22/06/2026
علاقہ اڅھریتی اسکولیمی استاذانومی دپارہ پالولا آک نظم پیش خدمت ہینو۔
1:بیڈہ محنتی ہینہ اسی اسکولیمی استاذان۔۔
مستقبل سمیاٹہ نی، اسی قومی معماران۔۔۔
داخل اسکولیم تھانہ اسی لھوکہ لھوکہ معصومان ۔۔۔۔۔
بیڈہ رحمدل ہینہ سبق منوئینی ماہران۔۔۔
بیڈہ محنتی ہینہ اسی اسکولیمی استاذان۔۔۔
اردو ترجمہ:-
ہمارے سکولوں کے تمام اساتذہ کرام انتہائی محنتی ہیں۔جو کہ ہمارے بچوں کے مستقبل کو روشن بنانے کے ساتھ ساتھ پوری قوم کی تعمیر نو کرتے ہیں۔ابتدائی مراحل میں ہمارے ننھے منھے بچوں کو پیار اور محبت سے سکولوں میں داخل کراتے ہیں۔اوران کیساتھ رحمدلی کیساتھ محنت بھی کرتے ہیں۔اور تمام مضامین پڑھانےکے ماہر ہیں۔
2:اخلیقی سبق بی دین شاگردانوم تھے محبت بی دین۔۔۔
ذندگی کردار بی دین انسانیتی تربیت بی دین۔۔۔۔
روزانہ نصیحتیم سنگی لھوکم تھے شفقت بی دین۔۔۔
عمل تھے سمجانہ تھے کوتہ گاڈہ سائنسدانان کو بہ گاڈہ ڈاکٹران۔
بیڈہ محنتی ہینہ اسی نی اسکولیمی استاذان۔۔۔۔۔
ترجمہ:- ہمیں اس بات پر خوشی ہے کہ ہمارے سکولوں کے اساتذہ اپنے طلبہ کو انتہائی محبت اور بااخلاق انداز میں سبق سکھاتے ہیں۔جینے کاسلیقہ اور ایک اچھا انسان بننے کی تربیت بھی سکھاتے ہیں۔وہ روزمرہ کی بنیاد پر قیمتی نصائح کرتے ہیں اور ان پر شفقت کرتے ہیں ۔جن پر عمل پیرا ہوکر وہ طلباء پھر سائنسدان اور ماہر ڈاکٹر بن جاتے ہیں۔
3:کال کالی تعداد بی زیاد،تی سنگی محنت بی زیاد۔۔۔
کݨاکوم سنگی شفقت بی زیاد تھے تُوسی عزت بی زیاد۔۔۔۔
تعلیم حاصل تھئنی شوق بی زیاد تھے ہرآکی حرکت بی زیاد۔۔۔
توسی یے ہاتم پیدو بھانہ آخر گاڈہ بادشاہان۔۔۔۔۔۔
بیڈہ محنتی ہینہ اسی اسکولیمی استاذان۔۔۔
ترجمہ:- سکولوں میں عموماًسالانہ حساب سے طلباء کے تعداد زیادہ ہوتی جاتی ہے لیکن اساتذہ کی محبت میں کوئی کمی نہیں آتی وہ برابر سب کے ساتھ پیار محبت رکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں اساتذہ کرام کی عزت کی جاتی ہے۔ان کی محبت دیکھ کر طلباء میں سیکھنے کی شوق مزید بڑھتی ہے اور وہ حرکت میں آجاتے ہیں۔ یہی محنت ان کو یہاں تک کہ بادشاہ بھی بنا دیتی ہے۔
4:-گہ بی خدمت بِھلی ہنتہ بے بی تعبدار ہینہ۔۔۔
دیس خو گھرے دیس ہینو روتہ بی بیدار ہینہ۔۔۔
توس اسام تھے حکم دوئی بے بوٹھے تیار ہینہ۔۔
اسام تھے آج بی فخر ہینو کی بے بی تُسی شاگردان۔۔۔
بیڈہ محنتی ہینہ اسی اسکولیمی استاذان۔۔۔
ترجمہ:- اس میں شاعر اپنے اساتذہ کرام سے مخاطب ہوکر کہتا ہے کہ میری حثیت کے مطابق جو بھی جب بھی کوئی خدمت ہوئی تو میں نہ صرف خوشی سے بلکہ فخر سے تعبدار ہوں۔کہتا ہے کہ دن تو پھر بھی دن ہے راتوں کو بھی ہم بیدار اورتیار ہیں صرف ہمیں آپ کے حکم کا انتظار رہیگا۔ کیونکہ ہم آپ کے ہاتھوں پلے بڑھے ہیں اور ہمیں اس بات پر بھی فخر ہے کہ ہم آپ جیسے محنتی اور شفیق اساتذہ کے شاگرد ہیں۔
5:-امید ہینی اللہ دی نی ملاو بھی بیڈو رال مقام۔۔۔
تُسی لہ خِدمتی وجئی نیک بھی تسی انجام۔۔۔
ہر آک شاگردہ سنگی ہینو نرم تُسی کلام۔۔۔
کسے دی تُسیم سمولہ بیڈہ گاڈہ بزرگان۔۔۔
بیڈہ محنتی ہینہ اسی انی اسکولیمی استاذان۔۔۔
ترجمہ :-اس میں شاعر نے اپنے علاقے کے سکولوں کے تمام اساتذہ کےلیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے کہتا ہے کہمیری اللہ سے پوری امید ہےکہ اللہ پاک آپ تمام اساتذہ کو اونچا مقام عطا فرمائے گا جو خدمات آپ سر انجام دے رہے ہیں۔اسی وجہ سے آپ سب کا انجام یعنی اخروی زندگی بھی نیک ہی ہوگی اورآپ ہمیشہ کامیاب رہینگے۔کیونکہ اپنے ہر شاگرد کے ساتھ آپ کا رویہ انتہائی نرم ہے۔ اسی رویے کو زیر استعمال لاکر آپ نے کسی کو متقی اور پرہیزگار بنا دیے۔لہذا وہ آپ کےلیے صدقہ جاریہ بنیں گے۔اور آپکا دیا ہوا علم منتقل ہوتا رہیگا۔
بقلم خود۔عبدالقہار بسمل۔
وسلام
نوٹ:- تمام دڇھاٹہ اور مناٹہ بھراووم تھے عرض انی کی غلطی کمی یا کوتاہی نشاندہی اور اصلاح تھے بہ شکرگزاری موقع دوئی۔شکریہ