا نا صرف پھوٹ چکا ہے بلکہ یہ ثابت ہو چکا کہ آپ ہر طرح کی جعلسازی اور بد دیانتی کی مرتکب ہوئیں ہیں اور قانونی طور پر آپ کے جرائم کی فہرست میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ جبکہ دوسری طرف آپ کی رسوائی اور جگ ہنسائی کا چرچہ بھی چہار دانگ پھیل چکا۔

چکنی چپڑی باتوں والے خوشامدی ہمیشہ آپ کی کمزوری رہے اور اب یہی چکنی چپڑیوں والوں کا ٹولہ آپ کو بری طرح پھنسا بیٹھا ہے۔وہ کہ جن کا جھوٹ اور نیت مرحوم یوسفی صاحب کی زندگی کے آخری دنوں میں ہی آشکار ہو چکا تھا اور جنہیں خود یوسفی صاحب آپ کے شوہر مرحوم نے دوغلا قرار دیا انہی کو آپ نے اپنا ساتھی بنالیا۔ اور جو میٹھی باتیں کرنے والے مددگار جو آپ نے پہرہ پر بٹھا رکھے ہیں تو وہ تو خود اپنے دانت تیز کئے بیٹھے ہیں۔ اگر آپکا یہ خیال ہے کہ یہ آپکے تحفظ کے لئیے بیٹھے ہوئے ہیں تو اپنی اس خام خیالی سے نکل آئیے۔ اگر آپکو پتہ ہو کہ وہ کیسے آپ کو مال غنیمت سمجھ کر اپنی نظریں گاڑے بیٹھے ہیں تو آپ کبھی بھی چین سے نا بیٹھیں۔ گھس بیٹھیوں کے اپنے عزائم چارہ گری سے موافق تھے ہی نہیں اور آپ نے انہیں اپنے فیصلوں کا اختیار دے دیا۔
یہ تو بس تندور گرم دیکھ اپنے پیڑے لئیے روٹیاں لگانے والے ہیں اور ان میں ایک بھی آپکا خیر خواہ نہیں۔ جن پر آپ کا تکیہ ہے ان پتوں کے ہوا دینے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔

یہ بات بھی ذہن سے نکال دیجئے کہ اس ملک میں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ آپکو مظلوم سمجھ کر ہمدردی کرنے والے مٹھی بھر لوگ بھی آج میری صل حقائق سامنے لانے کی مسلسل کوششوں سےاب آپ پر انگلیاں اٹھانے لگے ہیں اور آئے دن ایسے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو آپ کی اصلیت جاننے کے بعد آپ کو ہی قانونی طور پر مجرم گردانتے ہیں۔
بڑے سے بڑا پھنے خان مجرم بھی ایک دن قانون کی گرفت میں آ ہی جاتا ہے لہذا اگر آپ یہ سمجھتی ہیں کہ آپ کے گرد اکھٹے یہ ہکلے کھوٹے سکے آپ کو بچا لیں گے تو میری یہ بات یاد رکھیں یہ فقط آپ کی خام خیالی کے سوا کچھ بھی نہیں۔

ڈیلی آج کو ناجائز طور پر ہڑپنے کی کسی فرد کی ناجائز خواہش و تمنا پر ایک مکمل ادارہ غیر قانونی طور طریقوں سےختم نہیں ہو سکتا۔ یہ جان لیں کہ آج نہیں تو کل دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو ہی جانا ہے آپ مگر یہ فکر ضرور کریں کہ روزنامہ آج کی ڈیکلیریشن کو ناجائز دستاویزات اور جعلی تعلیمی اسناد کے بل پر ہتھیانے کی سازش کے فاش ہونے بعد اب آپ کے پاس خود کو قانون کی گرفت سے بچانے کا کیا رستہ رہ گیا ہے ؟ آپ نے شاید یہ بھی نہیں سوچا ہے کہ آپ کے پاس زندگی کی مہلت کتنی باقی ہے جو سامان سو برس کا جمع کرتی ہو جبکہ اپنے بچوں کا اپنے پوتی پوتوں کا حق مارتی ہو ؟ کیا آپکو بھی لگتا ہے آپ کو موت نہیں آنی ؟

کیا اس دن کا تمہیں خوف نہیں جب روز محشر تمہاری عبادتیں تمہارے منہ پر دے ماری جائینگی۔

آپ کے خلاف ناقابل تردید ثبوت اکھٹے ہو چکے ہیں جو سب کی سب پاکستان بھر کے تمام میڈیا و سوشل میڈیا کو جاری کی جائینگی تاکہ دنیا کے سامنے آپکا اصل چہرہ اور جرائم کو لایا جا سکے۔ انشاللہ بہت جلد آپ سے عدالت کے کٹہرے میں ملاقات ہوگی۔

علی یوسفزئی۔

     ۔   ‏  مہربان و  قدر دانخواتین و حضرات ڈیلی آج کا یہ فیسبُک پیج کہیں غائب ہوا ہے نا ہی نگاہیں اپنے ہدف سے ہٹی ہیں۔ ...
18/09/2021


۔


مہربان و قدر دان
خواتین و حضرات

ڈیلی آج کا یہ فیسبُک پیج کہیں غائب ہوا ہے نا ہی نگاہیں اپنے ہدف سے ہٹی ہیں۔
اِک بڑی تیاری کے بعد اب دوبارہ کرنے والے ہیں آغاز۔
حق و باطل کی اس جنگ کا ایک بڑا معرکہ تو سر ہوچکا
اب
جھوٹوں کو بے نقاب کرنے
ان کی اصلیت کو آشکار کرنے اور
بدی کو عریاں کرنے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔
کیا بڑے چور اور ان کے ساتھی بہروپئے، گماشتے، سہولت کار و اعانت کار تیار ہیں ؟

منجانب
علی یوسفزئی۔

ملک کی عدالتی تاریخ میں پہلی مرتبہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) ایک خاتون جج کو سپریم کورٹ میں ترقی دینے جارہا ہے...
13/08/2021

ملک کی عدالتی تاریخ میں پہلی مرتبہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) ایک خاتون جج کو سپریم کورٹ میں ترقی دینے جارہا ہے۔

جسٹس عائشہ اے ملک لاہور ہائی کورٹ کی سینیارٹی لسٹ میں چوتھے نمبر پر ہیں جنہیں اگر سپریم کورٹ میں ترقی دے دی گئی تو وہ مارچ 2031 تک سپریم کورٹ کی جج رہیں گی۔
اس وقت سپریم کورٹ میں 17 مقررہ ججز کی تعداد پوری ہے اور جسٹس عائشہ ملک 17 اگست کو جسٹس مشیر عالم کی ریٹائرمنٹ سے خالی ہونے والی اسامی پُر کریں گی۔

   #اخپلوزیراعلی  #حکومتپختونخوادیکھے مری نگاہ سے یہ ساری کائنات ہستی کی آنکھ ہوں میں فقط آدمی نہیں ہوں۔ گزشتہ روز سائبر...
12/08/2021



#اخپلوزیراعلی #حکومتپختونخوا

دیکھے مری نگاہ سے یہ ساری کائنات
ہستی کی آنکھ ہوں میں فقط آدمی نہیں ہوں۔

گزشتہ روز سائبر کرائمز رپورٹنگ سینٹر پشاور میں گرم ترین موضوع ( ہاٹ ٹاپک) رہا۔
افسر مجاز (آئی او) ایک نیک نام نوجوان افسر ہیں پر کے حوالے سے نہایت مخمصے کا شکار معلوم ہوئے۔اطلاعات کے مطابق ابھی تک میرے خلاف اصل شکایت کنندہ مسماۃ نگہت شاہین سے اس باصلاحیت نوجوان آئی او کی ملاقات ہی نہیں ہوئی۔

روزنامہ آج کی خود ساختہ پبلشر اور پرنٹر مسماۃ نگہت شاہین نے اپنے گرد قانون کا گھیرا تنگ ہوتے دیکھ کر بطور اِک نیا (اور ممکنہ طور پر آخری)حربہ، میرے خلاف مورخہ 19/05/2021 کو وفاقی تحقیقاتی ادارے کے دو مختلف دفاتر میں شکایت درج کرکے استعمال کر لیا ہے۔ میری گزشتہ روز کی پشاور سائبر کرائمز آمد اسی سلسلے میں رہی۔

کہتے ہیں کہ بیوقوف بندر کے ہاتھ میں استرا لگا تو اپنا ہی ٹبر لہولہان کر لیا۔ گزشتہ سال بھی مجھ پر دیگر رشتہ داروں سمیت جھوٹی ایف آریں دیں گئیں تھیں۔ یہ شکایات بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ ان کا مقصد فقط اتنا ہے کہ ہم اپنا جائز حق چھوڑ کر ان کی جعلسازیوں پر جاری تحقیقات سے دستبردار ہو جائیں۔

تب بھی اسی طرح اخبار کی طاقت کے نشے میں مست ہو کے یکے بعد دیگرے مجھ پر دیگر رشتہ داروں سمیت چوری اور ڈکیتی کی جھوٹی ایف آئی آریں دیں گئیں اور تو اور اپنی دونوں بہوؤں اور اپنے پوتوں تک کو نا بخشا ہر طرح کے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس بار مسماۃ نگہت شاہین کے ہاتھ استرے کیساتھ ماچس اور مٹی کا تیل بھی لگ گیا ہے جبھی اس کے شر سے کوئی بھی محفوظ نہیں۔

بہرحال اب اگر کوئی متعلقہ قوانین کو گہرائی سے سمجھنے والے وکیل دوست اس گروپ میں موجود ہیں تو ان باکس میں رابطہ کر کے میری ایک الجھن دور کر دیں کہ کیا پاکستانی سائبر کرائمز قوانین کی رُو سے کوئی تفتیشی افسر، اصل شکایت کنندہ، جو کم از کم عمر کے اندازے سے ہی سہی عاقل و بالغ مانا جاسکتا ہو کو دیکھے سنے بغیر ہی ملزم کو اپنی صفائی پیش کرنے اور اپنا بیان جمع کرانے کا پابند کر سکتا ہے ؟ بالخصوص جب شکایت کے اندراج اور ملزم کو نوٹس جاری کرنے کے درمیان دو ماہ کا طویل وقفہ بھی ثابت ہوتا ہو۔

اس پوسٹ کے ذریعے اگر پہنچ سکے تو میں جناب آئی او صاحب سے گذارش کرتا ہوں کہ جناب عالی جب تک میں الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے حوالے سے بنائے گئے قوانین کا بغور مطالعہ کرتا ہوں آپ اصل شکایت کنندہ کو پیش ہونے کا ثمن تو کردیں۔

Cyber Crime Wing - FIA
Daily AAJ

05/08/2021
     ۔     "اور بے شک اللہ بہترین چال چلنے والا ہے"ہماری گزشتہ پوسٹ نے جعلسازوں اور ان کے سہولت کاروں کی نیندیں اڑا کر ر...
05/08/2021


۔


"اور بے شک اللہ بہترین چال چلنے والا ہے"

ہماری گزشتہ پوسٹ نے جعلسازوں اور ان کے سہولت کاروں کی نیندیں اڑا کر رکھ دیں ہیں۔ ہمارا پیغام اللہ کے حکم اور آپ تمام خواتین و حضرات کے تعاون سے کہ جنہوں نے پوسٹ کو اہم سمجھتے ہوئے لائک اور شئیر کیا ہر اس جگہ تک پہنچ رہا ہے جہاں اسے پہنچنا چاہئے۔

اطلاعات کے مطابق پیروں تلے زمین ہلتی محسوس کرتے ہوئے عملیات اور جھاڑ پھونک کا عمل شروع کرادیا گیا ہے۔

مگر اللہ کی نصرت و تائید ہمارے ساتھ ہے۔

نوشتہ دیوار لکھ دیا گیا۔

روزنامہ آج کی ملکیت ہتھیانے کے لئے اب تک سامنے آنے والے حقائق کے مطابق ایسے ایسے سنگین جرائم کا سراغ لگایا گیا ہے کہ عقل دنگ رہ جائے۔ یقین نہیں آتا کہ انسان کا لالچ اسے کس حد تک گرا سکتا ہے۔

قارئین اور تمام خیرخواہوں کو وعید ہو کہ ہم اپنے مقصد کے نہایت قریب پہنچ چکے ہیں۔

میر تقی میر سے معذرت کیساتھ

کسی کا “اندر” جانا ٹہر چکا صبح گیا یا شام گیا۔

علی یوسفزئی۔

     ۔    دوستو پچھلے کچھ عرصہ سے میں نے ڈیلی آج کے نام سے موجود اس پییج پر ایک تحریک شروع کر رکھی ہےمیری اس تحریک کا مق...
31/07/2021


۔

دوستو پچھلے کچھ عرصہ سے میں نے ڈیلی آج کے نام سے موجود اس پییج پر ایک تحریک شروع کر رکھی ہےمیری اس تحریک کا مقصد صوبہ خیبر پختونخواہ کے ایک بڑے اخبار روزنامہ آج پر تسلط جمائے نا جائز قابضین اور ان کے دیگر ساتھیوں کے غیر قانونی عزائم کے خلاف آواز اٹھانا ہے۔
روزنامہ آج کی موجودہ نا اہل اور نالائق انتظامیہ ایسے ہاتھوں میں جا چکی ہے جو کارکن صحافی کو اپنازرخرید ذاتی ملازم سمجھتے اور مانتے ہیں۔ اس انتظامیہ کیساتھ میرے اختلافات کی بنیادی وجہ ہی یہ رہی کہ سابقہ ایڈیٹر کے بعد اس ادارے کو ایسے غیر صحافی عناصر سے پاک کیا جائے جن کا مقصد ہمیشہ اپنی ذاتی مفادات کی صحافت رہا۔
ایسے عناصر کی بجائے اعلی اقدار کی صحافت کے علمبردار پروفیشنل اور تجربہ کار افراد کو آگے لایا جائے یہی میرا مطالبہ تھا۔
بد قسمتی سے روزنامہ آج کے سابقہ ایڈیٹر کے انتقال کے بعد
انہی عناصرنے اپنا منطقی انجام دیکھتے ہوئے نا تجربہ کار اور انپڑھ خواتین کو اپنی چکنی چپڑی باتوں میں پھسلا کر ایسا ورغلایا کہ کسی کو بھی تصویر کا اصل رُخ یاد ہی نا رہا۔ ایسا ماحول پیدا کر دیا گیا کہ جس میں خونی رشتوں کا خون بھی سفید ہو گیا۔

میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ میرے ذاتی حقوق کی جنگ نہیں بلکہ اصولی اختلاف ہے اور میں کسی صورت بھی انتہائی محنت سے کھڑے کیے گئے اس ادارے کو نا تجربہ کار، انپڑھ اور غیر مستحق افراد کے حوالے کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ اس پر میرا مؤقف دو ٹوک اور واضح ہے۔

موجودہ حالات بھی ہمارے مخالفین کے خلاف جس قدر تیزی سےبدل رہے ہیں اس کو سمجھتے ہوئے اگر بہت جلد معاملات کو سیدھا کرنے کی کوشش نا کی گئی تو اس ظالم اور لالچی ٹولہ کو اپنے منطقی انجام کو پہنچنے میں دیر نہیں لگے گی۔

تب تک میں بار بار یاد دہانیاں کراتا رہونگا کہ استحصالی ٹولے کی من مانیاں اور ناجائز دھونس مزید زیادہ دیر نہیں چلنے والی۔ علی یوسفزئی

Mahmood Khan
خپل وزیر اعلی شکایات سیل رسائی 1800
Directorate General Information & PRs, KP
Provincial Assembly Of KP
Civil Secretariat KP Peshawar

پشاور کے کارخانو مارکیٹ کے قریب ہونے والے دھماکے میں ایک پولیس اہلکار شہید جبکہ راہگیر زخمی ہوگیا۔پولیس نے ابتدائی طور پ...
30/07/2021

پشاور کے کارخانو مارکیٹ کے قریب ہونے والے دھماکے میں ایک پولیس اہلکار شہید جبکہ راہگیر زخمی ہوگیا۔
پولیس نے ابتدائی طور پر بیان میں کہا ہے کہ کورونا وائرس کی ایس او پیز کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی کے دوران نامعلوم افراد پولیس موبائل پر دستی بم پھینک کر فرار ہوگئے۔
تاہم سی سی پی او پشاور عباس احسن نے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے جائے وقوع کا دورہ کرنے کے وضاحت دی کہ پولیس موبائل معمول کے گشت پر تھی جب اسے نشانہ بنایا گیا۔
سی سی پی او کے مطابق ہلاک ہونے والے پولیس اہلکار کی شناخت پولیس ٹیم انچارج ابن امین کے نام سے ہوئی ہے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے چیئرمین اسد عمر نے خبردار کیا ہے کہ تمام شعبہ...
29/07/2021

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے چیئرمین اسد عمر نے خبردار کیا ہے کہ تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد 31 اگست سے قبل ویکسینیشن کرالیں بصورت دیگر انہیں کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اسلام آباد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے ساتھ پریس کانفرنس میں اسد عمر نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں کام کرنے والے افراد اور 18 سال یا اس سے زائد عمر کے طلبہ کے لیے 31 اگست تک ویکسینیش کرانا لازمی ہے۔

Address

Peshawar
25000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Daily AAJ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Daily AAJ:

Share