Educated Lofar

Educated Lofar Tourist All the World ����

عربوں کی ایک عادت رہی ہے، جب ان کے گھوڑے زیادہ ہو جاتے اور ان کی نسلوں کی پہچان ممکن نہ رہ پاتی تو سبھی گھوڑوں کو کسی ای...
19/02/2026

عربوں کی ایک عادت رہی ہے، جب ان کے گھوڑے زیادہ ہو جاتے اور ان کی نسلوں کی پہچان ممکن نہ رہ پاتی تو سبھی گھوڑوں کو کسی ایک مقام پر جمع کر لیتے پھر کھانا پینا بند کر دیتے اور شدید قسم کی مارپیٹ کرتے۔
مار پیٹ کے بعد پھر گھوڑوں کے لئے کھانا پینا لاتے، تب گھوڑے دو مجموعوں میں بٹ جاتے تھے۔
کچھ گھوڑے تو فوراً دوڑتے کھانے کی طرف، انہیں کچھ فرق نہیں پڑتا تھا کہ کھلا کون رہا ہے اور دوسرے ہوتے نسلی گھوڑے، جو ان ہاتھوں سے کھانا کھانے سے انکار کر دیتے تھے جن ہاتھوں نے مار پیٹ کر کے ان کی توہین کی تھی۔
ہمارے معاشرے کو بھی اسی صورت حال کا سامنا ہے اور بدقسمتی سے بدنسلوں کی تعداد ہمارے معاشرے میں زیادہ ہونے سے ہمارے معاشرے کی ایک کثیر تعداد ان کم ظرف اور بد نسلوں کی وجہ سے یرغمال بنی ہوئی ہے۔

 😆😁بی ایل اے کے پیچھے بھارت ہے ، ٹی ٹی پی کے پیچھے افغانستان ہے ، افغانستان کے پیچھے بھارت ہے، بھارت کے پیچھے اسرائیل ہے...
07/02/2026

😆😁
بی ایل اے کے پیچھے بھارت ہے ، ٹی ٹی پی کے پیچھے افغانستان ہے ، افغانستان کے پیچھے بھارت ہے، بھارت کے پیچھے اسرائیل ہے، اسرائیل کے پیچھے امریکہ ہے ، امریکہ اور پاکستان دونوں ایک دوسرے کے آگے پیچھے ہیں۔

بہت سخت کنفیوژن ہے دماغ خراب ہوا پڑا ہے کچھ سمجھ نہیں آرہا یا اللہ مجھے سمجھ دے یہ ہو کیا رہا ہے کچھ سمجھ نہیں آ رہا🤦🐧

دوسلي تحصیل کې دا وخت د موسکي اسدخېل او جمل‌خېل قومونو خلکو د نظر ګل د شهادت پر ضد د قلعه مخې ته پرلت پیل کړی دی خو بارا...
02/02/2026

دوسلي تحصیل کې دا وخت د موسکي اسدخېل او جمل‌خېل قومونو خلکو د نظر ګل د شهادت پر ضد د قلعه مخې ته پرلت پیل کړی دی خو باران لۀ وجې خلک سره ګډ وډ شول اوس ده نورو کليو خلک په ګڼ شمېر خلک راغلل

سیمه کې خلک په لوی شمېر راټول شوي دي او د انصاف غوښتنه کوي. مظاهره کوونکي وايي چې د نظر ګل شهادت یوه ډېره دردناکه پېښه ده او تر څو چې پوره او روڼ انصاف نه وي شوی، دوی به خپل احتجاج ته دوام ورکوي
د پرلت ګډونوال وایي چې دا احتجاج د یو کس لپاره نه، بلکې د ټولې سیمې د امن عدالت او حقونو لپاره دی. هغوی له اړوندو ادارو غواړي چې د دې پېښې بشپړه او شفافه پلټنه وکړي او مسؤل کسان د قانون منګولو ته وسپاري
خلک ټینګار کوي چې دا پرلت به سوله‌ییز وي، خو تر هغو به روان وي چې غوښتنو ته یې مثبت ځواب ونه ویل شي. سیمه کې فضا درنه ده او خلک د نظر ګل د کورنۍ سره د خواخوږۍ څرګندونه کوي

02/02/2026
پنجاب حکومت کی طرف سے مریم اورنگزیب اور عظمی بخاری کے میک اپ کے لیے 4 کروڑ فنڈ گرانٹ جاری کر دیا گیا تھا۔ کل سے جو سوشل ...
20/01/2026

پنجاب حکومت کی طرف سے مریم اورنگزیب اور عظمی بخاری کے میک اپ کے لیے 4 کروڑ فنڈ گرانٹ جاری کر دیا گیا تھا۔
کل سے جو سوشل میڈیا پر مریم اورنگزیب کی تصاویر گردش کر رہی تھی اس کے پیچھے 4 کروڑ عوام کا پسینہ چھپا ھوا تھا۔

دو تصویریں دو رویئے 🙂
17/01/2026

دو تصویریں
دو رویئے 🙂

‏ٹرمپ کیلئے نوبل امن انعام کے بعد کاروباری معاہدے۔۔۔آج کی دو خبریں، پاکستان نے ٹرمپ کے خاندان سے قریبی تعلق رکھنے والے ا...
15/01/2026

‏ٹرمپ کیلئے نوبل امن انعام کے بعد کاروباری معاہدے۔۔۔
آج کی دو خبریں، پاکستان نے ٹرمپ کے خاندان سے قریبی تعلق رکھنے والے ایک ادارے سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کی نظام کی ایگریمنٹ کرلی اور ٹرمپ نے پاکستان سمیت 75 ممالک کیلئے امیگرینٹ ویزوں پر پابندی لگا دی ،جبکہ بھارت کیلئے امیگرنٹ ویزوں پر پابندی نہیں لگائی۔
شاباش غلام حکومت۔۔۔۔

آج کی  تاریخ میں سعودی عرب کے ایک سو کے نوٹ کی قیمت پاکستانی روپیوں میں 7500 ہے لیکن جب آپ پہلی دفعہ ادھر آئے تھے تب اِس...
08/01/2026

آج کی تاریخ میں سعودی عرب کے ایک سو کے نوٹ کی قیمت پاکستانی روپیوں میں 7500 ہے لیکن جب آپ پہلی دفعہ ادھر آئے تھے تب اِس کی کیا قیمت تھی ؟
#

“This oath is not a formality — it is a promise to serve the people with honesty, courage, and justice❤️😍🥰
08/01/2026

“This oath is not a formality — it is a promise to serve the people with honesty, courage, and justice❤️😍🥰

ایک تصویر پورے جرمنی میں تیزی سے پھیل گئی۔ مشہور جرمن میگزین ”ڈیر شپِگل“ نے اس تصویر کی تحقیق کی اور تصویر میں موجود بھا...
03/12/2025

ایک تصویر پورے جرمنی میں تیزی سے پھیل گئی۔ مشہور جرمن میگزین ”ڈیر شپِگل“ نے اس تصویر کی تحقیق کی اور تصویر میں موجود بھارتی نوجوان کو تلاش کرنا شروع کر دیا۔ تلاش بالآخر میونخ میں جا کر ختم ہوئی، جہاں پتہ چلا کہ وہ نوجوان غیر قانونی طور پر رہ رہا ہے۔

صحافی نے اس سے پوچھا:
“کیا آپ جانتے تھے کہ آپ کے پاس بیٹھی سنہری بالوں والی لڑکی ‘میسی ولیمز’ تھی—جو مشہور سیریز Game of Thrones کی ہیروئن ہے؟ دنیا بھر میں اس کے لاکھوں مداح ہیں جو صرف اس کے ساتھ ایک سیلفی لینے کے خواب دیکھتے ہیں، مگر آپ نے ذرا سا بھی ردِّعمل ظاہر نہیں کیا۔ کیوں؟”

نوجوان نے سکون سے جواب دیا:
“جب آپ کے پاس رہائشی اجازت نامہ نہ ہو، جیب میں ایک یورو بھی نہ ہو، اور آپ روزانہ ٹرین میں ‘غیر قانونی’ طور پر سفر کریں، تو آپ کو اس بات کی پروا نہیں رہتی کہ آپ کے ساتھ کون بیٹھا ہے۔”

اس کی سچائی اور حالت سے متاثر ہو کر میگزین نے اسے ایک ڈاکیے کی نوکری دے دی، جس کی ماہانہ تنخواہ 800 یورو تھی۔ اس ملازمت کے معاہدے کی وجہ سے اسے فوراً باقاعدہ رہائشی اجازت نامہ بھی مل گیا—بغیر کسی مشکل کے۔

یہ کہانی یاد دلاتی ہے کہ رزق کب اور کہاں سے آئے، کوئی نہیں جانتا۔ اہم بات یہ ہے کہ مصیبتوں کو خود پر غالب نہ آنے دیں۔ مایوس نہ ہوں—آپ کا موقع کبھی نہ کبھی ضرور آئے گا۔ اپنے خالق پر بھروسہ رکھیں

لورنس آف عربیہ،عربوں اور تُرکوں کو آپس میں لڑوانے والا برطانوی جاسوس!تھامس ایڈورڈ لورنس، جسے تاریخ “لورنس آف عربیہ” کے ن...
23/11/2025

لورنس آف عربیہ،عربوں اور تُرکوں کو آپس میں لڑوانے والا برطانوی جاسوس!
تھامس ایڈورڈ لورنس، جسے تاریخ “لورنس آف عربیہ” کے نام سے جانتی ہے، صرف ایک برطانوی افسر نہیں تھا۔ بلکہ وہ برطانیہ کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی کا سب سے خطرناک دماغ تھا۔ پہلی جنگِ عظیم کے دوران وہ عرب قبائل میں جا گھسا، اور انکا اعتماد حاصل کیا، اور پھر انہیں عثمانی خلافت کے خلاف کھڑا کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ لیکن بعد میں خود اس نے اپنی تحریروں میں انکشاف کیا کہ اس کا اصل مقصد کیا تھا، اور یہ انکشافات آج بھی مسلمانوں کے لیے ایک سبق ہیں۔
خود لورنس کے الفاظ ہیں،کہ:
“ہمارا بنیادی مقصد مسلمانوں کی وحدت کو توڑنا، عثمانی سلطنت کو تباہ کرنا اور عربوں کو چھوٹی، کمزور ریاستوں میں بانٹ دینا تھا۔”
دوستو یہ تصور نیا نہیں تھا۔ اُس وقت یورپی طاقتیں اچھی طرح سمجھتی تھیں کہ ایک متحد مسلم دنیا اور ایک مضبوط خلافت ان کے مفادات کے خلاف ہے۔ اس لیے عرب بغاوت کو ایک “آزادی کی جنگ” کے نام پر پیش کیا گیا، مگر حقیقت میں وہ خلافتِ عثمانیہ کے خلاف ایک سازش تھی۔
لورنس نے خود اعتراف کیا کہ اُسکے وعدے جھوٹے تھے،وہ اپنی یاداشتوں میں لکھتا ہے،کہ:
“اگر اتحادی جیت گئے تو عربوں سے کیے گئے سارے وعدے محض کاغذ پر سیاہی ثابت ہوں گے…
میں نے عربوں سے دھوکا کیا کیونکہ ہماری فتح کے لیے یہی ضروری تھا۔”
یہ الفاظ اس شخص کے ہیں جسے عرب ہیرو سمجھ بیٹھے تھے۔ مگر وہ جانتا تھا کہ برطانیہ کبھی بھی ایک آزاد، متحد عرب ریاست قائم نہیں ہونے دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ کے بعد سائیکس–پیکو معاہدہ کے تحت پورا عرب خطہ یورپی طاقتوں میں بانٹ دیا گیا۔
لورنس کی نسل پرستی:
ایک اور جگہ وہ لکھتا ہے:
“مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میری مہمات میں ایک انگریز بھی نہیں مرا… کیونکہ ہمارے زیرِنگیں ممالک میں سے کوئی بھی میرے نزدیک ایک انگریز کی جان کے برابر نہ تھا۔”
یہ جملہ پورے سامراجی ذہن کی عکاسی کرتا ہے، جن کے نزدیک مشرقی قومیں صرف ایک گھریلو شطرنج تھیں۔ جسے یورپی طاقتیں اپنے فائدے کے لیے کھیل رہی تھیں۔
یہ وہ زمانہ تھا جب:
خلافت عثمانیہ 600 سال سے زیادہ عرصہ مسلمانوں کی وحدت کی علامت تھی، اہلِ یورپ اسے “یورپ کا مردِ بیمار” کہہ کر توڑنے کے منصوبے بنا چکا تھا،عرب قبائل میں ترکوں کے خلاف ناراضی کو ہوا دی جا رہی تھی،
اور لورنس جیسی شخصیات اسی مقصد کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔

لورنس نے بعد میں خود یہ لکھا کہ:
“میں جانتا تھا کہ میں عربوں کو ایسی جنگ میں دھکیل رہا ہوں جس کا فائدہ صرف انگلستان کو ہونا تھا، عربوں کو نہیں۔”

دوستو یہ درد بھری تاریخ یہیں ختم نہیں ہوئی، بلکہ آپ کو یہ جان کرمزید حیرانگی ہو گی، کہ عربوں کو تاجِ برطانیہ کے اصل مقاصد جان کر بھی یقین نہ آیا، اور وہ لارنس کے آلہ کار بنے رہے، مگر کیسے؟
آئیے جانتے ہیں!
جس وقت تاجِ برطانیہ خفیہ طور پر شریف حسین کو خطوط بھیج کر عربوں کی آزادی کی حمایت کا وعدہ کر رہی تھی… اسی دوران درپردہ وہ فرانس کے ساتھ ایک خفیہ معاہدہ طے کر رہی تھی، جو بعد میں سایکس–پیکو معاہدے کے نام سے مشہور ہوا، اور جس کا مقصد عثمانی ریاست اور پورے عالمِ اسلام کو نوآبادیاتی طاقتوں کے درمیان بانٹ دینا تھا۔
1917ء میں جب روس میں بالشویک انقلاب آیا، تو نئی حکومت نے اس معاہدے کی خفیہ دستاویزات شائع کر دیں۔ یوں پہلی بار مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ ان کے خلاف کس حد تک سازش تیار کی جا چکی ہے۔ اسی وقت جمال پاشا، جو شام میں عثمانی فوج کے سپہ سالار تھے۔ نے ایک تفصیلی خط شریف حسین کو بھیجا،
اور اسے اس خفیہ منصوبے سے خبردار کیا۔
لیکن تاریخی روایات کے مطابق، شریف حسین نے وہ خط خود برطانوی حکام کو بھیج دیا، تاکہ وہ اس کی حقیقت جان سکے۔ اس کا جواب کرنل باست کی طرف سے آیا، جس میں اسے یقین دلایا گیا:
"برطانوی حکومت فلسطین میں یہودی آبادکاری کی اجازت تبھی دے گی
جب یہ عرب آبادی کی سیاسی اور معاشی آزادی کے مطابق ہو گی۔"
شریف حسین نے ان وعدوں پر بھروسہ کر لیا، لیکن زیادہ وقت نہ گزرا کہ وعدۂ بالفور جاری ہو گیا، اور عرب دنیا کی تاریخ کا ایک ایسا باب کھلا جس کے اثرات آج تک ہمارے حال کو بدل رہے ہیں۔

یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ:
جب مسلمان باہمی اختلافات میں پڑ جائیں، جب وہ اپنی اصل قیادت کو چھوڑ کر بیرونی قوتوں پر اعتماد کریں…جب وہ دشمن کی چالوں کو نہ سمجھیں تو پھر نتیجہ تقسیم، کمزوری اور غلامی ہی نکلتا ہے۔
آج عرب دنیا کی درجنوں ریاستیں، کمزور حکومتیں، اور باہمی انتشار اسی پالیسی کا تسلسل ہیں جو سو سال پہلے بنائی گئی تھی۔

17/11/2025

Address

Street 302
Peshawar

Telephone

+923482347992

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Educated Lofar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Educated Lofar:

Share